مسنداحمد

Musnad Ahmad

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان

۔ (۳۶۹۱) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَقَدَّمُوْا بَیْنَیَدَیْ رَمَضَانَ بِیَوْمٍ وَلَایَوْمَیْنِ إِلَّارَجُلًا کَانَ یَصُوْمُ صَوْمًا فَلْیَصُمْہُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۹۹)

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رمضان سے پہلے ایک دو دنوں کے روزے نہ رکھو، ہاں اگر کوئی آدمی کسی متعین دن کا روزہ رکھتا ہو تو وہ روزہ رکھ کرے۔

۔ (۳۶۹۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِی مُوْسٰی قَالَ: سَاَلْتُ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ الْیَوْمِ الَّذِییُخْتَلَفُ فِیْہِ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَتْ: لَاَنْ اَصُوْمَ یَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ اَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ اَنْ اُفْطِرَ یَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَسَاَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَ اَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا قَالَ: اَزْوَاجُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَعْلَمُ بِذَاکَ مِنَّا۔ (مسند احمد: ۲۵۴۵۸)

۔ عبد اللہ بن ابی موسیٰ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ماہِ رمضان کے مشکوک دن میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا ؟انہوں نے کہا: شعبان کا ایک روزہ رکھنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں رمضان کا ایک روزہ ترک کر دوں۔ میں یہ سن کر وہاں سے نکل پڑا اور سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا ابوہریرہ سے یہی سوال کیا، انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویاں ان امور کو زیادہ جانتی ہیں۔