سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت ، (چند مخصوص) برتنوں اور تین دنوں کے بعد تک قربانی کے گوشت کوبچا رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ تمہیں آخرت یاد دلائے گی، نیز میں نے تمہیں کچھ برتنوں سے منع کیاتھا، اب تم ان میں بھی پی سکتے ہو، لیکن ہر نشہ دینے والی چیز سے بچو اور میں نے تمہیں تین دن کے بعد تک قربانی کے گوشت کوبچا رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم جب تک چاہو اسے رکھ سکتے ہو۔
Takhreej
(۳۳۴۳) تخر یـج:…صحیح لغیرہ أخرجہ ابویعلی: ۲۷۸ ورواہ ابن ابی شیبۃ: ۸/۱۱۱ مختصر بلفظ: ((کنت نھیتکم عن ھذہ الاوعیۃ، فاشربوا فیھا واجتنبوا ما اسکر۔)) (انظر: ۱۲۳۶)
Explanation
فوائد: بعض لوگوں کے فقرو فاقہ کی بنا پر قربانی کا گوشت تین ایام کے بعد تک ذخیرہ کرنے سے منع کیا گیا تھا، اسی طرح شراب کی حرمت کے موقع پر ان برتنوں کو استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا: کدو سے بنایا ہوا مٹکا‘ کھجور کے تنے کو کرید کر بنایا ہوا برتن‘ روغن کیا ہوا برتن اورپرانا سبز مٹکا۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد آپ a نے تینوں امور کی اجازت دے دی تھی۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، لیکن اب اگر تم قبرستان کی زیارت کرو توکوئی فحش بات نہ کیا کرو۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تو تھا، لیکن پھرمجھے خیال آیا ان کی زیارت سے دلوں میں رقت پیدا ہوتی ہے، آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور آخرت یاد آتی ہے، لہٰذاتم قبروں کی زیارت کیا کرو، لیکن کوئی فحش کام نہ کیا کرو۔
Takhreej
(۳۳۴۶) تخر یـج:…صحیح بطرقہ و شواہدہ أخرجہ تام و مقطعا ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۴۲، ۸/ ۱۵۹، وابویعلی: ۳۷۰۵، ۳۷۰۰۶، والحاکم: ۱/ ۳۷۶، والبیھقی: ۴/ ۷۷(انظر: ۱۳۴۸۷)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اور خود بھی روئے اور اپنے ساتھ والوں کو بھی رلایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے یہ اجازت طلب کی کہ میں اپنی والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کروں؟ لیکن مجھے اجازت نہیں دی گئی۔پھر جب میں نے اس کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دے دی، تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت یاد دلاتی ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں اور قبروں پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کی ہے۔
Takhreej
(۳۳۴۸) تخر یـج:…حسن لغیرہ دون ذکر السرج، وھذا اسناد ضعیف لضعف ابی صالح باذام مولی ام ھانیئؒ أخرجہ ابوداود: ۳۲۳۶، وابن ماجہ: ۱۵۷۵، والترمذی: ۳۲۰، والنسائی: ۴/ ۹۴(انظر: ۲۰۳۰، ۲۹۸۴)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کثرت سے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔
Takhreej
(۳۳۵۰) تخر یـج:…اسنادہ حسن أخرجہ ابن ماجہ: ۱۵۷۶، والترمذی: ۱۰۵۶(انظر: ۸۴۴۹)
Explanation
فوائد:… اگرچہ بعض اہل علم نے مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں یہ کہا ہے کہ عورتوں کے لیے قبرستان جاناغیر شرعی کام ہے، لیکن اس باب کی تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں بھی مردوں کی طرح قبروں کی زیارت کر سکتی ہیں، مذکورہ بالا احادیث آپ a نے اس زمانے میں بیان فرمائی تھیں، جب مطلق طور پر قبرستان کی زیارت کرنا منع تھا، اس دعوی کے دلائل درج ذیل ہیں:
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ لوگ قبرستان کی طرف جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَہْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ، إِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، أَنْتُمْ فَرَطُنَا وَنَحْنُ لَکُمْ تَبَعٌ، وَنَسْأَلُ اللّٰہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ۔ (اے ان گھروں والو مومنو اور مسلمانو!تم پر سلامتی ہو،ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں، تم ہم سے آگے ہو اور ہم تمہارے پیچھے پیچھے آرہے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۔)
Takhreej
(۳۳۵۱)تخر یـج:…أخرجہ مسلم: ۹۷۵(انظر: ۲۲۹۸۵)
Explanation
فوائد:… مرنا تو یقینی ہے، لیکن برکت کے طور پر اور اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمان کے پیش نظر دعا کے الفاظ میں ’’ان شاء اللہ‘‘ کہا گیا ہے:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبرستان میں تشریف لے گئے اور ان کو سلام کہتے ہوئے یہ دعا پڑھی: سَلَامٌ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ! وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ۔(اس گھر کے صاحب ِ ایمان لوگو! تم پر سلامتی ہو، ان شاء اللہ ہم بھی تمہیں ملنے والے ہیں۔)
ایک دن محمد بن قیس نے کہا: کیا میں تمہیں اپنی اور اپنی والدہ سے ایک حدیث بیان نہ کر دوں؟ ہم نے سمجھا کہ اس کی مراد اس کی حقیقی والدہ ہے، پھر انہوں نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میں تمہیں اپنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک واقعہ بیان کروں؟ میں نے عرض کیا: جی کیوں نہیں، پھر انھوں نے کہا: جب میری رات تھی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عشاء کے بعد) واپس تشریف لائے، چادر رکھی، جوتے اتار کر پائنتی کی طرف رکھ دیئے اور چادر کا ایک حصہ بستر پر بچھا کر لیٹ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر لیٹے رہے، (میرے خیال کے مطابق) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمجھا کہ میں سو گئی ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ سے اپنی چادر اٹھائی، آرام سے جوتے پہنے اور دروازہ کھول کر باہر تشریف لے گئے اور آہستگی سے اسے بند کر دیا۔ اُدھر میں نے بھی اپنا دوپٹہ سنبھالا، سر پر رکھا، چادر اوڑھی، شلوار پہنی اور آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع قبرستان میں جا پہنچے، وہاں کافی دیر کھڑے رہے اور تین مرتبہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹے اور میں بھی لوٹنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز تیز چلے تو میں نے بھی رفتار تیز کر دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دوڑے تو میں بھی دوڑنے لگی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید تیز ہو گئے تو میں بھی مزید تیز ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نکل گئی اور گھر پہنچ کر ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمایا: عائشہ! کیا بات ہے، سانس پھولا ہوا ہے، پیٹ اٹھا ہوا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کوئی بات نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم خود ہی مجھے بتا دو، ورنہ باریک بیں اور باخبر ربّ مجھے بتلا دے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے والدین آپ پر قربان ہوں، پھرمیں نے سارا واقعہ آپ کو بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مجھے اپنے سامنے کالا سا وجود نظر آ رہا تھا، یہ تم تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری کمر میں مکا مارا، جس سے مجھے تکلیف ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر زیادتی کریں گے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:لوگ جیسے مرضی چھپا لیں، لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے جانتا ہی ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں،بات یہ تھی کہ جب تم نے مجھے دیکھا تھا اس وقت جبریل علیہ السلام نے آکر مجھے آواز دی اور آواز کو تم سے پوشیدہ رکھا، میں نے بھی اپنی آواز کو تم سے مخفی رکھتے ہوئے اس کی بات کا جواب دیا، وہ اس وقت تمہارے پاس تو آ نہیں سکتا تھا، کیونکہ تم نے کپڑے وغیرہ ایک طرف رکھے ہوئے تھے، جبکہ میں نے سمجھا تھا تم سو چکی ہو اورتمہیں جگانا بھی مناسب نہ سمجھا، تاکہ تم اکیلی پریشان نہ ہو جائو، جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: آپ کا ربّ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع والوں کے پاس جا کر ان کے لیے بخشش کی دعا کریں، (اس لیے میں چلا گیا تھا)۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کیاکہ اے اللہ کے رسول! میں کیسے دعا پڑھا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یوں کہا کرو: اَلسَّلَامُ عَلٰی أَہْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِیْنَ، وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ لَلَاحِقُوْنَ۔ (سلامتی ہو ان گھروں والے مومنوں اور مسلمانوں پر اور اللہ تعالیٰ ہم سے پہلے والوں اور بعد والوں پر رحم کرے اور ہم بھی ان شاء اللہ ملنے والے ہیں۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کر چل پڑے، میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی اور بیوی کے پاس جا رہے ہیں، اس لیے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل پڑی، لیکن دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے اور (یہ دعا کرتے ہوئے) فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَأَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَإِنَّا بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، اَللّٰہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَہُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَہُمْ۔(اس گھر والے مومنو! تم پر سلامتی ہو، تم ہم سے آگے ہو اور ہم بھی تم کو ملنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے اجرسے محروم نہ کرنا اور ان کے بعد ہمیں کسی فتنے میں نہ ڈالنا۔) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے طرف متوجہ ہوئے اور مجھے دیکھ کر کہا: یہ ہلاک ہو جائے، اگر اس کو یہ طاقت ہوتی تو یہ کام نہ کرتی۔
Takhreej
(۳۳۵۴) تخر یـج:…اسنادہ ضعیف لضعف شریک بن عبد اللہ النخعی، وعاصم بن عبید اللہ العمری قد توبع أخرجہ ابوداود، والنسائی: ۷/ ۷۵، وابن ماجہ: ۱۵۴۶(انظر: ۲۴۴۲۵، ۲۴۴۷۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بدر والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنویں (جس میں کفار کے مقتولوں کو پھینک دیا گیا تھا) کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: او فلاں! اوفلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے درست پایا ہے؟ خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ یہ لوگ اس وقت میرا کلام سن رہے ہیں۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، وہ بھول گئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ اب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سے جو کچھ کہتا تھا، وہ حق تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔ نیز فرمایا: جو لوگ قبروں میں ہیں، توان کو نہیں سنا سکتا۔
فوائد: اس مسئلہ سے متعلق جو حدیث ِ مبارکہ سیدنا انس بن مالکbسے مروی ہے، اس کے مطابق آپa نے غزوۂ بدر میں قتل ہونے والے کافروں کو ان کے اور ان کے آباء کے ناموں کے ساتھ آواز دی، اس پر سیدنا عمرbنے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ ان جسموں سے کیا گفتگو کر رہے ہیں، جن میں روحیں نہیں ہیں؟