TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سونے اور چاندی کی زکوۃ

Chapter 7 of زکوۃ کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 7 · 7 Hadith
۔ (۳۴۰۱) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْحَمِیْرِ فِیْہَا زَکَاۃٌ؟ فَقَالَ: ((مَا جَائَ فِیْہَا شَیْئٌ إِلَّا ہٰذِہِ الآیَۃُ الْفَاذَّۃُ {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہُ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَاَل ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہُ}۔)) (مسند احمد: ۹۴۷۰)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ پوچھا گیا کہ آیا گدھوں پر زکوۃ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بارے میںمجھ پر کوئی چیز نازل نہیں ہوئی، ما سوائے اس ایک جامع آیت کے: {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہٗ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہٗ۔}(سورۂ زلزال۔۸) یعنی: جو کوئی ایک ذرہ برابرنیکی کرے گا، وہ اس کا بدلہ پالے گا اور جو کوئی ذرہ برابر گناہ کرے وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔
Takhreej
(۳۴۰۱) تخر یـج:… أخرجہ مسلم: ۹۸۷ مطولا(انظر: ۷۵۶۳، ۹۴۷۶)
Explanation
فوائد: اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ غلاموں، گھوڑوں اور گدھوں میں علی الاطلاق زکوۃ واجب نہیں، البتہ یہ ضروری ہے کہ غلاموں کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کیا جائے۔ آخری حدیث میں مذکورہ دو آیات کے الفاظ انتہائی مختصر ہیں، مگر وہ ہر قسم کی خیر کو شامل ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ گدھوں پر زکوۃ نہیں ہے، ہاں اگر کوئی کسی کو یہ جانور بھی دینا چاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ماجور ہو گا۔
3401
Sahih
۔ (۳۴۰۲) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدْ عَفَوْتُ لَکُمْ عَنِ الْخَیْلِ وَالرَّقِیْقِ فَہَاتُوْاصَدَقَۃَ الرِّقَۃِ مِنْ کُلِّ أَرْبَعِیْنَ دِرْہَمًا دِرْہَمًا وَلَیْسَ فِی تِسْعِیْنَ وَمِائَۃٍ شَیْئٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مَائَتَیْنِ فَفِیْہَا خَمْسَۃُ دَرَاہِمَ۔)) (مسند احمد: ۷۱۱)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کر دی ہے،البتہ تم چاندی کے ہر چالیس درہموں میں سے ایک درہم بطور زکوۃ ادا کیا کرو،اگر چاندی ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کوئی زکوۃ نہیں ہے، جب وہ دو سو درہم ہو جائے تو اس میں پانچ درہم زکوۃ ہے۔
Takhreej
(۳۴۰۲) تخر یـج:… صحیح أخرجہ ابوداود: ۱۵۷۴، والترمذی: ۶۲۰، وابن ماجہ: ۱۷۹۰، والنسائی: ۵/ ۳۷(انظر: ۷۱۱)
3402
Sahih
۔ (۳۴۰۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ عَفَوْتُ لَکُمْ عَنِ الْخَیْلِ وَالرَّقِیْقِ وَلَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ مِائَتَیْنِ زَکَاۃٌ۔)) (مسند احمد: ۹۱۳)
(دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کر دی ہے، اور دو سو درہم سے کم (چاندی) میں بھی کوئی زکوۃ نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۴۰۳)تخر یـج:… انظر الحدیث بالطریق الاول تخر یـج:…حدیث صحیح، وھذا اسناد منقطع، فان عمرو بن دینار لم یسمعہ من جابر، ویشھد لہ روایۃ ابی الزبیر عن جابر عند مسلم: ۹۸۰۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۹۴ (انظر: ۱۴۱۶۲)
3403
Sahih
۔ (۳۴۰۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا صَدَقَۃَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسِ اَوَاقٍ وَلَا فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ أَوْسُقٍ، وَلَا فِیْمَا دُوْنَ خَمْسِ ذَوْدٍ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۰۹)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیوں سے کم چاندی پر کوئی زکوۃ نہیں، پانچ وسق سے کم فصل پر کوئی زکوۃ نہیںاور پانچ اونٹوں سے کم پر زکوۃ نہیں۔
3404
Sahih
۔ (۳۴۰۵)وَعَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۵۶۷۰)
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۴۰۵)تخر یـج:…صحیح لغیرہ أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۶۹۷، والبیھقی: ۴/ ۱۲۱، والطحاوی: ۲/ ۳۵، والبزار: ۸۸۸ (انظر: ۵۶۷۰)
3405
Sahih
۔ (۳۴۰۶) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا صَدَقَۃَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ وَلَا فِیْمَا دُوْنَ خَمْسِ اَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ وَلَا فِیْمَا دُوْنَ خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ)) (مسند احمد: ۱۱۸۴۱)
سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پانچ وسق سے کم کھجوروں پر کوئی زکوۃ نہیں، چاندی کے پانچ اوقیوں سے کم پر کوئی زکوۃ نہیں اور پانچ اونٹوں سے کم پر کوئی زکوۃ نہیں۔
Takhreej
(۳۴۰۶) تخر یـج:…أخرجہ البخاری: ۱۴۰۵، ۱۴۴۷، ومسلم: ۹۷۹(انظر: ۱۱۰۳۰، ۱۱۸۱۹)
3406
Sahih
۔ (۳۴۰۷)عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی کِتَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّذِی جَمَعَ فِیْہِ فَرَائِضَ الصَّدَقَۃِ، قَالَ: ((وَفِی الرِّقَۃِ رُبُعُ الْعُشُوْرِ، فَإِذَا لَمْ یَکُنْ الْمَالُ إِلَّا تِسْعِیْنَ وَمَائَۃَ دِرْہَمٍ فَلَیْسَ فِیْہَا شَیْئٌ إِلَّا أَنْ یَشَائَ رَبُّہَا۔)) (مسند احمد: ۷۲)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تحریر، جو نصاب ِ زکوۃ پر مشتمل تھی، میں یہ بھی تھا: چاندی میں چالیسواں حصہ زکوۃ فرض ہے، اگر چاندی ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں زکوۃ فرض نہیں، ہاں اگر اس کا مالک چاہے تو ٹھیک ہے۔
Takhreej
(۳۴۰۷) تخر یـج:…ھذا حدیث طویل أخرجہ البخاری مفرقا: ۱۴۴۸، ۱۴۵۰، ۱۴۵۱، ۱۴۵۳، ۲۴۸۷، ۳۱۰۶، ۵۸۷۸، ۶۹۵۵(اانظر: ۷۲)
Explanation
فوائد: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ چاندی کا نصاب پانچ اوقیے ہے، ایک اوقیہ (۴۰) درہم کا ہوتا ہے، اس طرح پانچ اوقیوں کا وزن (۲۰۰) درہم اور (۲۰۰) درہم کا وزن ساڑھے باون تولے بنتا ہے۔
3407
Sahih