سیّدناابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو قبر میں رکھا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی {مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ …… تَارَۃً أُخْرٰی} (سورۂ طہ، ۵۵) (ہم نے تمہیں اسی مٹی سے پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور پھر اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے) سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھی تھی یا نہیں: بِاسْمِ اللّٰہِ، وَفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ،اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے طریقے کے مطابق دفن کرتے ہیں)۔ جب لحد کی چنائی کر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف گارا پھینکا اور فرمایا: اس سے اینٹوں کے شگافوں کو پر کر دو۔ پھر فرمایا: یہ کوئی ضروری چیز نہیں ہے، بس زندہ لوگوں کا نفس ذرا مطمئن ہو جاتا ہے۔
سیّدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے فوت شدگان کو قبر میں اتارو تو یہ دعا پڑھا کرو: بِاسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ اور اس کے رسول کے طریقے پر)۔
ابن سیرین کہتے ہیں کہ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک انصاری آدمی کے جنازہ میں شریک تھے، لوگوں نے اس کے حق میں بلند آواز سے دعائے مغفرت کی اور سیّدناانس رضی اللہ عنہ نے ان پر کوئی انکار نہیں کیا۔ خالد راوی نے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہا: انہوں نے میت کو قبر کے پاؤں کی طرف سے اتارا تھا۔ اور ہشیم راوی نے ایک مرتبہ اس حدیث کو یوں بیان کیا: بصرہ میں ایک انصاری آدمی فوت ہو گیا تھا، سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی اس کے جنازہ میں شریک تھے، لوگوں نے میت کے حق میں بآواز بلند دعائے مغفرت کی تھی۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحب زادی کے جنازہ میں شریک تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے پاس تشریف فرما تھے اور میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے، جس نے اِس رات کو (اپنی بیوی سے)ہم بستری نہ کی ہو؟ سریج نے کہا: اس کا معنی گناہ ہے، سیّدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اترو۔ پس وہ ان کی قبر میں اترے۔
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے آج رات اپنی بیوی سے ہم بستری کی ہو وہ قبر میں داخل نہ ہو۔ پس سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قبر میں داخل نہ ہوئے۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کی چارپائی اٹھانے کے وقت سے اس کے ساتھ رہتاہے اور قبر میں مٹی بھی ڈالتا ہے اور اس وقت تک ساتھ رہتا ہے کہ دفن کے بعد اسے واپسی کی اجازت دے دی جاتی ہے تو وہ اجر کے دو قیراط لے کر واپس ہوتا ہے اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔