TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Book 67 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 67 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 70 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

70 Hadith · 12 Chapters
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۳۹) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَہُ إِلَّا الصِّیَامَ فَإِنَّہُ لِی وَاَنَا اَجْزِی بِہِ، وَالصِّیَامُ جُنَّۃٌ وَإِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ اَحَدِکُمْ فَلَا یَرْفُثْیَوْمَئِذٍ وَلَا یَصْخَبْ (وَفِیرِوَایَۃٍ وَلَایَجْہَلْ بَدَلَ وَلَایَصْخَبْ) فَإِنْ شَاتَمَہُ اَحَدٌ، اَوْقَاتَلَہُ فَلْیَقُلْ إِنِّی امْرُؤٌ صَائِمٌ مَرَّتَیْنِ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، لِخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ یَفْرَحُہُمَا، إِذَا اَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِہِ وَإِذَا لَقِیَ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ فَرِحَ بِصِیَامِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۶۷۹)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے، ما سوائے روزہ کے، وہ تو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، روزہ (جہنم سے بچانیوالی) ڈھال ہے، جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو وہ نہ فحش کلامی کرے،نہ شور مچائے اور نہ جاہلانہ کلام کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑے تو وہ کہے: میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روزے دار کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ محبوب اور پاکیزہ ہو گی، روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، وہ ان کی وجہ سے خوش ہوتا ہے، جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو افطاری کی وجہ سے خوش ہوتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو روزہ کی وجہ سے خوش ہو گا۔
Takhreej
(۳۶۳۹) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۰۴، ومسلم: ۱۱۵۱(انظر: ۷۶۹۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کے شروع کے حصے پر غور کریں، صرف روزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا، حالانکہ ساری عبادات ہی اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی ہیں، اس نسبت کی وجوہات درج ذیل ہیں: (۱) کسی دور میں کسی باطل معبود کی تعظیم روزے کی صورت میں نہیں کی گئی، جبکہ مختلف مشرکوں کو نماز، سجدہ، صدقہ اور ذکر وغیرہ کے ذریعے معبودانِ باطلہ کا قرب حاصل کرتے ہوئے پایا گیا۔ (۲) روزہ، ریاکاری جیسی خرابی سے دور ہوتا ہے، جبکہ نماز، حج، صدقہ اور جہاد وغیرہ میں اس عنصر کے پائے جانے کا شبہ رہتا ہے، اس سے ملتی جلتی ایک اور بات بھی ہے کہ ممکن ہے کہ روزہ کے علاوہ دیگر عبادات میں کسی اور کا ڈر اور خوف بھی کارفرما ہو، مثلا بعض لڑکوں کو دیکھا گیا کہ وہ والدین اور اساتذہ کے ڈر اور پوچھ گچھ کی وجہ سے نماز پڑھتے ہیں، وگرنہ وہ نماز کو ترک کر لینے میں کوئی عار نہیں سمجھتے، لیکن روزے کا اس قسم کے ڈر سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ اس چیز کا قطعی طور پر امکان ہے کہ ایسے لوگ بظاہر اپنے آپ کو روزے دار ثابت کرتے رہیں، جبکہ خلوت میں کھانے پینے کی چیزیں استعمال کر لیتے ہوں، اس لیے جو آدمی روزہ پورا کرے گا، اس کا اصل مقصود اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہو گا۔ (۳) اس کے ثواب کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، باقی عبادات کے اجر و ثواب کا تعین کر دیا گیا ہے۔
3639
Sahih
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۴۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ:) ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ َوَجَّل: کُلُّ عَمَلِ بْنِ آدَمَ لَہُ إِلَّا الصَّیَامَ فَہُوَ لِیْ وَاَنَا اَجْزِی بِہِ، إِنَّمَا یَتْرُکُ طَعَامَہُ وَشَرَابَہُ مِنْ اَجْلِی، فَصِیَامُہُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِی بِہِ، کُلُّ حَسَنَۃٍ بِعَشْرِ اَمْثَالِہَا إِلٰی سَبْعِمائَۃِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّیَامَ فَہُوَ لِی وَاَنَا اَجْزِی بِہِ)) (مسند احمد: ۱۰۵۴۷)
۔ (دوسری سند) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے، سوائے روزہ کے، وہ تو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، کیونکہ وہ میری وجہ سے کھانا پینا چھوڑتا ہے،اس لیے اس کا روزہ بھی میرے لئے ہوتا ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا، ہر نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک ہوتا ہے، لیکن روزہ ایسی عبادت ہے، جو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔
Takhreej
(۳۶۴۰) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… روزے دار لوگوں سے متعلقہ ایک اہم گزارش یہ ہے کہ روزے کا تعلق صرف کھانے پینے کو ترک کر دینے سے نہیں ہے، غور کریں کہ روزے دار نہ شور مچا سکتا ہے اور نہ جاہلانہ گفتگو کر سکتا ہے، اگر کوئی اسے گالی دیتا ہے یا اس سے لڑتا ہے تو وہ یوں جواب دیتا ہے: میں تو روزہ دار ہوں، میں تو روزہ دار ہوں، اس وجہ سے میں گالی کا گالی کی صورت میں اور لڑائی کا جواب لڑائی کی صورت میں نہیں دوں گا۔ بھلا کیا ایسے روزہ داروں کا وجود ملتا ہے؟ الا ماشاء اللہ
3640
Sahih
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۴۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ حَسَنَۃَ ابْنِ آدَمَ بِعَشْرِ اَمْثَالِہَا إِلٰی سَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ إِلَّا الصَّوْمَ، وَالصَّوْمُ لِی وَأَنَا اَجْزِی بِہِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ، فَرْحَۃٌ عِنْدَ إِفْطَارِہِ وَفَرْحَۃٌیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلَخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ۔)) (مسند احمد: ۴۲۵۶)
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ابنِ آدم کی ہر نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک مقرر کر رکھا ہے، ما سوائے روزے کے، کیونکہ روزہ صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، ایک خوشی روزہ افطار کرنے کے وقت ہوتی ہے اور دوسری قیامت کے دن ہو گی، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے۔
Takhreej
(۳۶۴۱) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ من قولہ ((الصوم لی) الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۰۰۷۸ ، ومن قولہ: ((لخلوف فم ))البزار: ۹۶۴، و من قولہ ((للصائم فرحتان)) عبد الرزاق: ۷۸۹۸
3641
Sahih
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۴۲) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ وَاَبِی سَعِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ، وَفِیْہِ: ((إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَیْنِ، إِذَا اَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِیَ اللّٰہَ فَجَزَاہُ فَرِحَ۔ (مسند احمد: ۷۱۷۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا اور وہ اِس کو بدلہ دے گا تو یہ خوش ہو گا۔
Takhreej
(۳۶۴۲) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۵۱(انظر: ۷۱۷۴)
Explanation
فوائد:… افطاری کے وقت خوشی کا سبب عبادت کامکمل ہونا، مفسدات سے پاک ہونا اور اجر و ثواب کی امید ہونا اور مختلف ماکولات و مشروبات سے بھوک پیاس کو دور کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت خوشی کا سبب اِس عمل کی جزا کو دیکھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کویاد کرنا ہے، جس کی وجہ سے اس عبادت کی توفیق ملی تھی۔
3642
Sahih
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۴۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ)) (مسند احمد: ۲۶۵۶۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہے۔
Takhreej
(۳۶۴۳) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۱۶۷(انظر: ۲۶۰۳۵)
3643
Sahih
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۴۴) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِی ہِنْدٍ اَنَّ مُطَرِّفًا رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَۃَ حَدَّثَہُ اَنَّ عُثْمَانَ بْنَ اَبِی الْعَاصِ الثَّقَفِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ دَعَا لَہُ بِلَبَنٍ لِیَسْقِیَہُ، قَالَ مُطَرِّفٌ: إِنِّی صَائِمٌ، فَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَیَقُوْلُ: ((اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّۃِ اَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۷)
۔ سعید بن ابی ہند کہتے ہیں: بنو عامر کے ایک آدمی مطرف نے بیان کیا کہ سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی نے اسے پلانے کے لیے دودھ منگوایا، لیکن مطرف نے کہا کہ وہ تو روزے دار ہے تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جہنم سے بچنے کے لیے روزہ ایسی ہی ڈھال ہے، جیسے لڑائی میں آدمی ڈھال استعمال کرتا ہے۔
Takhreej
(۳۶۴۴) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۱۶۷ وابن ماجہ: ۱۶۳۹(انظر: ۱۶۲۷۸)
Explanation
فوائد:… روزہ ڈھال ہے، اس کے ذریعے بندہ دنیا میں بدگوئی، فحش کلامی، گناہوں اور جہنم کے دوسرے اسباب سے اور آخرت میں آگ کے عذاب سے بچتا ہے۔ روزہ جہنم سے بچنے کے لیے اس طرح سے ڈھال بھی ہے کہ جہنم کے ارد گرد شہوات کا گھیرا ہے اور روزہ سرے سے شہوات سے ہی روکتا ہے، اس طرح مسلمان روزے کے سبب سے جہنم سے دور رہ جاتا ہے۔
3644
Sahih
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۴۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((قَالَ رَبُّنَا عَزَّوَجَلَّ: اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌیَسْتَجِنُّ بِہَا الْعَبْدُ مِنَ النَّارِ وَہُوَ لِیْ وَاَنَا اَجْزِی بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۳۷)
۔ سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارے رب کا ارشاد ہے: روزہ ایک ڈھال ہے، جس کے ذریعہ بندہ جہنم سے بچتا ہے اور یہ صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
Takhreej
(۳۶۴۵) تخر یـج: حدیث صحیح بطرقہ و شواھدہ (انظر: ۱۵۲۶۴)
3645
Sahih
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۴۶) وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ لِلْجَنَّۃِ بَابًا یُقَالُ لَہُ الرَّیَّانُ، قَالَ: یُقَالُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ: اَیْنَ الصَّائِمُوْنَ، ہَلُمُّوا إِلَی الرَّیَّانِ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُہُمْ، اُغْلِقَ ذٰلِکَ الْبَابُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۰۶)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے ایک دروازے کا نام رَیَّان ہے، قیامت کے دن یہ اعلان کیا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں؟ اِدھر بابِ ریان کی طرف آ جائو، جب ان کا آخری بندہ گزر جائے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا۔
Takhreej
(۳۶۴۶) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۸۹۶، ۳۲۵۷، ومسلم: ۱۱۵۲(انظر: ۲۲۸۱۸)
Explanation
فوائد:… ’’رَیَّان‘‘ کے معانی سیر و سیراب کے ہیں،یہ ’’عَطْشَان‘‘ (پیاسے) کی ضد ہے، اس اعتبار سے روزے داروں کے دروازے کا لفظاً اور معنًییہی نام مناسب تھا۔
3646
Sahih
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۴۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ:) فَإِذَا دَخَلُوْہُ اُغْلِقَ فَلَمْ یَدْخُلْ مِنْہُ غَیْرُہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۰۷)
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: جب روزے دار اس دروازے سے داخل ہو جائیں گے تو اسے بند کر دیا جائے گا اور ان کے علاوہ کوئی دوسرا آدمی اس سے اندر داخل نہیں ہو سکے گا۔
Takhreej
(۳۶۴۷) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3647
Sahih
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۴۸) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( لِکُلِّ اَہْلِ عَمَلٍ بَابٌ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِیُدْعَوْنَ بِذَالِکَ الْعَمَلِ، وَلِاَہْلِ الصِّیَامِ بَابٌ یُدْعَوْنَ مِنْہُ یُقَالُ لَہُ الرَّیَّانُ۔)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَلْ اَحَدٌ یُدْعٰی مِنْ تِلْکَ الْاَبْوَابِ کُلِّہَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَاَنَا اَرْجُو اَنْ تَکُوْنَ مِنْہُمْ یَا اَبَا بَکْرٍ۔)) (مسند احمد: ۹۷۹۹)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر عمل کرنے والوں کے لئے جنت میں داخل ہونے کے لئے ایک مخصوص دروازہ ہو گا، کہ ان کو جس سے داخل ہونے کی آواز دی جائے گا، روزے داروں کے لئے بھی ایک رَیَّان نامی مستقل دروازہ ہو گا، اس سے ان کو بلایا جائے گا۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسا شخص بھی ہو گا،جسے جنت کے تمام دروازوں سے داخل ہونے کی دعوت دی جائے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور اے ابوبکر! مجھے امید ہے کہ تم بھی انہی لوگوں میں سے ہو گے۔
Takhreej
(۳۶۴۸) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۷، ۱۲/ ۲۰(انظر: ۹۸۰۰)
Explanation
فوائد:… چونکہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌میں ہر قسم کی عبادت بدرجۂ اتم موجود تھی، اس لیے امید ہے کہ جنت کے ہر دروازے سے بلائے جانے والوں کی فہرست میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کا نام بھی ہوگا۔
3648
Sahih
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۴۹) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَصُوْمُ عَبْدٌ یَوْمًا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ إِلَّا بَاعَدَ اللّٰہُ بِذَالِکَ الْیَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْہِہِ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۲۸)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بندہ اللہ کی راہ میںایک روزہ رکھے گا تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے روزے کے سبب سے اسے جہنم سے ستر برس کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔
Takhreej
(۳۶۴۹) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۸۴۰، ومسلم: ۱۱۵۳(انظر: ۱۱۲۱۰)
Explanation
فوائد:… ’’فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ‘‘ (اللہ تعالیٰ کی راہ) سے مراد جہاد ہے یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت؟ حافظ ابن حجرنے کہا: اول الذکر معنی راجح ہے، کیونکہ میں نے ’’فوائد ابی الطاھر الذھلی‘‘ میں سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ایک حدیث دیکھی ہے: ((مَا مِنْ مُرَابِطٍ یُرَابِطُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَصُوْمُیَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ…۔)) ’’جو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں سرحدوں پر مقیم رہتا ہے اور ایک اللہ کی راہ میں ایک روزہ رکھتا ہے، …۔‘‘ ابن دقیق العید نے کہا: عرفِ اکثر میں اس لفظ کا استعمال جہاد کے لیے ہی ہوتا ہے۔ (فتح الباری: ۶/ ۵۹) یہ بات علیحدہ ہے کہ ایسی حالت میں روزہ رکھنے والے کو یہ فکر کرنی چاہیے کہ اس میں ایسی کمزوری پیدا نہ ہو جائے جو لڑتے وقت نقصان کا سبب بن سکے، بہرحال جس کو اللہ تعالیٰ نے عزم اور قوت سے نواز رکھا ہو، وہ دونوں فضیلتوں کو جمع کر سکتا ہے کہ شب و روز راہِ جہاد میں گزر رہے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے جان بوجھ کر کھانا پینا بھی چھوڑ رکھا ہو۔
3649
Sahih
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۵۰) عَنْ أَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: مُرْنِیْ بِعَمَلٍ بُدْخِلُنِیَ الْجَنَّۃَ، قَالَ: ((عَلَیْکَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّہُ لَاعِدْلَ لَہُ۔)) ثُمَّ اَتَیْتُہُ الثَّانِیَۃَ، فَقَالَ: ((عَلَیْکَ بِالصِّیَامِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۰۱)
۔ سیدناابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے کوئی ایسا عمل کرنے کا حکم دیں کہ جو مجھے جنت میں پہنچا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزے رکھا کرو، کیونکہ کوئی دوسرا عمل اس کے مثل نہیں ہے۔ جب میں دوبارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور (یہی مطالبہ رکھا تو) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزے رکھا کرو۔
Takhreej
(۳۶۵۰) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۱۶۵(انظر: ۲۲۱۴۹)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کے حق میں روزے کو ہی افضل سمجھا کہ دونوں دفعہ اسی کا حکم دیا، جبکہ اس قسم کے مواقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسرے سائلین کے لیے روزوںکے علاوہ دوسرے اعمال کی نشاندہی کی، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حکیم تھے اور ایک طبیب کی طرح تھے، ہر انسان کی کیفیت کے مطابق دوا تجویز کرتے تھے۔
3650
Sahih
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۵۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلصِّیَامُ وَالْقُرْآَنُ یَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِیَقُوْلُ الصِّیَامُ: اَیْ رَبِّ مَنَعْتُہُ الطَّعَامَ وَالشَّہَوَاتِ بِالنَّہَارِ فَشَفِّعْنِیْ فِیْہِ، وَیَقُوْلُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُہُ النَّوْمَ بِاللَّیْلِ فَشَفِّعْنِیْ فِیْہِ، قَالَ: فَیُشَفَّعَانِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۲۶)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے حق میں سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس بندے کو دن کے اوقات میں کھانے پینے اور شہوات سے روکے رکھا تھا، لہٰذا تو اب اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، اور قرآن کہے گا: میں نے رات کے وقت اس کو سونے سے روکے رکھا تھا، لہٰذا اب تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، نتیجتاً دونوںکی سفارش قبول کی جائے گی۔
Takhreej
(۳۶۵۱) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ و حیی بن عبد اللہ کلاھما ضعیف۔ اخرجہ الحاکم: ۱/ ۵۵۴، والبیھقی فی ’’الشعب‘‘: ۱۹۹۴، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘ (انظر: ۶۶۲۶)
3651
Zaeef
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۵۲) عَنْ اَمِّ عُمَارَۃَ بِنْتِ کَعْبٍ الْاَنْصَارِیَّۃِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیْہَا فَدَعَتْ لَہُ بِطَعَامٍ فَقَالَ لَہَا: ((کُلِیْ۔)) فَقَالَتْ: إِنِّی صَائِمَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الصَّائِمَ إِذَا اُکِلَ عِنْدَہُ صَلَّتْ عَلَیْہِالْمَلَائِکَۃُ حَتّٰییََفْرٰغُوا رُبَّمَا قَالَ: حَتّٰییَقْضُوْا اَکْلَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۰۱)
۔ سیدہ ام عمارہ بنت کعب انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اورانہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے کھانا منگوا کر پیش کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم بھی کھائو۔ لیکن انھوں نے کہا: جی میں تو روزے سے ہوں۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب روزے دار کے پاس کھانا کھایا جاتا ہے تو جب تک کھانا کھانے والے فارغ نہ ہو جائیں، اس وقت تک فرشتے اس کے حق میں دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔
Takhreej
(۳۶۵۲) اسنادہ ضعیف لجھالۃ لیلی مولاۃ حبیب۔ اخرجہ الترمذی: ۷۸۵، وابن ماجہ: ۱۷۴۸(انظر: ۲۷۰۶۱)
3652
Zaeef
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۵۳) عَنْ حَبِیْبِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ مَوْلَاتِہٖلَیْلٰی عَنْ عَمَّتِہِ اُمِّ عُمَارَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیْہَا، قَالَ: وَثَابَ إِلَیْہَا رِجَالٌ مِنْ قَوْمِہَا، قَالَ: فَقَدَّمَتْ إِلَیْہِمْ تَمْرًا فَاَکَلُوْا فَتَنَحّٰی رَجُلٌ مِنْہُمْ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا شَاْنُہُ؟)) فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((اَمَا إِنَّہُ مَا مِنْ صَائِمٍ یَاْکُلُ عِنْدَہُ فَوَاطِرُ إِلَّا صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰییَقُوْمُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۹۹)
۔ سیدہ ام عمارہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور ان کی قوم کے بہت سے لوگ ان کے ہاں جمع ہو گئے، انھوں نے ان کی خدمت میں کھجوریں پیش کیں، جب وہ کھانے لگے تو ایک آدمی ایک طرف کو ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اسے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: جی میں روزے سے ہوں،یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی روزہ دار کے پاس دوسرے لوگ کھانا کھاتے ہیں تو ان کے کھانے سے فارغ ہونے تک فرشتے اس کے حق میں رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
Takhreej
(۳۶۵۳) تخر یـج: انظر الحدیث السابق
3653
Zaeef
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۵۴) عَنْ عَامِر بْنِ مَسْعُوْدٍ الْجُمَحِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلصَّوْمُ فِی الشِّتَائِ الغَنِیْمَۃُ الْبَارِدَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۶۷)
۔ سیدناعامر بن مسعود جمحی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سردیوں کے روزے تو بلا مشقت حاصل ہونے والی غنیمت ہیں۔
Takhreej
(۳۶۵۴) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، نمیر بن عریب مجھول، وعامر بن مسعود الجمحی لیست لہ صحبۃ، فروایتہ عن النبیی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مرسلۃ، ثم انہ مجھول الحال۔ اخرجہ الترمذی: ۷۹۷(انظر: ۱۸۹۵۹)
Explanation
فوائد:… اس حقیقت کو ہر کوئی سمجھتا ہے کہ سردیوں کے دن بہت چھوٹے ہوتے ہیں، موسم کی وجہ سے آدمی پیاس سے بھی محفوظ رہتا ہے، لیکن اس غنیمت سے مستفید ہونے والے لوگ کم ہیں۔
3654
Zaeef
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۵۵) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃ َ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: وَمَا تَاْخَّرَ)۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۴۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کے حصول کے لئے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
Takhreej
(۳۶۵۵) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۰۱۴، ومسلم: ۷۶۰(انظر: ۱۰۵۳۷)
Explanation
فوائد:… کسی نیکی کی قبولیت کے لیے ایمان کا شرطِ اوّل ہونا تو واضح ہے، یہ بھی ضروری ہے کہ ہر نیکی کی بنیاد اجرو ثواب کا حصول ہو، اس سلسلے میں ریاکاری، مفاد پرستی، دنیا پرستی اور خوشامد جیسے امور سے محفوظ رہنا چاہیے
3655
Sahih
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۵۶) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرَغِّبُ فِی قِیَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَاْمُرَہُمْ بِعَزِیْمَۃٍ، فَیَقُوْلُ: ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۷۷۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو رمضان کے قیام کی رغبت ضرور دلاتے تھے، البتہ حتمی حکم نہیں دیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے: جو شخص ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کی خاطر رمضان کا قیام کرے گا، اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
Takhreej
(۳۶۵۶) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۰۰۸، ومسلم: ۷۵۹(انظر: ۷۷۸۷)
3656
Sahih
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۵۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ:) وَلَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ النَّاسَ عَلَی القِیَامِ۔ (مسند احمد: ۷۸۶۸)
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود لوگوں کو قیام کے لیے جمع نہیں کیا تھا۔
Takhreej
(۳۶۵۷) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… قیامِ رمضان کے لیے مستقل جماعت کا سلسلہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے شروع کیا تھا۔
3657
Sahih
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۵۸) عَنْ اَبِی سَلْمَۃَ اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَخْبَرَہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ ، وَمَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۲۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کی حالت میں اور اجرو ثواب کے حصول کی نیت رمضان کا قیام کیا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے، اسی طرح جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کی خاطر شب ِ قدر کا قیام کیا تو اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
Takhreej
(۳۶۵۸) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۰۱، ومسلم: ۷۶۰(انظر: ۱۰۱۱۷)
3658
Sahih

Chapters

12
01
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
16 Hadith
02
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
03
ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
04
ماہِ رمضان کے روزوں اور اس میںکیے جانے والے دوسرے اعمال میں سستی کرنے والے کے لیے وعید کا بیان
1 Hadith
05
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
3 Hadith
06
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
9 Hadith
07
جب بادلوں کی وجہ سے رمضان کا چاندنظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کرنے کا خصوصی طور پر بیان
6 Hadith
08
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
2 Hadith
09
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
5 Hadith
10
اس بات کا بیان کہ جب ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے اور دوسرے میں نہ آئے تو کیا دوسرے علاقے والوں کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو گا یا نہیں؟
1 Hadith
11
خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان
4 Hadith
12
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
6 Hadith
No chapter matched that.