TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان

Chapter 18 of نماز جنازہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 18 of 20 · 6 Hadith
۔ (۳۲۳۱) عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ أَبِی مُوْسٰی الأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا مَرَّتْ بِکُمْ جَنَازَۃٌ فَإِنْ کَانَ مُسْلِمًا أَوْ یَہُوْدِیًّا أَوْ نَصْرَانِیَّا فَقُوْمُوْا لَہَا، فَإِنَّہُ لَیْسَ لہَا نَقُوْمُ، وَلٰکِنْ نَقُوْمُ لِمَنْ مَعَہَا مِنَ الْمَلَائِکَۃِ۔)) قَالَ لَیْثَ فَذَکَرْتُ ہٰذَا الْحَدِیْثَ لِمُجَاھِدٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِی عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَخْبَرَۃَ الأَزْدِیُّ، قَالَ: إِنَّا لَجُلُوْسٌ مَعَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نَنْتَظِرُ جَنَازَۃً إِذْ مَرَّتْ بِنَا أُخْرٰی، فَقُمْنَا، فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَا یُقِیْمُکُمْ؟ فَقُلْنَا: ہٰذَا مَا تَأْتُوْنَا بِہِ یَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ! قَالَ: وَمَا ذَالِکَ؟ قُلْتُ: زَعَمَ اََبُوْ مُوْسٰی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا مَرَّتْ بِکُمْ جَنَازَۃٌ، فَإِنْ کَانَ مُسْلِمًا أَوْ یَہُوْدِیًّا أَوْنَصْرَانِیًّا فَقُوْمُوا لَہَا، فَإِنَّہُ لَیْسَ لَہَا نَقُوْمُ، وَلٰکِنْ نَقُوْمُ لِمَنْ مَعَہَا مِنَ الْمَلَائِکَۃَ۔)) فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَا فَعَلَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطُّ غَیْرَ مَرَّۃٍ بِرَجُلٍ مِنَ الْیَہُوْدِ، وَکَانُوْا أَہْلَ کِتَابٍ وَکَانَ یَتَشَبَّہُ بِہِمْ، فَإِذَا نُھِیَ اِنْتَہٰی، فَمَا عَادَلہَا بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۴۲)
سیّدناابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس سے کوئی جنازہ گزرے، وہ مسلمان کا ہو یا یہودی کا یا عیسائی کا، تم اسے دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرو، ہم اس کے لیے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ آنے والے فرشتوںکے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ لیث کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث مجاہد کو بیان کی تو انھوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن سنجرہ ازدی نے بیان کرتے ہوئے کہا:ہم سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ایک جنازے کا انتظار کر رہے تھے کہ ہمارے قریب سے کوئی اور جنازہ گزرا،ہم اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے، لیکن سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم کیوں کھڑے ہوئے ہو؟ ہم نے کہا: اے اصحابِ محمد! تم نے ہمیں جو حدیث بیان کی ہے، ہم اس پر عمل کر رہے ہیں۔ انھوں نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ میں نے کہا کہ سیّدنا ابوموسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس سے کوئی جنازہ گزرے، وہ مسلمان کا ہو یا یہودی کا یا عیسائی کا، تم اسے دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرو، ہم اس کے لیے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ آنے والے فرشتوںکے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ سن کر سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ عمل صرف ایک دفعہ ایک یہودی کے ساتھ کیا تھا اور اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ یہ لوگ چونکہ اہل کتاب تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کی موافقت کیا کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو (اللہ کی طرف سے) روک دیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رک گئے اور اس کے بعد ایسا عمل نہیں کیا۔
Takhreej
(۳۲۳۱) تخریـج: …ھذا الحدیث انما ھو حدیثان، (۱) حدیث ابی موسی وھو صحیح لغیرہ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۵۷، و(۲)حدیث علی، وھو صحیح دون قولہ: ’’وکانوا اھل کتاب، وکان یتشبہ بھم‘‘ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۵۸، والنسائی: ۴/ ۴۶، وأخرجہ مسلم: ۱۸۴۰ مختصرا۔ (انظر: ۱۹۷۰۵)
3231
Sahih
۔ (۳۲۳۲) عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَمَرَّ بِہٖ جَنَازَۃٌ فَقَامَ لَہَا نَاسٌ فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَنْ أَفْتَاکُمْ ہٰذَا؟ فَقَالُوْا: أَبُوْ مَوْسٰی، فَقَالَ: إِنَّمَا فَعَلَ ذَالِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّۃً فَکَانَ یَتَشَبَّہُ بِأَہْلِ الْکِتَابِ، فَلَمَّا نُہِیَ انْتَہٰی۔ (مسند احمد: ۱۲۰۰)
ابومعمر کہتے ہیں: ہم سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک جنازہ گزرا اورلوگ اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: تمہیں کھڑے ہونے کا فتویٰ کس نے دیا؟ لوگوں نے کہا کہ سیّدنابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے، یہ سن کر سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ عمل صرف ایک دفعہ کیا تھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پسند کرتے تھے کہ اہل کتاب سے موافقت اختیار کی جائے، لیکن جب (اللہ کی طرف سے) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو روک دیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رک گئے۔
Takhreej
(۳۲۳۲) تخریـج: …صحیح۔ أخرجہ الطیالسی: ۱۶۲، والحمیدی: ۵۰، وابویعلی: ۲۶۶، وأخرج بنحوہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۵۸، والنسائی: ۴/ ۴۶ (انظر: ۱۲۰۰)
Explanation
فوائد: …سیّدنا علیbکا یہ کہنا کہ آپ a نے ایسا صرف ایک یہودی کے ساتھ کیا تھا، تو گزارش ہے کہ سیّدنا علیbکو صرف ایک واقعہ کا علم تھا، وگرنہ پچھلے باب کی احادیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ واقعہ ایک سے زائد دفعہ پیش آیا تھا۔ فوائد: …سیّدنا علیbکا یہ کہنا کہ آپ a نے ایسا صرف ایک یہودی کے ساتھ کیا تھا، تو گزارش ہے کہ سیّدنا علیbکو صرف ایک واقعہ کا علم تھا، وگرنہ پچھلے باب کی احادیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ واقعہ ایک سے زائد دفعہ پیش آیا تھا۔
3232
Sahih
۔ (۳۲۳۳) وَعَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ: شَہِدْتُّ جَنَازَۃً فِی بَنِی سَلْمَۃَ، فَقُمْتُ فَقَالَ لِی نَافِعُ بْنُ جَبِیْرٍ: اِجْلِسْ فَإِنِّی سَاُخْبِرُکَ فِی ہٰذَا بِثَبَتٍ، حَدَّثَنِی مَسْعُوْدُ بْنُ الْحَکَمِ الزُّرَقِیُّ أََّنُہ سَمِعَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌بِرَحْبَۃِ الْکُوْفَۃِ، وَہُوَ یَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَنَا بِالْقِیَامِ فِی الْجَنَازَۃِ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ ذَالِکَ وَأَمَرَنَا بِالْجُلُوْسِ۔ (مسند احمد: ۶۲۳)
واقد بن عمرو کہتے ہیں: میں بنو سلمہ کے ایک جنازہ میں حاضر ہوا اور (جنازہ کو دیکھ کر) میں کھڑا ہو گیا۔ نافع بن جبیر نے مجھ سے کہا: بیٹھ جائو، میں تمہیں اس مسئلہ کے بارے میں ایک ثقہ آدمی کی حدیث بیان کرتا ہوں،مسعود بن حکم زرقی نے مجھے بیان کیا کہ انہوں نے مسجد ِ کوفہ کے صحن میں سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونے کا ہمیں حکم تو دیا تھا، لیکن اس کے بعد آپ بیٹھے رہتے اور ہمیں بھی بیٹھے رہنے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۳۲۳۳) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۶۲ (انظر: ۶۲۳)
3233
Sahih
۔ (۳۲۳۴) عَنْ یَزِیْدَ یَعْنِی بْنَ إِبْرَاہِیْمَ وَہُوَ التُّسْتَرِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ جَنَازَۃً مَرَّتْ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَامَ الْحَسَنُ وَقَعَدَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ لابْنِ عَبَّاسٍ: أَلَمْ تَرَا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّتْ بِہِ جَنَازَۃٌ فقَامَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلٰی وَقَدْ جَلَسَ، فَلَمْ یُنْکِرِ الْحَسَنُ مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۶)
محمد بن سیرین کہتے ہیں: مجھے یہ بتلایا گیا کہ سیّدناحسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر سیّدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہو گئے، لیکن سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیٹھے رہے، سیّدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا : کیا تم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا نہیں تھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ گئے تھے۔یہ سن کر سیّدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی بات پر کوئی انکار نہیں کیا۔
Takhreej
(۳۲۳۴) تخریـج: …حسن لغیرہ۔ أخرجہ النسائی: ۴/ ۴۶، ۴۷(انظر: ۱۷۲۶)
3234
Sahih
۔ (۳۲۳۵) عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ مَرَّ بِہِمْ جَنَازَۃٌ فَقَامَ الْقَوْمُ وَلَمْ یَقُمْ، فَقَالَ الْحَسَنُ: مَا صَنَعْتُمْ؟ إِنَّمَا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَأَذِّیًا بِرِیْحِ الْیَہُوْدِیِّ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۲)
سیّدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر لوگ کھڑے ہو گئے، لیکن وہ بیٹھے رہے، پھر سیّدناحسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: یہ تم نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو صرف یہودی میت کی بدبو کی تکلیف کی وجہ سے کھڑے ہوئے تھے۔
Takhreej
(۳۲۳۵) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، الحجاج بن ارطاۃ مدلس، ومحمد بن علی بن الحسین لم یدرک الحسن بن علی عم ابیہ۔ أخرج بنحوہ النسائی: ۴/ ۴۷ (انظر: ۱۷۲۲)
3235
Zaeef
۔ (۳۲۳۶) عَنْ حُسَیْنٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنْ أَحَدِہِمَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ قَالَ: إِنَّمَا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ أَجْلِ جَنَازَۃِ یَہُوْدِیٍّ مُرَّ بِہَا عَلَیْہِ فَقَالَ: ((آذَانِیْ رِیْحُہَا)) (مسند احمد: ۱۷۳۳)
سیّدناحسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دونوں سے یا ان میں سے کسی ایک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؓ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: مجھے اس کی بدبو نے تکلیف دی ہے۔
Takhreej
(۳۲۳۶) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، فان محمد بن علی بن الحسین لم یدرک الحسن بن علی وابن عباس أخرج بنحوہ النسائی: ۴/ ۴۷ (انظر: ۱۷۲۲، ۱۷۳۳)
Explanation
فوائد: …جنازے کے لیے کھڑے ہونے کی وجوہات پچھلے باب میں گزر چکی ہیں۔ سیّدنا علیbکی بیان کردہ حدیث اور درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے لیے کھڑا ہونا منسوخ ہو چکا ہے، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمہم اللہ کی یہی رائے ہے۔ سیّدنا عبادہ بن صامتbکہتے ہیں: رسول اللہ a جنازے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، یہاں تک کہ اسے لحد میں رکھ دیا جاتا تھا، ایک دن ایک یہودی عالم آپ a کے پاس سے گزرا اور کہا: ہم بھی اسی طرح کرتے ہیں، آپ a خود بھی بیٹھ گئے اور یہ بھی فرمایا: ((اِجْلِسُوْا خَالِفُوْھمُ۔ْ)) یعنی: ’’بیٹھ جاؤ اور ان کی مخالفت کرو۔‘‘ (ابوداود: ۳۱۷۶)
3236
Zaeef

Chapters

20
01
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
02
نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان
5 Hadith
03
انبیاء کی نماز جنازہ مشروع ہونے اور شہداء کی یہ نماز غیر مشروع ہونے کا بیان
3 Hadith
04
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
3 Hadith
05
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
4 Hadith
06
جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
2 Hadith
07
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
8 Hadith
08
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
6 Hadith
09
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
7 Hadith
10
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
6 Hadith
11
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
3 Hadith
12
مسجد میں نماز جنازہ کا بیان
3 Hadith
13
جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
9 Hadith
14
جنازہ کے آگے پیچھے چلنے اور سوار ہو کر جانے کا بیان
10 Hadith
15
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
4 Hadith
16
جنازے کے ساتھ چلنے والے کے جنازے کے رکھے جانے تک نہ بیٹھنے اور جنازے کے گزرتے وقت اس کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
7 Hadith
17
کافر کی میت کے لیے کھڑے ہونا
8 Hadith
18
میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
6 Hadith
19
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
8 Hadith
20
مردوں کو برا بھلا کہنے اور ان کی خامیوں کو یاد کرنے سے ممانعت کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.