TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان - رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 12 · 9 Hadith
۔ (۳۶۵۵) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃ َ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: وَمَا تَاْخَّرَ)۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۴۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کے حصول کے لئے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
Takhreej
(۳۶۵۵) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۰۱۴، ومسلم: ۷۶۰(انظر: ۱۰۵۳۷)
Explanation
فوائد:… کسی نیکی کی قبولیت کے لیے ایمان کا شرطِ اوّل ہونا تو واضح ہے، یہ بھی ضروری ہے کہ ہر نیکی کی بنیاد اجرو ثواب کا حصول ہو، اس سلسلے میں ریاکاری، مفاد پرستی، دنیا پرستی اور خوشامد جیسے امور سے محفوظ رہنا چاہیے
3655
Sahih
۔ (۳۶۵۶) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرَغِّبُ فِی قِیَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَاْمُرَہُمْ بِعَزِیْمَۃٍ، فَیَقُوْلُ: ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۷۷۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو رمضان کے قیام کی رغبت ضرور دلاتے تھے، البتہ حتمی حکم نہیں دیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے: جو شخص ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کی خاطر رمضان کا قیام کرے گا، اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
Takhreej
(۳۶۵۶) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۰۰۸، ومسلم: ۷۵۹(انظر: ۷۷۸۷)
3656
Sahih
۔ (۳۶۵۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ:) وَلَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ النَّاسَ عَلَی القِیَامِ۔ (مسند احمد: ۷۸۶۸)
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود لوگوں کو قیام کے لیے جمع نہیں کیا تھا۔
Takhreej
(۳۶۵۷) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… قیامِ رمضان کے لیے مستقل جماعت کا سلسلہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے شروع کیا تھا۔
3657
Sahih
۔ (۳۶۵۸) عَنْ اَبِی سَلْمَۃَ اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَخْبَرَہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ ، وَمَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۲۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کی حالت میں اور اجرو ثواب کے حصول کی نیت رمضان کا قیام کیا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے، اسی طرح جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کی خاطر شب ِ قدر کا قیام کیا تو اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
Takhreej
(۳۶۵۸) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۰۱، ومسلم: ۷۶۰(انظر: ۱۰۱۱۷)
3658
Sahih
۔ (۳۶۵۹) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَعَرَفَ حُدُوْدَہُ، وَتَحَفَّظَ مِمَّا کَانَ یَنْبَغِی بِہِ اَنْ یَتَحَفَّظَ فِیْہِ، کَفَّرَ مَا کَانَ قَبْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۴۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس آدمی نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کی حدود کا خیال رکھا اورجن امور سے بچنا چاہئے، ان سے بچ کر رہا، تو اس کا یہ عمل اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔
Takhreej
(۳۶۵۹) تخر یـج: حدیث حسن۔ اخرجہ ابویعلی: ۱۰۵۸، وابن حبان: ۳۴۳۳، والبیھقی: ۴/ ۳۰۴(انظر: ۱۱۵۲۴)
Explanation
فوائد:… ’’اس کی حدود کا خیال رکھا‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ حصولِ ثواب کی رغبت رکھتے ہوئے اور عذاب سے ڈرتے ہوئے روزے رکھے۔
3659
Sahih
۔ (۳۶۶۰) عَنْ ثَوْبَانَ (مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَشَہْرٌ بِعَشَرَۃِ اَشْہُرٍ، وَصِیَامُ سِتَّۃِ اَیَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ، فَذٰلِکَ تَمَامُ صِیَامِ السَّنَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۷۶)
۔ مولائے رسول سیدناثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ماہِ رمضان کے روزے رکھے گا تو یہ ایک ماہ کے روزے (اجر میں) دس مہینوں کے روزوں کے برابر جائیں گے، پھر جس نے عبد الفطر کے بعد (شوال کے) چھ روزے رکھے تو یہ سارا عمل سال بھر کے روزوں کے برابر ہو جائے گا۔
Takhreej
(۳۶۶۰) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۱۵، (انظر: ۲۲۴۱۲)
Explanation
فوائد:… یہ کل پینتیس چھتیس روزے بن جاتے ہیں اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا تو ہوتا ہی ہے، اس اعتبار سے روزوں کی اس مقدار کا ثواب (۳۵۰) یا (۳۶۰) روزوں تک جا پہنچتا ہے، اس اعتبار سے اس حدیث میں سال بھر کے روزوں کے ثواب کی بات کی گئی ہے۔
3660
Sahih
۔ (۳۶۶۱) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا،یُصَلِّی الْخَمْسَ وَیَصُوْمُ رَمَضَانَ غُفِرَ لَہُ۔)) قُلْتُ: اَفَلَا اُبَشِّرُہُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((دَعْہُمْ یَعْمَلُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۷۸)
۔ سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملتا ہے کہ اس نے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایاہوتا اور پانچ نمازوں کا پابند ہوتا ہے اور اور ماہِ رمضان کے روزے بھی رکھتا ہے تواس کو بخش دیا جاتا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو یہ بیان کر کے خوشخبری نہ دے دوں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھوڑدو ان کو، تاکہ وہ عمل کرتے رہیں۔
Takhreej
(۳۶۶۱) تخر یـج: حدیث صحیح (انظر: ۲۲۰۲۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہوا کہ مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ عبادات کی اپنی مخصوص عادت کو اپنے حق میں کافی سمجھنے لگے، دیکھیں اگر ایک آدمی اس حدیث کو سامنے رکھ کرمشرف باسلام ہوتا ہے، نماز ادا کرتا ہے اور رمضان کے روزے رکھتا ہے، اس کو بخش دیا جاتا ہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حدیث لوگوں کو بیان کرنے سے روک دیا، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ ان تین اعمال کے ہی ہو کر رہ جائیں اورمزید کوئی عمل نہ کریں۔
3661
Sahih
۔ (۳۶۶۲) عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِی عَرِیْفٌ مِنْ عُرَفَائِ قُرَیْشٍ حَدَّثَنِیْ اَبِی اَنَّہُ سَمِعَ مِنْ فَلْقِ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَامَ رَمَضَانُ وَشَوَّالًا وَالْاَرْبِعَائَ وَالْخَمِیْسَ وَالْجُمُعَۃَ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۱۳)
۔ ایک قریشی سردار کے باپ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منہ مبارک سے یہ کلمات سنے تھے: جس نے رمضان اور شوال کے مہینوں اور پھر بدھ، جمعرات اور جمعہ کے ر وزے رکھے، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Takhreej
(۳۶۶۲) تخر یـج:اسنادہ ضعیف، فیہ راو لم یسم، وھو شیخ عکرمۃ بن خالد۔ اخرجہ البھیقی فی ’’الشعب‘‘: ۳۸۷۰(انظر: ۱۵۴۳۴)
Explanation
فوائد:… ’’فَلْقِ فِیْ‘‘ میں ’’فَلْق‘‘ کے معانی پھٹن اور شگاف کے اور ’’فِیْ‘‘ کے معانی منہ کے ہیں، صحابی کا مقصود یہ ہے کہ اس نے یہ الفاظ براہِ راست رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنے ہیں۔
3662
Zaeef
۔ (۳۶۶۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ عَنِ الْاَعْرَابِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَوْمُ شَہْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ یُذْہِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۵۸)
۔ ایک بدّو بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صبر والے مہینے کے روزے اور ہر ماہ کے تین روزے سینے کے کینے اور وسوسے کو ختم کر دیتے ہیں۔
Takhreej
(۳۶۶۳) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ النسائی: ۷/ ۱۳۴(انظر: ۲۳۰۷۰)
Explanation
فوائد:… صبر والے مہینے سے مراد ماہِ رمضان ہے۔ ہر عبادت کی برکت ہوتی ہے، جب آدمی روزے کی وجہ سے جھوٹ اور غیبت اور دوسرے حرام امور سے اجتناب کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جائز خواہشات تک کوکنٹرول کرتا ہے، تو اس سے مزید نیکی کی طرف رجحان پیدا ہوتا ہے اور اس سے بندہ کئی برائیوں کو ترک کرنے کا اور کئی نیکیوں کو سرانجام دینے کا عزم کر لیتا ہے۔
3663
Sahih

Chapters

12
01
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
16 Hadith
02
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
03
ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
04
ماہِ رمضان کے روزوں اور اس میںکیے جانے والے دوسرے اعمال میں سستی کرنے والے کے لیے وعید کا بیان
1 Hadith
05
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
3 Hadith
06
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
9 Hadith
07
جب بادلوں کی وجہ سے رمضان کا چاندنظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کرنے کا خصوصی طور پر بیان
6 Hadith
08
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
2 Hadith
09
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
5 Hadith
10
اس بات کا بیان کہ جب ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے اور دوسرے میں نہ آئے تو کیا دوسرے علاقے والوں کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو گا یا نہیں؟
1 Hadith
11
خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان
4 Hadith
12
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
6 Hadith
No chapter matched that.