TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان - سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 20 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 20 of 34 · 6 Hadith
۔ (۳۵۴۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ قاَل َحدَثَّنَاَ سُفْیَانُ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ یَعْلَی بْنِ اَبِییَحْیٰی عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ حُسَیْنٍ عَنْ اَبِیْہَا، قَالَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ حُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِلسَّائِلِ حَقٌ وَإِنْ جَائَ عَلٰی فَرَسٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۰)
۔ سیدنا حسین بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سائل کا حق ہے، اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔
Takhreej
(۳۵۴۵) اسنادہ ضعیف لجھالۃیعلی بن ابییحیی۔ أخرجہ أبوداود: ۱۶۶۵، ۱۶۶۶(انظر: ۱۷۳۰)
3545
Zaeef
۔ (۳۵۴۶) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ بُجَیْدٍ عَنْ جَدَّتِہِ اُمِّ بُجَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَاْتِیْنَا فِی بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَاَتَّخِذُ لَہُ سَوِیقَۃً فِی قَعْبَۃٍ لِیْ فإِذَا جَائَ سَقَیْتُہَا إِیَّاُہ قاَلَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّہُ یَأْتِیْنِیْ السَّائِلُ فَاَتَزَہَّدُ لَہُ بَعْضَ مَا عِنْدِی، (وَفِی رِوَایَۃٍ فَلَا اجِدُ فِی بَیْتِی مَا اَرْفَعُ فِییَدِہِ) فَقَالَ: ((ضَعِی فِییَدِ الْمِسْکِیْنِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۹۲)
۔ سیدہ ام بُجَیْد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں تشریف لایا کرتے تھے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے لکڑی کے ایک پیالہ میں ستو بنا تی تھی، جب آپ تشریف لاتے تو میں وہ انہیں پلاتی۔ (ایک دن) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بسا اوقات ایک سائل میرے پاس آتا ہے اور میں اسے اس بنا پر کچھ نہیں دیتی کہ جو کچھ میرے پاس ہوتا ہے، میں اسے بہت معمولی سمجھتی ہوں، ایک روایت میں ہے: اس کو دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی، (ایسی صورت میں میں کیا کروں)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مسکین کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو، خواہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔
Takhreej
(۳۵۴۶) حدیث حسن۔ اخرجہ ابوداود: ۱۶۶۷، والترمذی: ۶۶۵، والنسائی: ۵/ ۸۶ (انظر: ۲۷۱۵۱)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کا مقصود یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی انتہائی کم قیمت چیزوں کا مالک ہو تو اسے چاہیے کہ ان ہی سے مسکین کامطالبہ پورا کرنے کی کوشش کرے۔
3546
Sahih
۔ (۳۵۴۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّہُ حَدَّثَتْہُ جَدَّتُہُ، وَہِیَ اُمُّ بُجَیْدٍ وَکَانَتْ مِمَّنْ بَایَعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قاَلَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ: وَاللّٰہِ إِنَّ الْمِسْکِیْنَ لَیَقُوْمُ عَلٰی بَابِیْ، فَمَا اَجِدُ لَہُ شَیْئًا اُعْطِیْہِ إِیَّاہُ، فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ لَمْ تَجِدِیْ لَہُ شَیْئًا تُعْطِیْنَہُ إِیَّاُہ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِیِْہِ إِلَیْہِ فِییَدِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۹۱)
۔ (دوسری سند)سیدہ ام بُجَیْد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جنھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی، نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اللہ کی قسم! مسکین میرے دروازے پرآ کر کھڑا ہو جاتا ہے، لیکن اس کو دینے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اسے دینے کے لئے تمہارے پاس جلائے ہوئے کھر کے سوا کچھ بھی نہ ہو تو وہی اس کے ہاتھ میں تھما دیا کرو۔
Takhreej
(۳۵۴۷) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3547
Sahih
۔ (۳۵۴۸) عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْاَنْصَارِیِّ قَالَ: إِنَّ سَائِلًا وَقَفَ عَلٰی بَابِہِمْ فَقَالَتْ لَہُ جَدَّتُہُ حَوَّائُ: اَطْعِمُوْہُ تَمْرًا، قَالُوْا: لَیْسَ عِنْدَنَا، قَالَتْ: فَاسْقُوْہُ سَوِیْقًا، قَالُوْا: اَلْعَجَبُ لَکِ نَسْتَطِیْعُ اَنْ نُطْعِمَہُ مَا لَیْسَ عِنْدَنَا؟ قَالَتْ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَاتَرُدُّوْا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۹۸)
۔ سیدنا عمرو بن معاذ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ایک سائل ان کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا، ان کی دادی سیدہ حوائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا:اس کو کھجور دے دو، گھر والوں نے کہا: ہمارے پاس کھجوریں نہیں ہیں، اس نے پھر کہا: تو پھر اسے ستو پلا دو، اہل خانہ نے کہا: تجھ پر بھی تعجب ہے، جو چیز ہمارے پاس نہیں ہے، ہم اسے کیسے دیں؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کسی سائل کو (خالی ہاتھ) واپس نہ لوٹنے دو،اگرچہ جو چیز اسے دی جائے، وہ جلایا ہوا کھر ہی ہو۔
Takhreej
(۳۵۴۸) تخر یـج: حدیث حسن وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ عمرو بن معاذ الانصاری۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر،: ۲۴/ ۵۵۸، وابن سعد: ۸/ ۳۶۰(انظر: ۲۷۴۵۱)
3548
Sahih
۔ (۳۵۴۹) عَنْ عُرْوَۃَ َعنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ سَائِلًا سَاَلَ، قَالَتْ: فَاَمَرْتُ الْخَادِمَ فَاَخْرَجَ لَہُ شَیْئًا (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَاَمَرَتْ بَرِیْرَۃَ اَنْ تَاْتِیَہَا، فَتَنْظُرَ إِلَیْہِ) قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَہَا: ((یَا عَائِشَۃُ! لَا تُحْصِیْ فَیُحْصِیَ اللّٰہُ عَلَیْکِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۲۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک سائل نے آ کر ان سے سوال کیا، انہوں نے خادم سے کہا: اسے کچھ دے دو، پس وہ خادم اسے دینے کے لئے کوئی چیز لایا۔ دوسری روایت میں ہے:سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ پہلے وہ چیز ان کے پاس لے کر آتا کہ وہ اس چیز کی مقدار کو دیکھ لے۔ (یہ سن کر) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے فرمایا: عائشہ! گن گن کر مت دیا کرو، پھر اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔
Takhreej
(۳۵۴۹) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۱۷۰۰، والنسائی: ۵/ ۷۳(انظر: ۲۴۴۱۸)
Explanation
فوائد:… سنن نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک دفعہ میرے پاس ایک سائل آیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی موجود تھے، میں نے اسے کچھ دینے کا حکم دیا، لیکن پہلے میں نے دینے والے کو بلایا اور اس چیز کو دیکھا (کہ وہ کیا دے رہا ہے اور کتنی مقدار میں دے رہا ہے)۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((أَمَا تُرِیْدِیْنَ اَنْ لَّا یَدْخُلَ بَیْتَکِ شَیْئٌ وَلَا یَخْرُجُ اِلَّا بِعِلْمِکِ؟)) ’’کیا تیرا ارادہ یہ ہے کہ تیرے گھر میں جو چیز لائی جائے اور جو نکالی جائے، اس کا تجھے علم ہونا چاہیے؟‘‘ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَھْلًا یَا عَائِشَۃُ! لَاتُحْصِیْ فَیُحْصِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْکِ۔)) ’’ٹھیرو عائشہ! گن گن کر مت دیا کرو، پھر اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔‘‘ اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا نہ ہونے پائے کہ آدمی صدقہ کی ہوئی چیزوں کا حساب کرے اور پھر ان کو زیادہ اور کافی سمجھ کر مزید صدقہ نہ کرے، اس طرح کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی رزق کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ آدمی حیثیت کے مطابق صدقہ کرتا رہے اور صدقے کی بڑی بڑی مقداروں کو مد نظر رکھ کرآئندہ صدقہ کرنے سے رک نہ جائے اور اللہ تعالیٰ سے فقیری کا ڈر نہ رکھے۔
3549
Sahih
۔ (۳۵۵۰) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: جَائَ نَاسٌ مِنَ الْاَنْصَارِ فَسَاَلُوْہُ فَاَعْطَاہُمْ ، قَالَ: فَجَعَلَ لَایَسْاَلُہُ اَحَدٌ مِنْہُمْ، إِلَّا اَعْطَاہُ حَتّٰی نَفِدَ مَا عِنْدَہُ فَقَالَ لَہُمْ حَیْنَ اَنْفَقَ کُلَّ شَیْئٍ بِیَدِہِ: ((وَمَا یَکُوْنُ عِنْدَنَا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ نَدَّخِرَہُ عَنْکُمْ، وَإِنَّہُ مَنْ یَسْتَعْفِفْ بُعِفَّہُ اللّٰہُ، وَمَنْ یَسْتَغْنِیُغْنِہِ اللّٰہُ وَمَنْ یَتَصَبَّرْیُصَبِّرْہُ اللّٰہُ، وَلَنْ تُعْطَوْا عَطَائً خَیْرًا اَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۱۲)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ کچھ انصاری لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں عطا فرما دیا، ان میں سے جو آدمی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرتا رہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے وہ چیز دیتے رہے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جو کچھ تھا، وہ ختم ہو گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جو کچھ تھا، ختم ہوگیا تو آپ نے فرمایا: ہمارے پاس جو مال بھی ہو گا، ہم اس کو تم سے بچا کر نہیں رکھیں گے، لیکن حقیقتیہ ہے کہ جو کوئی مانگنے سے بچے گا، اللہ تعالٰ اسے مانگنے سے بچا لے گا، جو لوگوں سے استغناء کا اظہار کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے مستغنی کر دے گا اور جو صبر کو اپنائے گا، اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق سے نواز دے گا اور تم (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کوئی بھلائی نہیں دئیے جاؤ گے جو صبر سے بڑھی وسعت والی ہو۔
Explanation
فوائد:… کوئی مانے یا نہ مانے، اس وقت امت ِ مسلمہ پر مسلّط بڑی مصیبتوں میں سے ایک مصیبتیہ ہے کہ سوالی کے حق کی معرفت اور شناخت نہیں رہی،یتامی و فقراء و مساکین کے معاملے میں انتہائی لا پرواہی برتی جا رہی ہے، بلکہ بات یہاں تک جا پہنچی ہے کہ بعض مالدار لوگ اپنے ماحول میں غریبوں کے وجود کو تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نہیں، جبکہ ان ہی کے محلّوں میں اللہ تعالیٰ کی قابل ترس مخلوق فاقہ میں شب و روز گزار رہی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: {فَأَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْھَرْ۔ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْھَرْ۔} (سورۂ ضحی: ۹، ۱۰)) … ’’پس یتیم پر تو سخی نہ کیا کر اور سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ نہ کر۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر سوالیوں سے نرمی کرنے اور ان کا حق ادا کرنے کی تلقین کی ہے۔ ایک اہم مسئلہ عصر حاضر کے سوالیوں اور بھکاریوں کا ہے، اگر کوئی آدمی کسی سائل کی تحقیق کرنا چاہتا ہو تو اس معاملے میں قطعی طور پر اس کو سختی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور اگر اس کی تحقیق کے مطابق وہ سائل مستحق ثابت نہیں ہوتا تو اسے چاہیے کہ حسنِ اخلاق کے ساتھ اس کو سمجھا دے، تاکہ بات اس کے دل میں گھر کر جائے، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۵۰۷) کا تقاضا ہے۔
3550
Sahih

Chapters

34
01
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
3 Hadith
03
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
3 Hadith
04
زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
3 Hadith
05
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
6 Hadith
06
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
3 Hadith
07
فقیر اور مسکین کا بیان
7 Hadith
08
عاملینِ زکوۃ
7 Hadith
09
ان لوگوںکا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے
3 Hadith
10
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
2 Hadith
11
قرض داروں کو زکوۃ دینا
5 Hadith
12
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
3 Hadith
13
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
15 Hadith
14
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
20 Hadith
15
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
8 Hadith
16
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
11 Hadith
17
سوال کرنے سے بچنے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
18
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
3 Hadith
19
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
5 Hadith
20
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
6 Hadith
21
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
8 Hadith
22
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
6 Hadith
23
گندم کے نصف صاع کی روایت بیان کرنے والے
6 Hadith
24
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
20 Hadith
25
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
5 Hadith
26
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
3 Hadith
27
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
28
جسم کے صدقہ کا بیان
8 Hadith
29
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
1 Hadith
30
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
6 Hadith
31
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
2 Hadith
32
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
3 Hadith
33
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
3 Hadith
34
صدقہ جاریہ کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.