مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان - مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 3 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں سے زکوٰۃ ان کے اپنے ٹھکانوں پر ہی وصول کی جائے۔
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ ساعی اور عامل کو زکوۃ لینے کے لیے مالک کے مقام پر جانے کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے اور اسی میں مالکوں کے لیے آسانی اور سہولت ہے۔
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (زکوۃ کے معاملے میں) جَلَب ہے نہ جَنَب ، نیز مسلمانوں سے زکوۃ صرف ان کی رہائش گاہوں پر وصول کی جائے۔
فوائد:… اس حدیث کا مقصود وہی مسئلہ بیان کرنا ہے، جو حدیث نمبر (۳۴۳۹)میں بیان ہو چکا ہے، مشکل الفاظ کی وضاحت اس طرح ہے: ’’لَا جَلَب‘‘ :اس کا مفہوم یہ ہے کہ جانوروں کو صدقہ لینے والے کی طرف نہ لایا جائے، بلکہ عامل کو چاہیے کہ جانوروں کے محل کی طرف جائے۔
’’لَا جَنَب‘‘ :اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ صدقہ لینے والے، مالکوں سے دور کسی مقام پر بیٹھ جائے اور جانوروں کو اس کے پاس لے جایا جائے تاکہ وہ حساب کر کے زکوۃ وصول کرے۔ ابواب و احادیث کی مناسبت سے اس مقام پر ان الفاظ کا یہی مفہوم بنتا ہے۔
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی نے آ کر دریافت کیا: اتنے مال کی زکوٰۃ کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنی اتنی۔ اس نے کہا: تو پھر فلاں آدمی نے مجھ پر زیادتی کی اور مجھ سے زیادہ زکوۃ وصول کی۔ پھر جب انھوں نے پڑتال کی تو دیکھا کہ اس نے واقعی ایک صاع کی مقدار زیادتی کی تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہارے حکمران تم پر اس سے بڑھ کر زیادتی کریں گے۔
Takhreej
(۳۴۴۱) القاسم بن عوف الشیبانی ضعیفیعتبر بہ فی المتابعات والشواھد فقط۔ أخرجہ مطولا ابن خزیمۃ: ۲۳۳۶، وابن حبان: ۳۱۹۳، والحاکم: ۱/ ۴۰۴، والبیھقی: ۴/ ۱۳۷(انظر: ۲۶۵۷۴)
Explanation
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاملین، عدل و انصاف اور حکم نبوی کے پابند تھے، ماپ تول کی وجہ سے ایک صاع کی کمی بیشی کا فرق آ سکتا ہے، یقینا اتنی مقدار کو زیادتی نہیں کہا جا سکتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنے والے امراء کے بارے میں جو پیشین گوئی کی ہے، وہ تو اس طرح پوری ہوئی کہ حکمران طبقے نے واضح طور پر ناجائز صورتوں کے ذریعے عوام کا روپیہ پیسہ بٹورنا شروع کر دیا اور ٹیکسوں اور دوسرے مختلف ناموں کے ذریعے اپنے رعایا کے مال و دولت کے ساتھ برا سلوک کیا۔