TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3784 - روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو - افطار وسحری کے مسائل اور آداب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 12 of 15 in this chapter
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۸۴) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): اَنْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنَالُ مِنْ وَجْہِ بَعْضِ نِسَائِہِ وَہُوَ صَائِمٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۷۷)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں اپنی بعض بیویوں کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔
3784
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۷۸۴) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول

Related Chapters

140
1
روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
Musnad Ahmad
2
(23) CHAPTER. To embrace while one is observing Saum (fast).
روزہ دار کا اپنی بیوی سے مباشرت یعنی بوسہ مساس وغیرہ درست ہے
Sahih Bukhari
3
روزہ دار کا بیوی سے مباشرت (ساتھ سونے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
4
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
Musnad Ahmad
5
غیلہ کی کراہت اور اس کی وجہ سے عزل کی رخصت کا بیان غیلہ: دودھ پلانے کی مدت میں بیوی سے مباشرت کرنا غیلہ کہلاتا ہے۔
Musnad Ahmad
6
جو چیز بھی خون بہا دے،اس کے ذریعے ذبح کرنے کے جواز کا بیان، ما سوائے دانت اور ناخن کے، نیز اس امر کی وضاحت کہ بدک جانے والے اونٹ کے ساتھ کیا کیا جائے گا
Musnad Ahmad
7
(28) CHAPTER. To observe Saum [(fasts) (according to Islamic teachings)] during the month of Ramadan (sincerely and faithfully) hoping for Allah's Rewards only, is a part of faith.
خالص نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھنا ایمان کا جزو ہیں
Sahih Bukhari
8
(5) CHAPTER. Fondling a menstruating wife.
اس بارے میں کہ حائضہ کے ساتھ مباشرت کرنا ( یعنی جماع کے علاوہ اس کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا جائز ہے )
Sahih Bukhari
9
(6) CHAPTER. Whoever observed fast in Ramadan out of sincere faith (that it is an enjoined duty), and hoping for a reward from Allah and with honest intention (i.e., only for Allah's sake).
جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت کر کے رکھے اس کا ثواب
Sahih Bukhari
10
Chapter: Clarifying that Kissing when fasting is not unlawful for the one whose desire is not provoked by that
اس آدمی کے لیے روزے کے دوران میں بیوی کا بو سہ لینا حرام نہیں جس کی شہوت کو تحریک نہ ملتی ہو
Sahih Muslim
11
CHAPTER: That It Is Disliked For In The Case Of A Young Person (While Fasting).
باب: جوان شخص کے لیے بیوی سے مباشرت کی کراہت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
12
Chapter: What Has Been Related About 'There Is No Salat After Fajr Begins Except For Two Rak'ah'
باب: طلوع فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے کوئی نماز نہیں
Jam e Tirmazi
13
Chapter: (What Has Been Related About The Atonement)
باب: میت کے چھوڑے ہوئے روزے کے کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Breaking The Fast On Purpose
باب: جان بوجھ کر رمضان کے روزے چھوڑ دینے کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Fast For The One Who Did Not Determine It During The (Preceding) Night
باب: جو رات ہی کو روزے کی نیت نہ کرے اس کا روزہ نہیں
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Breaking The Voluntary Fast
باب: نفلی روزے کے توڑنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: Performing A Voluntary Fast Without Planning It The Night Before
باب: رات میں روزے کی نیت کئے بغیر نفلی روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Wednesday and Thursday
باب: بدھ اور جمعرات کے روزے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Virtue OF Fasting On The Day of Arafah
باب: عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day of Arafah While At Arafat
باب: میدان عرفات میں یوم عرفہ کے روزے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Fasting Three (Days) Of Every Month
باب: ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Fasting
باب: روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
Mishkat
24
بَاب تَنْزِيه الصَّوْم
روزے کی تقدیس و پاکیزگی کا بیان
Mishkat
25
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
Mishkat
26
بَاب الْمُبَاشرَة
مباشرت کا بیان
Mishkat
27
روزے دار اور بھوکے کے مسواک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے
Musnad Ahmad
29
جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
30
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
Musnad Ahmad
31
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
32
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
Musnad Ahmad
33
روزے کی حالت میں سینگی لگوانے کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
34
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
35
جنابت کی حالت میں صبح کرنے والے، جبکہ وہ روزے دار بھی ہو، کا بیان
Musnad Ahmad
36
روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
37
مریض، بوڑھے، حاملہ اور مرضِعہ کے روزے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
38
ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
39
نفلی روزوں اوران ایام کا بیان، جن میں نفلی روزے رکھنا مستحبّ ہیں سفر میں نفلی روزہ رکھنا
Musnad Ahmad
40
اللہ کے مہینے محرم کے روزے اور ان کی فضیلت
Musnad Ahmad
41
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
Musnad Ahmad
42
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
43
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
44
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
46
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
47
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
48
اس شخص کا بیان جس نے معین دن کے روزے کی نذر مانی اور وہ دن ، یومِ عید سے موافق ہو گیا
Musnad Ahmad
49
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
Musnad Ahmad
50
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,431
Musnad Ahmad
1749
۔ (۱۷۴۹) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: اِفْتَقَدْتُّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَظَنَنْتُ أَنَّہُ ذَھَبَ إِلٰی بَعْضِ نِسَائِہِ فَتَحَسَّسْتُ (وِفِیْ رِوَایَۃٍ فَطَلَبْتُہُ) ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا ھُوَ رَاکِعٌ أَوْسَاجِدٌ یَقُوْلُ: ((سُبْحَانَکَ وَ بِحَمْدِکَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ)) (وَ فِیْ رِوَایَۃٍ فَإِذَا ھُوَ سَاجِدٌ یَقُوْلُ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ مَاأَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ)) فَقُلْتُ: بِأَبِیْ أَنْتَ وَأُمِّیْ إِنَّکَ لَفِیْ شَأْنٍ وَأَنَا فِیْ شَأْنٍ آخَرَ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۹۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: یک رات میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گم پایا، مجھے یہ خیال آیا کہ آپ کسی دوسری بیوی کی طرف چلے گئے ہیں، پس میں نے ٹوہ لگائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تلاش کیا۔لیکن جب واپس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع یا سجدے کی حالت میں یہ دعا پڑھ رہے ہیں: سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ أَنْتَ (تو پاک ہے اور اپنی حمد کے ساتھ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے۔) اورایک روایت میں ہے: آپ سجدے میں یہ دعا پڑھ رہے تھے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ مَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ (اے میرے رب! میرے لیے میرے مخفی اور اعلانیہ گناہ بخش دے۔) یہ دیکھ کر میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں،بیشک میں کسی اور وہم و گمان میں تھی اور آپ کسی اور کام میں ہیں۔
Musnad Ahmad
447
۔ (۴۴۷) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِصَبِیٍّ لِیُحَنِّکَہُ فَأَجْلَسَہُ فِیْ حِجْرِہِ فَبَالَ عَلَیْہِ فَدَعَا بِمَائٍ فَأَتْبَعَہُ اِیَّاہُ، قَالَ وَکِیْعٌ: فَأَتْبَعَہُ اِیَّاہُ وَلَمْ یَغْسِلْہُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۷۶۰)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس ایک بچے کو اس لیے لایا گیا تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کو گڑتی دیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو اپنی گودی میں بٹھا دیا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پیشاب کر دیا، سو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی منگوایا اور اس کے پیچھے لگا دیا، وکیع راوی نے کہا: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی کو اس کے پیچھے لگایا اور دھویا نہیں۔
Musnad Ahmad
899
۔ (۸۹۹)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَطُوْفُ عَلٰی جَمِیْعِ نِسَائِہِ فِیْ لَیْلَۃٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فِیْ لَیْلَۃٍ وَاحِدَۃٍ) بِغُسْلٍ وَاحِدٍ۔ (مسند أحمد: ۱۳۳۸۸)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (ہم بستری کرتے تھے اور آخر میں) ایک غسل کر لیتے تھے۔
Musnad Ahmad
959
۔ (۹۵۹)۔وَعَنْہَا أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِلْجَارِیَۃِ وَہُوَ فِی الْمَسْجِدِ: ((نَاوِلِیْنِیْ الْخُمْرَۃَ)) قَالَتْ: أَرَادَ أَنْ یَبْسُطَہَا فَیُصِلِّیْ عَلَیْہَا، فَقَالَتْ: اِنِّیْ حَائِضٌ، فَقَالَ: ((اِنَّ حَیْضَہَا لَیْسَتْ فِی یَدِہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۵۹۷۴)
سیدہ عائشہؓ سے ہی مروی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسجد میں تھے، لونڈی سے کہا: مجھے چٹائی پکڑاؤ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کو بچھا کر اس پر نماز پڑھنا چاہتے تھے، اس نے کہا: میں تو حائضہ ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اس کا حیض اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔
Musnad Ahmad
979
۔ (۹۷۹)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْمَرْأَۃِ تَرٰی مَا یُرِیْبُہَا بَعْدَالطُّہْرِ: قَالَ: ((اِنَّمَا ہُوَ عِرْقٌ۔)) أَوْ قَالَ: ((عُرُوْقٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۳۲۳)
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس خاتون کے بارے میں فرمایا جو طہر کے بعد (ایسا خون) دیکھتی رہتی ہے، جو اسے شک میں ڈالتا ہے: یہ تو کسی رگ کا مسئلہ ہے۔
Musnad Ahmad
1964
۔ (۱۹۶۴) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی وَعَلَیْہِ مِرْطٌ لِبَعْضِ نِسَائِہِ وَعَلَیْہَا بَعْضُہُ ، قَالَ سُفْیَانُ أُرَاہُ قَالَ حَائِضٌ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۴۰)
سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حال میں نماز پڑھی کہ آپ پر آپ کی کسی بیوی کی چادر تھی اور اس کا کچھ حصہ اس بیوی پر تھا، سفیان کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا تھا کہ وہ حائضہ تھیں۔
Musnad Ahmad
3043
۔ (۳۰۴۳) وَعَنْہَا أَیْضًا أَنْ أَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ دَخَلَ عَلَیْہَا فَتَیَمَّمَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ مُسَجًّی بِبُرْدِ حِبَرَۃٍ فَکَشَفَ عَنْ وَجْہِہِ ثُمَّ أَکَبَّ عَلَیْہِ فَقَبَّلَہُ وَبَکٰی، ثُمَّ قَالَ: أَبِیْ وَ أُمِّی! وَاللّٰہِ لَا یَجْمَعُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْکَ مَوْتَتَیْنِ أَبَدًا، أَمَّا الْمَوْتَۃُ الَّتِی قَدْ کُتِبَتْ عَلَیْکَ فَقَدْ مِتَّہَا۔)) (مسند احمد: ۲۵۳۷۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور سیدھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دھاری دار یمنی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھکے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بوسہ دیا اور رو پڑے۔ پھر کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی بھی دوموتیں جمع نہیں کرے گا،جو موت آپ پر لکھی گئی تھی وہ آپ فوت ہو چکے ہیں۔
Musnad Ahmad
3589
۔ (۳۵۸۹) وَعَنْہَا اَیْضًا اَنَّہَا سَاَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیْئٍ مِنْ اَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَذَکَرَتْ شَیْئًا قَلَیْلاً، فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَعْطِی وَلَاتُوعِیْ، فَیُوعٰی عَلَیْکِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۸۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صدقہ کے معاملے میں کوئی سوال کیا اور تھوڑی سی چیز کا ذکر کیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: دے دو اور کنجوسی نہ کر، وگرنہ تجھ سے کنجوسی کر لی جائے گی۔
Musnad Ahmad
3653
۔ (۳۶۵۳) عَنْ حَبِیْبِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ مَوْلَاتِہٖلَیْلٰی عَنْ عَمَّتِہِ اُمِّ عُمَارَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیْہَا، قَالَ: وَثَابَ إِلَیْہَا رِجَالٌ مِنْ قَوْمِہَا، قَالَ: فَقَدَّمَتْ إِلَیْہِمْ تَمْرًا فَاَکَلُوْا فَتَنَحّٰی رَجُلٌ مِنْہُمْ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا شَاْنُہُ؟)) فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((اَمَا إِنَّہُ مَا مِنْ صَائِمٍ یَاْکُلُ عِنْدَہُ فَوَاطِرُ إِلَّا صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰییَقُوْمُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۹۹)
۔ سیدہ ام عمارہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور ان کی قوم کے بہت سے لوگ ان کے ہاں جمع ہو گئے، انھوں نے ان کی خدمت میں کھجوریں پیش کیں، جب وہ کھانے لگے تو ایک آدمی ایک طرف کو ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اسے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: جی میں روزے سے ہوں،یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی روزہ دار کے پاس دوسرے لوگ کھانا کھاتے ہیں تو ان کے کھانے سے فارغ ہونے تک فرشتے اس کے حق میں رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔