مسنداحمد

Musnad Ahmad

روزے دار کا وصال کرنا

ایام تشریق کے روزوں کی ممانعت

۔ (۳۸۶۰) عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ اُمِّہِ قَالَتْ: بَیْنَمَا نَحْنُ بِمِنًی إِذَا عَلِیُّ بْنُ اَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ ہٰذِہِ اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ، فَلَا یَصُوْمُہَا اَحَدٌ۔)) وَاتبَّعَ َالنَّاسَ عَلٰی جَمَلِہِیَصْرُخُ بِذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۵۶۷)

۔ ام عمرو کہتی ہیں: ہم منیٰ میں تھے، اچانک سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں، لہذا کوئی آدمی ان دنوں کا روزہ نہ رکھے۔ وہ اونٹ پر سوار تھے، لوگوں کو اپنے پیچھے لگا رکھا تھا اور بآواز بلند یہاعلان کرتے جا رہے تھے۔

۔ (۳۸۶۱) عَنْ إِسْمَاعِیْلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ (سَعْدِ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ اُنَادِیَ اَیَامَ مِنًی (وَفِی لَفْظٍ: (((یَا سَعْدُ! قُمْ فَاَذِّنْ بِمِنًی) اَنَّہَا اَیَامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ فَلَا صَوْمَ فِیْہَا۔)) یَعْنِیْ اَیَّامَ التَّشْرِیْقِ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۶)

۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: منیٰ کے دنوں میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ اعلان کرنے کا حکم دیایا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سعد! اٹھو اور منی میں یہ اعلان کرو کہ یہ کھانے کے پینے کے دن ہیں، اس لیے ان دنوں میں کوئی روزہ نہیںہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد ایام تشریق تھے۔

۔ (۳۸۶۲) عَنْ اَبِی الشَّعْثَائِ قَالَ: اَتَیْنَا ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی الْیَوْمِ الْاَوْسَطِ مِنْ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ، قَالَ: فَاُتِیَ بِطَعَامٍ فَدَنَا الْقَوْمُ وَتَنَحّٰی ابْنٌ لَہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہٗ: اُدْنُفَاطْعَمْ،قَالَ: فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، قَالَ: فَقَالَ: اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّہَا اَیَّاُم طُعْمٍ وَذِکْرٍ۔)) (مسند احمد: ۴۹۷۰)

۔ ابو شعثاء کہتے ہیں: ہم ایام تشریق کے درمیانی دن کو سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے، اتنے میں کھانا لایا گیا اور لوگ کھانے کے قریب ہوئے، لیکن ان کا ایک بیٹا ذرا دور ہو گیا، سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: قریب ہو کر کھانا کھاؤ۔ لیکن اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ یہ سن کر سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں۔

۔ (۳۸۶۳) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( یَوْمُ عَرَفَۃَ وَیَوْمُ النَّحْرِ وَاَیَّامُ التَّشْرِیْقِ عِیْدُنَا اَہْلَ اْلإِسْلَامِ وَہُنَّ اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ)) (مسند احمد: ۱۷۵۱۴)

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((عرفہ کا دن، قربانی کا دن اور ایامِ تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔

۔ (۳۸۶۴) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ حُذَافَۃَیَطُوْفُ فِی مِنًی: ((اَنْ لَا تَصُوْمُوْا ہٰذِہِ الْاَیَّامَ فَإِنَّہَا اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ وَذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۷۴)

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھیجا کہ وہ منی میں گھوم پھر کر یہ اعلان کریں کہ لوگو! ان دنوں کا روزہ نہ رکھو، کیونکہیہ کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔

۔ (۳۸۶۵) عَنْ مَسْعُوْدِ بْنِ الْحَکَمِ (الزُّرَقِیِّ) الْاَنْصَارِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَمَر رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حُذَافَۃَ السَّہْمِیَّ اَنْ یَرْکَبَ رَاحِلَتَہُ اَیَّامَ مِنیً فَیَصِیْحُ فِی النَّاسِ: ((لَا یَصُوْمَنَّ اَحَدٌ فَإِنَّہَا اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ۔)) قَالَ: فَلَقَدْ رَاَیْتُہُ عَلٰی رَاحِلَتِہِ یُنَادِی بِذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۹۶)

۔ ایک صحابی رسول کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبداللہ بن حذافہ سہمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ منی والے دنوں میں اپنی سواری پر سوار ہو کر بآواز بلند یہ اعلان کریں کہ کوئی آدمی بھی ان دنوں میں روزہ نہ رکھے کیونکہیہ کھانے پینے کے دن ہیں۔ پھر میں نے ان کو دیکھا کہ وہ سواری پر سوار ہو کر یہ اعلان کر رہے تھے۔

۔ (۳۸۶۵) عَنْ مَسْعُوْدِ بْنِ الْحَکَمِ (الزُّرَقِیِّ) الْاَنْصَارِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَمَر رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حُذَافَۃَ السَّہْمِیَّ اَنْ یَرْکَبَ رَاحِلَتَہُ اَیَّامَ مِنیً فَیَصِیْحُ فِی النَّاسِ: ((لَا یَصُوْمَنَّ اَحَدٌ فَإِنَّہَا اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ۔)) قَالَ: فَلَقَدْ رَاَیْتُہُ عَلٰی رَاحِلَتِہِ یُنَادِی بِذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۹۶)

۔ مولائے ام ہانی ابو مُرّہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ ان کے والد سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے، انہوں نے ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور کہا: کھائو۔ اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ سیدناعمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کھاؤ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ان دنوں میںافطار کرنے کا حکم دیا ور ان کا روزہ رکھنے سے منع کر دیا۔ امام مالک امام مالک نے کہا: یہ ایامِ تشریق تھے۔

۔ (۳۸۶۸) عَنْ یَوْنُسَ بْنِ شَدَّادٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی عَنْ صَوْمِ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۲۶)

۔ سیدنایونس بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایام تشریق میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔