مسنداحمد

Musnad Ahmad

روزے دار کا وصال کرنا

ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان

۔ (۳۸۵۷) عَنْ اَبِی عُبیْدٍ قَالَ: شَہِدْتُّ الْعِیْدَ مَعَ عُمَرَ (بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) فَبَدَأَ بِالصَّلَاۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ صِیَامِ ہٰذَیْنِ الْیَوْمَیْنِ، اَمَّا یَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُکُمْ مِنْ صَوْمِکُمْ، وَاَمَّا یَوْمُ اْلاَضْحٰی فَکُلُوا مِنْ نُسُکِکُمْ۔ (مسند احمد: ۱۶۳)

۔ ابوعبید کہتے ہیں: عید کے موقع پر میں سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں موجود تھا، انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید کے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، (اس کی وجہ یہ ہے کہ) عید الفطر(ایک ماہ کے) روزوں سے تمہاری افطاری کا دن ہوتا ہے اور عید الاضحیٰ ویسے قربانی کا دن ہے، اس لیے اس میں قربانی کا گوشت کھایا کرو۔

۔ (۳۸۵۸) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْفِطْرِ وَ یَوْمِ الاَضْحٰی۔ (مسند احمد: ۱۱۸۲۶)

۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید الفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔

۔ (۳۸۵۹) عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ: سَاَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ وَہُوَ یَمْشِی بِمِنیً، فَقَالَ: نَذَرْتُ اَنْ اَصُوْمَ کُلَّ یَوْمِ ثُلَاثَائَ اَوْ اَرْبِعَائَ، فَوَافَقَتْ ہٰذَا الْیَوْمَ،یَوْمَ النَّحْرِ، فَمَا تَرٰی؟ قَالَ: اَمَرَ اللّٰہُ تَعَالٰی بِوَفَائِ النَّذْرِ، وَنَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ اَوْ قَالَ: نُہِیْنَا اَنْ نَصُوْمَ یَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ: فَظَنَّ الرَّجُلُ اَنَّہُ لَمْ یَسْمَعْ فَقَالَ: إِنِّی نَذَرْتُ اَنْ اَصُوْمَ کُلَّ یَوْمِ ثُلَاثَائَ اَوْ اَرْبِعَائَ، فَوَافَقَتْ ہٰذَا الْیَوْمَ،یَوْمَ النَّحْرِ۔ فَقَالَ: اَمَرَ اللّٰہُ بِوَفَائِ النَّذْرِ وَنَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْ قَالَ: نُہِیْنَا اَنْ نَصُوْمَ یَوْمَ النَّحْرٍ، قَالَ: فَمَا زَادَہُ عَلٰی ذَالِکَ حَتّٰی اَسْنَدَ فِی الْجَبَلِ۔ (مسند احمد: ۶۲۳۵)

۔ زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ منی میں چل رہے تھے کہ ایک آدمی نے ان سے ایک سوال کرتے ہوئے کہا: میں نے نذر مانی ہوئی ہے کہ ہر منگل یا بدھ کو روزہ رکھا کروں گا، لیکن اب یہ دن عید الاضحی کے دن آرہا ہے، اس کے بارے میں آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کیا خیال ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تو نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں عیدا الاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے۔ اس آدمی کو یہ خیال آیا کہ شاید انھوں نے اس کا سوال نہیں سنا تھا، اس لیے اس نے دوبارہ کہا:میں نے ہر منگل یا بدھ کو روزہ رکھنے کی نذر مانی ہوئی ہے، لیکن اس دفعہ یہ دن عید الاضحی کے دن آرہا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے، انہوں نے اس سے زیادہ کچھ نہ کہا حتی کہ پہاڑ پر چڑھ گئے۔