مسنداحمد

Musnad Ahmad

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان

۔ (۳۶۵۵) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃ َ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: وَمَا تَاْخَّرَ)۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۴۴)

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کے حصول کے لئے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔

۔ (۳۶۵۶) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرَغِّبُ فِی قِیَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَاْمُرَہُمْ بِعَزِیْمَۃٍ، فَیَقُوْلُ: ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۷۷۴)

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو رمضان کے قیام کی رغبت ضرور دلاتے تھے، البتہ حتمی حکم نہیں دیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے: جو شخص ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کی خاطر رمضان کا قیام کرے گا، اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

۔ (۳۶۵۸) عَنْ اَبِی سَلْمَۃَ اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَخْبَرَہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ ، وَمَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۲۱)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کی حالت میں اور اجرو ثواب کے حصول کی نیت رمضان کا قیام کیا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے، اسی طرح جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کی خاطر شب ِ قدر کا قیام کیا تو اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔

۔ (۳۶۵۹) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَعَرَفَ حُدُوْدَہُ، وَتَحَفَّظَ مِمَّا کَانَ یَنْبَغِی بِہِ اَنْ یَتَحَفَّظَ فِیْہِ، کَفَّرَ مَا کَانَ قَبْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۴۴)

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس آدمی نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کی حدود کا خیال رکھا اورجن امور سے بچنا چاہئے، ان سے بچ کر رہا، تو اس کا یہ عمل اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔

۔ (۳۶۶۰) عَنْ ثَوْبَانَ (مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَشَہْرٌ بِعَشَرَۃِ اَشْہُرٍ، وَصِیَامُ سِتَّۃِ اَیَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ، فَذٰلِکَ تَمَامُ صِیَامِ السَّنَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۷۶)

۔ مولائے رسول سیدناثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ماہِ رمضان کے روزے رکھے گا تو یہ ایک ماہ کے روزے (اجر میں) دس مہینوں کے روزوں کے برابر جائیں گے، پھر جس نے عبد الفطر کے بعد (شوال کے) چھ روزے رکھے تو یہ سارا عمل سال بھر کے روزوں کے برابر ہو جائے گا۔

۔ (۳۶۶۱) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا،یُصَلِّی الْخَمْسَ وَیَصُوْمُ رَمَضَانَ غُفِرَ لَہُ۔)) قُلْتُ: اَفَلَا اُبَشِّرُہُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((دَعْہُمْ یَعْمَلُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۷۸)

۔ سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملتا ہے کہ اس نے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایاہوتا اور پانچ نمازوں کا پابند ہوتا ہے اور اور ماہِ رمضان کے روزے بھی رکھتا ہے تواس کو بخش دیا جاتا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو یہ بیان کر کے خوشخبری نہ دے دوں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھوڑدو ان کو، تاکہ وہ عمل کرتے رہیں۔

۔ (۳۶۶۲) عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِی عَرِیْفٌ مِنْ عُرَفَائِ قُرَیْشٍ حَدَّثَنِیْ اَبِی اَنَّہُ سَمِعَ مِنْ فَلْقِ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَامَ رَمَضَانُ وَشَوَّالًا وَالْاَرْبِعَائَ وَالْخَمِیْسَ وَالْجُمُعَۃَ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۱۳)

۔ ایک قریشی سردار کے باپ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منہ مبارک سے یہ کلمات سنے تھے: جس نے رمضان اور شوال کے مہینوں اور پھر بدھ، جمعرات اور جمعہ کے ر وزے رکھے، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔