۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیا، میں نے پھر سوال کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا مطالبہ پورا کر دیا، میں نے تیسری بار مطالبہ کر دیا، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دے دیا، لیکنیہ بھی فرمایا: یہ مال دلکش اور دل پسند چیز ہے، جو کوئی اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور جو شخص حریص بن کر اس کو لے گا، اس کے لئے اس میں برکت نہیں ہو گی، اوروہ اس شخص کی طرح ہو گا، جو کھانا کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا، بہرحال اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور خوب اصرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حکیم! تم کس قدر کثرت سے سوال کر رہے ہو! اے حکیم! یہ مال دلکش اور دل پسند ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگوں کے ہاتھوں کی میل کچیل بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ دینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور دینے والے کا ہاتھ لینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور لینے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہوتا ہے۔
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم میں سے ہر کوئی اپنے زیر کفالت افراد پر خرچ کرنا شروع کرے، سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو غِنٰی (یعنی ذاتی ضروریات پوری کرنے) کے بعد کیا جائے اور جو آدمی لوگوں سے مستغنی ہونا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، اور جو آدمی مانگنے سے بچنا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے بچا دے گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سے بھی مانگنے کا یہی حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، مجھ سے بھی ایسے ہی ہے۔ یہ سن کر سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا ہاتھ کسی بھی عربی کے ہاتھ کے نیچے نہیں ہو گا۔
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین قسم کے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ سب سے اوپر ہے، اس سے نیچے دینے والے کا ہاتھ اور مانگنے والے کا ہاتھ تو سب سے نیچے ہے۔
۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: تم زائد چیز صدقہ کر دو اور اپنے نفس سے عاجز نہ آ جاؤ۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ،نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ذاتی ضروریات کے بعد ہی صدقہ کیا جائے ، اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل اور بہتر ہے اور تم اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کر۔
۔ سیدناابورمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دینے والے کا ہاتھ بلند ہے، تم پہلے اپنی ماں پر خرچ کرو، پھر باپ پر ، پھر اپنی بہن پر، پھر جس طرح قریبی بنتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو یربوع ہیں،یہ فلاں شخص کے قاتل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی نفس دوسرے کے حق میں جرم نہیں کرے گا۔ ابو نضر نے اپنی حدیث میں کہا: میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: دینے والے کا ہاتھ بلند ہے۔