مسنداحمد

Musnad Ahmad

دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام

اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان


۔ (۳۲۵۷) عَنْ أَبِی أُماَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ کُلْثُوْمٍ بْنَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِی الْقَبْرِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرٰی} قَالَ: ثُمَّ لَا أَدْرِی أَقَالَ بِاسْمِ اللّٰہِ، وَفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَمْ لَا، فَلَمَّا بُنِیَ عَلَیْہَا لَحْدُہَا طَفِقَ یَطْرَحُ اِلَیْہِمُ الْجَبُوْبَ، وَیَقُوْلُ: ((سُدُّوْا خِلَالَ اللَّبِنِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَمَا إِنَّ ہٰذَا لَیْسَ بِشَیْئٍ وَلَکِنَّہُ یَطِیْبُ بِنَفْسِ الْحَیِّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۴۰)

سیّدناابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ ام کلثوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو قبر میں رکھا گیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت پڑھی {مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ …… تَارَۃً أُخْرٰی} (سورۂ طہ، ۵۵) (ہم نے تمہیں اسی مٹی سے پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور پھر اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے) سیّدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا پڑھی تھی یا نہیں: بِاسْمِ اللّٰہِ، وَفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ،اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے طریقے کے مطابق دفن کرتے ہیں)۔ جب لحد کی چنائی کر دی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کی طرف گارا پھینکا اور فرمایا: اس سے اینٹوں کے شگافوں کو پر کر دو۔ پھر فرمایا: یہ کوئی ضروری چیز نہیں ہے، بس زندہ لوگوں کا نفس ذرا مطمئن ہو جاتا ہے۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Conclusion
تخریج
(۳۲۵۷) تخریـج: …اسنادہ ضعیف جدا، عبید اللہ بن زحر الافریقی و علی بن یزید الالھانی ضعیفان، وقال الذھبی: علی بن یزید متروک أخرجہ الحاکم: ۲/ ۳۷۹، والبیہقی: ۳/ ۴۰۹(انظر: ۲۲۱۸۷)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …بعض لوگ میت کو قبر میں اتارتے وقت یا اس میں مٹی ڈالتے وقت یہ آیت پڑھتے ہیں، ان کا یہ عمل درست نہیں ہے، کیونکہ یہ حدیث ضعیف ہے۔