مسنداحمد

Musnad Ahmad

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان

۔ (۳۵۱۵) عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَاَعْطَانِیْ ثُمَّ سَاَلْتُہُ فَاَعْطَانِی ثُمَّ سَاَلْتُہُ فَاَعْطَانِی، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ ھٰذَا الْمَالَ خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ، فَمَنْ اَخَذَہُ بِحَقِّہِ بُوْرِکَ لَہُ فِیْہِ، وَمَنْ اَخَذَہُ بِاِشْرَافِ نَفْسٍ، لَمْ یُبَارَکْ لَہُ فِیْہِ، وَکَانَ کَالَّذِیْیَاْکُلُ وَلاَ یَشْبَعْ، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌمِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی۔)) (مسند احمد:۱۵۶۵۹)

۔ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیا، میں نے پھر سوال کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا مطالبہ پورا کر دیا، میں نے تیسری بار مطالبہ کر دیا، پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دے دیا، لیکنیہ بھی فرمایا: یہ مال دلکش اور دل پسند چیز ہے، جو کوئی اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور جو شخص حریص بن کر اس کو لے گا، اس کے لئے اس میں برکت نہیں ہو گی، اوروہ اس شخص کی طرح ہو گا، جو کھانا کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا، بہرحال اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔

۔ (۳۵۱۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ الْمَالِ فَاَلْحَفْتُ، فَقَالَ: ((یَا حَکِیْمُ! مَا اَکْثَرَ مَسْاَلْتَکَ! یَا حَکِیْمُ! إِنَّ ھٰذَا الْمَالَ خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ وَإِنَّہُ مَعَ ذٰلِکَ اَوْسَاخُ اَیْدِی النَّاسِ، وَیَدُ اللّٰہِ فَوْقَ یَدِ الْمُعْطِی، وَیَدُ الْمُعْطِی فَوْقَ یَدِ الْمُعْطٰی وَاَسْفَلُ الْاَیْدِیْیَدُ الْمُعْطٰی۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۹۵)

۔ (دوسری سند) سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور خوب اصرار کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے حکیم! تم کس قدر کثرت سے سوال کر رہے ہو! اے حکیم! یہ مال دلکش اور دل پسند ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگوں کے ہاتھوں کی میل کچیل بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ دینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور دینے والے کا ہاتھ لینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور لینے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہوتا ہے۔

۔ (۳۵۱۷) عَنْ ہِشَامٍ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی، وَلْیَبْدَأْ اَحَدُکُمْ بِمَنْ یَعُوْلُ، وَخَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَہْرِ غِنًی، وَمَنْ یَسْتَغْنِیُغْنِہِ اللّٰہُ، وَمَنْ یَسْتَعِفَّیُعِفَّہُ اللّٰہُ۔)) فَقُلْتُ: وَمِنْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قاَلَ: ((وَمِنِّی۔)) قَالَ حَکِیْمٌ: لاَ تَکُوْنُ یَدِی تَحْتَ یَدِ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ اَبَدًا۔ (مسند احمد: ۱۵۶۶۳)

۔ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم میں سے ہر کوئی اپنے زیر کفالت افراد پر خرچ کرنا شروع کرے، سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو غِنٰی (یعنی ذاتی ضروریات پوری کرنے) کے بعد کیا جائے اور جو آدمی لوگوں سے مستغنی ہونا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، اور جو آدمی مانگنے سے بچنا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے بچا دے گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سے بھی مانگنے کا یہی حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، مجھ سے بھی ایسے ہی ہے۔ یہ سن کر سیدنا حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرا ہاتھ کسی بھی عربی کے ہاتھ کے نیچے نہیں ہو گا۔

۔ (۳۵۱۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْاَیْدِیْ ثَلَاثَۃٌ، فَیَدُ اللّٰہِ الْعُلْیَا، وَیَدُ الْمُعْطِیْ الَّتِیْ تَلِیْہَا، وَیَدُ السَّائِلِ السُّفْلٰی۔)) (مسند احمد: ۴۲۶۱)

۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین قسم کے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ سب سے اوپر ہے، اس سے نیچے دینے والے کا ہاتھ اور مانگنے والے کا ہاتھ تو سب سے نیچے ہے۔

۔ (۳۵۱۹) وَعَنْ مَالِکِ بْنِ نَضْلَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ وَزَادَ: ((فَاَعْطِ الْفَضْلَ وَلَا تَعْجَزْ عَنْ نَفْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۸۵)

۔ سیدنا مالک بن نضلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: تم زائد چیز صدقہ کر دو اور اپنے نفس سے عاجز نہ آ جاؤ۔

۔ (۳۵۲۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنْ الْیَدِ السُّفْلٰی، الیَدُ الْعُلْیَا الْمُنْفِقَۃُ، وَالْیَدُ السُّفْلٰی السَّائِلَۃُ۔)) (مسند احمد: ۵۳۴۴)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ،نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہے۔

۔ (۳۵۲۱) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا صَدَقَۃَ إِلاَّ عَنْ غِنًی، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌمِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی، وَابْدَاْ بِمَنْ تَعْوُلُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۱۸)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ذاتی ضروریات کے بعد ہی صدقہ کیا جائے ، اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل اور بہتر ہے اور تم اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کر۔

۔ (۳۵۲۲) عَنْ اَبِیْ رِمْثَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَدُ الْمُعْطِی الْعُلْیٰ، اُمَّکَ وَاَبَاکَ وَاُخْتَکَ ثُمَّ اَدْنَاکَ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہٰؤُلَائِ بَنُوْ ْیَرْبُوْعٍ قَتَلَۃُ فُلَانٍ، قَالَ: ((اَلَا لَا تَجْنِی نَفْسٌ عَلٰیاُخْرٰی۔)) وَقَالَ اَبِی: قَالَ اَبُوْ الْنَّضْرِ فِی حَدِیْثِہٖ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ وَیَقُوْلُ: ((یَدُالْمُعْطِی الْعُلْیَا۔)) (مسند احمد: ۷۱۰۵)

۔ سیدناابورمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دینے والے کا ہاتھ بلند ہے، تم پہلے اپنی ماں پر خرچ کرو، پھر باپ پر ، پھر اپنی بہن پر، پھر جس طرح قریبی بنتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو یربوع ہیں،یہ فلاں شخص کے قاتل ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی نفس دوسرے کے حق میں جرم نہیں کرے گا۔ ابو نضر نے اپنی حدیث میں کہا: میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: دینے والے کا ہاتھ بلند ہے۔