مسنداحمد

Musnad Ahmad

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان

۔ (۳۴۲۹) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَصْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِیْعًا، فَدَخَلَ عَلَی بَعْضِ نِسَائِہِ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأٰی مَا فِی وُجُوْہِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَاجُبِہِمْ لِسُرْعَتِہِ، قَالَ: ((ذَکَرْتُ وَأَنَا فِی الصَّلَاۃِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَکَرِہْتُ أَنْ یُمْسِیَ أَوْ یَبِیْتَ عِنْدَنَا، فَأَمَرْتُ بِقَسْمِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۴۶)

۔ سیدناعقبہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عصر کی نماز ادا کی، سلام کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جلدی سے اٹھ کر اپنی ایک بیوی کے گھر تشریف لے گئے اور پھر واپس آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محسوس کیا کہ لوگوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جلدی کی وجہ سے تعجب ہوا ہے،اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوران نماز مجھے یاد آیا کہ ہمارے ہاں سونے کی ایک ڈلی موجود ہے، مجھے یہ ناپسند لگا کہ شام ہو جائے یا رات گزر جائے اور یہ ہمارے پاس ہی ہو، اس لیے میں اسے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں۔

۔ (۳۴۳۰) عَنْ عَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی تَعْجِیْلِ صَدَقَتِہِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَہُ فِی ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۸۲۲)

۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ کیا فرض ہونے سے پہلے زکوٰۃ ادا کی جا سکتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔

۔ (۳۴۳۱) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُمَرَ عَلَی الصَّدَقَۃِ فَقِیْلَ: مَنَعَ ابْنُ جََمِیْلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا نَقَمَ ابْنُ جَمِیْلٍ إلاَّ أَنَّہُ کَانَ فَقِیْرًا فَأَغْنَاہُ اللّٰہُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّکُمْ تَظْلِمُوْنَ خَالِدًا فَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَہُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَہُوَ عَلَیَّ وَمِثْلُہَا۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُا أَبِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۲۶۷)

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجا، انہوں نے واپس آ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بتلایا کہ سیدنا ابن جمیل، سیدنا خالد بن ولید اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدناعباس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی، (یہ سن کر) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن جمیل نے تو انکار نہیں کیا مگر اس وجہ سے کہ وہ پہلے تنگ دست تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے خوشحال کر دیا ہے، البتہ تم خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر زیادتی کرتے ہو، اس نے تواپنی زرہیں اور (سارا جنگی سامان) اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا ہے، اور رہا مسئلہ عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تو ان کے حصے کی زکوۃ، بلکہ ایک گنا مزید مجھ پر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ انسان کا چچا اس کے والد کی مانند ہوتا ہے۔

۔ (۳۴۳۲) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌لِلنَّاسِ: مَا تَرَوْنَ فِی فَضْلٍ فَضَلَ عِنْدَنَا ِمْن ہَذَا الْمَالِ، فَقَالَ النَّاسُ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! قَدْ شَغَلْنَاکَ عَنْ أَہْلِکَ وَضَیْعَتِکَ وَتِجَارَتِکَ فَہُوَ لَکَ۔ فَقَالَ لِیْ: مَا تَقُوْلُ أَنْتَ، فَقُلْتُ: قَدْ أَشَارُوْا عَلَیْکَ۔ فَقَالَ لِی: قُلْ، فَقُلْتُ: لِمَ تَجْعَلُ یَقِیْنَکَ ظَنَّا، فَقَالَ: لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ، فَقُلْتُ: اَجَلْ وَاللّٰہِ ! لَأَخْرُجَنَّ مِنْہُ أَتذَکْرُ ُحِیْنَ بَعَثَکَ نَبِیُّاللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاعِیًا فَأَتَیْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَمَنَعَکَ صَدَقَتَہُ فَکَانَ بَیْنَکُمَا شَیْئٌ، فَقُلْتَ لِیْ: اِنْطَلِقْ مَعِی إِلی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدْنَا ہُ خَاثِرًا، فَرَجَعْنَا، ثُمَّ غَدَوْنَا عَلَیْہِ فَوَجَدْنَاہُ طَیِّبَ النَّفْسِ فَأَخْبَرْتَہُ بِالَّذِی صَنَعَ، فَقَالَ لَکَ: ((أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِیْہِ۔)) وَذَکَرْنَا لَہُ الَّذِی رَأَیْنَاہُ مِنْ خُثُوْرِہِ فِی الْیَوْمِ الْأَوَّلِ وَالَّذِی رَأَیْنَا مِنْ طِیْبِ نَفْسِہِ فیِ الْیَوْمِ الثَّانِی، فَقَالَ إِنَّکُمَا أَتَیْتُمَانِی فِیْ الْیَوْمِ الْأَوَّل َ، وَقَدْ بَقِیَ عِنْدِی مِنَ الصَّدَقۃَ ِدِیْنَارَانِ، فَکَانَ الَّذِی رَأَیْتُمَا مِنْ خُثُوْرِی لَہُ، وَأَتَیْتُمَانِی الْیَوْمَ وَقَدْ وَجَّہْتُہُمَا غَدًا، فَذَالِکَ الَّذِی رأََیْتُمَامِنْ طِیبِ نَفْسِی، فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌صَدَقْتَ وَاللّٰہِ، لاََشْکُرَنَّ لَکَ الْأُوْلٰی وَالْآخِرَۃَ۔ (مسند احمد: ۷۲۵)

۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں سے کہا: (صدقہ کا) جو مال ہمارے پاس بچ گیا ہے، اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین! ہم نے آپ کو آپ کے اہل و عیال، کاروبار اور تجارت سے مصروف کر دیا ہے، اس لیےیہ مال آپ اپنے پاس رکھ لیں۔ سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ (علی) سے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: لوگ آپ کو ایک چیز کا اشارہ کر چکے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا: آپ بھی کچھ کہو۔ میں نے کہا: آپ اپنے یقین کو گمان میں کیوں تبدیل کرتے ہیں؟انہوں نے کہا: تمہیں کھل کر بات کرنا ہو گی۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے، وضاحت سے عرض کرتا ہوں، کیا آپ کو یاد ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آپ کو زکوٰۃ کی وصولی کے لئے بھیجا تھا، جب آپ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے آپ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا تھا اورآپ کے اور ان کے درمیان چپقلش بھی ہو گئی تھی۔ آپ نے مجھ سے کہا تھا: میرے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک چلو۔ پس ہم گئے لیکن جب ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پریشان حال دیکھا تو ہم واپس لوٹ گئے،جب ہم دوسرے دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے تو آپ کو ہم نے مطمئن اور خوش گوارپایا۔ آپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدناعباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : چچا والد کی ہی مانند ہوتا ہے۔ پھر ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے دن کی پریشانی اور دوسرے دن کی خوشگواری کا ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: جب تم کل میرے پاس آئے تھے تو اس وقت میرے پاس صدقہ کے دو دینار بچے ہوئے تھے، میں ان کی وجہ سے پریشان تھا، جبکہ آج صبح ہی میں ان کو تقسیم کر چکا تھا، اس لیے تمہاری آمد پر خوش گوار اور مطمئن لگ رہا ہوں۔ یہ سن کر سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے بالکل درست کہا، میں اول و آخر آپ کا شکر گزار ہوں۔

۔ (۳۴۳۳) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الّٰلِہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوْ أَنْ أُحُدًا عِنْدِی ذَہَبًا َلأَحْبَبْتُ أَنْ لاَ یَأْتِیَ عَلَیَّ ثَلَاثُ لَیَالٍ وَعِنْدِی مِنْہُ دِیْنَارٌ، أَجِدُ مَنْ یَقْبَلُہُ مِنِّی،لَیْسَ شَیْئًا أَرْصُدُہُ فِی دِیْنٍ عَلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۸۱۸۰)

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور مجھ سے قبول کرنے والے مستحق لوگ بھی دستیاب ہوں تو میں چاہوں گا کہ تین راتوں سے پہلے پہلے وہ سارا خرچ کر دوں اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی باقی نہ رہے، ما سوائے اس کے کہ میں جس کو اپنا قرضہ اتارنے کے لئے بچا رکھوں۔

۔ (۳۴۳۴) عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِی أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَۃِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أُتِیَ بِصَدَقَۃٍ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ۔)) وَإِنَّ أَبِیْ أَتَاہُ بِصَدَقَۃِ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ أَبِی أَوْفٰی۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۴۶)

۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو درخت والے (یعنی بیعت ِ رضوان کرنے والے) صحابہ کرام میں سے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب کوئی آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں صدقہ لے کر آتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے حق میںیوں دعا فرماتے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ۔ (اے اللہ! تو ان پر رحم فرما۔) میرے والد بھی صدقہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیںیوں دعا دی: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آل أَبِی أَوْفَی۔ (اے اللہ! تو ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔)

۔ (۳۴۳۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَوْفٰییَقُوْلُ: کاَن َالرَّجُلُ إِذَا أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وعَلَی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَۃِ مَالِہٖصَلَّی عَلَیْہِ فَأَتَیْتُہُ بِصَدَقَۃِ مَالِ أَبِی فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ أَبِی أَوْفٰی۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۲۱)

۔ (دوسری سند) وہکہتے ہیں: میں نے سیدناعبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: جب کوئی آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے حق میں رحمت کی دعا کرتے، ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعا دی: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ أَبِی أَوْفَی۔ (یا اللہ! تو ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔)