سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ پوچھا گیا کہ آیا گدھوں پر زکوۃ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میںمجھ پر کوئی چیز نازل نہیں ہوئی، ما سوائے اس ایک جامع آیت کے: {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہٗ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہٗ۔}(سورۂ زلزال۔۸) یعنی: جو کوئی ایک ذرہ برابرنیکی کرے گا، وہ اس کا بدلہ پالے گا اور جو کوئی ذرہ برابر گناہ کرے وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کر دی ہے،البتہ تم چاندی کے ہر چالیس درہموں میں سے ایک درہم بطور زکوۃ ادا کیا کرو،اگر چاندی ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کوئی زکوۃ نہیں ہے، جب وہ دو سو درہم ہو جائے تو اس میں پانچ درہم زکوۃ ہے۔
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کر دی ہے، اور دو سو درہم سے کم (چاندی) میں بھی کوئی زکوۃ نہیں ہے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیوں سے کم چاندی پر کوئی زکوۃ نہیں، پانچ وسق سے کم فصل پر کوئی زکوۃ نہیںاور پانچ اونٹوں سے کم پر زکوۃ نہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پانچ وسق سے کم کھجوروں پر کوئی زکوۃ نہیں، چاندی کے پانچ اوقیوں سے کم پر کوئی زکوۃ نہیں اور پانچ اونٹوں سے کم پر کوئی زکوۃ نہیں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تحریر، جو نصاب ِ زکوۃ پر مشتمل تھی، میں یہ بھی تھا: چاندی میں چالیسواں حصہ زکوۃ فرض ہے، اگر چاندی ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں زکوۃ فرض نہیں، ہاں اگر اس کا مالک چاہے تو ٹھیک ہے۔