۔ سیدناعقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز ادا کی، سلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی سے اٹھ کر اپنی ایک بیوی کے گھر تشریف لے گئے اور پھر واپس آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محسوس کیا کہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلدی کی وجہ سے تعجب ہوا ہے،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوران نماز مجھے یاد آیا کہ ہمارے ہاں سونے کی ایک ڈلی موجود ہے، مجھے یہ ناپسند لگا کہ شام ہو جائے یا رات گزر جائے اور یہ ہمارے پاس ہی ہو، اس لیے میں اسے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں۔
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خیر کے امور سرانجام دینے میں جلدی کرنی چاہیے، اس طرح سے بندہ پہلی فرصت میں اپنی ذمہ داری سے خلاصی حاصل کر لیتا ہے، دوسروں کی ضرورت جلدی پوری ہو جاتی ہے اور خواہ مخواہ کے ٹال مٹول سے بھی انسان محفوظ رہ جاتا ہے اور آفات اور موانع کے درپے ہو جانے کا خطرہ بھی ٹل جاتا ہے۔
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا فرض ہونے سے پہلے زکوٰۃ ادا کی جا سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدناعمر رضی اللہ عنہ کو زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجا، انہوں نے واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بتلایا کہ سیدنا ابن جمیل، سیدنا خالد بن ولید اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیدناعباس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن جمیل نے تو انکار نہیں کیا مگر اس وجہ سے کہ وہ پہلے تنگ دست تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے خوشحال کر دیا ہے، البتہ تم خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر زیادتی کرتے ہو، اس نے تواپنی زرہیں اور (سارا جنگی سامان) اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا ہے، اور رہا مسئلہ عباس رضی اللہ عنہ کا تو ان کے حصے کی زکوۃ، بلکہ ایک گنا مزید مجھ پر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ انسان کا چچا اس کے والد کی مانند ہوتا ہے۔
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین افراد کے بارے میں یہ شکایت کی کہ انھوں نے زکوۃ ادا نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں جو جوابات دیئے، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابن جمیل رضی اللہ عنہ نے نعمت کی قدر نہیں کی اور احسان کے مقابلے میں انھوں نے اچھا کردار پیش نہیں کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف سیدنا ابن جمیل رضی اللہ عنہ کی مذمت کرنے پر اکتفا کیوں کیا اور عملاً ان سے زکوۃ وصول کیوں نہیں کی، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کے ساتھ اس وقت تک قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ جب تک ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے کی گواہی دیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے متعلقہ یہ بات سن کر خود باز آ گئے ہوں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ رہا مسئلہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا تو ان کے بارے میں راجح قول کے مطابق دو تاویلوں کا امکان ہے: (۱) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ذمہ داری قبول کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ انھوں نے زکوۃ ادا نہیں کی، لیکن اب میں اس کی ضمانت دیتا ہوں، کیونکہ وہ میرے چچا ہیں اور چچا باپ کی طرح ہی ہوتا ہے۔ (۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی ضرورت کی وجہ سے سیدناعباس رضی اللہ عنہ سے وقت سے پہلے دو سالوں کی زکوۃ لے لی تھی، لیکن اس تاویل پر دلالت کرنے والی جتنی احادیث ہیں، ان میں سے ہر ایک میں کوئی نہ کوئی ضعف پایا جاتا ہے، اگر تمام سندوں کے مجموعہ کو دیکھا جائے تو دوسری تاویل قوی معلوم ہوتی ہے۔ تفصیل کے لیے فتح الباری: ۳ /۴۲۶کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شکایت کے مطابق سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا زکوۃ ادا نہ کرنا، اس کی بھی دو تاویلیں ہو سکتی ہیں: (۱) سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی زکوۃ کی قیمت سے جہاد کیلئے اسلحہ اور دوسرے آلاتِ حرب خرید لیے تھے، جہاد بھی مصارف ِ زکوۃ میں سے ہے، اور اس ضمن میں انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لی ہو گی کہ وہ زکوۃ کے معاملے میں اپنا حساب کتاب خود کر لیا کریں گے۔ (۲) سرے سے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنا مال و متاع اللہ کے راستے میں وقف کر رکھا تھا، لیکن زکوۃ لینے والوں کو اس چیز کا علم نہیں تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: (صدقہ کا) جو مال ہمارے پاس بچ گیا ہے، اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین! ہم نے آپ کو آپ کے اہل و عیال، کاروبار اور تجارت سے مصروف کر دیا ہے، اس لیےیہ مال آپ اپنے پاس رکھ لیں۔ سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے مجھ (علی) سے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: لوگ آپ کو ایک چیز کا اشارہ کر چکے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا: آپ بھی کچھ کہو۔ میں نے کہا: آپ اپنے یقین کو گمان میں کیوں تبدیل کرتے ہیں؟انہوں نے کہا: تمہیں کھل کر بات کرنا ہو گی۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے، وضاحت سے عرض کرتا ہوں، کیا آپ کو یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو زکوٰۃ کی وصولی کے لئے بھیجا تھا، جب آپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے آپ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا تھا اورآپ کے اور ان کے درمیان چپقلش بھی ہو گئی تھی۔ آپ نے مجھ سے کہا تھا: میرے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک چلو۔ پس ہم گئے لیکن جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پریشان حال دیکھا تو ہم واپس لوٹ گئے،جب ہم دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے تو آپ کو ہم نے مطمئن اور خوش گوارپایا۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدناعباس رضی اللہ عنہ کی بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : چچا والد کی ہی مانند ہوتا ہے۔ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے دن کی پریشانی اور دوسرے دن کی خوشگواری کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: جب تم کل میرے پاس آئے تھے تو اس وقت میرے پاس صدقہ کے دو دینار بچے ہوئے تھے، میں ان کی وجہ سے پریشان تھا، جبکہ آج صبح ہی میں ان کو تقسیم کر چکا تھا، اس لیے تمہاری آمد پر خوش گوار اور مطمئن لگ رہا ہوں۔ یہ سن کر سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے بالکل درست کہا، میں اول و آخر آپ کا شکر گزار ہوں۔
فوائد:… سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نظریہیہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو اس وقت تک انشراحِ صدر نہیں ہوا تھا، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو دینار باقی تھے، اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھییہی زیب دیتا تھا کہ وہ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’میں اول و آخر آپ کا شکر گزار ہوں۔‘‘ اس قول میں ’’اول‘‘ سے مراد یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی طرح یہ نہیں کہا کہ بقیہ مال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی اپنے پاس رکھ لیں اور ’’آخر‘‘ سے مراد یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک دلیل بیان کرنے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو دیناروں والی بات یاد کرا دی۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے مسئول لوگوں کو اپنی ذمہ داری کا اندازہ لگا لینا چاہیے، چہ جائیکہ وہ ایسی امانتوں کو ذاتی جائیداد کی طرح ہڑپ کر جائیں۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور مجھ سے قبول کرنے والے مستحق لوگ بھی دستیاب ہوں تو میں چاہوں گا کہ تین راتوں سے پہلے پہلے وہ سارا خرچ کر دوں اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی باقی نہ رہے، ما سوائے اس کے کہ میں جس کو اپنا قرضہ اتارنے کے لئے بچا رکھوں۔
Takhreej
(۳۴۳۳) تخر یـج: أخرجہ البخاری: ۷۲۲۸(انظر: ۸۱۹۵)
Explanation
فوائد:… اس میں خیر و بھلائی کے امور میں پہلی فرصت میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ ، جو درخت والے (یعنی بیعت ِ رضوان کرنے والے) صحابہ کرام میں سے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صدقہ لے کر آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے حق میںیوں دعا فرماتے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ۔ (اے اللہ! تو ان پر رحم فرما۔) میرے والد بھی صدقہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیںیوں دعا دی: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آل أَبِی أَوْفَی۔ (اے اللہ! تو ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔)
۔ (دوسری سند) وہکہتے ہیں: میں نے سیدناعبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: جب کوئی آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے حق میں رحمت کی دعا کرتے، ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا دی: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ أَبِی أَوْفَی۔ (یا اللہ! تو ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔)
Takhreej
(۳۴۳۵) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ جب کوئی آدمی صدقہ اور زکوٰۃ وغیرہ ادا کرے تو وصول کرنے والے کو اس کے حق میں رحمت و برکت کی دعا کرنی چاہئے، اس سے اس کی حوصلہ افزائی ہو جاتی ہے۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے کہا:میں آج رات کو ضرور صدقہ کروں گا، پس وہ صدقہ لے کر نکلا اور (لاعلمی میں) ایک زانی عورت کو دے آیا، صبح کو لوگوں نے یہ بات کہنا شروع کر دی کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا،اس نے دوبارہ فیصلہ کیا کہ وہ آج رات ضرور صدقہ کرے گا (تاکہ کسی حقدار تک پہنچ سکے۔) چنانچہ اس نے صدقہ تو نکالا، لیکن لاعلمی میں ایک چور کو دے آیا، جب صبح ہوئی تو لوگ یہ کہنے لگے کہ آج رات ایک چور کو صدقہ دے دیا گیا، اس نے پھر سوچا کہ وہ آج رات پھر صدقہ کرے گا۔ چنانچہ وہ صدقہ لے کر گیا اور لاعلمی میں ایک دولت مند کو دے آیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے کہا: آج رات ایک دولت مند کو صدقہ دیا گیا۔ اس نے کہا: ہر حال میں اللہ کا شکر ہے، چور پر، زانی عورت پر اور غنی پر صدقہ کر دیا۔ پھر کسی نے آکر اسے بتایا (ممکن ہے اسے خواب میں یہ کہا گیا ہو) تیرا صدقہ قبول ہو گیا ہے، زانیہ کو صدقہ دینے سے ممکن ہے کہ وہ پاکدامن بن جائے، اسیطرح ممکن ہے کہ چور چوری سے رک جائے اور غنی سبق حاصل کرلے اور اللہ تعالیٰ کے دیئے میں سے خرچ کرے۔
فوائد:… معلوم ہوا کہ جب صدقہ کرنے والے کی نیت خالص ہو تو اس کا صدقہ قبول ہو جائے گا، اگرچہ وہ اپنے محل تک نہ پہنچ پائے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: (اس حدیث میں اِن امور کا بیان ہے:) مخفی صدقے کی فضیلت، اخلاص کی فضیلت، جہالت کی وجہ سے صدقے کا مصرف ٹھیک نہ ہو تو دوبارہ صدقہ کرنے کا استحباب، ظاہری حالات کو دیکھ کر حکم لگانا، الّا یہ کہ اس کے الٹ ثابت ہو جائے۔ (فتح الباری: ۳/۳۷۱)
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بنو تمیم کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ نمائندے کو زکوٰۃ ادا کر دوں تو کیا میں اللہ اور اس کے رسول کے ہاں بری ہو جاؤں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب تم میرے نمائندے کو زکوٰۃ ادا کر دو گے تو تمہاری ذمہ داری پوری ہو جائے گی اور تمہیں اس کا اجر ملے گا، البتہ اس میں جو آدمی تبدیلی (کرتے ہوئے ناجائز تصرف) کرے گا، وہ گنہگار ہو گا۔
Takhreej
(۳۴۳۷) تخر یـج: رجالہ ثقات رجال الشیخین، لکن قیل فی روایۃ سعید بن ابی ھلال عن انس: انھا مرسلۃ۔ أخرجہ الحاکم: ۲/ ۳۶۰(انظر: ۱۲۳۹۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی آدمی خلیفۂ وقت یا اس کے قاصد کو زکوۃ دے دے تو وہ اس فرض سے بریٔ الذمہ ہو جائے گا، اگر خلافِ توقع ایسا ذمہ دار خیانت کرتا ہے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہو گا، زکوۃ دینے والا اللہ تعالیٰ کے ہاں ماجور ہو گا۔ لیکنیہ اصول اس وقت ہے جب قاصد وغیرہ کی امانت کے بارے میں حسنِ ظن ہو، وگرنہ استطاعت کے مطابق مالدار کو چاہیے کہ وہ اپنی زکوۃ کی رقم خود مستحق لوگوں تک پہنچا دے، لیکن ایسا کرنے کی شرط یہ ہے کہ کوئی بڑا فساد لازم نہ آئے۔
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حکمران مسلط ہوجائیں گے جو دوسروں کو تم پر ترجیح دیں گے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے جو آدمی ایسی صورت حال کو پائے، وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس حق کو ادا کرنا جو تم پر ہے اور اپنے حق کا سوال اللہ تعالیٰ سے کرنا۔ … ایک روایت میں ہے: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم میرے بعد دیکھو گے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی اور برے امور بھی تمہیں نظر آئیں گے۔ ہم نے کہا: ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا کرنے کا مشورہ دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان (حکمرانوں) کا حق ادا کرنا اور اپنے حق کا سوال اللہ تعالیٰ سے کرنا
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں سے زکوٰۃ ان کے اپنے ٹھکانوں پر ہی وصول کی جائے۔
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ ساعی اور عامل کو زکوۃ لینے کے لیے مالک کے مقام پر جانے کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے اور اسی میں مالکوں کے لیے آسانی اور سہولت ہے۔
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (زکوۃ کے معاملے میں) جَلَب ہے نہ جَنَب ، نیز مسلمانوں سے زکوۃ صرف ان کی رہائش گاہوں پر وصول کی جائے۔
فوائد:… اس حدیث کا مقصود وہی مسئلہ بیان کرنا ہے، جو حدیث نمبر (۳۴۳۹)میں بیان ہو چکا ہے، مشکل الفاظ کی وضاحت اس طرح ہے: ’’لَا جَلَب‘‘ :اس کا مفہوم یہ ہے کہ جانوروں کو صدقہ لینے والے کی طرف نہ لایا جائے، بلکہ عامل کو چاہیے کہ جانوروں کے محل کی طرف جائے۔
’’لَا جَنَب‘‘ :اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ صدقہ لینے والے، مالکوں سے دور کسی مقام پر بیٹھ جائے اور جانوروں کو اس کے پاس لے جایا جائے تاکہ وہ حساب کر کے زکوۃ وصول کرے۔ ابواب و احادیث کی مناسبت سے اس مقام پر ان الفاظ کا یہی مفہوم بنتا ہے۔
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی نے آ کر دریافت کیا: اتنے مال کی زکوٰۃ کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنی اتنی۔ اس نے کہا: تو پھر فلاں آدمی نے مجھ پر زیادتی کی اور مجھ سے زیادہ زکوۃ وصول کی۔ پھر جب انھوں نے پڑتال کی تو دیکھا کہ اس نے واقعی ایک صاع کی مقدار زیادتی کی تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہارے حکمران تم پر اس سے بڑھ کر زیادتی کریں گے۔
Takhreej
(۳۴۴۱) القاسم بن عوف الشیبانی ضعیفیعتبر بہ فی المتابعات والشواھد فقط۔ أخرجہ مطولا ابن خزیمۃ: ۲۳۳۶، وابن حبان: ۳۱۹۳، والحاکم: ۱/ ۴۰۴، والبیھقی: ۴/ ۱۳۷(انظر: ۲۶۵۷۴)
Explanation
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاملین، عدل و انصاف اور حکم نبوی کے پابند تھے، ماپ تول کی وجہ سے ایک صاع کی کمی بیشی کا فرق آ سکتا ہے، یقینا اتنی مقدار کو زیادتی نہیں کہا جا سکتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنے والے امراء کے بارے میں جو پیشین گوئی کی ہے، وہ تو اس طرح پوری ہوئی کہ حکمران طبقے نے واضح طور پر ناجائز صورتوں کے ذریعے عوام کا روپیہ پیسہ بٹورنا شروع کر دیا اور ٹیکسوں اور دوسرے مختلف ناموں کے ذریعے اپنے رعایا کے مال و دولت کے ساتھ برا سلوک کیا۔
۔ سیدناجریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:کچھ بدو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا:اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زکوٰۃ کے نمائندے (زکوۃ کی وصولی کے سلسلے میں) ہم پر زیادتی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم انہیں راضی کیا کرو۔ ان لوگوں نے کہا: خواہ وہ ظلم ہی کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس تم انہیں راضی کیا کرو۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے، زکوٰۃ کا نمائندہ مجھ سے راضی ہی گیاہے۔
Takhreej
(۳۴۴۲) تخر یـج: أخرجہ مسلم: ۹۸۹ (انظر: ۱۹۲۰۷)
Explanation
فوائد:… ابوداود کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ’’((أَرْضُوْا مُصَدِّقَکُمْ وَاِنْ ظُلِمْتُمْ۔‘‘ (تم صدقہ لینے والوں کو راضی کرو، اگرچہ تم پر ظلم کیا جا رہا ہو۔) اس حدیث کا کیا مفہوم ہوا کہ اگر زکوۃ کا عامل، ربّ المال پر ظلم بھی کر رہا ہو تو تب بھی وہ خاموش رہے اور زائد مقدار ادا کرے؟ جوابا! گزارش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد کی زیادہ سے زیادہ دو تاویلیں ممکن ہیں:
(۱) دراصل عہد ِ نبوی میں عاملینِ زکوۃ پوری مقدار کے ساتھ ہی زکوۃ وصول کرتے تھے، بعض لوگوں کو یہ مقدار زیادہ معلوم ہوتی تھی اور وہ اس کو ظلم سے تعبیر کرتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ظلم بھی ہو رہا ہو، تب بھی رعایا کو چاہیے کہ وہ عاملین کی خواہش کو پوراکریں۔
(۲) حقیقت میں ظلم سے مراد ظلم ہی ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نصیحت فرمائی کہ ایسے معاملات میں رعایا کو چاہیے کہ زکوۃ وصول کرنے والے سرکاری عامل کے مقدار و معیار کا لحاظ رکھے، ان کے ساتھ مناقشہ نہ کیا جائے، بلکہ ان کے ساتھ نرمی کی جائے اور معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے۔ پچھلے باب میںمذکورہ احادیث سے دوسری تاویل کی تائید ہوتی ہے۔
۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نرمی سے محروم ہے، وہ (ہر) خیر سے محروم ہے۔
Takhreej
(۳۴۴۲م) تخر یـج: أخرجہ مسلم: ۲۵۹۲ (انظر: ۱۹۲۰۸)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث بھی چونکہ اسی سند کے ساتھ مروی تھی، اس لیے اس کو یہاں ذکر کر دیا گیا ہے، نرمی کو مسلمان کے حق میں نفع بخش، دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی کا ضامن، اعمالِ خیر کی زینت اور جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے دور رہنے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ نرمی ایسا زیور ہے کہ اس سے متصف شخص لوگوں میں بھی ہر دلعزیز اور مقبول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی محبوب ہو جاتا ہے، نرمی جیسی صفت صبر وحلم، تحمل و برداشت اور عفوو درگزر کو جنم دیتی ہے کہ جن کی بنا پر دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں، نرمی حکیم اور دانا لوگوں کی صفت ہے، وہ اس کی روشنی میں ہر انسان سے پیش آتے ہیں۔ جبکہ نرمی سے محروم آدمی لوگوں کی نگاہوں میں بھی معیوب چیز کی طرح حقیر ہو جاتا ہے اور عند اللہ بھی ناپسندیدہ ہوتا ہے۔
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زکوۃ کا نمائندہ تم لوگوں سے راضی ہو کر واپس جانا چاہیے۔
۔ سیدناعوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں لاٹھی بھی تھی، اُدھر مسجد میں کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، ان میں سے ایک خوشے میں خشک اور ردی قسم کی کھجوریں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لاٹھی اس خوشے پر ماری اور فرمایا: اگریہ خوشہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے عمدہ صدقہ کر سکتا تھا، یہآدمی قیامت کے دن بھی ناکارہ کھجوریں ہی کھائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اہل مدینہ! ایک زمانہ آئے گا کہ تم اس شہر کو چالیس سال تک کے لئے پرندوں اور درندوں کے لئے چھوڑ جائو گے۔ راوی کہتا ہے: میں نے کہا کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (عوافی سے مراد) پرندے اور درندے تھے۔ ہم کہتے تھے: بیشکیہ وہی چیز ہوتی ہے، جس کو عجمی لوگ کَرَاکِی کہتے ہیں۔
فوائد:… اس سے زیادہ واضح اور سبق آموز حدیث درج ذیل ہے: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب کھجوروں کی کٹائی کا موسم ہوتا تو انصاری لوگ کھجوروںکے گچھے لاتے اور مسجد نبوی میں دو ستونوں کے ساتھ بندھیہوئی رسی پر لٹکا دیتے، تاکہ فقیر مہاجرین کھا لیں، ایسے میں بعض انصاری اس طرح کرتے کہ خشک اور ردّی کھجوروں والے خوشے اس نیت سے لے آتے کہ بہت سارے دوسرے خوشوں میں اس طرح کے گچھے لٹکا دینا بھی جائز ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {وَلَا تَیَمَّمُوْا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ} ردّی کھجوروں کو خرچ کرنے کا قصد نہ کرو، {وَلَسْتُمْ بِآخِذِیْہِ اِلَّا اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ} اگر خود تم لوگوں کو ایسی چیزبطورِ تحفہ دی جاتی تو تم نے قبول نہیں کرنی تھی، البتہ اپنے ساتھی سے شرماتے ہوئے لے لینی تھی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تم کو اس بات پر غصہ بھی آنا تھا کہ اس نے ایسی چیز کیوں بھیجی ہے، جس کی تمہیں ضرورت ہی نہیں ہے، {وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ} اللہ تعالیٰ تمہارے صدقات سے بے پرواہ ہے۔ (ابن ماجہ: ۱۸۲۲)
پوری آیتیوں ہے: {یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمَّا اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَلَا تَیَمَّمُوْا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِیْہِ اِلَّا اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔} (سورۂ بقرہ: ۲۶۷)…’’اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لیے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو اور ان میں سے ردّی چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرنا، جسے تم خود لینے والے نہیں ہو، ہاں اگر آنکھیں بند کر لوتو، اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ بے پرواہ اور خوبیوں والا ہے۔‘‘ قارئین کرام!اللہ تعالیٰ کے راستے میں اچھی اور قیمتی چیز خرچ کرنے کے لیے عجیب قسم کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوستی اور رغبت چاہیے، شاید اس چیز کو لفظوں میں بیان نہ کیا جا سکتا ہے، آپ غور کریں کہ جب ہم اپنے کسی دوست یا معرفت والے آدمی کو کوئی تحفہ دینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کس قدر سوچتے ہیں، مختلف چیزوں میں سے کیسی کیسی چیزوں کا انتخاب کرتے ہیں، اس میں ہمارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ آدمی راضی ہو جائے، درج ذیل مثال پر غور کریں۔
عَنْ سَعِیْدِ بْنِ یَزِیْدَ الأنْصَارِیِّ: أنَّ رَجُلاً قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَوْصِنِی قَالَ: ((اُوْصِیْکَ أنْ تَسْتَحْیِیَ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ کَمَا تَسْتَحْیِ رَجُلاً مِنْ صَالِحِیْ قَوْمِکَ۔))
(أحمدفی’’الزھد‘‘: صـ ۴۶،البیھقی فی’’الشعب‘‘: ۲/۴۶۲/۲، صحیحۃ:۷۴۱)
سیدناسعید بن زید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے نصیحت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو اللہ تعالیٰ سے اس طرح شرم و حیا کر جس طرح تو اپنی قوم کے نیکوکار شخص سے شرماتا ہے۔‘‘ چونکہ انسان طبعی طور پر ظاہر پرست ہے اور غیبی اور معنوی امور پر ایمان لانے کی بہ نسبت موجودہ اور حسّی چیزوں کو جلدی تسلیم کرتا ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے امتیوں کو شرم و حیا کا پیکر بنانے کے لیے حسّی چیز کی مثال دی، جس کا ہر کوئی لحاظ کرتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود اللہ تعالیٰ کا پاس و لحاظ کروانا ہے، جو انسان کے لیے معنوی چیز ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جیسے ہم اپنے بزرگوں کے سامنے کوئی ناشائستہ اور نامناسب حرکت کرنے سے گریز کرتے ہیں، بشرطیکہ کہ ہم ان کو باوقار سمجھ کر ان کے ادب و احترام کے تقاضے پورے کرنے والے ہوں، یہی معاملہ اللہ تعالیٰ سے کرنا چاہئے، جو ہماری حرکات و سکنات سے بخوبی آگاہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ: ’’اگر یہ خوشہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے عمدہ صدقہ کر سکتا تھا، یہ آدمی قیامت کے دن بھی ناکارہ کھجوریں ہی کھائے گا۔‘‘ اس میں دوسرے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘‘، جو آدمی ناقص عمل کرے گا، اس کا بدلہ بھی ویسے ہی ہو گا۔ ’’کُرْکِیّ‘‘ کی جمع ’’کَرَاکی‘‘ ہے، یہ معروف آبی پرندے سارس کو کہتے ہیں۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے کا تعلق آخری زمانہ سے ہے، جس وقت مدینہ منورہ غیر آباد ہو جائے گا، اس کی مزید وضاحت ’’فَضَائِلُ الْمَدِیْنَۃ‘‘ کے ابواب میں آئے گی۔
۔ ابوملیح ، اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گھر میں فرمایا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر نماز کو اور خیانت کے مال سے صدقہ کو قبول نہیں کرتا۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ حلال کمائی میں سے صدقہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے اور اس کو دائیں ہاتھ میں لے کر یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑییا اونٹنییا گائے کے بچے کو پالتا ہے، آدمی تو ایک لقمہ ہی صدقہ کرتا ہے، لیکن وہ اللہ کے ہاتھ (ایک راوی کے بیان کے مطابق اللہ کی تھیلی) میں بڑھتا بڑھتا پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے، پس تم صدقہ کیا کرو۔
Takhreej
(۳۴۴۷) تخر یـج: أخرجہ البخاری: ۱۳۲۱، و مسلم ۱۰۱۴(انظر: ۷۶۳۴)