سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور خوشبو مانگی، سو جب میں نے اسے خوشبو دے دی تو اس نے کہا: اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے۔اس دعا سے میرے دل میں تردّد ہونے لگا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا قبر میں عذاب ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں،مردوں کو قبر میں ایسا عذاب ہوتا ہے کہ چوپائے اس کی آواز کو سنتے ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میری خدمت کیا کرتی تھی،میں جب بھی اسے کوئی چیز دیتی تو وہ کہتی: اللہ تم کو عذاب ِ قبر سے محفوظ رکھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا قیامت سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بھلا تم یہ سوال کیوں پوچھ رہی ہو؟ میں نے کہا: فلاں یہودی عورت ، جب بھی ہم اسے کوئی چیز دیتے ہیں تو وہ کہتی ہے: اللہ تم کو عذاب ِ قبر سے محفوظ رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودی جھوٹ بولتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ پر بہت زیادہ جھوٹ باندھتے ہیں، قیامت کے روز سے پہلے کوئی عذاب نہیں ہو گا۔ اس کے بعد کچھ ایام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہرے رہے، جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عین دوپہر کے وقت نکلے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اوپر ایک کپڑا اوڑھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلند آواز سے فرماتے جا رہے تھے: لوگو! اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح تم پر فتنے چھا رہے ہیں، لوگو! جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر تم بھی اسے جان لیتے تو تم بہت زیادہ روتے اور کم ہنستے، لوگو! عذاب ِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، بے شک قبر کا عذاب حق ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، جبکہ اس وقت ایک یہودی عورت میرے پاس بیٹھی کہہ رہی تھی: کیا تم جانتی ہو کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا؟ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانپ اٹھے اور فرمایا: صرف یہودی لوگ قبروں میں آزمائے جائیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: چند ہی راتیں گزری تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تم جانتی ہو میری طرف وحی کی گئی ہے کہ واقعی تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنتی تھی۔
عبداللہ بن قاسم کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک پڑوسن نے مجھے بیان کیا کہ وہ طلوع فجر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا کرتے سنا کرتی تھی: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے قبرکے عذاب اور فتنے سے پناہ طلب کرتا ہوں۔)۔
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کی ایک آنکھ سبز شیشے کی طرح ہو گی اور تم عذابِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرو۔
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا سے سنا اور ان کے علاوہ کسی سے نہیں کہ وہ یہ کہتا ہو کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عذابِ قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے یہ دعا کی: یا اللہ! مجھے میرے شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، باپ ابوسفیان اور بھائی معاویہ سے فائدہ اٹھانے کاموقع عطا فرما، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ سے ایسی باتوں کا سوال کیا ہے جن کے اوقات اور ایام مقرر کیے جا چکے ہیں اور ان کے رزق بھی تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ کوئی چیز اپنے مقرر وقت سے مقدم یا موخر نہیں ہو سکتی، اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں آگ اور قبر کے عذاب سے پناہ میں رکھے تو یہ تیرے لیے بہتر اور افضل ہوتا۔