TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فقیر اور مسکین کا بیان - فقیر اور مسکین کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 34 · 7 Hadith
۔ (۳۴۵۳) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رََسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ ہٰذَا الطَّوَّافُ الَّذِی عَلَی النَّاسِ تَرُدُّہُ اللُّقْمَۃُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتاَنِ، إِنَّمَا الْمِسْکِیْنُ الَّذِی لَایَجِدُ غِنًییُغْنِیْہِ وَیَسْتَحْیِی اَنْ یَسْاَلَ النَّاسَ وَلَا یُفْطَنُ لَہُ فَیُتَصَدَّقَ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۱۷۲)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جو لوگوں سے مانگنے کے لیے چکر لگاتا رہتا ہے اور ایک دو دو لقمے یا ایک دو دو کھجوریں لے کر واپس آ جاتا ہے،بلکہ دراصل مسکین وہ ہوتا ہے جو اپنی جائز ضرورت کو پورا نہ کر سکتا ہو اور لوگوں سے مانگنے میں جھجک محسوس کرتا ہو اور اس کی (اس صفت کی وجہ سے اس کی مسکنت) کو سمجھا بھی نہیں جاتا کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔
Takhreej
(۳۴۵۳) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۴۷۹، ومسلم: ۱۰۳۹ (انظر: ۸۱۸۷)
3453
Sahih
۔ (۳۴۵۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ الَّذِی تَرُدُّہُ الْاُکْلَۃُ وَالْاُکْلَتَانِ، اَوِ التَّمْرۃُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلٰکِنَّ الْمِسْکِیْنَ الَّذِی لاَ یَسْاَلُ شَیْئًا وَلَا یُفْطَنُ بِمَکَانِہِ فَیُعْطٰی۔ (مسند احمد: ۹۱۰۰)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جس کو ایک دو دو لقمے یا کھجوریں واپس کر دیتی ہیں، بلکہ مسکین تو وہ ہے جو ضرورت مند ہونے کے باوجود) کسی چیز کا سوال نہیں کرتا اور نہ اس (کی ضرورت کو) سمجھا جاتا ہے کہ اسے کچھ دے دیا جائے۔
Takhreej
(۳۴۵۴) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3454
Sahih
۔ (۳۴۵۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالُوْا: فَمَنِ الْمِسْکِیْنُیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((الَّذِی لَایَجِدُ غِنًی وَلَا یَعْلَمُ النَّاسُ بِحَاجَتِہِ فَیُصَدَّقَ عَلَیْہِ۔)) قَالَ الزُّہْرِیُّ وَذٰلِکَ ہُوَ الْمَحْرُوْمُ۔ (مسند احمد: ۷۵۳۰)
۔ (تیسری سند) صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! مسکین کسے کہتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین وہ ہے جو نہ اپنی جائز ضروریات پوری کر سکتا ہو اور نہ لوگوں کو اس کی حاجت کا پتہ چل سکتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔ امام زہری کہتے ہیں: اسی کو محروم کہتے ہیں۔
Takhreej
(۳۴۵۵) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… امام زہری کا اشارہ اس آیت کی طرف ہے: {فِیْ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۔ لِلسَّائِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ}…’ ’ان کے مالوں میں مقرر حق ہے، سائل اور محروم کے لیے۔‘‘
3455
Sahih
۔ (۳۴۵۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) اَنَّ النَّبیَِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ الَّذِی تَرُدُّہُ التَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ اَوِ اللُّقْمَۃُ وَاللُقْمَتَانِ، إِنَّمَا الْمِسْکِیْنُ الْمُتَعَفِّفُ، اِقْرَئُ وْا إِنْ شِئْتُمْ {لاَ یَسْاَلُوْنَ النَّاسَ إِلْحَافًا۔} (مسند احمد: ۹۱۲۹)
۔ (چوتھی سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے کہ جس کو ایک دو دو کھجوریں اور لقمے واپس کر دیں، مسکین تو صرف اور صرف وہ ہے جو (لوگوں سے) سوال کرنے سے بچے، اگر تم چاہتے ہوتو یہ آیت پڑھ لو: وہ لوگوں سے اصرار کے ساتھ سوال نہیں کرتے۔
Takhreej
(۳۴۵۶) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… پوری آیتیوں ہے: {لِلْفُقَرَآئِ الَّّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِیْ الْاَرْضِ یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَآئَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْ لَایَسْاَلُوْنَ النَّاسَ إِِلْحَافًا وَّمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖعَلِیْمٌ۔} (سورۂ بقرہ: ۲۷۳) …’’صدقات کے مستحق صرف وہ غربا ہیں، جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے، جو زمین میں چل پھر نہیں سکتے، نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مال دار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہنچان لیں گے، وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘
3456
Sahih
۔ (۳۴۵۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ خَامِسٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ بِالطَّوَّافِ عَلَیْکُمْ اَنْ تُطْعِمُوْہُ لُقْمَۃً لُقْمَۃً إِنَّمَا الْمِسْکِیْنُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِی لَا یَسْاَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا۔ (مسند احمد: ۱۰۵۷۶)
۔ (پانچویں سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی مسکین نہیں جو تم پر اس لیے چکر لگاتا ہے کہ تم اس کو ایک ایک لقمہ کھلا دو، مسکین تو صرف وہ ہے جو ایسا پاکدامن ہے کہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتا۔
Takhreej
(۳۴۵۷) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3457
Sahih
۔ (۳۴۵۸) وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۳۶۳۶)
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
Takhreej
(۳۴۵۸) صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابو یعلی: ۵۱۱۸، والطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۱/ ۲۷(انظر: ۳۶۳۶)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’نہ گھومنے والا مسکین ہے اور نہ وہ مسکین ہے جس کو ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے واپس کر دیں، بلکہ مسکین تو بچنے والا ہے، یعنی جو لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتا اور نہ اس کی مسکینی کو سمجھا جا سکتا ہے کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔‘‘ فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مسکین وہ ہوتا ہے جو نہ تو اتنے مال کا مالک ہو کہ وہ اسے کفایت کر سکے، نہ ا س کی حالت ایسی ہو کہ لوگ اس کی مسکینی کو پہچان سکیںاور نہ وہ لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ یہ اصل اور کامل مسکین کی تعریف ہے۔ رہا مسئلہ فقیر کا تو اس کے بارے میں کہنا چاہیے کہ جو شخص غنی نہ ہو، یعنی کفایت کرنے والی چیزوں کا مالک نہ ہو، وہ فقیر ہو گا۔ غنی کی مقدار کا بیان حدیث نمبر (۳۵۰۲) میں آ رہا ہے۔ عام فہم انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فقیر اور مسکین دونوں کے مفہوم میں یہ بات تو قطعی ہے کہ جو حاجت مند ہوں اور اپنی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم اور وسائل سے محروم ہوں، ان کو فقیر اور مسکین کہا جاتا ہے۔ ان احادیث کا یہ مفہوم بیان نہیں کیا جا سکتا کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرے، اسے کچھ نہیں دیا جا سکتا، اصل میں اس آدمی کو سوال کرنے اور زکوۃوصول کرنے کی گنجائش ہے، جس کی آمدن اس کے جائز اخراجات پوری نہ کر رہی ہو، ہاں اگر وہ صبر کرتے ہوئے سوال کرنے سے بچا رہے تو اس میں اس کی برتری ہو گی۔
3458
Sahih
۔ (۳۴۵۹) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَںَّ رَجُلاً مِنَ الْاَنْصَارِ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشَکَا إِلَیْہِ الْحَاجَۃَ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا عِنْدَکَ شَیْئٌ؟)) فَاَتَاہُ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ وَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَشْتَرِیْ ہٰذَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَنَا آخُذُہُمَا بِدِرْہَمٍ، فَقَالَ: ((مَنْ یَزِیْدُ عَلٰی دِرْہَمٍ؟)) فَسَکَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ((مَنْ یَزِیْدُ عَلٰی دِرْہَمٍ؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَنَا آخُدُہُمَا بِدِرْہَمَیْنِ، فَقَالَ: ((ہُمَا لَکَ۔)) ثُمَّ قاَل: ((إِنَّ الْمَسْاَلَۃَ لاَ تَحِلُّ إِلَّا لِاَحَدِ ثَلَاثٍ: ذِی دَمٍ مُوجِعٍ اَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ اَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۵۸)
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اپنی ضرورت کی شکایت کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس کوئی چیز نہیں ہے؟ پس وہ ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ لے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں کون خریدے گا؟ ایک صحابی نے کہا: میں ایک درہم کے عوض خریدوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی ہے جو ایک درہم سے زیادہ قیمت لگائے گا؟ لوگ خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: کوئی ایسا آدمی ہے جو ایک درہم سے زائد قیمت لگائے گا؟ ایک آدمی نے کہا: جی میں یہ چیزیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) یہ تمہاری ہو گئیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوال کرنا صرف تین افراد کے لیے حلال ہے: کسی مقتول کی تکلیف دہ دیت ادا کرنے والا، بہت زیادہ مقروض اور بہت زیادہ فقیر۔
Takhreej
(۳۴۵۹) اسنادہ ضعیف، لجھالۃ حال ابی بکر الحنفی، لکن قولہ: ((ان المسألۃ لا تحل …۔)) صحیح بالشواھد۔ اخرجہ ابوداود: ۱۶۴۱، وابن ماجہ: ۲۱۹۸، والترمذی: ۱۲۱۸ (انظر: ۱۲۱۳۴)
Explanation
فوائد:… سنن ابی داود کی روایت میں یہ تفصیل بھی موجود ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اِن دو درہموں کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک درہم کا کھانے خرید کر اپنے گھر والوں کو دے دے اور دوسرے درہم کا کلہاڑا خرید کر لائے، اس نے ایسا ہی کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں دستہ ڈالا اور اسے فرمایا: ’’جا اور لکڑیاں کاٹ کر بیچنا شروع کر دے اور میں تجھے پندرہ دن نہ دیکھنے پاؤں۔‘‘ وہ چلا گیا اور ان ہدایات کے مطابق کام کرتا رہا، جب وہ واپس آیا تو وہ دس درہموں کا مالک بن چکا تھا، پھر اس نے بعض درہموں سے کپڑے خریدے اور بعض سے کھانا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کییہ صورتحال دیکھ کر فرمایا: ’’یہ کام تیرے لیے اس سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن تو اس حال میں آتا کہ لوگوں سے مانگنے کا نکتہ اور نشان تیری چہرے پر ہوتا، سوال کرنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے جائز ہے: …۔‘‘ ’’کسی مقتول کی دیت ادا کرنے والا‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی آدمییہذمہ داری اٹھا لیتا ہے کہ وہ قاتل کی طرف سے مقتول کی دیت اس کے لواحقین کو ادا کرے گا، لیکن بعد میں اس کا اہتمام کرنا اس کے بس کی بات نہیں رہتی، سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے۔ اِس اور اِس موضوع کی دیگر شرعی نصوص کا تقاضا یہ ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوال کرنا ناجائز ہے، ہر شخص کو چاہیے کہ وہ حسب ِ استطاعت اس سے گریز کرے، احادیث ِ مبارکہ اس میں بھیک مانگنے کی بڑی مذمت کی گئی ہے، الا یہ کہ کسی کی شرعی مجبوری ہو، لیکن ایسے مجبور کو بار بار سوچنا چاہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا عذر مقبول ہو گا۔
3459
Zaeef

Chapters

34
01
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
3 Hadith
03
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
3 Hadith
04
زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
3 Hadith
05
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
6 Hadith
06
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
3 Hadith
07
فقیر اور مسکین کا بیان
7 Hadith
08
عاملینِ زکوۃ
7 Hadith
09
ان لوگوںکا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے
3 Hadith
10
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
2 Hadith
11
قرض داروں کو زکوۃ دینا
5 Hadith
12
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
3 Hadith
13
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
15 Hadith
14
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
20 Hadith
15
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
8 Hadith
16
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
11 Hadith
17
سوال کرنے سے بچنے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
18
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
3 Hadith
19
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
5 Hadith
20
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
6 Hadith
21
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
8 Hadith
22
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
6 Hadith
23
گندم کے نصف صاع کی روایت بیان کرنے والے
6 Hadith
24
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
20 Hadith
25
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
5 Hadith
26
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
3 Hadith
27
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
28
جسم کے صدقہ کا بیان
8 Hadith
29
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
1 Hadith
30
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
6 Hadith
31
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
2 Hadith
32
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
3 Hadith
33
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
3 Hadith
34
صدقہ جاریہ کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.