TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان - صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 14 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 14 of 34 · 20 Hadith
۔ (۳۴۹۵) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُبَابِ الْاَنْصَارِیِّ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اُنَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌حَدَّثَہُ اَنَّہُمْ تَذَاکَرُوْا ہُوَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَوْمًا الصَّدَقَۃَ، فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اَلَمْ تَسْمَعْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ ذکَرَ غُلُوْلَ الصَّدَقَۃِ، اَنَّہُ مَنْ غَلَّ فِیْہَا بَعِیْرًا اَوْ شَاۃً، اَتٰی بِہِ یَحْمِلُہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُنَیْسٍ: بَلٰی۔ (مسند احمد: ۱۶۱۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک روز میرے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مابین صدقہ کے متعلق گفتگو ہونے لگی،سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ نہیں سنا تھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صدقہ میں خیانت کا ذکر کیا تو اس وقت یہ بھی فرمایا تھا: جس نے صدقہ کے مال میں ایک اونٹیا ایک بکری کی خیانت کی، تو وہ قیامت والے دن اسے اٹھا کر حاضر ہو گا؟ سیدنا عبد اللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی بالکل۔
Takhreej
(۳۴۹۵) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۱۰(انظر: ۱۶۰۶۳)
3495
Sahih
۔ (۳۴۹۶) عَنْ اَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِسْتَعْمَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلاً مِنَ الْاَزْدِ، یُقَالُ لَہُ ابْنُ اللُّتْبِیَّۃِ، عَلٰی صَدَقَۃٍ فَجَائَ فَقَالَ: ھٰذَا لَکُمْ وَھٰذَا اُہْدِیَ إِلَیَّ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: ((مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُہُ فَیَجِیْئُ، فَیَقُوْلُ ہٰذَاَ لَکُمْ وَھٰذَا اُہْدِی إِلَیَّ،اَفَلَا جَلَسَ فِی بَیْتِ اَبِیْہِ وَاُمِّہِ فَیَنْظُرَ أَیُہْدٰی إِلَیْہِ اَمْ لَا، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! لاَ یَاْتِی اَحَدٌ مِنْکُمْ مِنْہَا بِشَیْئٍ إِلَّاجَائَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃَ عَلٰی رقَبِتَہِ إِنَ کَانَ بَعِیْرًا لَہُ رُغائٌ اَوْ بَقَرَۃً لَہَا خُوَارٌ اَوْ شَاۃً تَیْعِرُ، ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی رَاَیْنَا عُفْرَۃَیَدَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: اَللّٰہُمَّ ہَلْ بَلَّغْتُ ثَلَاثًا، وَزَادَ ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ، قَالَ اَبُوْ حُمَیْدٍ سَمِعَ اُذُنِی وَاَبْصَرَ عَیْنِی وَسَلُوْا زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۹۶)
۔ سیدناابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنوازد کے ایک شخص ابن لُتْبِیَّہ کو صدقہ کی وصولی کیلئے عامل بنایا، جب وہ واپس آیا تو کہنے لگا: یہ چیز تمہارے لئے ہے اور یہ چیز مجھے ہدیہ دی گئی ہے، بات یہ ہے کہ وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر بیٹھا رہتا پھر دیکھتے کہ اس کو ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جان ہے! تم میں سے جو آدمی صدقہ میں خیانت کرے گا، وہ اسے قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھا کر حاضر ہو گا، اگر وہ اونٹ ہوا تو وہ بلبلارہا ہو گا، اگر وہ گائے ہوئی تو ڈکار رہی ہو گی اور اگر وہ بکری ہوئی تو ممیا رہی ہو گی۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اس قدر بلند کیا کہ ہمیں آپ کے بازوئوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے لوگوں تک پیغام پہنچا دیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی۔ (یہ حدیث بیان کرنے کے بعد) سیدنا ابوحمید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے کانوں نے یہ حدیث سنی اور میری آنکھوں نے اس کا مشاہدہ کیا، بہرحال تم سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی پوچھ لو۔
Takhreej
(۳۴۹۶) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۵۹۷، ۷۱۷۴، ومسلم: ۱۸۳۲ (انظر: ۲۳۵۹۸)
3496
Sahih
۔ (۳۴۹۷) وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہَدَایَا الْعُمَّالِ غُلُوْلٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۹۹)
۔ سیدناابو حمید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عاملینِ زکوۃ کے تحفے خیانت ہیں۔
Takhreej
(۳۴۹۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، اسماعیل بن عیاش حمصی صدوق فی روایتہ عن اھل بلدہ، مخلّط فی غیرھم، وروایتہ ھنا عن یحیی بن سعید الانصاری حجازی۔ اخرجہ ابوعوانۃ: ۷۰۷۳، والبزار فی ’’مسندہ‘‘: ۳۷۲۳، والبیھقی: ۱۰/ ۱۳۸(انظر: ۲۳۶۰۱)
3497
Zaeef
۔ (۳۴۹۸) عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا صَلَّی الْعَصْرَ رُبَمَا ذَہَبَ إِلٰی بَنِی عَبْدِ الْاَشْہَلِ فَیَتَحَدَّثُ حَتّٰییَنْحَدِرَ لِلْمَغْرِبِ، قَالَ: فَقاَلَ اَبُوْ رَافِعٍ فَبَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُسْرِعًا إِلَی الْمَغْرِبِ إِذْ مَرَّ بِالْبَقِیْعِ، فَقَالَ: ((اُفٍّ لَکَ، اُفٍّ لَکَ۔)) مَرَّتَیْنِ فَکَبُرَ فِی ذَرْعِیْ، وَتَاَخَّرْتُ وَظَنَنْتُ اَنَّہُ یُرِیْدُنْیِ، فَقَالَ: ((مَالَکَ؟ اِمْشِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: اَحْدَثْتُ حَدَثًا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَمَا ذَاکَ؟)) قُلْتُ: اَفَّفْتَ بِی، قَالَ: ((لَا، وَلٰکِنْ ھٰذَا قَبْرُ فُلَانٍ بَعَثْتُہُ سَاعِیًا عَلٰی بَنِی فُلَانَ فَغَلَّ نَمِرَۃً، فَدُرِِّعَ الْآنَ مِثْلُہَا مِنْ نَارٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۳۴)
۔ مولائے رسول سیدناابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول یہ تھا کہ عصر کی نماز کے بعد بنو عبد الاشھل کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے اور غروب آفتاب تک وہیں گفتگو میں مگن رہتے۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ (وہاں سے فارغ ہو کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مغرب کے لیے جلدی جلدی چلے آ رہے تھے، کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بقیع سے گزرتے وقت یہ فرمانا شروع کر دیا: تیرے لیے اف ہے، تیرے لیے اف ہے۔ میں نے سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے یہ کلمات کہہ رہے ہیں اس لیےیہ بات میرے دل پر بڑی گراں گزری اور میں پیچھے کو ہٹنا شروع ہو گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ آگے چلو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تمہاری مراد کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھ اف کہہ رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، دراصل بات یہ ہے کہ یہ فلاں آدمی کی قبر ہے، میں نے اس کو فلاں قبیلہ کی طرف زکوۃ کا عامل بنا کر بھیجا تھا اور اس نے ایک چادر کی خیانت کی تھی، اب اس کو اس کی بقدر آگ کی قمیص پہنا دی گئی ہے۔
Takhreej
(۳۴۹۸) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال منبوذ، ثم ان فی سماع الفضل عن جدہ ابی رافع نظراً۔ اخرجہ النسائی: ۲/ ۱۱۵(انظر: ۲۷۱۹۲)
3498
Zaeef
۔ (۳۴۹۹) عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرٍیَعُوْدُہُ فَقَالَ: مَالَکَ لَا تَدْعُوْ لِی؟ قَالَ: فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ َوَجَّل لَا یَقْبَلُ صلَاۃً بِغَیْرِ طُہُوْرٍ وَلَا صَدَقَۃً مِنْ غُلُوْلٍ۔)) وَقَدْ کُنْتَ عَلَی الْبَصْرَۃِیَعْنِی عَامِلاً۔ (مسند احمد: ۵۴۱۹)
۔ سیدنامصعب بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن عامر کی تیمار داری کرنے کے لیے گئے، ابن عامر نے ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا بات ہے، آپ میرے حق میں دعا کیوں نہیں کرتے؟ انھوں نے جواباً کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ: اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا اور خیانت والے مال سے صدقہ قبول نہیںکرتا۔ اور تم تو بصرہ کے عامل رہ چکے ہیں (اور ممکن ہے کہ تم سے گڑ بڑ ہو گئی ہو)۔
Takhreej
(۳۴۹۹) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۲۲۴ (انظر: ۵۴۱۹)
3499
Sahih
۔ (۳۵۰۰) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((قُمْ عَلٰی صَدَقَۃِ بَنِی فُلَانٍ، وَانْظُرْ لَا تَاتِییَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِبَکْرٍ تَحْمِلُہُ عَلٰی عَاتِقِکَ اَوْ عَلٰی کَاہِلِکَ لَہُ رُغَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِصْرِفْہَا عَنِّی، فَصَرَفَہَا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۲۸)
۔ سیدناسعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اٹھو اور فلاں قبیلہ سے زکوۃ وصول کر کے لائو اور خیال کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم قیامت کے دن اس حال میں آؤ کہ اپنے کندھے پر بلبلاتا ہوا اونٹ اٹھا رکھا ہو۔ یہ سن کر سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ ذمہ داری مجھ سے ہٹا لیں، چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے اس ذمہ داری کو ختم کر دیا۔
Takhreej
(۳۵۰۰) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ البزار ۳۷۳۷، والطبرانی: ۵۳۶۳(انظر: ۲۲۴۶۱)
3500
Sahih
۔ (۳۵۰۱) عَنْ سِمَاکِ (بْنِ حَرْبٍ) قَالَ: سَمِعْتُ قَبِیْصَۃَ بْنَ ہُلْبٍ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ الصَّدَقَۃَ فَقَالَ: ((لَا یَجِیئَنَّ اَحَدُکُمْ بِشَاۃٍ لَہَا یُعَارٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۲۹)
۔ سیدنا ہلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صدقہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی قیامت کے دن اس حالت میں نہ آئے کہ ممیاتی ہوئی بکری بھی اس کے ساتھ ہو۔
Takhreej
(۳۵۰۱) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطیالسی: ۱۰۸۶(انظر: ۲۱۹۸۰)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خیانت کتنا بڑا جرم ہے، اس بارے میں خلاصہ یہ ہے کسی سرکارییا غیر سرکاری ملازمت کے تعین کے وقت جو شروط و قیود طے ہو جائیں، ان کا پاس و لحاظ کرنا انتہائی ضروری ہے، نیز درج ذیل حدیث سے معلوم ہوا کہ جو بطورِ عامل اور ساعی صدقہ و زکوۃ وصول کرنے کے لیے جاتے ہیں، اس سفر میں جو چیز ان کو بطورِ تحفہ دی جائے گی، وہ بھی ان کے لیے جائز نہیں ہوگی: سیدنا ابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ازد قبیلہ کے ابن لتبیہ نامی ایک آدمی کو زکوۃ کی وصولی کا عامل بنایا، جب وہ واپس آیا تو اس نے کہا: یہ مال تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ دیاگیا ہے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ((مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُہٗفَیَجِیْئُ فَیَقُوْلُ: ھٰذَا لَکُمْ وَھٰذَا اُھْدِیَ لِیْ، ھَلَّا جَلَسَ فِیْ بَیْتِ اُمِّہٖاَوْاَبِیْہِ فَیَنْظُرَ اَیُھْدٰی لَہٗاَمْلَا،لَایَأْتِیْ اَحَدٌ مِنْکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ ذَالِکَ اِلَّا جَائَ بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اِنْ کَانَ بَعِیْرًا فَلَہٗرُغُائٌاَوْبَقَرَۃٌ فَلَھَا خُوَارٌ اَوْ شَاۃٌ تَیْعَرُ۔)) ’’اس عامل کو کیا ہو گیا ہے، جس کو ہم بھیجتے ہیں، لیکن جب وہ واپس آتا ہے تو کہتا ہے: یہ چیز تو تمہاری ہے اور یہ چیز مجھے بطورِ تحفہ دی گئی۔ ذرا وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر میں بیٹھے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کو تحفہ ملتا ہے یا نہیں، جو آدمی اس میں سے جو چیز بھی لے گا، وہ قیامت کے روزہ اس کو اپنے ساتھ لائے گا، اگر وہ اونٹ ہوا تو وہ بلبلا رہا ہو گا، اگر وہ گائے ہوئی تو وہ ڈکار رہی ہو گی اور اگر وہ بکری ہوئی تو ممیا رہی ہو گی۔‘‘
3501
Sahih
۔ (۳۵۰۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَاَلَ وَلَہُ مَا یُغْنِیْہِ جَائَتْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ خُدُوْشًا اَوْ کُدُوْشًا فِی وَجْہِہِ۔)) قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا غِنَاہُ ؟ قَالَ: ((خَمْسُوْنَ دِرْہَمًا اَوْ حِسَابُہَا مِنَ الذَّہَبِ)) (مسند احمد:۴۲۰۶)
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص مانگنے سے مستغنی ہونے کے باوجود مانگتا ہے ،وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر خراشیں ہوں گی۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! غِنٰی کی حد کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کے برابر سونا۔
Takhreej
(۳۵۰۲) تخر یـج: حسن، وھذا اسناد ضعیف لضعف حکیم بن جبیر۔ اخرجہ ابوداود: ۱۶۲۶، والترمذی: ۶۵۱، والنسائی: ۵/۹۷، وابن ماجہ: ۱۸۴۰(انظر: ۴۲۰۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں (۵۰) درہموں کو غِنٰی کی حد قرار دیا گیا ہے، یہ تقریباً (۱۲ ، ۱۳) تولے چاندی بنتی ہے۔
3502
Sahih
۔ (۳۵۰۳) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الصَّدَقَۃَ لَا تَحِلُّ لِغَنِیٍّ وَلَا لِذِی مِرَّۃٍ سَوِیٍّ۔)) (مسند احمد: ۸۸۹۵)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مال دار اور تندرست و توانا کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۵۰۳) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۳۹، والنسائی: ۵/ ۹۹ (انظر: ۸۹۰۸)
Explanation
فوائد:… تند رست آدمی کے لیے اس وقت زکوۃ لینا اور سوال کرنا جائز ہو گا، جب کوشش کے باوجود کوئی کام نہیں مل رہا ہو گا، بہرحال وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذور ہونا چاہیے اور کوئی معیار اس کے سامنے آڑ نہ بننے پائے۔
3503
Sahih
۔ (۳۵۰۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۶۵۳۰)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۵۰۴) تخر یـج: اسنادہ قوی۔ اخرجہ ابوداود: ۱۶۳۴، والترمذی: ۶۵۲(انظر: ۶۵۳۰)
3504
Sahih
۔ (۳۵۰۵) عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی اَسَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَاَلَ وَلَہُ اُوْقِیَۃٌ اَوْ عَدْلُہَا فَقَدْ سَاَلَ إِلْحافًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۲۴)
۔ بنو اسد کا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک اوقیہیا اس کے مساوی چیز کا مالک ہو اور وہ سوال کرے تو (اس کا مطلب یہ ہو گا کہ) اس نے اصرار کے ساتھ اور چمٹ کر سوال کیا (جو اس کا حق نہیںہے)۔
Takhreej
(۳۵۰۵) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۱۶۲۷، والنسائی: ۵/ ۹۸ (انظر: ۱۶۴۱۱)
Explanation
فوائد:… اصرار کے ساتھ سوال نہ کرنا اچھے لوگوں کی صفت ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لِلْفُقَرَآئِ الَّّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِیْ الْاَرْضِ یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَآئَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْ لَایَسْاَلُوْنَ النَّاسَ إِِلْحَافًا وَّمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍفَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖعَلِیْمٌ۔} (سورۂ بقرہ: ۲۷۳) … ’’صدقات کے مستحق صرف وہ غرباء ہیں، جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے، جو زمین میں چل پھر نہیں سکتے، نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مال دار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہنچان لیں گے، وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کو پوری طرح جاننے والا ہے۔‘‘ (۴۰) درہموں کا ایک اوقیہ ہوتا ہے، یہ تقریباً (۱۰) تولے چاندی بنتی ہے۔
3505
Sahih
۔ (۳۵۰۶) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ اَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَرَّحَتْنِی اُمِّیْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَسْاَلُہُ فَاَتَیْتُہُ فَقَعَدْتُّ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَنِیْ فَقاَلَ: ((مَنِ اسْتَغْنٰی اَغْنَاہُ اللّٰہُ، وَمَنِ اسْتَعَفَّ اَعَفَّہُ اللّٰہُ، وَمَنِ اسْتَکْفٰی کَفَاہُ اللّٰہُ، وَمَنْ سَاَل َوَلَہُ قِیْمَۃُ اَوْقِیَۃٍ فَقَدْ اَلْحَفَ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: نَاقَتِی الْیَاقُوْتَۃُ مَعِیَ خَیْرٌ مِنْ اُوْقِیَۃٍ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ اَسْاَلْہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۷۵)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میری والدہ نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا تاکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی چیز مانگ کر لے آؤں، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ کر وہاں بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: جو غنی ہونا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، جو (لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے) سے پاکدامنی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ سے پاکدامن بنا دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ سے کفایت چاہی، اللہ تعالیٰ اسے کفایت کرے گا اور اگر ایک اوقیہ کی قیمت کا مالک سوال کرے گا تو وہ اصرار کے ساتھ سوال کرے گا (جو اس کا حق نہیں ہے)۔ یہ سن کر سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے سوچا کہ میرییاقوتہ اونٹنی ایک اوقیہ سے بہتر ہے، اس لیے میں لوٹ گیا اور سوال نہیں کیا۔
Takhreej
(۳۵۰۶) تخر یـج: اسنادہ قوی۔ اخرجہ النسائی: ۵/ ۹۸(انظر: ۱۱۰۶۰)
3506
Sahih
۔ (۳۵۰۷) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَدِّیٍّ َقاَل اَخْبَرَنِی رَجُلَانِ، اَنَّہُمَا اَتَیَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ یَسْاَلَانِہِ الصَّدَقَۃَ، قَالَ: فَرَفَع فِیْہِمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَصَرَ وَخَفَضَہُ فَرَآہُمَا رَجُلَیْنِ جَلْدَیْنِ، فَقَالَ: ((إِنْ شِئْتُمَا اَعْطَیْتُکُمَا مِنْہَا وَلَا حَظَّ فِیْہَا لِغَنِیٍّ وَلَا لِقَوِیٍّ مُکْتَسِبٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۳۵)
۔ عبید اللہ بن عدی کہتے ہیں: دو صحابہ نے مجھے بتلایا کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور صدقہ کا سوال کیا،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (ان کو دیکھنے کے لیے) ان کی طرف نظر اٹھائی اور پھر اسے نیچے کی طرف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ وہ دونوں مضبوط اور قوی آدمی ہیں،اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں صدقہ میں سے کچھ دے دیتا ہوں، لیکن حقیقتیہ ہے کہ کسی مال دار اور کما سکنے والے قوی آدمی کا صدقہ میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۵۰۷) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ اخرجہ ابوداود: ۱۶۳۳(انظر: ۱۷۹۷۲)
3507
Sahih
۔ (۳۵۰۸) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَاَلَ مَسْاَلَۃً عَنْ ظَہْرِ غِنًی، اِسْتَکَثَرَ بِہَا مِنْ رَضْفِ جَہَنَّمَ۔)) قَالُوْا: مَا ظَہْرُ غِنٍی؟ قَالَ: ((عَشَائُ لَیْلَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۳)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص غنی کے باوجود لوگوں سے مانگتا ہو، وہ اپنے لئے جہنم کے گرم پتھروں میں اضافہ کرتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: غِنٰی کی مقدار کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شام کا کھانا۔
Takhreej
(۳۵۰۸) اسنادہ ضعیف جدا، حسن بن ذکوان ضعیف، وھو لم یسمع من حبیب بن ابی ثابت، بینھما عمرو بن خالد القرشی مولاھم المتھم بالکذب۔ اخرجہ الدارقطنی: ۲/ ۱۲۱ (انظر: ۱۲۵۳)
3508
Zaeef
۔ (۳۵۰۹) عَنْ حُبْشِیِّ بْنِ جُنَادَۃً ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَاَلَ مِنْ غَیْرِ فَقْرٍ فَکَانَّمَا یَاْکُلُ الْجَمْرَ)) (مسند احمد: ۱۷۶۴۹)
۔ سیدنا حبشی بن جنادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بغیر کسی ضرورت کے سوال کرتا ہے، وہ گویا کہ آگ کے انگارے کھاتا ہے۔
Takhreej
(۳۵۰۹) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۳۵۰۶ (انظر: ۱۷۵۰۸)
3509
Sahih
۔ (۳۵۱۰) عَنْ سَہْلِ بْنِ الْحَنْظَلِیَّۃِ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ عُیَیْنَۃَ وَالْاَقْرَعَ سَاَلَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا، فَاَمَرَ مُعَاوِیَۃَ اَنْ یَکُتَب بِہِ لَہُمَا فَفَعَلَ وَخَتَمَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَمَرَ بِدَفْعِہِ إِلَیْہِمَا، فَاَمَّا عُیَیْنَۃُ فَقَالَ: مَا فِیْہِ؟ فَقَالَ: ((فِیْہِ الَّذِی اَمَرْتُ بِہِ فَقَبَّلَہُ۔)) وَعَقَدَہُ فِی عِمَامَتِہِ وَکَانَ اَحْکَمَ الرَّجُلَیْنِ، وَاَمَّا الْاَقْرَعُ فَقَالَ: اَحْمِلُ صَحِیْفَۃً لَا اَدْرِیْ مَا فِیْہَا کَصَحِیْفَۃِ الْمُتَلَمِّسِ، فَاَخْبَرَ مُعَاوِیَۃُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَوْلِہَمَا وَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَاجَۃٍ فَمَرَّ بِبَعِیْرٍ مُنَاخٍ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ مِنْ اَوَّلِ النَّہَارِ، ثُمَّ مَرَّ بِہِ آخِرَ النَّہَارِ وَہُوَ عَلَی حَالِہٖفَقَالَ: ((اَیْنَ صَاحِبُ ھٰذَا الْبَعِیْرِ؟)) فَابْتُغِیَ، فَلَمْ یُوْجَدْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِتَّقُوْا اللّٰہَ فِی ھٰذِہِ الْبَہَائِمِ، ثُمَّ ارْکَبُوہَا صِحَاحًا وَارْکَبُوْہَا سِمانًا کَالْمُتَسَخِّطِ اَنَفًا، إِنَّہُ مَنْ سَاَلَ وَعِنْدَہُ مَا یُغْنِیْہِ فَإِنَّمَا یَسْتَکْثِرُ مِنْ نَارِجَہَنّمَ۔)) قَاُلْوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا یُغْنِیْہِ؟ قَالَ: ((مَا یُغَدِّیْہِ وَ یُعَشِّیِْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۷۵)
۔ انصاری صحابی سیدناسہل بن حنظلیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ عینہ اور اقرع دونوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ مانگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ (ان کے علاقے کے عامل کے نام) ان کے حق میں کچھ لکھے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تحریر لکھی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر مہر لگائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ تحریر ان کے سپرد کر دے۔ عیینہ نے پوچھا کہ اس میں لکھا ہوا کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں وہی کچھ لکھا ہوا ہے جس کا میں نے حکم دیا۔ اس نے اس تحریر کا بوسہ لیا اور اس کو اپنی پگڑی میں باندھ لیا، وہ ان میں سے دانا اور عقلمند آدمی تھا۔ اقرع نے کہا: میں نے ایک تحریر اٹھائی ہوئی ہے، مجھے علم نہیں ہے کہ اس میں کیا لکھا ہے، یہ تو مُتَلَمِّس کے صحیفے کی طرح کی بات ہے۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان دونوں کی باتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتا دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کام کی غرض سے باہر تشریف لے گئے، دن کے شروع میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر ایک ایسے اونٹ کے پاس سے ہوا، جسے مسجد کے دروازے پر بٹھایا گیا تھا،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے دن کے آخر میں گزرے تو وہ اونٹ اسی جگہ پر اسی طرح بیٹھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ اسے تلاش تو کیا گیا مگر وہ نہ ملا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان جانوروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ،جب تم ان پر سوار ہو تو یہ تندرست ہونے چاہئیں، پھر جب تم ان پر سواری کرو تو یہ موٹے تازے ہونے چاہئیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ باتیں غصے کی حالت میں ارشاد فرمائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص غنی کے باوجود مانگتا ہے، وہ جہنم کی آگ میں اضافہ کرتاہے۔ صحابہ نے کہا: کتنی چیز اسے کفایت کرے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چیز کی اتنی مقدار ہو کہ صبح اور شام کا کھانا بن جائے۔
Takhreej
(۳۵۱۰) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ مختصرا ابوداود: ۱۶۲۹، ۲۵۴۸ (انظر: ۱۷۶۲۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں دو وقت کے کھانے یا اس کی قیمت کو غِنٰی کی مقدار قرار دیا گیا ہے۔
3510
Sahih
۔ (۳۵۱۱) عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَاَلَ مَسْاَلَۃً وَہُوَ عَنْہَا غَنِیٌّ کَانَتْ شَیْنًا فِی وَجْہِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۸۴)
۔ مولائے رسول سیدناثوبان سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایک چیز سے غنی ہونے کے باوجود (لوگوں سے) اس کا سوال کرتا ہے تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر عیب ہو گا۔
Takhreej
(۳۵۱۱) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ الدارمی: ۱۶۴۵، والبزار: ۹۲۳، والطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۲/ ۲۰، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۴۰۷ (انظر: ۲۲۴۲۰)
3511
Sahih
۔ (۳۵۱۲) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَسْاَلَۃُ الْغَنِیِّ شَیْنٌ فِی وَجْہِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۲۰۰۵۹)
۔ سیدناعمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غنی کا سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پر عیب ہو گا۔
Takhreej
(۳۵۱۲) صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۸/ ۳۶۲، وفی ’’الاوسط‘‘: ۸۱۷۳ (انظر: ۱۹۸۲۱)
3512
Sahih
۔ (۳۵۱۳) عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِیِّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا اَعْرَابِیٌّ قَدْ اَلَحَّ عَلَیْہِ فِی الْمَسْاَلَۃِ،یَقُوْلُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَطْعِمْنِی،یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَعْطِنِی، قَالَ: فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ الْمَنْزِلَ وَاَخَذَ بِعِضَادَتَیِ الْحُجْرَۃِ وَاَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ وَقَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ فِی الْمَسْاَلَۃِ مَا سَاَل َرَجُلٌ رَجُلًا وَہُوَ یَجِدُ لَیْلَۃً تُبِیْتُہُ۔)) فَاَمَرَ لَہُ بِطَعَامٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۲۲)
۔ سیدناعائد بن عمرو مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بدو آیا اور وہ خوب اصرار اور ضد کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے کھلائیں، اے اللہ کے رسول! مجھے کچھ دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھے اور گھر تشریف لے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوکھٹ کے دو بازؤوں کو پکڑا اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!سوال کرنے اور بھیک مانگنے کے (انجام کے بارے میں) جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر تم بھی اسے جان لو تو جس کے پاس ایک شام کا کھانا موجود ہو، وہ کسی سے کوئی چیز نہ مانگے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے کھانے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۳۵۱۳) تخر یـج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۰۶۴۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک وقت کے کھانے کو سوال نہ کرنے کے لیے معیار قرار دیا گیا ہے۔
3513
Sahih
۔ (۳۵۱۴) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَاَلَ النَّاسَ اَمْوَالَہُمْ تَکَثُّرًا، فَإِنَّمَا یَسْاَلُ جَمْرًا، فَلْیَسْتَقِلَّ مِنْہُ اَوْ لِیَسْتَکْثِرْ)) (مسند احمد: ۷۱۶۳)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کو زیادہ کرنے کے لئے لوگوں سے سوال کرتا ہے، وہ دراصل آگ کے انگارے جمع کر رہا ہے، یہ اب اس کی مرضی ہے وہ تھوڑے جمع کر لے یا زیادہ۔
Explanation
فوائد:… مقدار کے بارے میں مزید ایک حدیثیہ ہے: مزنی قبیلے کے ایک آدمی کو اس کی ماں نے کہا: کیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس نہیں جاتا، تاکہ آپ سے کچھ مانگ لائے، جیسا کہ لوگ سوال کرتے رہتے ہیں؟ میں (ان کے کہنے پر) کچھ مانگنے کے لیے چلا گیا، میں نے دیکھا کہ آپ لوگوں سے مخاطب تھے اور فرما رہے تھے: ((مَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّہُ اللّٰہُ، وَمَنِ اسْتَغْنٰی أَغْنَاہُ اللّٰہُ، وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَہُ عِدْلُ خَمْسِ أَوَاقٍ، فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافاً۔)) ’’جس نے پاکدامنی اختیار کی، اللہ تعالیٰ اسے پاکدامن کر دے گا اور جس نے (لوگوں سے) بے نیاز ہونا چاہا، اللہ اسے بے نیاز کر دے گا۔ (یاد رکھو کہ) جس کے پاس پانچ اوقیے ہوںاور وہ پھر بھی سوال کرے تو اس کا سوال اصرار سے ہو گا۔‘‘ میں نے اپنے دل میں ہی کہا: ہماری اونٹنی پانچ اوقیوں سے تو بہتر ہے اور ایک اونٹنی میرے غلام کی بھی ہے وہ بھی پانچ اوقیوں سے بہتر ہے۔ اس بنا پر میںلوٹ آیااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی سوال نہ کیا۔ (مسند احمد: ۴/ ۱۳۸، صحیحہ:۲۳۱۴) درج بالا احادیث ِ مبارکہ میں جہاں سوال کرنے کی سخت مذمت کی گئی ہے، وہاں درج ذیل مختلف پانچ مقداروں کو غِنٰی کی حداور سوال کرنے سے مانع قرار دیا گیا ہے: (۱) …پچاس درہم یعنی (۱۲ ، ۱۳) تولے چاندی (۲) …چالیس درہم یعنی (۱۰) تولے چاندی (۳) …دو وقت کا کھانا (۴) …ایک وقت کا کھانا (۵) …پانچ اوقیہ،یعنی (۲۰۰) درہم، جو کہ تقریبا (۵۲) تولے چاندی بنتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ قوانین علی الاطلاق نہیں ہیں، بلکہ مقید ہیں، مثال کے طور پرجس آدمی کی زندگی کے اخراجات چالیس درہموں کے ساتھ پورے ہو سکتے ہوں، وہ کسی صورت میں سوال نہیں کر سکتا، مثلا ایک مزدور جو روزانہ آٹھ نو درہم کماتا ہے اور اس کے پاس چالیس درہم موجود بھی ہوں تو وہ لوگوں سے بھیک نہیں مانگ سکتا، اگرچہ بسا اوقات اسے کام نہ ملتا ہو، یہی معاملہ چھابڑی فروشوں اور معمولی درجے کے دوکانداروں کا ہے۔ لیکن ایک آدمی کے پاس رہنے کے لیے گھراور دودھ کے لیے بکری موجود ہے، لیکن ان دو چیزوں سے اس کے گھر کے اخراجات کا سلسلہ تو قطعی طور پر جاری نہیں رہ سکتا، حالانکہ وہ چالیس درہم سے زیادہ مال کا مالک ہے،اس لیے وہ لوگوں سے سوال کر سکتا ہے۔ ماحصل یہ ہے کہ جس کی زندگی کا سرکل چالیس درہم یا اس سے کم قیمت کے مال سے چل سکتا ہو، وہ دوسروں کے سامنے دست ِ سوال نہیں پھیلا سکتا۔ مقصودِ شریعتیہ ہے کہ جس آدمی کی آمدن اس کے اور اس کے اہل خانہ کے ضروری اخراجات پورے کر رہی ہو، وہ لوگوں سے سوال نہیں کر سکتا، بصورت ِ دیگر اس کے جواز کی رائے دی جا سکتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
3514
Sahih

Chapters

34
01
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
3 Hadith
03
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
3 Hadith
04
زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
3 Hadith
05
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
6 Hadith
06
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
3 Hadith
07
فقیر اور مسکین کا بیان
7 Hadith
08
عاملینِ زکوۃ
7 Hadith
09
ان لوگوںکا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے
3 Hadith
10
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
2 Hadith
11
قرض داروں کو زکوۃ دینا
5 Hadith
12
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
3 Hadith
13
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
15 Hadith
14
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
20 Hadith
15
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
8 Hadith
16
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
11 Hadith
17
سوال کرنے سے بچنے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
18
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
3 Hadith
19
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
5 Hadith
20
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
6 Hadith
21
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
8 Hadith
22
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
6 Hadith
23
گندم کے نصف صاع کی روایت بیان کرنے والے
6 Hadith
24
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
20 Hadith
25
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
5 Hadith
26
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
3 Hadith
27
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
28
جسم کے صدقہ کا بیان
8 Hadith
29
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
1 Hadith
30
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
6 Hadith
31
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
2 Hadith
32
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
3 Hadith
33
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
3 Hadith
34
صدقہ جاریہ کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.