۔ (۳۷۷۳) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ قَالَ: ہَشَشْتُ یَوْمًا فَقَبَّلْتُ واَنَا صَائِمٌ فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْیَوْمَ اَمْرًا عَظِیْمًا فَقَبَّلْتُ وَاَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اَرَاَیْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَائٍ وَاَنْتَ صَائِمٌ؟)) قُلْتُ: لَابَأْسَ بِذَالِکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((فََفِیْمَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸)
۔ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن مجھے راحت اور نشاط محسوس ہوا، سو میں نے اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، جبکہ میں روزے کی حالت میں تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: آج میں نے ایک بہت بڑا کام کر بیٹھا ہوں اور وہ یہ کہ روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو تو اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہو گا؟ میں نے کہا:اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو (پھر اس بوسے کے بارے میں) کیا پوچھتے کیا ہو؟ یعنی بوسہ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
Takhreej
(۳۷۷۳) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ اخرجہ ابوداود: ۲۳۸۵(انظر: ۱۳۸)
Explanation
فوائد:… کوئی بھی مشروب ہو، اس کو نوش کرنے کے لیے اسے منہ میں ڈالا جاتا ہے، گویا منہ میں پانی ڈالنا پانی پینے کا داعیہ اور چابی ہے، لیکن کلی کے لیے منہ میں یہی پانی ڈالنے سے کچھ نہیں ہوتا، یہی معاملہ بیوی کا بوسہ لینے کے حکم ہے، کہ یہ جماع کا داعیہ اور چابی ہے، لیکن صرف بوسہ لینے سے روزہ متأثر نہیں ہو گا۔
3773
Sahih