۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا تو کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہا: آپ خود تو وصال کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میری صورتحال تو یہ ہے کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان میں وصال کیا، سو لوگوں نے بھی وصال شروع کر دیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں منع فرمایا تو کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم جیسا نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا پلایا بھی جاتا ہے۔
۔ سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلا افطار کے تسلسل کے ساتھ روزے رکھنے کے بارے میں دریافت کیا، میں بھی وہاں موجود تھی، تو سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح کا عمل کر لو گی؟ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تو اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل تو نفلی ہوتا تھا۔
۔ سیدہ لیلیٰ زوجہ بشیر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :میں نے دو دن کا بلا افطار متواتر روزہ رکھنا چاہا، لیکن میرے شوہر بشیر نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کر دیا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: اس طرح تو عیسائی کرتے ہیں، تم اسی طرح روزے رکھا کرو، جیسے اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے، یعنی رات تک روزہ مکمل کیا کرو، جب رات ہو جائے تو افطاری کر لیا کرو۔
۔ سیدناسیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وصال نہ کرو۔ لیکن صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو وصال کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں،میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ بہرحال لوگ تو وصال سے باز نہ آئے۔ (جس کا نتیجہیہ نکلا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ مسلسل دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کیا، اس کے بعد چاند نظر آگیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر چاند نظر نہ آتا تو میں مزید وصال کرتا۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ان کے لیے عبرتناک سزا بنا رہے تھے۔
فوائد:… سوال یہ ہے کہ اس حدیث سے وصال کے جواز کا استدلال کیا جائے یا عدم جواز کا؟ اگر اس نقطے کو سامنے رکھا جائے کہ اگر یہاں نہی حرمت کے لیے ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو وصال پر برقرار نہ رکھتے تو جواز کا استدلال کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر اس اعتبار سے غور کیا جائے کہ جس چیز کی اجازت اس لیے دی گئی ہے، تاکہ اس کو عبرتناک سزا بنا دیا جائے تو عدم جواز کا مفہوم کشید کیا جائے گا۔ زیادہ رجحان پہلے خیال کی طرف جاتا ہے، جیسا کہ ایک صحابی کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی اور وصال سے منع کیا، اپنے صحابہ پر شفقت کرتے ہوئے اور ان کو حرام قرار نہیں دیا۔ (ابوداود: ۲۳۷۴)
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ رمضان میں وصال کیا، پس صحابہ نے بھی ایسا کرنا شروع کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مہینہ مزید لمبا ہوتا تو میں وصال کو مزید لمبا کرتا، تاکہ غلو کرنے والے متشدِّد لوگ اپنے غلو اور تشدّدسے باز آجاتے، میری صورتحال تو یہ ہے کہ مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے۔
۔ عبداللہ بن ابی موسیٰ کہتے ہیں:میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے وصال کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: احد کے دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ نے وصال کیا تھا،لیکن ان کو اس سے مشقت ہوئی،جب چاند نظر آیا تو تب صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مہینہ مزید لمبا ہوتا تو میں بھی وصال کو لمبا کر دیتا۔ کسی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم وصال نہ کرو اور جو آدمی ایسا کرنا ہی چاہے تو وہ سحری تک وصال کر لیا کرے۔ صحابہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو وصال کر لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ مجھے ایک کھلانے والا کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا پلاتا ہے۔
فوائد:… اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل حدیث، جو پہلے گزر چکی ہے، بھی قابل توجہ ہے: ایک صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
إِنَّمَا نَہَی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ الْوِصَالِ فِی الصِّیَامِ وَالْحِجَامَۃِ لِلصَّائِمِ إِبْقَائً عَلٰی اَصْحَابِہِ وَلَمْ یُحَرِّمْہُمَا (وَفِی لَفْظٍ:) وَلَمْ یُحَرِّمْہُمَا عَلَی اَحَدٍ مِنْ اَصْحَابِہِ۔
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ پر شفقت کرتے ہوئے انہیں روزے میں وصال کرنے اور روزہ دار کو سینگی لگوانے سے منع تو فرمایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کاموں کو حرام نہیں کیا۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کاموں کو اپنے کسی صحابی پر حرام نہیں فرمایا۔ (ابوداود: ۲۳۷۴، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر ۳۷۵۶) مذکورہ بالا تین ابواب کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اصل پسند اور رغبت یہ ہے کہ لوگ وصال نہ کریں، اگر کوئی وصال کرنا چاہے تو وہ حدیث نمبر (۳۸۱۸) کی روشنی میں سحری تک وصال کر لے، اس سے زیادہ وصال کرنے کی گنجائش تو مل سکتی ہے، لیکن کرنا نہیں چاہیے۔ ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ وصال کے معاملے میں صحابۂ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی فوراً تعمیل کیوں نہیں کی، جبکہ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اشاروں پر جان تک نچھاور کر دینے والے تھے؟ جواب یہ ہے کہ اس قسم کے مقامات پر صحابہ کرام یہ سمجھتے تھے کہ اصل حکم وصال کا ہی ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمل کرتے تھے، لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کے حق میں تخفیف، نرمی اور عدم مشقت کو پسند کرتے تھے، لیکن صحابہ کرام کا نظریہیہ تھا کہ وہ بھی اجر و ثواب کے حصول کے لیے مشکل سے مشکل امور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کریں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اورصحابہ کے مابین فرق کی وضاحت کر کے مسئلہ کو واضح کر دیا۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چہر ے پر ہاتھ مارتے ہوئے اور بالوں کو نوچتے ہوئے ایک بدّو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ کہنے لگا: میرا خیال تو یہی ہے کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا ہے؟ اس نے کہا: میں ماہِ رمضان میں (روزے کی حالت میں) اپنی بیوی سے ہم بستری کر بیٹھا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ایک گردن (غلام یا لونڈی) آزاد کرنے کی استطاعت رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دو ماہ مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا: جی نہیں، پھر اس نے اپنے فقرو فاقہ کا بھی ذکر کیا،اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا لایا گیا، جس میں پندرہ صاع کھجور تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ آدمی کہاں ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کھجوریں (مسکینوں کو) کھلا دو۔ آگے سے اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! مدینہ کے دو حرّوں (سیاہ پتھروں والے میدان) کے درمیان کوئی بھی گھر والے مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہیں۔ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں دکھائی دینے لگیں اور پھر فرمایا: تو پھر اپنے اہل خانہ کو کھلا دو۔
فوائد:… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مسکرانے کی وجہ یہ تھی کہ جب یہ آدمی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تھا تو اپنے آپ کو ہلاک ہونے والا سمجھ رہا تھا ، چہر ے پر ہاتھ مارتے ہوئے اور بال نوچتے ہوئے آیا، اپنے نفس کے بارے میں ڈر رہا تھا اور جیسے ممکن ہو اس جرم کی تلافی کرنا چاہتا تھا، لیکن جب اس کو رخصت والا معاملہ نظر آیا تو کفارے کے لیے دیئے گئے مال کو خود کھا جانے کا حریص بن گیا۔
۔ (دوسری سند) سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی اپنے بالوں کو نوچتا ہوا اور اپنی ہلاکت کی خبر دیتا ہوا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے ہواکیا ہے؟ اس نے کہا: میں ماہِ رمضان میں(روزے کی حالت میں) اپنی بیوی سے ہم بستری کر بیٹھا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام یا لونڈی آزاد کرو۔ اس نے کہا: میں یہ نہیں کر سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔ اس نے کہا: مجھ میں اتنی طاقت بھی نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائو۔ اس نے کہا: میں تو اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا پیش کیا گیا، اس میں پندرہ صاع کھجور تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: یہ لے جاؤ اور ساٹھ مساکین کو کھلا دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مدینہ منورہ کے ان دو حرّوں (سیاہ پتھروں والے میدان) میں کوئی بھی گھر والے مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اور تمہارا اہل خانہ ہی کھا لے۔
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ایک اونٹ کا صدقہ کرنے کے حکم کا اضافہ ہے۔عمرو نے اپنی روایت میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا تھا کہ وہ اس کے عوض ایک روزہ بھی رکھے۔
Takhreej
(۳۸۲۱) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… مؤطا امام مالک کی روایت کے مطابق اس زیادتی کی وضاحت یہ ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایک غلام آزاد کرنے کا حکم دیا، لیکن جب اس نے عدمِ استطاعت کا اظہار کیا توا ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اونٹ صدقہ کرنے کا حکم دیا، اس کے بعد روزوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کی بات ہوئی۔
۔ (چوتھی سند) اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا، اس میں کھجوریں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور یہ صدقہ کر دو، …۔
Takhreej
(۳۸۲۲) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ’’عَرَق‘‘ اور ’’زِنْبِیْل‘‘ ایک پیمانہ ہے، جس میں پندرہ صاع کھجوریں آتی ہیں، ہم نے آسانی کے لیے اس کا معنی ’’ٹوکرا‘‘ کیا ہے، ایک صاع کا وزن دو کلو سو گرام ہوتا ہے۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک غلام یا لونڈی آزاد کرے یا دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔
Takhreej
(۳۸۲۳) تخر یـج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… دوسری روایات میں ان تین چیزوں کو ترتیب کے ساتھ ذکر کیا گیا، اس حدیث ِ میں ’’اَوْ‘‘ کا لفظ تقسیم کے لیے ہے، نہ کہ تخییر کے لیے۔
مطلبیہ ہے کہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ غلام یا لونڈی آزاد کر یا دو ماہ کے روزے رکھ یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا۔ لیکن دوسری روایات میں ہے کہ آپ نے اسے فرمایا ایک گردن آزاد کر۔ جب اس نے کہا میرے پاس اس کی طاقت نہیں تو آپ نے فرمایا، دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔ اس نے اس کی طاقت بھی نہ ہونے کی بات کی تو آپ نے فرمایا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا گویا رمضان کے روزے کی حالت میں کوئی جماعت کر لے تو وہ ایک گردن آزاد کرے، اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ یہ کفارہ ہیں کہ ان تین کاموں میں سے جو چاہے ایک کام کر لے۔ (عبداللہ رفیق)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قلعہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو جل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: بات کیا ہے؟ اس نے کہا: میں ماہ رمضان میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جائو۔ وہ لوگوں کی ایک طرف بیٹھ گیا، اتنے میں ایک آدمی اپنے گدھا پر ایک بورا لاد کر لایا، اس میں کھجوریں تھیں اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میری طرف سے صدقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جلنے والا کہاں ہے، جو ابھی بات کر رہا تھا؟ وہ خود بولا: جی اے اللہ کے رسول! وہ یہ میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لے جاؤ اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! صدقہ کہاں ہو گا، مگر مجھ پر اور میرے لیے، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میرے اور میرے گھر والوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کو لے جاؤ۔ پس وہ لے کر چلا گیا۔
فوائد:… یہ روایتیہاں مختصر ہے، صحیح بخاری میں غلام کو آزاد کرنے اور دو ماہ کے روزے رکھنے کا ذکر موجود ہے۔
ان احادیث سے ثابت ہونے والے احکام درج ذیل ہیں:
(۱)جو آدمی روزے کی حالت مجامعت کرے گا، اس پر یہ کفارہ لازم آئے گا: ایک غلام آزاد کرنا، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنا اور اگر ان کی طاقت بھی نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ حدیث نمبر (۳۸۲۱) سے معلوم ہوا کہ غلام کو آزاد کرنے کی طاقت نہ رکھنے والا اونٹ کا صدقہ کردے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو روزوں والا حکم اختیار کرے، حسن بصری نے اس کفارے میں اونٹ کے ثبوت کا فتوی دیا ہے۔
(۲)یہ کفارہ روزے کی حرمت کو پامال کرنے کا ہے، اس لیے اس کی ادائیگی کے باوجود روزے کی قضائی دینا پڑے گی۔
(۳) اگر کسی آدمی میں کفارہ کی کوئی شق پوری کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ کچھ کیے بغیر بریٔ الذمہ ہو جائے گا، اس حدیث ِ مبارکہ سے بھی اسی چیز کا ثبوت ملتا ہے اور {لَایُکَلِّفَ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا} میں بیان کیے گئے قانون کا بھییہی تقاضا ہے۔
(۴) ایک انتہائی مسئلہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں عورت پر کفارہ پڑے گا یا نہیں؟ اور اگر کفارہ پڑے گا تو اس حدیث میں اس کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟ بلا شک و شبہ جس جرم کی وجہ سے خاوند کو یہ کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے، وہی جرم عورت میں بھی پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ زانی مرد و زن، وہ شادی شدہ ہوں یا کنوارے، سب کی سزا برابر برابر ہے (یعنی مرد اور عورت کی حیثیت میں زنا کی سزا ایک ہے، مختلف نہیں، ہاں یہ بات الگ ہے کہ کنوارے اور شادی شدہ کی سزا میں فرق ہے)، اس لیے روزے کی حالت میں مجامعت کرنے والی خاتون الگ سے اپنا کفارہ ادا کرے گی، رہا یہ سوال اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیوی کے کفارے کا ذکر کیوں نہیں کیا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ جو مجرم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار میں کھڑا ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی توجہ کو اسی پر مرکوز کرتے تھے اور اس سے متعلقہ دوسرے مجرم کی تفتیش از خود نہیں کرتے تھے، کتاب الحدود میں زنا سے متعلقہ اس قسم کی مثالوں کا ذکر آئے گا، کتاب الحدود کا آغاز حدیث نمبر (۶۶۲۱) سے ہو گا، ہاں اگر دوسرے مجرم کا واضح الفاظ میں ذکر کر دیا جاتا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بھی تفتیش کرتے تھے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا انیس رضی اللہ عنہ کویہ حکم دے کر ایک خاتون کی طرف بھیجا کہ اگر وہ اعترافِ جرم کر ے تو اسے رجم کر دینا۔ اس تحقیق کی وجہ یہ تھی کہ اس موقع پر دو دفعہ اس خاتون کا بطورِ مجرمہ تذکرہ کیا گیا، ایسے میں حاکم کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ دوسرے مجرم کے معاملے کو بھی سنجیدگی سے لے۔ اب چونکہ روزے کی حالت میں مجامعت کرنے والے اس مرد نے اپنی بیوی کا بطورِ مجرمہ کوئی تذکرہ نہیں، بلکہ ایک روایت کے الفاظ تو یہ ہیں کہ اس بندے نے کہا: ’’میں نے اپنی بیوی سے ہم بستری کر لی ہے، جبکہ میں روزے دار تھا۔‘‘ جبکہ اس چیز کا بھی احتمال ہے کہ بیوی نے کسی عذر کی بنا پر روزہ ہی نہ رکھا ہوا ہو، یا خاوند کے سامنے مجبور ہو گئی ہو، یا وقتی طور پر روزے کو بھول گئی ہو، امام خطابی نے بھییہ وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام ابو ثور اور امام ابن منذر اور ایک روایت کے مطابق امام احمد اسی نظریے کے قائل ہیں کہ بیوی پر الگ سے کفارہ ہو گا۔
(۵)ان احادیث سے یہ بھی اندازہ لگا لیناچاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں شرعی حدود کی کتنی اہمیت ہے کہ جب خاوند روزے کا پاس و لحاظ رکھے بغیر اپنی بیوی سے ہم بستری کر بیٹھتا ہے تو اسے اتنا بڑا کفارہ دینے کا مکلف بنایا جاتا ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں لگاتار روزے رکھتا ہوں، آیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو چھوڑ دو۔
۔ سیدناابو دردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، اس قدر شدید گرمی تھی کہ ہم میں سے بعض اپنے سروں پر ہاتھ رکھتے تھے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں کوئی بھی روزے دار نہیں تھا۔
۔ سیدنا سلمہ بن محیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس ایسی سواری ہو جو اسے کھانے کی جگہ تک پہنچا سکتی ہو تو رمضان جہاں بھی اسے پا لے، وہ روزہ رکھے۔
Takhreej
(۳۸۲۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حبیب بن عبد اللہ، وابنہ عبد الصمد قال البخاری: لین الحدیث، وضعفہ احمد، وقال ابن معین: لیس بہ بأس۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۱۰ (انظر: ۱۵۹۱۲)
۔ سیدناابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ کرتے تھے، ہم میں سے کوئی روزہ رکھ لیتا تھا اور کوئی نہیں رکھتا تھا، روزہ دار، روزہ نہ رکھنے والوں پر اور روزہ نہ رکھنے والے، روزہ دار پر کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا تھا، ان کا یہ خیال تھا کہ جو شخص سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو اور وہ روزہ رکھ لے تو یہ اچھا ہے اور جو کمزوری محسوس کرتا ہو اور وہ روزہ نہ رکھے تو یہ اس کے لیے اچھا ہے۔