مسنداحمد

Musnad Ahmad

قبروں کی زیارت کے بارے میں ابواب

اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت صرف مردوں کے لیے مستحب ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے

۔ (۳۳۴۳) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ وَعَنِ الْأَوْعِیَۃِ، وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُوْمُ الْأَضَاحِیْ بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّی کُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبْوِر فَزُوْرُوْہَا، فَإِنَّہَا تُذَکِّرُکُمُ الْآخِرَۃَ، وَنَھَیْتُکُمْ عَنِ الأَوْعِیَۃِ فَاشْرَبُوْا فِیْھَا، وَاجْتَنِبُوْا کُلَّ مَا أَسْکَرَ، وَنَھَیْتُکُمْ عَنْ لُحُوْمِ الْأَضَاحِیْ أَنْ تَحْبِسُوْہَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوْا مَا بَدَا لَکُمْ)) (مسند احمد: ۱۲۳۶)

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبروں کی زیارت ، (چند مخصوص) برتنوں اور تین دنوں کے بعد تک قربانی کے گوشت کوبچا رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ لیکن بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ تمہیں آخرت یاد دلائے گی، نیز میں نے تمہیں کچھ برتنوں سے منع کیاتھا، اب تم ان میں بھی پی سکتے ہو، لیکن ہر نشہ دینے والی چیز سے بچو اور میں نے تمہیں تین دن کے بعد تک قربانی کے گوشت کوبچا رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم جب تک چاہو اسے رکھ سکتے ہو۔

۔ (۳۳۴۵) وَعَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ وَفِیْہِ: ((وَنَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ، فَإِنْ زُرْتُمُوْہَا فَلَا تَقُوْلُوْا ہُجْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۵۰)

سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، لیکن اب اگر تم قبرستان کی زیارت کرو توکوئی فحش بات نہ کیا کرو۔

۔ (۳۳۴۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ، ثُمَّ بَدَا لِیْ أَنَّہَا تُرِقُّ الْقَلْبَ وَتُدْمِعُ الْعَیْنَ وَتُذَکِّرُ الْآخِرَۃَ فَزُوْرُوْہَا وَلَا تَقُوْلُوْا ہُجْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۲۱)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تو تھا، لیکن پھرمجھے خیال آیا ان کی زیارت سے دلوں میں رقت پیدا ہوتی ہے، آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور آخرت یاد آتی ہے، لہٰذاتم قبروں کی زیارت کیا کرو، لیکن کوئی فحش کام نہ کیا کرو۔

۔ (۳۳۴۷) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: زَارَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْرَ أُمِّہِ فَبَکٰی وَأَبْکٰی مَنْ حَوْلَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِسْتَأْذَنْتُ رَبِّی فِی أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَہَا فَلَمْ یُؤْذَنْ لِی وَاسْتَأْذَنْتُہُ فِی أَنْ أَزُوْرَقَبْرَہَا فَأَذِنَ لِی، فَزُوْرُوْا الْقُبُوْرَ فَإِنَّہَا تُذَکِّرُ الْمَوْتَ۔)) (مسند احمد: ۹۶۸۶)

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اور خود بھی روئے اور اپنے ساتھ والوں کو بھی رلایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے یہ اجازت طلب کی کہ میں اپنی والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کروں؟ لیکن مجھے اجازت نہیں دی گئی۔پھر جب میں نے اس کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دے دی، تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت یاد دلاتی ہیں۔