مسنداحمد

Musnad Ahmad

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان

۔ (۳۴۷۷) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَحِلُّ الصَّدَقَۃُ لِغَنِیٍّ إِلَّا لِثَلَاثَۃٍ: فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَرَجُلٍ کَانَ لَہُ جَارٌ فَتُصُدِّقَ عَلَیْہِ فَاَہْدٰی لَہُ)) (مسند احمد: ۱۱۲۸۸)

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مال دار کے لئے زکوۃ لینا حلال نہیں ہے، مگر تین افراد کے لیے: جہاد کرنے والا، مسافر اور وہ (غنی) آدمی کہ اس کے پڑوسی کو زکوۃ دی گئی اور اس نے اپنے پڑوسی کو کوئی تحفہ دے دیا۔ــ

۔ (۳۴۷۸) عَنْ اُمِّ مَعْقِلٍ الْاَسَدِیَّۃِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ زَوْجَہَا جَعَلَ بَکْرًا لَہَا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاَنَّہَا اَرَادَتِ الْعُمْرَۃَ فَسَاَلَتْ زَوْجَہَا الْبَکْرَ فَاَبٰی، فَاَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہُ فَاَمَرَہ أنْ یُعْطِیَہَا، وَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ مِنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) وَقَالَ: ((عُمْرَۃٌ فِی رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً اَوْ تُجْزِیئُ حَجَّۃً۔)) وَقَالَ حَجَّاجٌ: ((تَعْدِلُ بِحَجَّۃٍ اَوْ تُجْزِیئُ بِحَجَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۲۹)

۔ سیدہ ام معقل اسدیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں:میرے شوہر نے ایک جوان اونٹ اللہ کی راہ کے لئے وقف کر دیا، جبکہ میں عمرہ کے لئے جانا چاہتی تھی، اس لیے میں نے اپنے شوہر سے وہ اونٹ طلب کیا، لیکن اس نے دینے سے انکار کر دیا۔ جب میں نے اس بات کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرےشوہر کو حکم دیا کہ وہ اونٹ مجھے دے دے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ بھی اللہ کی راہ میں ہی ہے۔ نیز فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔

۔ (۳۴۷۹) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَحِلُّ الصَّدَقَۃُ لِغَنِیٍّ إِلَّا لِخَمْسَۃٍ: لِعَامِلٍ عَلَیْہَا اَوْرَجُلٍ اشْتَرَاہَا بِمَالِہِ، اَوْ غَارِمٍ اَوْ غَازٍ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْ مِسْکِیْنٍ تُصُدِّقَ عَلَیْہِ مِنْہَا فَاَہْدٰی مِنْہَا لِغَنِیٍّ)) (مسند احمد: ۱۱۵۵۹)

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غنی لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں ہے، مگر ان پانچ افراد کے لیے: عاملِ زکوۃ، زکوۃ کے مال کو اپنے مال کے عوض خریدنے والا، چٹی بھرنے والا (یعنی کسی کی طرف سے ادائیگی کا ذمہ لینے والا) ، اللہ کی راہ میںجہاد کرنے والا اور وہ غنی آدمی کہ زکوۃ لینے والا مسکین جس کو کوئی تحفہ دے دے۔