مسنداحمد

Musnad Ahmad

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان

۔ (۳۴۴۴) عَنْ کَثِیْرِ بْنِ مُرَّۃَ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ الْعَصَا وفِی الْمَسْجِدِ أَقْنَائٌ مُعَلَّقَۃٌ فِیْہَا قِنْوٌ فِیْہِ حَشَفٌ، فَغَمَزَ الْقِنْوَ بِالْعَصَا الَّتِی فِییَدِہِ، قَالَ: ((لَوْ شَائَ رَبُّ ہٰذِہِ الصَّدَقَۃِ تَصَدَّقَ بِأَطْیَبَ مِنْہَا، إِنَّ رَبَّ ہٰذِہِ الصَّدَقَۃِ لَیَأْکُلُ الحَشَفَۃَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا، فَقَاَل: ((أَمَا وَاللّٰہِ! یاَ أَہْلَ الْمَدِیْنَۃِ! لَتَدَعُنَّہَا أَرْبَعِیْنَ عَامًا لِلْعَوَافِی۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: اَللّٰہُ أَعْلَمُ قَالَ: یَعْنِی الطَّیْرَ وَالسِّبَاعَ، قَالَ: وَکُنَّا نَقُوْلُ: إِنَّ ہٰذَا الَّذِی تُسَمِّیْہِ الْعَجَمُ ہِیَ الْکَرَاکِیُّ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۷۶)

۔ سیدناعوف بن مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک روز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں لاٹھی بھی تھی، اُدھر مسجد میں کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، ان میں سے ایک خوشے میں خشک اور ردی قسم کی کھجوریں تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لاٹھی اس خوشے پر ماری اور فرمایا: اگریہ خوشہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے عمدہ صدقہ کر سکتا تھا، یہآدمی قیامت کے دن بھی ناکارہ کھجوریں ہی کھائے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اہل مدینہ! ایک زمانہ آئے گا کہ تم اس شہر کو چالیس سال تک کے لئے پرندوں اور درندوں کے لئے چھوڑ جائو گے۔ راوی کہتا ہے: میں نے کہا کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن اس نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی (عوافی سے مراد) پرندے اور درندے تھے۔ ہم کہتے تھے: بیشکیہ وہی چیز ہوتی ہے، جس کو عجمی لوگ کَرَاکِی کہتے ہیں۔

۔ (۳۴۴۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۵۱۲۳)

۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔

۔ (۳۴۴۷) عَنَّ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَصَدَّقَ مِنْ طَیِّبٍ، تَقَبَّلَہَا اللّٰہُ مِنْہُ وَأَخَذَہَا بِیَمِیْنِہِ وَرَبَّاہَا کَمَا یُرَبِّی أَحَدُکُمْ مُہْرَہُ أَوْ فَصِیْلَہُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَصَدَّقُ بِاللُّقْمَۃِ فَتَرْبُوْا فِییَدِ اللّٰہِ ’ أَوْ قَالَ: فِی کَفِّ اللّٰہِ حَتّٰییَکُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ فَتَصَدَّقُوْا۔)) (مسند احمد: ۷۶۲۲)

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بندہ حلال کمائی میں سے صدقہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے اور اس کو دائیں ہاتھ میں لے کر یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑییا اونٹنییا گائے کے بچے کو پالتا ہے، آدمی تو ایک لقمہ ہی صدقہ کرتا ہے، لیکن وہ اللہ کے ہاتھ (ایک راوی کے بیان کے مطابق اللہ کی تھیلی) میں بڑھتا بڑھتا پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے، پس تم صدقہ کیا کرو۔

۔ (۳۴۴۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَا لَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ مِنْ طَیِّبٍ وَلَایَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا طَیِّبًا وَلَا یَصْعَدُ السَّمَائَ إِلاَّ طَیِّبٌ إِلاَّ وَہُوَ یَضَعُہَا فِییَدِ الرَّحْمٰنِ أَوْ فِی کَفِّ الرَّحْمٰنِ فَیُرَبِّیْہَا لَہُ کمَاَ یُرَبِّی أَحَدُکُمْ مُہْرَہُ أَوْ فَلُوَّہٗحَتّٰی إِنَّ التَّمْرَۃَ لَتَکُوْنُ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِیْم۔)) (مسند احمد: ۸۳۶۳)

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندۂ مومن حلال کمائی میں سے جو صدقہ کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ حلال چیز کو ہی قبول کرتا ہے اور حلال ہی آسمان کی طرف چڑھتا ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اپنے ہاتھ میں لے کر یوں بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑی کے بچے کو پا لتا ہے، یہاں تک کہ ایک کھجور بڑے پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔

۔ (۳۴۴۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَصَدَّقَ بِعِدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طیِّبٍ وَلَا یَصْعَدُ إِلَی اللّٰہِ إِلَّا الطَّیِّبُ فَإِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُہَایَمِیْنِہِ ثُمَّ یُرَبِّیْہَا لِصَاحِبِہَا کَمَا یُرَبِّی أَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبْلِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۶۳)

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی حلال کمائی میں سے ایک کھجور کے بقدر صدقہ کرتا ہے، اور حلال چیز ہی اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں قبول کرتا ہے اور اسے مالک کے لئے یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسےتم میں سے کوئی اپنے گھوڑی کے بچے کی پرورش کرتا ہے، حتی کہ ایک کھجور ایک پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔