۔ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سائل کا حق ہے، اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔
۔ سیدہ ام بُجَیْد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں تشریف لایا کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لکڑی کے ایک پیالہ میں ستو بنا تی تھی، جب آپ تشریف لاتے تو میں وہ انہیں پلاتی۔ (ایک دن) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بسا اوقات ایک سائل میرے پاس آتا ہے اور میں اسے اس بنا پر کچھ نہیں دیتی کہ جو کچھ میرے پاس ہوتا ہے، میں اسے بہت معمولی سمجھتی ہوں، ایک روایت میں ہے: اس کو دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی، (ایسی صورت میں میں کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مسکین کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو، خواہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔
۔ (دوسری سند)سیدہ ام بُجَیْد رضی اللہ عنہا ، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اللہ کی قسم! مسکین میرے دروازے پرآ کر کھڑا ہو جاتا ہے، لیکن اس کو دینے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اسے دینے کے لئے تمہارے پاس جلائے ہوئے کھر کے سوا کچھ بھی نہ ہو تو وہی اس کے ہاتھ میں تھما دیا کرو۔
۔ سیدنا عمرو بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک سائل ان کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا، ان کی دادی سیدہ حوائ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا:اس کو کھجور دے دو، گھر والوں نے کہا: ہمارے پاس کھجوریں نہیں ہیں، اس نے پھر کہا: تو پھر اسے ستو پلا دو، اہل خانہ نے کہا: تجھ پر بھی تعجب ہے، جو چیز ہمارے پاس نہیں ہے، ہم اسے کیسے دیں؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کسی سائل کو (خالی ہاتھ) واپس نہ لوٹنے دو،اگرچہ جو چیز اسے دی جائے، وہ جلایا ہوا کھر ہی ہو۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سائل نے آ کر ان سے سوال کیا، انہوں نے خادم سے کہا: اسے کچھ دے دو، پس وہ خادم اسے دینے کے لئے کوئی چیز لایا۔ دوسری روایت میں ہے:سیدہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ پہلے وہ چیز ان کے پاس لے کر آتا کہ وہ اس چیز کی مقدار کو دیکھ لے۔ (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: عائشہ! گن گن کر مت دیا کرو، پھر اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ انصاری لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں عطا فرما دیا، ان میں سے جو آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے وہ چیز دیتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا، وہ ختم ہو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا، ختم ہوگیا تو آپ نے فرمایا: ہمارے پاس جو مال بھی ہو گا، ہم اس کو تم سے بچا کر نہیں رکھیں گے، لیکن حقیقتیہ ہے کہ جو کوئی مانگنے سے بچے گا، اللہ تعالٰ اسے مانگنے سے بچا لے گا، جو لوگوں سے استغناء کا اظہار کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے مستغنی کر دے گا اور جو صبر کو اپنائے گا، اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق سے نواز دے گا اور تم (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کوئی بھلائی نہیں دئیے جاؤ گے جو صبر سے بڑھی وسعت والی ہو۔