مسنداحمد

Musnad Ahmad

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

فقیر اور مسکین کا بیان

۔ (۳۴۵۳) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رََسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ ہٰذَا الطَّوَّافُ الَّذِی عَلَی النَّاسِ تَرُدُّہُ اللُّقْمَۃُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتاَنِ، إِنَّمَا الْمِسْکِیْنُ الَّذِی لَایَجِدُ غِنًییُغْنِیْہِ وَیَسْتَحْیِی اَنْ یَسْاَلَ النَّاسَ وَلَا یُفْطَنُ لَہُ فَیُتَصَدَّقَ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۱۷۲)

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جو لوگوں سے مانگنے کے لیے چکر لگاتا رہتا ہے اور ایک دو دو لقمے یا ایک دو دو کھجوریں لے کر واپس آ جاتا ہے،بلکہ دراصل مسکین وہ ہوتا ہے جو اپنی جائز ضرورت کو پورا نہ کر سکتا ہو اور لوگوں سے مانگنے میں جھجک محسوس کرتا ہو اور اس کی (اس صفت کی وجہ سے اس کی مسکنت) کو سمجھا بھی نہیں جاتا کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔

۔ (۳۴۵۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ الَّذِی تَرُدُّہُ الْاُکْلَۃُ وَالْاُکْلَتَانِ، اَوِ التَّمْرۃُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلٰکِنَّ الْمِسْکِیْنَ الَّذِی لاَ یَسْاَلُ شَیْئًا وَلَا یُفْطَنُ بِمَکَانِہِ فَیُعْطٰی۔ (مسند احمد: ۹۱۰۰)

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جس کو ایک دو دو لقمے یا کھجوریں واپس کر دیتی ہیں، بلکہ مسکین تو وہ ہے جو ضرورت مند ہونے کے باوجود) کسی چیز کا سوال نہیں کرتا اور نہ اس (کی ضرورت کو) سمجھا جاتا ہے کہ اسے کچھ دے دیا جائے۔

۔ (۳۴۵۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالُوْا: فَمَنِ الْمِسْکِیْنُیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((الَّذِی لَایَجِدُ غِنًی وَلَا یَعْلَمُ النَّاسُ بِحَاجَتِہِ فَیُصَدَّقَ عَلَیْہِ۔)) قَالَ الزُّہْرِیُّ وَذٰلِکَ ہُوَ الْمَحْرُوْمُ۔ (مسند احمد: ۷۵۳۰)

۔ (تیسری سند) صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! مسکین کسے کہتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین وہ ہے جو نہ اپنی جائز ضروریات پوری کر سکتا ہو اور نہ لوگوں کو اس کی حاجت کا پتہ چل سکتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔ امام زہری کہتے ہیں: اسی کو محروم کہتے ہیں۔

۔ (۳۴۵۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) اَنَّ النَّبیَِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ الَّذِی تَرُدُّہُ التَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ اَوِ اللُّقْمَۃُ وَاللُقْمَتَانِ، إِنَّمَا الْمِسْکِیْنُ الْمُتَعَفِّفُ، اِقْرَئُ وْا إِنْ شِئْتُمْ {لاَ یَسْاَلُوْنَ النَّاسَ إِلْحَافًا۔} (مسند احمد: ۹۱۲۹)

۔ (چوتھی سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے کہ جس کو ایک دو دو کھجوریں اور لقمے واپس کر دیں، مسکین تو صرف اور صرف وہ ہے جو (لوگوں سے) سوال کرنے سے بچے، اگر تم چاہتے ہوتو یہ آیت پڑھ لو: وہ لوگوں سے اصرار کے ساتھ سوال نہیں کرتے۔

۔ (۳۴۵۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ خَامِسٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ بِالطَّوَّافِ عَلَیْکُمْ اَنْ تُطْعِمُوْہُ لُقْمَۃً لُقْمَۃً إِنَّمَا الْمِسْکِیْنُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِی لَا یَسْاَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا۔ (مسند احمد: ۱۰۵۷۶)

۔ (پانچویں سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی مسکین نہیں جو تم پر اس لیے چکر لگاتا ہے کہ تم اس کو ایک ایک لقمہ کھلا دو، مسکین تو صرف وہ ہے جو ایسا پاکدامن ہے کہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتا۔

۔ (۳۴۵۸) وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۳۶۳۶)

۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔

۔ (۳۴۵۹) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَںَّ رَجُلاً مِنَ الْاَنْصَارِ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشَکَا إِلَیْہِ الْحَاجَۃَ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا عِنْدَکَ شَیْئٌ؟)) فَاَتَاہُ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ وَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَشْتَرِیْ ہٰذَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَنَا آخُذُہُمَا بِدِرْہَمٍ، فَقَالَ: ((مَنْ یَزِیْدُ عَلٰی دِرْہَمٍ؟)) فَسَکَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ((مَنْ یَزِیْدُ عَلٰی دِرْہَمٍ؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَنَا آخُدُہُمَا بِدِرْہَمَیْنِ، فَقَالَ: ((ہُمَا لَکَ۔)) ثُمَّ قاَل: ((إِنَّ الْمَسْاَلَۃَ لاَ تَحِلُّ إِلَّا لِاَحَدِ ثَلَاثٍ: ذِی دَمٍ مُوجِعٍ اَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ اَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۵۸)

۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اپنی ضرورت کی شکایت کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس کوئی چیز نہیں ہے؟ پس وہ ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ لے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں کون خریدے گا؟ ایک صحابی نے کہا: میں ایک درہم کے عوض خریدوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی ہے جو ایک درہم سے زیادہ قیمت لگائے گا؟ لوگ خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: کوئی ایسا آدمی ہے جو ایک درہم سے زائد قیمت لگائے گا؟ ایک آدمی نے کہا: جی میں یہ چیزیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) یہ تمہاری ہو گئیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوال کرنا صرف تین افراد کے لیے حلال ہے: کسی مقتول کی تکلیف دہ دیت ادا کرنے والا، بہت زیادہ مقروض اور بہت زیادہ فقیر۔