TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان - خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 11 of زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 12 · 4 Hadith
۔ (۳۶۹۹) عَنْ ابْنِ عَبَّاسَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ جِبْرِیْلَ علیہ السلام اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((تَمَّ الشَّہْرُ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۵)
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور فرمایا: یہ مہینہ (۲۹) دن کا پورا ہوچکا ہے۔
Takhreej
(۳۶۹۹) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۱۳۸(انظر: ۱۸۸۵)
Explanation
فوائد:… پوری حدیثیوں ہے: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے کہا: ھَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسَائَ ہٗشَھْرًا،فَلَمَّامَضٰی تِسْعٌ وَّعِشْرُوْنَ، اَتَاہُ جِبْرِیْلُ، فَقَالَ: قَدْ بَرَّتْ یَمِیْنُکَ وَقَدْ تَمَّ الشَّھْرُ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں سے ایک مہینہکے لیے علیحدگی اختیار کر لی تھی، جب (۲۹) دن گزر گئے تو جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: ’’آپ کی قسم پوری ہو گئی ہے،کیونکہ مہینہ گزر گیا ہے۔ (مسند احمد: ۱/ ۲۳۵)
3699
Sahih
۔ (۳۷۰۰) عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قِیْلَ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ رُؤِیَ ھٰذَا الشَّہْرُ لِتِسْعٍ وَّعِشْرِیْنَ، قَالَتْ: وَمَا یُعْجِبُکُمْ مِنْ ذَاکَ؟ لَمَا صُمْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ اَکْثَرُ مِمَّا صُمْتُ ثَلَاثِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۲۳)
۔ سعید کہتے ہیں: کسی نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: اے ام المومنین! اس ماہ کا چاند تو (۲۹) تاریخ کو نظر آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا: تمہیں اس پر تعجب کیوں ہو رہا ہے؟ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جو روزے رکھے، ان میں (۳۰) ایام کی بہ نسبت (۲۹) دن والے رمضان کے مہینے زیادہ تھے۔
Takhreej
(۳۷۰۰) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ اخرجہ البیھقی: ۴/ ۲۵۰، والدارقطنی: ۲/ ۱۹۸، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۵۲۴۵(انظر: ۲۴۵۱۸)
3700
Sahih
۔ (۳۷۰۱) عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: مَا صُمْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ اَکْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَہُ ثَلَاثِیْنَ۔ (مسند احمد: ۳۷۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جو روزے رکھے، ان میں (۳۰) دنوں کی بہ نسبت (۲۹) ایام والے رمضان کے مہینے زیادہ تھے۔
Takhreej
(۳۷۰۱) تخر یـج: حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود: ۲۳۲۲، والترمذی: ۶۸۹(انظر: ۳۷۷۶)
Explanation
فوائد:… یوں تو اسلامی مہینہ (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے یا (۳۰) دنوں، درج بالا روایات اور تجربات سے معلوم ہوا کہ رمضان اور ذوالحجہ بھی (۲۹، ۲۹) اور (۳۰، ۳۰) دنوں کے ہوتے رہتے ہیں، تو پھر درج ذیل حدیث کا کیا معنی ہو گا۔
3701
Sahih
۔ (۳۷۰۲) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِی بَکْرَۃٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((شَہْرَانِ لَایَنْقُصَانِ، فِی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا عِیْدٌ، رَمَضَانُ وَذُوْالحْجِۃَّ)) (مسند احمد: ۲۰۷۵۹)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو مہینے ناقص نہیں ہوتے، ان میں سے ہر ایک میں عید ہوتی ہے، وہ رمضان اور ذوالحجہ ہیں۔
Takhreej
(۳۷۰۲) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۱۲، ومسلم: ۱۰۸۹(انظر: ۲۰۴۸۵)۔ اخرجہ (انظر: )
Explanation
فوائد:… عید الفطر کا مہینہ شوال ہے، نہ کہ رمضان، چونکہ یہ عید رمضان کی مناسبت کی وجہ سے اور رمضان کے متصل بعد ہوتی ہے، اس لیے رمضان کو عید والا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ رمضان اور ذوالحجہ ناقص نہیں ہوتے، اس جملے کے مختلف مفاہیم بیان کیے گئے ہیں، درج ذیل دو اقوال زیادہ معتبر ہیں: (۱) ان کی بیان شدہ فضیلت اور اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ (۲۹) دنوں کے ہوں یا (۳۰) کے ۔ (۲) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود ذو الحجہ کے پہلے دس دنوںمیں کیے گئے اعمال کی فضیلت بیان کرنا ہے، یعنی ان کا اجر و ثواب بھی ماہِ رمضان سے کم نہیں ہوتا۔
3702
Sahih

Chapters

12
01
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
16 Hadith
02
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
03
ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
04
ماہِ رمضان کے روزوں اور اس میںکیے جانے والے دوسرے اعمال میں سستی کرنے والے کے لیے وعید کا بیان
1 Hadith
05
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
3 Hadith
06
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
9 Hadith
07
جب بادلوں کی وجہ سے رمضان کا چاندنظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کرنے کا خصوصی طور پر بیان
6 Hadith
08
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
2 Hadith
09
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
5 Hadith
10
اس بات کا بیان کہ جب ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے اور دوسرے میں نہ آئے تو کیا دوسرے علاقے والوں کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو گا یا نہیں؟
1 Hadith
11
خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان
4 Hadith
12
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
6 Hadith
No chapter matched that.