TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت صرف مردوں کے لیے مستحب ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے - اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت صرف مردوں کے لیے مستحب ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے - قبروں کی زیارت کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of قبروں کی زیارت کے بارے میں ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 3 · 5 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۳۳۴۳) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ وَعَنِ الْأَوْعِیَۃِ، وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُوْمُ الْأَضَاحِیْ بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّی کُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبْوِر فَزُوْرُوْہَا، فَإِنَّہَا تُذَکِّرُکُمُ الْآخِرَۃَ، وَنَھَیْتُکُمْ عَنِ الأَوْعِیَۃِ فَاشْرَبُوْا فِیْھَا، وَاجْتَنِبُوْا کُلَّ مَا أَسْکَرَ، وَنَھَیْتُکُمْ عَنْ لُحُوْمِ الْأَضَاحِیْ أَنْ تَحْبِسُوْہَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوْا مَا بَدَا لَکُمْ)) (مسند احمد: ۱۲۳۶)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبروں کی زیارت ، (چند مخصوص) برتنوں اور تین دنوں کے بعد تک قربانی کے گوشت کوبچا رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ لیکن بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ تمہیں آخرت یاد دلائے گی، نیز میں نے تمہیں کچھ برتنوں سے منع کیاتھا، اب تم ان میں بھی پی سکتے ہو، لیکن ہر نشہ دینے والی چیز سے بچو اور میں نے تمہیں تین دن کے بعد تک قربانی کے گوشت کوبچا رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم جب تک چاہو اسے رکھ سکتے ہو۔
Takhreej
(۳۳۴۳) تخر یـج:…صحیح لغیرہ أخرجہ ابویعلی: ۲۷۸ ورواہ ابن ابی شیبۃ: ۸/۱۱۱ مختصر بلفظ: ((کنت نھیتکم عن ھذہ الاوعیۃ، فاشربوا فیھا واجتنبوا ما اسکر۔)) (انظر: ۱۲۳۶)
Explanation
فوائد: بعض لوگوں کے فقرو فاقہ کی بنا پر قربانی کا گوشت تین ایام کے بعد تک ذخیرہ کرنے سے منع کیا گیا تھا، اسی طرح شراب کی حرمت کے موقع پر ان برتنوں کو استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا: کدو سے بنایا ہوا مٹکا‘ کھجور کے تنے کو کرید کر بنایا ہوا برتن‘ روغن کیا ہوا برتن اورپرانا سبز مٹکا۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد آپ a نے تینوں امور کی اجازت دے دی تھی۔
3343
Sahih
۔ (۳۳۴۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ (بُرَیْدَۃَ الأَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۴۶)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کرتے ہیں۔
Takhreej
(۳۳۴۴) تخر یـج:…أخرجہ مسلم: ۹۷۷ (انظر: ۲۲۹۵۸)
3344
Sahih
۔ (۳۳۴۵) وَعَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ وَفِیْہِ: ((وَنَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ، فَإِنْ زُرْتُمُوْہَا فَلَا تَقُوْلُوْا ہُجْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۵۰)
سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، لیکن اب اگر تم قبرستان کی زیارت کرو توکوئی فحش بات نہ کیا کرو۔
Takhreej
(۳۳۴۵) تخر یـج:…حدیث صحیحؒ أخرجہ مالک فی ’’المؤطا‘‘: ۲/ ۴۸۵ (انظر: ۱۱۶۰۶، ۱۱۶۲۷)
3345
Sahih
۔ (۳۳۴۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ، ثُمَّ بَدَا لِیْ أَنَّہَا تُرِقُّ الْقَلْبَ وَتُدْمِعُ الْعَیْنَ وَتُذَکِّرُ الْآخِرَۃَ فَزُوْرُوْہَا وَلَا تَقُوْلُوْا ہُجْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۲۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تو تھا، لیکن پھرمجھے خیال آیا ان کی زیارت سے دلوں میں رقت پیدا ہوتی ہے، آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور آخرت یاد آتی ہے، لہٰذاتم قبروں کی زیارت کیا کرو، لیکن کوئی فحش کام نہ کیا کرو۔
Takhreej
(۳۳۴۶) تخر یـج:…صحیح بطرقہ و شواہدہ أخرجہ تام و مقطعا ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۴۲، ۸/ ۱۵۹، وابویعلی: ۳۷۰۵، ۳۷۰۰۶، والحاکم: ۱/ ۳۷۶، والبیھقی: ۴/ ۷۷(انظر: ۱۳۴۸۷)
3346
Sahih
۔ (۳۳۴۷) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: زَارَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْرَ أُمِّہِ فَبَکٰی وَأَبْکٰی مَنْ حَوْلَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِسْتَأْذَنْتُ رَبِّی فِی أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَہَا فَلَمْ یُؤْذَنْ لِی وَاسْتَأْذَنْتُہُ فِی أَنْ أَزُوْرَقَبْرَہَا فَأَذِنَ لِی، فَزُوْرُوْا الْقُبُوْرَ فَإِنَّہَا تُذَکِّرُ الْمَوْتَ۔)) (مسند احمد: ۹۶۸۶)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اور خود بھی روئے اور اپنے ساتھ والوں کو بھی رلایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے یہ اجازت طلب کی کہ میں اپنی والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کروں؟ لیکن مجھے اجازت نہیں دی گئی۔پھر جب میں نے اس کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دے دی، تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت یاد دلاتی ہیں۔
Takhreej
(۳۳۴۷) تخر یـج:…أخرجہ مسلم: ۹۷۶(انظر: ۹۶۸۸)
3347
Sahih