سیّدناابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس سے کوئی جنازہ گزرے، وہ مسلمان کا ہو یا یہودی کا یا عیسائی کا، تم اسے دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرو، ہم اس کے لیے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ آنے والے فرشتوںکے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ لیث کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث مجاہد کو بیان کی تو انھوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن سنجرہ ازدی نے بیان کرتے ہوئے کہا:ہم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ایک جنازے کا انتظار کر رہے تھے کہ ہمارے قریب سے کوئی اور جنازہ گزرا،ہم اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے، لیکن سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیوں کھڑے ہوئے ہو؟ ہم نے کہا: اے اصحابِ محمد! تم نے ہمیں جو حدیث بیان کی ہے، ہم اس پر عمل کر رہے ہیں۔ انھوں نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ میں نے کہا کہ سیّدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس سے کوئی جنازہ گزرے، وہ مسلمان کا ہو یا یہودی کا یا عیسائی کا، تم اسے دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرو، ہم اس کے لیے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ آنے والے فرشتوںکے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ سن کر سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عمل صرف ایک دفعہ ایک یہودی کے ساتھ کیا تھا اور اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ یہ لوگ چونکہ اہل کتاب تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کی موافقت کیا کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (اللہ کی طرف سے) روک دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اور اس کے بعد ایسا عمل نہیں کیا۔
ابومعمر کہتے ہیں: ہم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک جنازہ گزرا اورلوگ اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہیں کھڑے ہونے کا فتویٰ کس نے دیا؟ لوگوں نے کہا کہ سیّدنابو موسی رضی اللہ عنہ نے، یہ سن کر سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عمل صرف ایک دفعہ کیا تھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پسند کرتے تھے کہ اہل کتاب سے موافقت اختیار کی جائے، لیکن جب (اللہ کی طرف سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے۔
واقد بن عمرو کہتے ہیں: میں بنو سلمہ کے ایک جنازہ میں حاضر ہوا اور (جنازہ کو دیکھ کر) میں کھڑا ہو گیا۔ نافع بن جبیر نے مجھ سے کہا: بیٹھ جائو، میں تمہیں اس مسئلہ کے بارے میں ایک ثقہ آدمی کی حدیث بیان کرتا ہوں،مسعود بن حکم زرقی نے مجھے بیان کیا کہ انہوں نے مسجد ِ کوفہ کے صحن میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونے کا ہمیں حکم تو دیا تھا، لیکن اس کے بعد آپ بیٹھے رہتے اور ہمیں بھی بیٹھے رہنے کا حکم دیا۔
محمد بن سیرین کہتے ہیں: مجھے یہ بتلایا گیا کہ سیّدناحسن بن علی رضی اللہ عنہ اور سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، لیکن سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیٹھے رہے، سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا نہیں تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے تھے۔یہ سن کر سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان کی بات پر کوئی انکار نہیں کیا۔
سیّدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر لوگ کھڑے ہو گئے، لیکن وہ بیٹھے رہے، پھر سیّدناحسن رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ تم نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صرف یہودی میت کی بدبو کی تکلیف کی وجہ سے کھڑے ہوئے تھے۔
سیّدناحسین رضی اللہ عنہ اور سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں سے یا ان میں سے کسی ایک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؓ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: مجھے اس کی بدبو نے تکلیف دی ہے۔