مسنداحمد

Musnad Ahmad

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

ان لوگوںکا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے

۔ (۳۴۶۷) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ الرَّجُلُ یَأْتِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیُسْلِمُ لِشَیْئٍیُعْطَاہُ مِنَ الدُّنْیَا، فَلَا یُمْسِیْ حَتّٰییَکُوْنَ الْإِسْلَامُ اَحَبَّ إِلَیْہِ وَاَعَزَّ عَلَیْہِ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۲۰۷۳)

۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آ کر محض اس لئے اسلام قبول کرتا کہ اسے کچھ دنیوی مفاد حاصل ہو جائے گا، لیکن ابھی تک شام نہیں ہوتی تھی کہ اسلام اس کے نزدیک دنیا و ما فیہا سے پسندیدہ اور معزز بن چکا ہوتا تھا۔

۔ (۳۴۶۸) وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَکُنْیُسْئَلُ شَیْئًا عَنِ الْإِسْلَامِ إِلاَّ اَعْطَاہُ، قَالَ: فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَسَاَلَہُ فامَرَ لَہُ بِشَائٍ کَثِیْرٍ بَیْنَ جَبَلَیْنِ مِنْ شَائِ الصَّدَقَۃِ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلٰی قَوْمِہِ فقَاَلَ: یَا قَوْمِ! اَسْلِمُوْا فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَیُعْطِی عَطَائً مَا یَخْشَی الْفَاقَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۷۴)

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسلام کے نام پر کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہ دے دیتے تھے،ایک دن ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان والی گھاٹی کو بھر دینے والی زکوۃ کی بہت زیادہ بکریاں اسے دے دیں، جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹا تو اس نے کہا: اے میری قوم! مسلمان ہو جائو، بے شک محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر سخاوت کرتے ہیں کہ انہیں اپنے فاقے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔

۔ (۳۴۶۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِیْ حَدَّثَنَا غَفَّانُ ثَنَا جَرِیْرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتَاہُ شَیْئٌ، فَاَعْطَاہُ نَاسًا وَتَرَکَ نَاسًا، وقَاَل َجَرِیْرٌ اَعْطٰی رِجَالًا وَتَرَکَ رِجَالاً قَالَ: فَبَلَغَہُ عَنِ الَّذِیْنَ تَرَکَ، اَنَّہُمْ عَتِبُوْا وَقَالُوْا، قَالَ: فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّی اُعْطِیْ نَاسًا وَاَدَعُ نَاسًا، وَاُعْطِی رِجَالاً وَاَدَعُ رِجَالاً۔)) قَالَ: عَفَّانُ قَالَ: ذِی وَذِی، وَالَّذِیْنَ اَدَعُ اَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُعْطِی، اُعْطِی نَاسًا لِمَا فِی قُلُوْبِہِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْہَلَعِ وَاَکِلُ قَوْماً إِلَی مَا جَعَلَ اللّٰہُ فِی قُلُوْبِہِمْ مِنَ الْغَنٰی وَالْخَیْرِ، وَمِنْہُمْ عَمْرُوْ بْنُ تَغْلِبَ۔)) قَالَ: وَکُنْتُ جَالِسًا تِلْقَائَ وَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَا اُحِبُّ اَنَّ لِیْ بِکَلِمَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حُمْرَ النَّعَمِ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۴۸)

۔ سیدنا عمرو بن تغلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تقسیم کے لئے کچھ مال آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور بعض کو نہ دیا، جن لوگوں کو نہیں دیا گیا، انھوں نے (شکوہ کرتے ہوئے) ناقدانہ کلام کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی باتوں کا علم بھی ہو گیا۔پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لائے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: میں بعض لوگوں کو مال دیتا ہوں اور بعض کو نہیں دیتا، اور میں جن کو نہیں دیتا وہ مجھے ان لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں، جن کودیتا ہوں، میں جن لوگوں میں مال تقسیم کرتا ہوں، ان کی بے صبری اور گھبراہٹ کی وجہ سے ایسے کرتا ہوں، اور بعض لوگوں کواس غِنٰی اور خیر کے سپر د کر دیتا ہوں، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ودیعت رکھی ہوتی ہے، مثال کے طور پر عمرو بن تغلب ہیں (یہ سن کر) سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اس وقت بالکل رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھاہوا تھا، (مجھے یہ کلمہ اس قدر محبوب لگا کہ) میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس بات کے عوض مجھے سرخ اونٹ ملیں۔