۔ ابو حوراء کہتے ہیں: میں نے سیدناحسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کونسی کوئی خاص بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک دفعہ صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈالی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ لعاب سمیت میرے منہ سے کھنیچ کر نکالیاور کھجور کے ڈھیر میں واپس ڈال دی۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کا ایککھجور لے لینا، اس سے آپ کو کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم آلِ محمدہیں اور ہمارے لئے زکوۃ حلال نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے: شک والی بات کو چھوڑ کر ایسی صورت کو اختیار کرو جو شک و شبہ سے پاک ہو، سچائی میں سکون ہے اورجھوٹ میں قلق اور اضطراب ہے، پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اس دعا کی تعلیم بھی دیتے تھے: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، … تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ یعنی: اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے مجھے اس سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا، اے ہمار ے ربّ! تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے۔
۔ ربیعہ بن شیبان کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خاص چیزیاد ہے؟ انہوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے زکوۃ والے سٹور میں لے گئے، میں نے وہاں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دو، یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہل بیت کے کسی فرد کے لئے حلال نہیں ہے۔
۔ ابو حوراء کہتے ہیں: ہم سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، کسی نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خاص بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر اس کھلیان سے ہوا، جہاں زکوۃ کی کھجوریں پڑی تھیں، میں نے ایککھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعاب سمیت اس کو نکال دیا۔ کسی نے کہا: اگر آپ یہ کھجور اس بچے کے پاس ہی رہنے دیتے تو اس سے آپ کو کیا ہو جاتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیےیہ زکوۃ حلال نہیں ہے۔ پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پانچ نمازیں بھی سیکھی ہیں۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقہ کی کھجوریں تقسیم فرما رہے تھے اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کام سے فارغ ہوئے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو کندھے پر اٹھالیااوران کا لعاب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہنے لگا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کھجور دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے منہ میں داخل کرکے اس کو نکال دیا اور فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے زکوٰۃ حلال نہیں۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھائی اور اس کو اپنے منہ میں چبایا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اوہ، اوہ، اوہ، ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اٹھا کر کھا لیا، لیکن بعد ازاں رات کے آخری پہر کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشانی کی وجہ سے الٹ پلٹ ہونے لگ گئے، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیویاں بھی گھبرا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا: مجھے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی اور میں نے اسے کھا لیا، اب مجھے اندیشہیہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ صدقہ کی کھجور ہو۔
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھجور تو کھا لی، مگر ساری رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیند نہیں آئی،کسی اہلیہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ تھی کہ گزشتہ رات آپ پر بے خوابی طاری رہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی تھی، میں نے وہ کھا لی، ہمارے ہاں صدقہ کی کھجوریں بھی پڑی تھیں، اب مجھے اندیشہیہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کھجور ان صدقہ والی کھجوروں میں سے ہو۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھانا گھر والوں کے علاوہ کہیں اور سے لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے، اگر وہ تحفہ ہوتا تو کھا لیتے اور اگر وہ صدقہ ہوتا تو فرماتے: تم کھا لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود نہیں کھاتے تھے۔
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔
۔ سیدناعبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ جمع ہوئے اور انہوں نے میرے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق مشورہ کیا اور کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم ان دونوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کو صدقات کی وصولی پر مامور فرمائیں، اس طرح یہ دونوں لوگوں سے زکوٰۃ و صدقات وصول کرکے لائیں اور دوسروں کی طرح مالی منفعت یعنی اجرت حاصل کر سکیں،یہ بہتر چیز ہے، ابھی تک وہ دونوں یہ مشورہ ہی کر رہے تھے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے پوچھا: تمہارے کیا ارادے ہیں؟ جب ان دونوں نے ان کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا: آپ ایسے کیوں کر رہے ہیں؟ آپ یہ بات محض حسد کی بنا پر کر رہے ہیں، دیکھیںکہ آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہتے ہیں اور آپ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد بھی ہیں، لیکن ہم نے تو کبھی بھی آپ پر حسد نہیں کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی آخر ابو حسن ہوں، تم ان دونوں کو بھیج کر دیکھ لو، یہ کہہ کر وہ لیٹ گئے۔ عبد المطلب کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھ لی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل ہی حجرہ کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے ہاتھ تھام لئے اور فرمایا: تم کیا کہنا چاہتے ہو؟ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اس کا اظہار کر دو، اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف لے گئے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اندر چلے گئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کے ہاں مقیم تھے،ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی اور عرض کیا: اللہ کے رسول۱ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے ہیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں زکوٰۃ و صدقات کی وصولی پر مامور فر ما دیں، اس طرح ہم بھی دوسروں کی طرح مالی منفعت حاصل کر سکیں گے، ہم بھی دوسروں کی طرح وصولیاں کرکے لا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیں گے۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک کمرے کی چھت کی طرف اٹھایا، ہم نے کچھ کہنے کا ارادہ تو کیا لیکن سیدہ زینب رضی اللہ عنہ نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کرکے ہمیں بولنے سے روک دیا،کچھ دیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: خبردار! محمد اور آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محمیہ بن جز کو بلا ئو۔ جو کہ عشر پر مامور تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: خُمُس (پانچواں حصے) میں سے ان دونوں کے مہر ادا کردو۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی شادیاں کرا دیں اور انہیں صدقات کی وصولی پر مامور کر دیں تاکہ وہ اس طرح کچھ مالی منفعت حاصل کر سکیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ صدقات تو لوگوں کی میل کچیل ہوتے ہیں اور یہ محمد اور آلِ محمد لئے حلال نہیں ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا محمیہ زبیدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: فضل کی شادی کرا دو۔ اور سیدنانوفل بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم عبد المطلب بن ربیعہ کی شادی کرا دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محمیہزبیدی کو خُمُس کی وصولی پر مامور کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ان دونوں کا مہر خُمُس میں سے ادا کر دو۔ عبد اللہ بن حارث نے اس کی مقدار کا تعین نہیں کیا۔
۔ عطاء بن سائب کہتے ہیں: میں سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کی خدمت میں صدقہ کی ایک چیز لے کر حاضر ہوا، لیکن انہوں نے وہ چیز واپس کر دی اور کہا: مولائے نبی سیدنامہران نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: ہم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے، نیز قوم کا غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
۔ (دوسری سند) انھوں نے مجھے کہا: مجھے مہران نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلاتے ہوئے کہا: میمون! یا مہران! ہم ایسے اہل بیت ہیں کہ ہم کو صدقات سے روکا گیا ہے۔ ہمارے غلام بھی ہم میں سے ہیںاور ہم صدقہ نہیں کھاتے۔
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ارقم زہرییا ابن ابی ارقم کا میرے پاس سے گزر ہوا، وہ صدقات کی وصولی پر مامور تھے۔ انہوں نے مجھے بھی ساتھ لے لیا ایک اور روایت میں ہے۔ وہ مجھے بھی ساتھ لے گئے تاکہ میں بھی اس میں سے کچھ حاصل کر سکوں۔ میں نے واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے صدقہ حرام ہے اور قوم کا غلام انہی میں شمار ہوتا ہے۔
۔ سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں غلام تھا، ایک دن میںکھانا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوااور کہا: یہ صدقہ ہے، (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو (کھانے کا) حکم دیا، پس انہوں نے کھا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود نہ کھایا۔ پھر ایک دن میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عزت دے، یہ ہدیہ ہے، جو میں آپ کیلئے لے کر آیا ہوں، کیونکہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا، پس انہوں نے بھی کھایا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کے ساتھ کھایا۔