TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان - ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 12 · 8 Hadith
۔ (۳۶۶۴) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: لَمَا حَضَرَ رَمَضَانَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( قَدْ جَائَ کُمْ رَمَضَانُ، شَہْرٌ مُبَارَکٌ، افْتَرضَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہُ، تُفْتَحُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ، وَتُغْلَقُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَحِیْمِ، وَتُغَلْقُ فِیْہِ الشَّیَاطِیْنُ، فِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِنْ اَلْفِ شَہْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَیْرَہَا فَقَدْ حُرِمَ۔)) (مسند احمد: ۹۴۹۳)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ماہِ رمضان آیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان شروع ہو چکا ہے، یہ ایک بابرکت مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس ماہ کے روزے فرض کئے ہیں، اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بھی قید کر دیا جاتا ہے، اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے کہ وہ ایک ہزارمہینوں سے بھی افضل ہے، جو اس رات کی برکت سے محروم رہا، وہ محروم قرار پائے گا۔
Takhreej
(۳۶۶۴) تخر یـج: حدیث صحیح، وھذا اسناد منقطع۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۱۲۹ (انظر: ۹۴۹۷)
Explanation
فوائد:… جنت کے دروازوں کا کھلنا، جہنم کے دروازوں کا بند ہونا اور شیطانوں کا قید ہو جانا۔ ان الفاظ کو حقیقی معنوں پر ہی محمول کرنا چاہیے۔ صرف مؤخر الذکر چیز سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شیطانوں کو قید کرلیا جاتا ہے تو پھر ماہِ مقدس میں نافرمانیوں کا سلسلہ کیوں جاری رہتا ہے؟ اس کے مختلف جوابات دیئے ہیں: مثلا: (۱) شیطانوں کے علاوہ بھی شرّ اور معصیت کے اسباب موجود ہیں، مثال کے طور پر نفوسِ خبیثہ، عاداتِ قبیحہ اور انسانی شیطان۔ (۲) بعض شیطانوں کو قید کرلیا جاتا ہے، سب کو نہیں، جیسا کہ ایک روایت میں ہے: ((صُفِّدَتْ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ)) … ’’بڑے سرکش شیطانوں کو قید کر لیا جاتا ہے۔‘‘ (۳) شیطانوں کو جکڑنا ان روزے داروں کے حق میں ہے، جو روزے کی شروط، قیود اور آداب کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔ (۴) اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطانوں کا شرّ کم ہو جاتا ہے، وہ اس طرح لوگوں کو گمراہ نہیں کر سکتے، جس طرح کہ دوسرے مہینوں میں کر لیتے ہیں،یا تو ان کے اختیار سلب کر لیے جاتے ہیںیا مومنوں کے ایمان میں قوت پیدا کر دی جاتی ہے۔ عملی طور پر ہمارے معاشرے کے افراد تیسرے اور چوتھے معنوں کے مصداق نظر آتے ہیں، زیادہ مناسبت تیسرے معنی میں محسوس ہو رہی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ بھی قابل غور ہے کہ شب ِ قدر کا قیام نفلی عبادت ہے، لیکن اس کو ترک کرنے والے محروم اور بد نصیب ہے، مقصودِ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احسان کرتے ہوئے ایک رات کی عبادت کو ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل قرار دیا ہے، لیکن کیا مسلمان کے مزاج میں نیکی کی اتنی رغبت بھی نہیں رہی کہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم احسان کو وصول کر سکے، پس جس کے مزاج میں اتنی بہتری بھی نہیں ہو گی، وہ محروم اور بدبخت قرار پائے گا، سمجھ لینا چاہیے کہ ایسے افراد میں نیکی کے مزاج کا شدید فقدان ہے۔
3664
Sahih
۔ (۳۶۶۵) عَنْ عَرْفَجَۃَ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ عُتْبَۃَ بْنِ فَرْقَدٍ، وَہُوَ یُحَدِّثُ عَنْ رَمَضَانَ قَالَ: فَدَخَلَ عَلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا رَآہُ عُتْبَۃُ ہَابَہُ فَسَکَتَ، قَالَ: فَحَدِّثْ عَنْ رَمَضَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فِی رَمَضَانَ تُغْلَقُ اَبْوَابُ النَّارِ وَتُفْتَحُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ، وَتُصَفَّدُ فِیْہِ الشَّیَاطِیْنُ قَالَ: وَیُنَادِی فِیْہِ مَلَکٌ: یَا بَاغِیَ الْخَیْرِ! اَبْشِرْ، وَیَا بَاغِیَ الشَّرِّ! اَقْصِرْ، حَتّٰییَنْقَضِیَ رَمَضَانُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۰۲)
۔ عرفجہ کہتے ہیں: میں عتبہ بن فرقد کی مجلس میں موجود تھا، وہ ماہِ رمضان کے حوالے سے بیان کر رہے تھے، اتنے میں ایک صحابی تشریف لے آئے، جب عتبہ نے انہیں دیکھا تو وہ مرعوب ہو کر خاموش ہو گئے اور کہا: آپ ماہِ رمضان کے بارے میں بیان کریں، اس صحابی نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ماہِ رمضان میں جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو مقید کر دیا جاتا ہے اور اس ماہ ایک فرشتہ یہ آواز دیتا رہتا ہے: اے نیکی کے متلاشی! خوش ہو جا اور اے برائی کو چاہنے والے! اب تو باز آ جا، یہاں تک رمضان گزر جاتا ہے۔
Takhreej
(۳۶۶۵) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۱۳۰(انظر: ۱۸۷۹۵)
Explanation
فوائد:… رمضان المبارک اس اعتبار سے منفرد مہینہ ہے کہ اس میں کئی لوگوں کو ان کے مزاج برائیوں سے دور کر کے نیکیوں کی طرف راغب کر دیتے ہیں۔ نیکی کے متلاشی کو خوشخبری دینے کی دو وجوہات ہیں، ایکیہ کہ آسانی کے ساتھ نیکیوں کی مقدار میں اضافہ ہو جائے گا، اور دوسرییہ کہ نیکی کا کئی گنا زیادہ ثواب ملے گا، اس پر مستزاد یہ کہ نیکیوں کا ماحول اور معاشرے سے طبعی شرم و حیا بھی راہِ راست پر چلنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ برائی کو چاہنے والے کو آوازدینے کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اب تو برائیوں سے رک جا اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر، کیونکہیہ توبہ کی قبولیت کا زمانہ ہے اور مغفرت کے اسباب کے لیے مستعد ہو جانے کا وقت ہے، ایسے موسم میں تجھے زیب نہیں دیتا کہ تو اپنی برائیوں پر اڑا رہے۔ ملا علی قاری نے کہا: ممکن ہے کہ رمضان میں اطاعت کرنے والوں کی اطاعت، گنہگاروں کی توبہ اور نافرمانوں کے رجوع الی اللہ کا سبب یہی دو ندائیں ہوں، آپ خود دیکھتے ہیں کہ بچوں اور بچیوں سمیت مسلمانوں کی اکثریت رمضان کے روزے رکھنا شروع کر دیتی ہے، حالانکہ ان میں کافی سارے لوگ بے نمازی ہوتے ہیں اور روزہ نماز سے کئی گناہ مشکل بھی ہے، اس سے جسم میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے، جو عام طور پر عبادت سے سستی اور نیند کی کثرت کا سبب بنتی ہے، لیکن اس کے باوجود قیام اللیل کے وقت مساجد بھری ہوئی نظر آتی ہیں، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۶/۲۵۳)
3665
Sahih
۔ (۳۶۶۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَجْوَدَ النَّاسِ، وَکَانَ اَجْوَدَ مَا یَکُوْنُ فِی رَمَضَانَ حِیْنَیَلْقٰی جِبْرِیْلَ، وَکَانَ جِبْرِیْلُیَلْقَاہُ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ فَیُدَارِسُہُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَلَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَاَجْوَدُبِاْلخَیْرِ مِنَ الرِّیْحِ الْمُرْسَلَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۶)
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ویسے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے ہی سہی، لیکن جب ماہِ رمضان میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ملاقات جبریل علیہ السلام سے ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہت زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ ماہِ رمضان کی ہر رات کو جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھیجی ہوئی ہوا سے بھی بڑھ کر مال کی سخاوت کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۶۶۶) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۶، ۳۲۲۰، ۳۵۵۴، ومسلم: ۲۳۰۸(انظر: ۲۶۱۶)
Explanation
فوائد:… ویسے تو سخاوت، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مستقل وصف تھا، لیکن جب سید الملائکہ جبریل علیہ السلام سے ملاقات ہوتی، نئے علوم و تجلیات سے واسطہ پڑتا، مزاج میں مزید رفعت پیدا ہو جاتی، محسنِ حقیقی کے مخصوص احسانات وصول ہوتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں موجود جودو سخا والے عنصر کو ترقی ملتی اور بندگانِ خدا کے ساتھ انعام و احسان کا سلسلہ پہلے سے بڑھ کر شروع ہو جاتا، اس وصف میں اضافے کا سبب خود ماہِ رمضان بھی ہے۔ حقیقتیہ ہے کہ جبرائیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی ملاقات سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے احساس اور مزاج میں کیا تبدیلی پیدا ہوتی تھی، اس چیز کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ جنسیں مختلف ہیں، ایک طرف سے سید البشر ہیں اور دوسری طرف سے سید الملائکہ ہیں، جب کہ ہم صرف اپنے ہم جنسوں سے مانوس ہونے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ عام طور پر ہمارے ہاں لوگوں نے زکوۃ کے لیے ماہِ رمضان کا تعین کر رکھا ہے، اس لیے لوگوں کی اکثریت صرف زکوۃ کی ادائیگی کو ہی کافی سمجھتی ہے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس وصف کا تعلق نفلی صدقہ و خیرات سے تھا، زکوۃ تو اللہ تعالیٰ کا قرض ہے، جو بہرصورت ادا کرنا ہے، سخاوت کا تعلق نفلی صدقہ و خیرات سے ہے۔ دورِ قرآن کا مقصد یہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حفظ و اتقان میں مزید پختگی پیدا ہو جائے۔
3666
Sahih
۔ (۳۶۶۷) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((اُعْطِیَتْ اُمَّتِی خَمْسَ خِصَالٍ فِی رَمَضَانَ لَمْ تُعْطَہَا اَمَّۃٌ قَبْلَہُمْ، خُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ، وَتَسْتَغْفِرُ لَہُمْ الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰییُفْطِرُوْا وَیُزَیِّنُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ کُلَّ یَوْمٍ جَنَّۃً، ثُمَّ یَقُوْلُ: یَوشِکُ عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ اَنْ یُلْقُوْا عَنْہُمْ الْمَئُوْنَۃَ وَالْاَذٰی وَیَصِیْرُوا إِلَیْکِ، وَیُصَفَّدُ فِیْہِ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ، فَلَا یَخْلُصُوا إِلَی مَا کَانُوْا یَخْلُصُوْنَ فِی غَیْرِہِ، وَیَغْفِرُلہَمُ ْفیِ آخِرِ لَیْلَۃٍ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَہِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: ((لَا وَلٰکِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا یُوَفّٰی اَجْرَہُ إِذَا قَضٰی عَمَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کو ماہِ رمضان میں پانچ ایسی خوبیاںدی گئی ہیں جو اس سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں تھیں، ان کی تفصیلیہ ہے: (۱)روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے، (۲)روزہ افطار کرنے تک فرشتے ان کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں، (۳) اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی جنت کو مزین کرتا ہے اور اس سے فرماتا ہے:قریب ہے کہ میرے نیک بندے اپنی مشقتوں اور تکلیفوں سے دست بردار ہو کر تیری طرف آ جائیں، (۴) اس مہینے میں سرکش شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور جس طرح وہ عام دنوں میں کارروائیاںکرتے ہیں، اس مہینے میں نہیں کر سکتے، اور (۵) اللہ تعالیٰ اس مہینے کی آخری رات میں میری امت کو بخش دیتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ شب ِ قدر ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، بات یہ ہے کہ مزدور کو اس وقت مزدوری دی جاتی ہے، جو وہ اپنا کام پورا کر لیتا ہے ۔
Takhreej
(۳۶۶۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف جدا، ہشام بن ابی ہشام متفق علی ضعفہ، ومحمد بن محمد بن الاسود مجھول الحال۔ اخرجہ البزار: ۹۶۳، والبیھقی فی ’’الشعب‘‘: ۳۶۰۲(انظر: ۷۹۰۴)
3667
Zaeef
۔ (۳۶۶۸) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَیْہِ رَمَضَانُ فَانْسَلَحَ قَبْلَ اَنْ یُغْفَرَ لَہُ)) (مسند احمد: ۷۴۴۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جائے، جس نے ماہِ رمضان کو پایا، لیکنیہ مہینہ اس کی بخشش سے پہلے گزر گیا۔
Takhreej
(۳۶۶۸) تخر یـج: صحیح۔ اخرجہ الترمذی: ۳۵۴۵(انظر: ۷۴۵۱)
Explanation
فوائد:… رمضان المبارک، اللہ تعالیٰ کی بخشش کے کئی اسباب سے متصف ہے، لیکن جو آدمی اس ماہِ مقدس میں بھییہ اسباب جمع نہ کر سکا، وہ اس اہل ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے لیے بد دعا کریں۔
3668
Sahih
۔ (۳۶۶۹) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَارِکْ لَنَا فِی رَمَضَانَ۔)) وَکَانَ یَقُوْلُ: ((لَیْلَۃُ الْجُمُعَۃِ غَرَّائُ وَیَوْمُہَا اَزْہَرُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۶)
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ماہِ رجب شروع ہوتا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت فرما اور ہمارے لیے رمضان کو مبارک بنا۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ بھی فرمایا کرتے تھے: جمعہ کی رات روشن اور اس کا دن چمک دار ہے۔
Takhreej
(۳۶۶۹) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، زائدۃ بن ابی الرقاد، قال البخاری والنسائی: منکر الحدیث۔ اخرجہ البزار: ۶۱۶، والبیھقی فی ’’الشعب‘‘: ۳۸۱۵(انظر: ۲۳۴۶)
3669
Zaeef
۔ (۳۶۷۰) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِمَحْلُوْف رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا اَتٰی عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ شَہْرٌ خَیْرٌ لَہُمْ مِنْ رَمَضَانَ، وَلَا اَتٰی عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ شَہْرٌ شَرٌّ لَہُمْ مِنْ رَمَضَانَ، وَذٰلِکَ لِمَا یُعِدُّ الْمُؤْمِنُوْنَ فِیْہِ مِنَ الْقُوَّۃِ لِلْعِبَادَۃِ، وَمَا یُعِدُّ فِیْہِ الْمُنَافِقُوْنَ مِنْ غَفَلَاتِ النَّاسِ وَعَوْرَاتِہِمْ، ہُوَ غُنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ یَغْتَنِمُہُ الْفَاجِرُ۔)) (مسند احمد: ۸۳۵۰)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس چیز کی قسم اٹھائی، اسی کی قسم! مسلمانوں کے لئے ماہِ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ نہیں اور منافقین کے لئے اس سے زیادہ برا مہینہ کوئی نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل ایمان اس مہینے میں عبادت کے لئے قوت تیار کرتے ہیں، جبکہ منافق اس ماہ میں لوگوں کے عیوب اور کوتاہیاں ڈھونڈنے میں مگن ہو جاتے ہیں،یہ مہینہ مومن کے لئے بھی غنیمت ہے اور فاجر کے لئے بھی فرصت کا موقع ہے۔
Takhreej
(۳۶۷۰) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، کثیر بن زید لیس بالقوی،یکتب حدیثہ للمتابعات، وعمرو بن تمیم، قال البخاری عن حدیثہ ھذا: فیہ نظر، وابوہ تمیم مجھول۔ اخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۸۸۴، وابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲، والبیھقی: ۴/ ۳۰۴ (انظر: ۸۳۶۸)
3670
Zaeef
۔ (۳۶۷۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( اَظَلَّکُمْ شَہْرُ کُمْ ھٰذَا بِمَحْلُوْفِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا مَرَّ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شَہْرٌ خَیْرٌ لَہُمْ مِنْہُ وَلَا بِالْمُنَافِقِیْنَ شَہْرٌ شَرٌ لَہُمْ مِنْہُ، إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَکْتُبُ اَجْرَہُ وَنَوَافِلَہُ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُدْخِلَہُ، وَیَکْتُبُ إِصْرَہُ وَشَقَائَ ُہ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُدْخِلَہُ وَذَاکَ اَنَّ الْمُؤْمِنَ یُعِدُّ فِیْہِ الْقُوَّۃَ لِلْعِبَادَۃِ مِنَ النَّفَقَۃِ، وَیُعِدُّ الْمُنَافِقُ اِبْتِغَائَ غَفَلَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَعَوْرَاتِہِمْ، فَہُوَغُنْمٌ لِلْمُؤْمِنُ، یَغْتَنِمُہُ الْفَاجِرُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۹۳)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رسول اللہ کی قسم اٹھائی ہوئی چیز کی قسم! تمہارے اوپر یہ مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے، اہل ایمان کے لئے اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں اور اہل نفاق کے لئے اس سے زیادہ برا کوئی مہینہ نہیں، اللہ تعالیٰ اس مہینہ کی آمد سے پہلے ہی اس کا اور اس کے نوافل کا ثواب بھی لکھ دیتا ہے اور اس کے گناہ، سزا اور بدبختی بھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن اس میں عبادت کرنے کے لیے نفقہ کی قوت تیار کرتا ہے اور منافق لوگوں کی غفلت اور عیوب تلاش کرتا رہتاہے، اس طرح یہ ماہ مومن کے لئے بھی غنیمت ہے اور فاجر کے لیے بھی غنیمت ہے۔
Takhreej
(۳۶۷۱) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… مؤمن کی روٹینیہ ہوتی ہے کہ وہ ماہِ رمضان میں ضرورت پڑنے والے اسبابِ معیشت کا پہلے سے ہی انتظام و انصرام کر لیتا ہے، تاکہ ماہِ مبارک کے حقوق کی ادائیگی میں کمی نہ ہو جائے۔مثلا: سحری و افطاری، صدقہ و خیرات، رات کا قیام، اعتکاف اور مزید فرائض و نوافل۔ لیکن مؤمن کی اس ظاہری غفلت سے فائدہ اٹھانے کے لیے منافق بیچارہ اپنے شرّ میں اضافے کے بارے میں سوچتا ہے کہ اہل ایمان کو کس کس انداز میں نقصان پہنچا سکتا ہے یا پریشان کر سکتا ہے۔
3671
Zaeef

Chapters

12
01
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
16 Hadith
02
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
03
ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
04
ماہِ رمضان کے روزوں اور اس میںکیے جانے والے دوسرے اعمال میں سستی کرنے والے کے لیے وعید کا بیان
1 Hadith
05
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
3 Hadith
06
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
9 Hadith
07
جب بادلوں کی وجہ سے رمضان کا چاندنظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کرنے کا خصوصی طور پر بیان
6 Hadith
08
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
2 Hadith
09
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
5 Hadith
10
اس بات کا بیان کہ جب ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے اور دوسرے میں نہ آئے تو کیا دوسرے علاقے والوں کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو گا یا نہیں؟
1 Hadith
11
خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان
4 Hadith
12
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
6 Hadith
No chapter matched that.