TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایام تشریق کے روزوں کی ممانعت - ایام تشریق کے روزوں کی ممانعت - روزے دار کا وصال کرنا - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 11 of روزے دار کا وصال کرنا in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 18 · 9 Hadith
۔ (۳۸۶۰) عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ اُمِّہِ قَالَتْ: بَیْنَمَا نَحْنُ بِمِنًی إِذَا عَلِیُّ بْنُ اَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ ہٰذِہِ اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ، فَلَا یَصُوْمُہَا اَحَدٌ۔)) وَاتبَّعَ َالنَّاسَ عَلٰی جَمَلِہِیَصْرُخُ بِذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۵۶۷)
۔ ام عمرو کہتی ہیں: ہم منیٰ میں تھے، اچانک سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں، لہذا کوئی آدمی ان دنوں کا روزہ نہ رکھے۔ وہ اونٹ پر سوار تھے، لوگوں کو اپنے پیچھے لگا رکھا تھا اور بآواز بلند یہاعلان کرتے جا رہے تھے۔
Takhreej
(۳۸۶۰) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۲۸۹۰ (انظر: ۵۶۷)
3860
Sahih
۔ (۳۸۶۱) عَنْ إِسْمَاعِیْلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ (سَعْدِ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ اُنَادِیَ اَیَامَ مِنًی (وَفِی لَفْظٍ: (((یَا سَعْدُ! قُمْ فَاَذِّنْ بِمِنًی) اَنَّہَا اَیَامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ فَلَا صَوْمَ فِیْہَا۔)) یَعْنِیْ اَیَّامَ التَّشْرِیْقِ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۶)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: منیٰ کے دنوں میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ اعلان کرنے کا حکم دیایا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سعد! اٹھو اور منی میں یہ اعلان کرو کہ یہ کھانے کے پینے کے دن ہیں، اس لیے ان دنوں میں کوئی روزہ نہیںہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد ایام تشریق تھے۔
Takhreej
(۳۸۶۱) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ البزار: ۱۰۶۷ (انظر: ۱۴۵۶)
3861
Sahih
۔ (۳۸۶۲) عَنْ اَبِی الشَّعْثَائِ قَالَ: اَتَیْنَا ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی الْیَوْمِ الْاَوْسَطِ مِنْ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ، قَالَ: فَاُتِیَ بِطَعَامٍ فَدَنَا الْقَوْمُ وَتَنَحّٰی ابْنٌ لَہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہٗ: اُدْنُفَاطْعَمْ،قَالَ: فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، قَالَ: فَقَالَ: اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّہَا اَیَّاُم طُعْمٍ وَذِکْرٍ۔)) (مسند احمد: ۴۹۷۰)
۔ ابو شعثاء کہتے ہیں: ہم ایام تشریق کے درمیانی دن کو سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے، اتنے میں کھانا لایا گیا اور لوگ کھانے کے قریب ہوئے، لیکن ان کا ایک بیٹا ذرا دور ہو گیا، سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: قریب ہو کر کھانا کھاؤ۔ لیکن اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ یہ سن کر سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں۔
Takhreej
(۳۸۶۲) تخر یـج: حسن بالمتابعات والشواھد۔ اخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۲۹۰۳، وابن ابی شیبۃ: ۴/ ۲۰، وابن خزیمۃ: ۲۱۴۸ (انظر: ۴۹۷۰)
3862
Sahih
۔ (۳۸۶۳) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( یَوْمُ عَرَفَۃَ وَیَوْمُ النَّحْرِ وَاَیَّامُ التَّشْرِیْقِ عِیْدُنَا اَہْلَ اْلإِسْلَامِ وَہُنَّ اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ)) (مسند احمد: ۱۷۵۱۴)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((عرفہ کا دن، قربانی کا دن اور ایامِ تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔
Takhreej
(۳۸۶۳) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۱۹، والنسائی: ۵/ ۲۵۲، والترمذی: ۷۷۳ (انظر: ۱۷۳۷۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں عرفہ کے دن یعنی (۹) ذوالحجہ کو بھی عید کا دن قرار دیا گیا ہے، لیکن اس دن کو روزہ رکھنا افضل ہے، اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے۔
3863
Sahih
۔ (۳۸۶۴) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ حُذَافَۃَیَطُوْفُ فِی مِنًی: ((اَنْ لَا تَصُوْمُوْا ہٰذِہِ الْاَیَّامَ فَإِنَّہَا اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ وَذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۷۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھیجا کہ وہ منی میں گھوم پھر کر یہ اعلان کریں کہ لوگو! ان دنوں کا روزہ نہ رکھو، کیونکہیہ کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔
Takhreej
(۳۸۶۴) تخر یـج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف۔ اخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۲۸۸۳، ومالک فی ’’المؤطا‘‘: ۱/ ۳۷۶ (انظر: ۱۰۶۶۴)
3864
Sahih
۔ (۳۸۶۵) عَنْ مَسْعُوْدِ بْنِ الْحَکَمِ (الزُّرَقِیِّ) الْاَنْصَارِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَمَر رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حُذَافَۃَ السَّہْمِیَّ اَنْ یَرْکَبَ رَاحِلَتَہُ اَیَّامَ مِنیً فَیَصِیْحُ فِی النَّاسِ: ((لَا یَصُوْمَنَّ اَحَدٌ فَإِنَّہَا اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ۔)) قَالَ: فَلَقَدْ رَاَیْتُہُ عَلٰی رَاحِلَتِہِ یُنَادِی بِذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۹۶)
۔ ایک صحابی رسول کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبداللہ بن حذافہ سہمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ منی والے دنوں میں اپنی سواری پر سوار ہو کر بآواز بلند یہ اعلان کریں کہ کوئی آدمی بھی ان دنوں میں روزہ نہ رکھے کیونکہیہ کھانے پینے کے دن ہیں۔ پھر میں نے ان کو دیکھا کہ وہ سواری پر سوار ہو کر یہ اعلان کر رہے تھے۔
Takhreej
(۳۸۶۵) تخر یـج: مرفوعہ صحیح لغیرہ۔ اخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۲۸۸۰، والطحاوی: ۲/ ۲۴۶، ومالک فی ’’المؤطا‘‘: ۱/ ۳۷۶، والدار قطنی: ۲/ ۲۱۲ (انظر: ۲۱۹۵۰)
3865
Sahih
۔ (۳۸۶۵) عَنْ مَسْعُوْدِ بْنِ الْحَکَمِ (الزُّرَقِیِّ) الْاَنْصَارِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَمَر رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حُذَافَۃَ السَّہْمِیَّ اَنْ یَرْکَبَ رَاحِلَتَہُ اَیَّامَ مِنیً فَیَصِیْحُ فِی النَّاسِ: ((لَا یَصُوْمَنَّ اَحَدٌ فَإِنَّہَا اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ۔)) قَالَ: فَلَقَدْ رَاَیْتُہُ عَلٰی رَاحِلَتِہِ یُنَادِی بِذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۹۶)
۔ مولائے ام ہانی ابو مُرّہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ ان کے والد سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے، انہوں نے ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور کہا: کھائو۔ اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ سیدناعمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کھاؤ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ان دنوں میںافطار کرنے کا حکم دیا ور ان کا روزہ رکھنے سے منع کر دیا۔ امام مالک امام مالک نے کہا: یہ ایامِ تشریق تھے۔
Takhreej
(۳۸۶۶) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۱۸(انظر: ۱۷۷۶۸)
3866
Sahih
۔ (۳۸۶۷) عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ بَعَثَ بِشْرَ بْنَ سُحَیْمٍ فَاَمَرَہُ اَنْ یُنَادِیَ: ((اَلَا إِنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إلِاَّ نَفْسُ مَؤمِنٍ (وَفِی لَفْظٍ: اِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ، وَفِی لَفْظٍ آخَرَ: إِلَّا مُؤْمِنٌ) وَإِنَّہَا اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ)) یَعْنِیْ اَیَّامَ التَّشْرِیْقِ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۰۷)
۔ ایک صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بشر بن سحیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ خبردار! جنت میں صرف مومن ہی جائے گااور یہ دن کھانے پینے کے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد ایامِ تشریق تھی۔
Takhreej
(۳۸۶۷) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۲۰ (انظر: ۱۵۴۲۹)
3867
Sahih
۔ (۳۸۶۸) عَنْ یَوْنُسَ بْنِ شَدَّادٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی عَنْ صَوْمِ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۲۶)
۔ سیدنایونس بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایام تشریق میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۳۸۶۸) تخر یـج: حدیث صحیح لغیرہ۔ اخرجہ البزار: ۱۰۶۸(انظر: ۱۶۷۰۶)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے۔ حج تمتع میں ایک ہدی (یعنی ایک بکرییا پھر اونٹ یا گائے کے ساتویں حصے) کی قربانی دینی پڑتی ہے، لیکن جس حاجی کو قربانی کرنے کی طاقت نہ ہو، وہ کل دس روزے رکھے، تین ایامِ حج میں اور سات واپس گھر لوٹ کر، جبکہ ایام حج، جن میں روزے رکھنے ہیں، وہ ذوالحجہ کی (۹) تاریخ اور ایام تشریق ہیں۔ اس لیے ایسا حاجی ایام تشریق میں روزے رکھ سکتا ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، امام مالک، امام احمد، امام اوزاعی اور امام اسحاق کی بھییہی رائے ہے۔ اس مسئلہ کی مزید وضاحت کتاب الحج میں آئے گی۔
3868
Sahih

Chapters

18
01
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
7 Hadith
02
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
3 Hadith
03
سحری تک وصال کرنے کی رخصت
1 Hadith
04
رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان
15 Hadith
05
سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان
12 Hadith
06
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
3 Hadith
07
مریض، بوڑھے، حاملہ اور مرضِعہ کے روزے کے حکم کا بیان
2 Hadith
08
رمضان کے روزوں کی قضاء اور اس کے وقت کا بیان
2 Hadith
09
فوت شدہ کی طرف سے روزوں کی قضاء دینے کا بیان
3 Hadith
10
ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
11
ایام تشریق کے روزوں کی ممانعت
9 Hadith
12
صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
11 Hadith
13
ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان
6 Hadith
14
ان ایام کا بیان کہ جن میں روزہ رکھنا مستحب یا مکروہ ہے
4 Hadith
15
نفلی روزوں اوران ایام کا بیان، جن میں نفلی روزے رکھنا مستحبّ ہیں سفر میں نفلی روزہ رکھنا
4 Hadith
16
خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان
2 Hadith
17
نفلی روزہ شروع کر دینے سے اس کے واجب نہ ہو جانے کا بیان
4 Hadith
18
اللہ کے مہینے محرم کے روزے اور ان کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.