سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ہانی کہتے ہیں کہ جب سیّدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ ان کی داڑھی تر ہو جاتی، کسی نے ان سے کہا: آپ جنت اور دوزخ کا ذکر بھی کرتے ہیں، لیکن اس وقت تو اتنا نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر اس قدر روتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: قبر آخرت کی منازل میں سب سے پہلی منزل ہے، اگر کوئی آدمی اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بعد والے مراحل اس سے زیادہ آسان ہو جائیں گے، لیکن اگر کوئی شخص اس سے ہی نجات نہ پا سکا تو بعد والے مراحل اس سے مشکل ہوں گے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے جب بھی (اللہ کے عذاب کے) مناظر دیکھے تو قبر کا منظر سب سے ہولناک پایا۔
فوائد: …قبر، آخرت کی پہلی منزل ہے اور ہر قبر والے کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ حشر کے میدان میں اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاء گا، آنے والی دوسری حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ جنتی پر قبر میں جنت اور دوزخی پر دوزخ پیش کی جاتی ہے۔
سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کے فَتَّان (فرشتوں) کا ذکر کیا، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیا وہاں ہماری عقلیں لوٹا دی جائیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بالکل آج کی طرح۔ تو سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے منہ میں پتھر۔
فوائد: …’’فَتَّان‘‘ سے مراد قبر میں فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے فرشتے ہیں۔ ’’اس کے منہ میں پتھر‘‘ سیّدنا عمرb ان الفاظ کے ذریعے اپنے دل میں ایمان کے رسوخ کا اظہار کرنا چاہتے ہیں کہ جب فرشتے قبر میں ان سے سوال کریں گے تو وہ ان کو ایسا درست جواب دیں گے کہ وہ خاموش ہو جائیں گے۔ عرب لوگوں کے ہاں یہ الفاظ سائل کو خاموش کر دینے سے کنایہ ہیں۔
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی پر (قبر میں) میں صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہو تو اہلِ جنت کا اور اگر وہ جہنمی ہے تو اہل جہنم کا، اور اس سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قیامت کے روز جب تجھے اٹھایا جائے گا تو یہ تیرا ٹھکانہ ہوگا۔
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازہ میں شریک تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اس امت کو قبروں میں آزمایا جاتا ہے، جب انسان کو دفن کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے جدا ہوتے ہیں تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے، وہ اس میت کو بٹھا کر پوچھتا ہے: تم اس آدمی (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ اگر وہ مومن ہو تووہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ یہ سن کر فرشتہ اس سے کہتا ہے: تم نے سچ کہا۔ پھر اس میت کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور فرشتہ اسے کہتا ہے: اگر تم نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ہوتا تو تمہارا یہ ٹھکانہ ہوتا، مگر اب تم مومن ہو، اس لیے تمہارا ٹھکانہ یہ ہے، اتنے میں اس کے لیے جنت کی طرف سے دروازہ کھول دیاجاتا ہے اور جب وہ میت ادھر کو اٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو فرشتہ اس سے کہتا ہے: (اِدھر ہی) سکون اختیار کرو، پھر اس کے لیے اس کی قبر کو وسیع کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر میت کافر یا منافق ہو تو فرشتہ اس سے پوچھتا ہے: تو اس ہستی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے:میں تو کچھ نہیں جانتا، البتہ لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنتا تھا، فرشتہ کہتا ہے: تو نے نہ سمجھا، نہ پڑھا اور نہ ہی ہدایت پائی۔اس کے بعد اس کے لیے جنت کی طرف سے دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور وہ فرشتہ اس سے کہتا ہے: اگر تو اپنے رب پر ایمان لاتاتو تیرا ٹھکانا یہ ہوتا، مگر تو نے چونکہ اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے اس کے متبادل ایک اور ٹھکانا تیار کیا ہے، اتنے میں اس کے لیے جہنم کی طرف سے دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ فرشتہ اس کو گرز کی ایک زبردست ضرب لگاتا ہے، جس کی آواز کو جن و انس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سنتی ہے۔ یہ حدیث سن کر کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب فرشتہ ہاتھ میں گرز لے کر کسی آدمی کے ساتھ کھڑا ہو گا تو وہ تو حواس باختہ ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا یہ آیت پڑھی: : {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ۔} (سورۂ ابراہیم: ۲۷) یعنی: اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو کلمۂ توحید پر ثابت قدم رکھتا ہے۔
فوائد: …اس حدیث کے شروع میں مذکور امت سے مراد ہر وہ مسلمان اور کافر ہے، جس کو نبی کریم a کی دعوت پہنچی ہو۔ پوری آیت یہ ہے: {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمُنْوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظَّالِمِیْنَ۔} (سورۂ ابراہیم: ۲۷) یعنی: ’’ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت میں صحیح بات پر ثابت قدم رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے۔‘‘ مومن کو پہلے جہنم والا اور کافرو منافق کو پہلے جنت والا ٹھکانہ دکھانے کی وجہ یہ ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرے اور زیادہ خوش ہو اور کافر کی حسرت میں اضافہ ہو۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب انسان کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ (اس کی تدفین کے بعد) واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے، پھر اس کے پاس دو فرشتے آجاتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارے میں پوچھتے ہیں: تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہے گا؟ مومن میت کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اس سے کہا جاتا ہے: تو جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھ، اللہ نے تمہارے لیے اس کے عوض جنت میں ٹھکانا تیار کر دیا ہے، وہ اپنے دونوں ٹھکانوں کی طرف دیکھتا ہے اور قیامت کے دن تک اس کی قبرستر ہاتھ تک فراخ کر دی جاتی ہے اور اس کو تروتازہ نعمتوں سے بھر دیا جاتا ہے۔ رہا مسئلہ کافر یا منافق کہا تو اس سے بھی یہی سوال کیا جاتا ہے کہ تو اس ہستی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بارے میں کیا کہے گا؟ وہ کہتا ہے: میں تو نہیں جانتا، لوگ جو کچھ کہتے تھے، میں بھی کہہ دیتا تھا، (لیکن اب میرے علم کوئی چیز نہیں ہے)۔ اس سے کہا جاتا ہے: تو نے نہ سمجھا اور نہ پڑھا، پھر اس کے کانوں کے درمیان لوہے کے گرز کی ایک ایسی ضرب لگائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ ایسا چلّاتا ہے کہ جن وانس کے علاوہ قریب والی مخلوق اس کی چیخ و پکار کو سنتی ہے اوراس قبر کو اس قدر تنگ کر دیا جاتا ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں۔
فوائد: …ابوداود کی سیّدنا برائbوالی حدیث میں مومن کے لیے منتہائے نگاہ تک قبر کے وسیع ہو جانے کا ذکر ہے، جبکہ اس حدیث ِ مبارکہ میں ستر ہاتھ کی حد بتائی گئی تو ان شاء اللہ اس وسعت کا دارمدار مومن کے اعمالِ صالحہ پر ہے، جو جتنا نیک ہو گا، اس کو اتنی ہی وسعت ملے گی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے دروازے پر ایک یہودی عورت کھانا مانگنے کے لیے آئی اور اس نے کہا: اللہ تمہیں فتنۂ دجال اور عذابِ قبر سے محفوظ رکھے، مجھے کھانا دو۔ میں نے اسے کافی دیر تک روکے رکھا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے،میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ یہودی عورت کیا کہتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کہتی ہے؟ میں نے کہا: یہ کہتی ہے کہ اللہ تمہیں دجال کے فتنہ سے اور قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے، اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور اللہ سے دجال کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگنے لگے۔ پھر فرمایا: دجال کا فتنہ تو ایسا فتنہ ہے کہ ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے خبردار کیا ۔ میں بھی تمہیں اس سے ایسا خبردار کرتا ہوں کہ کسی نبی نے اپنی امت کو ویسا خبردار نہیں کیا، (سنو کہ) وہ کانا ہوگا، جبکہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اور اس کی آنکھوں کے درمیان کافر کا لفظ لکھا ہواگا، ہر مومن اسے پڑھ لے گا۔رہا مسئلہ فتنۂ قبر کا تو اس میں تو میرے بارے میں بھی تمہیں آزمایا جائے گا اور میرے متعلق تم سے سوال کیا جائے گا۔ جب مرنے والا آدمی نیک ہوتا ہے تو اسے قبر میں اس حال میں بٹھایا جاتا ہے کہ اس پر گھبراہٹ اور پریشانی کے کوئی آثار نہیں ہوتے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے: تم کس دین پر تھے؟ وہ کہتا ہے: اسلام پر تھا۔ پھر اس سے پوچھا جاتا ہے: تمہارے درمیان جس ہستی کو مبعوث کیا گیا، وہ کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے: وہ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، وہ اللہ کی طرف سے ہمارے پاس واضح دلائل لے کر تشریف لائے تھے اور ہم نے ان کی تصدیق کی۔ اس کے بعد اس کے لیے جہنم کی طرف ایک سوراخ کھول دیا جاتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ جہنم کا بعض حصہ بعض کو کھا رہا ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے: اس چیز کی طرف دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے جس سے تمہیں بچا لیا ہے، اُدھر دیکھو، پھر اس کے لیے جنت کی طرف ایک سوراخ کھول دیا جاتا ہے، وہ جنت کی رونق و بہار اور اس میں موجود دوسری نعمتوں کو دیکھتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: اس جنت میں یہ ٹھکانہ تیرا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ تم دنیا میں یقین پر جیئے، اسی پر فوت ہوئے اور اسی پر ان شاء اللہ اٹھائے جاؤ گے۔اور اگر وہ میت براہو تو اسے جب قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو وہ گھبرایا ہوا اور بہت زیادہ خوفزدہ ہوتا ہے۔اس سے پوچھا جاتا ہے: تو دنیا میں کس دین پر تھا؟ وہ جواب دیتا ہے: میں کچھ نہیں جانتا۔اس سے کہا جاتا ہے: جس ہستی کو تمہارے درمیان مبعوث کیا گیا، وہ کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میں نے لوگوں کو جو کہتے ہوئے سنا، میں نے بھی وہی کچھ کہہ دیا تھا، (اب تو مجھے کسی چیز کا علم نہیں ہے)۔ اس کے بعد اس کے لیے جنت کی طرف ایک شگاف کھول دیا جاتا ہے، وہ اس کی رونقوں اور اس کی نعمتوں کو دیکھتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: اس چیز کی طرف دیکھ جو اللہ تعالیٰ نے تجھ سے پھیر لی ہے، اتنے میں جہنم کی طرف سے ایک سوراخ کھول دیا جاتا ہے، وہ اس کی طرف دیکھتا ہے کہ اس کا بعض بعض کو کھا رہا ہوتا ہے، پھر اسے کہا جاتا ہے: جہنم میں تیرا ٹھکانہ یہ ہے، دراصل بات یہ ہے کہ تو شک پر تھا، اسی پر مرا اور اسی پر تجھے ان شاء اللہ اٹھایا جائے گا، پھر اسے عذاب دیا جاتا ہے۔
فوائد: …یہودی عورت کا سیدہ عائشہcسے کھانا مانگنے کے لیے آنا، اس سے ہمیں بھی کافر اور مسلمان کے تعلق کو سمجھنا چاہیے، کسی بھی کافر سے نفرت کرنا اور بات ہے اور اس کے ساتھ لین دین کرنا اور بات ہے۔
ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیّدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے قبر میں فتنے میں ڈالنے والے فرشتوں کے متعلق دریافت کیا،انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگوں کو ان کی قبروں میں آزمایا جاتا ہے، جب مومن کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے اور لوگ اسے دفنا کر واپس آتے ہیں تو ایک انتہائی بارعب فرشتہ اس کے پاس آجاتا ہے اور کہتا ہے: تم اس شخصیت (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ مومن جواب دیتا ہے: وہ اللہ کے رسول اور بندے ہیں۔ فرشتہ اس سے کہتا ہے: تم جہنم میں اپنے اس ٹھکانے کو دیکھو کہ جس سے اللہ نے تمہیں نجات دلائی ہے اور اپنے اس ٹھکانے کی طرف دیکھ، جو اللہ تعالیٰ نے جہنم والی اس منزل کے متبادل تجھے عطا کیا ہے، پھر وہ دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے اور کہتا ہے: مجھے چھوڑو ذرا، میں اپنے اہل خانہ کو خوشخبری سناتا ہوں، لیکن اس سے کہا جاتا ہے: ٹھہر جا۔ رہا مسئلہ منافق کا تو جب لوگ اسے دفنا کر واپس ہوتے ہیں تو اسے بٹھا کر اس سے پوچھا جاتا ہے: تم اس ہستی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے:میں نہیں جانتا،بس میں بھی وہی کہہ دیتا تھا، جو دوسرے لوگ کہا کرتے تھے، پس اس سے کہا جاتا ہے: تو نے سمجھا نہیں، تیرا جنت میں یہ مقام تھا، لیکن اب اس کے عوض تیرے لیے جہنم میں یہ ٹھکانا ہے۔ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا کہ ہر آدمی جس عقیدے پر فوت ہوتا ہے، اس کو اسی عقیدے پر اٹھایا جاتا ہے، یعنی مومن کو ایمان پر اور منافق کو نفاق پر۔
Takhreej
(۳۳۰۳) تخریـج: …حدیث صحیح، ابن لھیعۃ قد توبع أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۹۰۷۲، وعبد الرزاق: ۶۷۴۴ (انظر: ۱۴۷۲۲)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب انسان قبر میں داخل ہوتا ہے، تو اگر وہ مومن ہو تو اس کے نیک اعمال نماز اور روزہ وغیرہ اسے گھیر لیتے ہیں، جب فرشتہ اس کی طرف نماز والی جانب سے آتا ہے تو نماز اسے روک لیتی ہے اور جب روزہ والی جانب سے آتا ہے تو روزہ اسے روک دیتا ہے، اس لیے فرشتہ دور سے ہی آواز دے دیتا ہے: بیٹھ جا، وہ اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے،فرشتہ پوچھتا ہے: تم اس آدمی یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟وہ آگے سے پوچھتا ہے: وہ کون سا آدمی؟ فرشتہ کہتا ہے: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ فرشتہ کہتا ہے: تمہیں اس کا علم کیسے ہوا؟ کیا تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا؟ وہ کہتا ہے:میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ فرشتہ کہتا ہے: تم نے اسی عقیدہ پر زندگی گزاری، اسی پر تمہیں موت آئی اور تمہیں اسی پراٹھایا جائے گا۔ اگر فوت شدہ آدمی کافر یا فاجر ہو تو اس کے پاس فرشتہ آتا ہے اور (عمل کی صورت میں) اس کے پاس فرشتے کو روکنے والی کوئی چیز نہیں ہوتی، سو وہ اسے بٹھا کر پوچھتا ہے: تو اس آدمی کے بارے کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے: کونسا آدمی؟ فرشتہ کہتا ہے: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ وہ کہتا ہے: اللہ کی قسم! میں تو کچھ نہیں جانتا، ہاں میں لوگوں کو جو بات کہتے ہوئے سنتا تھا، میں بھی وہی کہہ دیتا تھا۔ فرشتہ اس سے کہتا ہے: اسی پر تیری زندگی گزری، اسی پر تجھے موت آئی اور اسی پر تجھے اٹھایا جائے گا۔اس کے بعد اس کی قبر میں اس پر ایک جاندار مسلط کر دیا جاتا ہے، اس کے پاس ایک کوڑا ہوتا ہے، جس کی (ضرب) کا نتیجہ اونٹ کے بڑے ڈول کی طرح کا انگارہ ہوتا ہے،جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ اسے مارتا رہے گا، وہ جاندار بہرا ہوگا،تاکہ اس کی آواز سن کر اس پر رحم نہ کر دے۔
Takhreej
(۳۳۰۴) تخریـج: …رجالہ ثقات رجال الصحیح غیر ان محمد بن المنکدر لم یذکروا لہ سماعا من اسماء بنت ابی بکر، وھو قد ادرکھا أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۴/ ۲۸۱ (انظر: ۲۶۹۷۶)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور خوشبو مانگی، سو جب میں نے اسے خوشبو دے دی تو اس نے کہا: اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے۔اس دعا سے میرے دل میں تردّد ہونے لگا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا قبر میں عذاب ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں،مردوں کو قبر میں ایسا عذاب ہوتا ہے کہ چوپائے اس کی آواز کو سنتے ہیں۔
فوائد: …عوام الناس کو اس حدیث سے ایک اہم نکتہ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر اہل علم کو ہر مسئلے کا علم ہو، دیکھیں کہ سیدہ عائشہcکو اس واقعہ سے پہلے عذابِ قبر کا علم نہیں تھا، لیکن انھوں نے اس تردد والی کیفیت کو اپنے لیے کافی نہیں سمجھا اور تحقیق کرتے ہوئے نبی کریم a سے سوال کیا، اسی طرح ہمیں ہرمسئلے کی قرآن و حدیث کے ذریعے تحقیق کرنی چاہیے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میری خدمت کیا کرتی تھی،میں جب بھی اسے کوئی چیز دیتی تو وہ کہتی: اللہ تم کو عذاب ِ قبر سے محفوظ رکھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا قیامت سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بھلا تم یہ سوال کیوں پوچھ رہی ہو؟ میں نے کہا: فلاں یہودی عورت ، جب بھی ہم اسے کوئی چیز دیتے ہیں تو وہ کہتی ہے: اللہ تم کو عذاب ِ قبر سے محفوظ رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودی جھوٹ بولتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ پر بہت زیادہ جھوٹ باندھتے ہیں، قیامت کے روز سے پہلے کوئی عذاب نہیں ہو گا۔ اس کے بعد کچھ ایام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہرے رہے، جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عین دوپہر کے وقت نکلے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اوپر ایک کپڑا اوڑھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلند آواز سے فرماتے جا رہے تھے: لوگو! اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح تم پر فتنے چھا رہے ہیں، لوگو! جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر تم بھی اسے جان لیتے تو تم بہت زیادہ روتے اور کم ہنستے، لوگو! عذاب ِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، بے شک قبر کا عذاب حق ہے۔
Takhreej
(۳۳۰۶) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۲۴۵۲۰)
Explanation
فوائد: …مذکورہ بالا دو احادیث میں دو قصے ہیں، پہلی دفعہ آپ a نے لاعلمی کا اظہار کیا، پھر جب آپa کو علم ہوا تو بات واضح کر دی۔ اگر یہ کہا جائے کہ عذابِ قبر سے متعلقہ درج ذیل دو آیات تو مکہ مکرمہ میں نازل ہو چکی تھیں: {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمُنْوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظَّالِمِیْنَ۔} (سورۂ ابراہیم: ۲۷) یعنی: ’’ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت میں صحیح بات پر ثابت قدم رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے۔‘‘ {اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا} (سورۂ غافر: ۴۶) یعنی: ’’صبح وشام ان(آلِ فرعون) پر آگ پیش کی جاتی ہے۔‘‘
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، جبکہ اس وقت ایک یہودی عورت میرے پاس بیٹھی کہہ رہی تھی: کیا تم جانتی ہو کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا؟ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانپ اٹھے اور فرمایا: صرف یہودی لوگ قبروں میں آزمائے جائیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: چند ہی راتیں گزری تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تم جانتی ہو میری طرف وحی کی گئی ہے کہ واقعی تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنتی تھی۔
عبداللہ بن قاسم کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک پڑوسن نے مجھے بیان کیا کہ وہ طلوع فجر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا کرتے سنا کرتی تھی: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے قبرکے عذاب اور فتنے سے پناہ طلب کرتا ہوں۔)۔
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کی ایک آنکھ سبز شیشے کی طرح ہو گی اور تم عذابِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرو۔
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا سے سنا اور ان کے علاوہ کسی سے نہیں کہ وہ یہ کہتا ہو کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عذابِ قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے یہ دعا کی: یا اللہ! مجھے میرے شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، باپ ابوسفیان اور بھائی معاویہ سے فائدہ اٹھانے کاموقع عطا فرما، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ سے ایسی باتوں کا سوال کیا ہے جن کے اوقات اور ایام مقرر کیے جا چکے ہیں اور ان کے رزق بھی تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ کوئی چیز اپنے مقرر وقت سے مقدم یا موخر نہیں ہو سکتی، اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں آگ اور قبر کے عذاب سے پناہ میں رکھے تو یہ تیرے لیے بہتر اور افضل ہوتا۔
Takhreej
(۳۳۱۱) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۲۶۶۳(انظر: ۳۷۰۰)
Explanation
فوائد: …’’فائدہ اٹھانے کا موقع عطا فرما۔‘‘ اس دعا کا معنی یہ ہے کہ یہ تینوں ہستیاں لمبی عمر پائیں، تاکہ سیدہ ام حبیبہc ان سے مستفید ہوتی رہے۔ اگر لوگوں کی عمراور رزق کا فیصلہ ہو چکا ہے تو عذاب یا نجات کی تقدیر بھی تو لکھی جا چکی ہے، لہٰذا اول الذکر سے روک کر مؤخر الذکر کا سوال کرنے کا حکم دینے میں کیا حکمت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جہنم یا قبر کے عذاب سے نجات پانے کی دعا کرنا عبادت ہے اور شریعت میں عبادات کا ہی حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ جب تقدیر کے سلسلے میں ہی آپ a سے کہا گیا : کیا ہم اپنی کتاب اور تقدیر فیصلے پر اعتماد نہ کر لیں تو آپ a نے فرمایا: ((اِعْمَلُوْا فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہٗ۔)) یعنی: ’’عمل کرو، پس ہر شخص کو اس عمل کے لیے آسان کر دیا گیا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔‘‘ جب کہ لمبی عمر کی دعا کرنا عبادت نہیں، اس لیے جیسے ہم تقدیر کا سہارا لے کر صوم وصلاۃ کو ترک نہیں کر سکتے، اسی طرح جہنم سے نجات کی دعا کو بھی ترک نہیں کیا جا سکتا۔ واللہ اعلم۔
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولV نے فرمایا: قبر میں کافر پر ننانوے ازدہا مسلط کر دیئے جاتے ہیں، جو قیامت کے قائم ہونے تک اسے ڈستے رہتے ہیں، (وہ اس قدر زہریلے ہیں کہ) اگر ان میں سے ایک ازدہا زمین پر پھونک مار دے تووہ سبزہ نہ اگا سکے۔
Takhreej
(۳۳۱۲) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف دراج أبی السمح فی روایتہ عن ابی الھیثم أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۱۷۵، وابن حبان: ۳۱۲۱، والدارمی: ۲/ ۳۳۱، وابویعلی ۱۳۲۹ (انظر: ۱۱۳۳۴)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرم ایا: کافر پر دو سانپ چھوڑے جاتے ہیں، ایک سر کی طرف سے اور دوسرا پائوں کی طرف سے، دونوں اسے بار بار کاٹتے رہتے ہیں، جب وہ ایک دفعہ فارغ ہو جاتے ہیں تو دوبارہ لوٹ آتے ہیں، قیامت کے دن تک ایسے ہوتا رہتا ہے۔
Takhreej
(۳۳۱۳) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لجھالۃ ام محمد، وعلی بن زید بن جدعان ضعیف أخرجہ الخطیب فی ’’تاریخہ‘‘: ۲/ ۳۸۴ (انظر: ۲۵۱۸۹)
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدناابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے کھجوروں کے باغ میں قضائے حاجت کے لیے گئے، سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکرام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، نہ کہ پہلو بہ پہلو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اور وہاں ٹھہر گئے، یہاں تک سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال! تم ہلاک ہو جاؤ، جو کچھ میں سن رہا ہوں، تم بھی سن رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میں تو کچھ نہیں سن رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس قبر والے کو عذاب دیا جارہا ہے۔ پھر اس کے بارے میں جب پوچھا گیاتو وہ یہودی نکلا۔
سیّدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غروبِ آفتاب کے بعد باہر تشریف لے گئے اور کوئی آواز سن کر فرمایا: یہودیوں کو قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔
سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں بنو نجار کے باغات میں سے ایک باغ میں تھی،اس باغ میں کچھ قبریں بھی تھیں، ان قبروں والے (قبل از اسلام یعنی) دورِ جاہلیت میں مرے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عذاب دیئے جانے کی آوازیں سنیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے ہوئے نکل گئے: تم عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ان لوگوں کو قبروں میں عذاب ہورہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان کو ایسا عذاب دیا جاتا ہے کہ جو جانوروں کو سنائی دیتا ہے۔