۔ (۳۴۰۱) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ الْحَمِیْرِ فِیْہَا زَکَاۃٌ؟ فَقَالَ: ((مَا جَائَ فِیْہَا شَیْئٌ إِلَّا ہٰذِہِ الآیَۃُ الْفَاذَّۃُ {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہُ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَاَل ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہُ}۔)) (مسند احمد: ۹۴۷۰)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ پوچھا گیا کہ آیا گدھوں پر زکوۃ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میںمجھ پر کوئی چیز نازل نہیں ہوئی، ما سوائے اس ایک جامع آیت کے: {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہٗ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہٗ۔}(سورۂ زلزال۔۸) یعنی: جو کوئی ایک ذرہ برابرنیکی کرے گا، وہ اس کا بدلہ پالے گا اور جو کوئی ذرہ برابر گناہ کرے وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔
Takhreej
(۳۴۰۱) تخر یـج:… أخرجہ مسلم: ۹۸۷ مطولا(انظر: ۷۵۶۳، ۹۴۷۶)
Explanation
فوائد: اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ غلاموں، گھوڑوں اور گدھوں میں علی الاطلاق زکوۃ واجب نہیں، البتہ یہ ضروری ہے کہ غلاموں کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کیا جائے۔ آخری حدیث میں مذکورہ دو آیات کے الفاظ انتہائی مختصر ہیں، مگر وہ ہر قسم کی خیر کو شامل ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ گدھوں پر زکوۃ نہیں ہے، ہاں اگر کوئی کسی کو یہ جانور بھی دینا چاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ماجور ہو گا۔
3401
Sahih