مسنداحمد

Musnad Ahmad

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان

۔ (۳۶۷۶) عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ ھٰذِہِ الْاَہِلَّۃَ مَوَاقِیْتَ لِلنَّاسِ، صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہِ وَاَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاَتِمُّوا الْعِدَّۃَ)) (مسند احمد: ۱۶۴۰۳)

۔ سیدناطلق بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے اس چاند کو لوگوں کے اوقات کی علامت بنایا ہے، لہٰذا چاند دیکھ کر روزے شروع کیا کرو اور اسے دیکھ کر ہی روزے چھوڑا کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس کی گنتی پوری کرلو۔

۔ (۳۶۷۷) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہِ وَاَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمُ الشَّہْرُ، فَاَکْمِلُوْا العِدَّۃَ ثَلَاثِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۹۴۵۳)

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے ترک کیا کرو، ہاں اگر بادل کی وجہ سے چاند دکھائی نہ دے تو تیس کی گنتی پوری کرو۔

۔ (۳۶۷۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۸۰)

۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔

۔ (۳۶۷۹) عَنْ اَبِی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ: اَہْلَلْنَا ہِلَالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، قَالَ: فَاَرْسَلْنَا رَجُلاً إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْاَلُہُ فََسَاَلَہُ قَالَ ہَاشِمٌ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ قَدْ مَدَّ رُؤْیَتَہُ قَالَ: ہَاشِمٌ لِرُؤْیَتِہِ، فَإِنْ اُغْمِیَ عَلَیْکُمْ فَاَکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۳۰۲۱)

۔ ابو بختری کہتے ہیں: ہم نے ذات ِ عرق کے مقام پر رمضان کا چاند دیکھا، پھر ہم نے ایک آدمی کو سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف اس کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھیجا، جب اس نے سوال کیا: ہاشم کہتے ہیں تو سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰنے اس کی رؤیت کو لمبا کر دیا ہے، اگر بادل ہوں تو (شعبان) کی گنتی پوری کر لو۔

۔ (۳۶۸۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : عَجِبْتُ مِمَّنْ یَتَقَدَّمُ الشَّہْرَ، وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ، اَوْ قَالَ: صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۱)

۔ سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی روزے رکھنا شروع کر دیتا ہے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ: اس وقت تک روزہ نہ رکھو، جب تک چاند نہ دیکھ لو۔

۔ (۳۶۸۱) عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا َتقَدَّمُوْا الشَّہْرَ حَتّٰی تُکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ اَوْ تَرَوُا الْہِلَالَ وَصُوْمُوْا ولَا تُفْطِرُوْا حَتّٰی تُکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ اَوْ تَرَوُا الْہِلَالَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۳۱)

۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزے رکھنا شروع نہ کرو، بلکہ اس وقت روزہ رکھو جب سابقہ مہینے کی گنتی پوری ہو جائے یا چاند نظر آ جائے، پھر روزے جاری رکھو، یہاں تک کہ رمضان کی گنتی پوری کر لو یا چاند دیکھ لو۔

۔ (۳۶۸۲) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِنَّمَا الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ، فَلَا تَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ وَلَا تُفْطِرُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوْا لَہُ۔)) قَالَ نَافِعٌ: فَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ(یَعْنِی ابْنَ عَمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) إِذَا مَضٰی مِنْ شَعْبَانَ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ یَبْعَثُ مَنْ یَنْظُرُ، فَإِنْ رُئِ یَ فَذَاکَ، وَإِنْ لَمْ یُرَ وَلَمْ یَحُلْ دُوْنَ مَنْظَرِہِ سَحَابٌ اَوْقَتَرٌ، أَصْبَحَ مُفْطِرًا وَإِنْ حَالَ دُوْنَ مَنْظَرِہِ سَحَابٌ اَوْ قَتَرٌ اَصْبَحَ صَائِمًا۔ (مسند احمد: ۴۴۸۸)

۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہینہ تو (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے،لیکن تم اس وقت تک ماہِ رمضان کا روزہ نہ رکھو، جب تک چاند کو نہ دیکھ لو، پھر اس وقت تک روزہ ترک نہ کرو، جب تک (شوال کا) چاند نظر نہ آ جائے، اگر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی پوری کرو۔ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا معمول یہ تھا کہ جب شعبان کی (۲۹) تاریخ ہوتی تو وہ چاند دیکھنے کے لیے بعض افراد کو بھیجتے،اگر چاند نظر آ جاتا تو بہتر، اور اگر چاند نظر نہ آتا اور کوئی بادل اور غبار وغیرہ بھی نہ ہوتا تو وہ اگلے دن کا روزہ نہ رکھتے، لیکن اگر مطلع غبار آلود یا بادل والا ہوتا تو وہ روزہ رکھ لیتے تھے۔

۔ (۳۶۸۳) عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : قَالَ رَسُوْلُ للّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ)) وَصَفَّقَ بِیَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ، ثُمَّ صَفَّقَ الثَّالِثَۃَ وَقَبَضَ إِبْہَامَہُ، (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِعَائِشَۃَ) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا غَفَرَ اللّٰہُ لِاَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: إِنَّہُ وَہِلَ، إِنَّمَا ہَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسَائَ ہُ شَہْرًا، فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِیْنَ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّکَ نَزَلْتَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِیْنَ، فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّہْرَ یَکُوْنُ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۴۸۶۶)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہینہ (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سمجھانے کے لئے دو دفعہ ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارا اور تیسری دفعہ انگوٹھا بند کر لیا۔ایک روایت میں ہے: جب لوگوں نے یہ بات سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے بیان کی تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو معاف فرمائے، ان کو مغالطہ لر گیا ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ماہ کے لئے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کی تھی، آپ (۲۹)ویں دن (بالا خانے سے) نیچے تشریف لے، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو انیتسیویں دن نیچے تشریف لے آئے ہیں، (حالانکہ آپ نے تو ایک ماہ کے لیے علیحدگی اختیار کی تھی)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشکیہ مہینہ (۲۹) دنوں کا ہے۔

۔ (۳۶۸۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّا اُمَّۃٌ اُمِّیَّۃٌ لَانَکْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ، الشَّہْرُ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا وَہٰکَذَا۔)) وَعَقَدَ الإِبْہَامَ فِی الثَّالِثَۃِ، ((وَالشَّہْرُ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا وَہٰکَذَا۔)) یَعْنِی تَمَامَ ثَلَاثِیْنَ۔ (مسند احمد: ۵۰۱۷)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم ایک اُمِّیْ امت ہیں،ہم لکھنا جانتے ہیں نہ حساب کرنا جانتے ہیں، مہینہ اتنے دنوں کا ہوتا ہے اور اتنوں کا اور اتنوں کا۔ تیسری مرتبہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھا بند کر لیا، (یعنی۲۹ دنوں کا)۔ پھر فرمایا: مہینہ اتنے دنوں کا ہوتا ہے اور اتنوں کا اور اتنوں کا۔ یعنی پورے (۳۰) دنوں کا۔