۔ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مشروب پیا اور مجھے بھی دیا۔ میں نے بعد میں کہا: میں تو روزے سے تھی، لیکن آپ کے جوٹھے کو چھوڑنا گوارا نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ روزہ ماہِ رمضان کی قضاء کا تھا تواس کے عوض ایک روزہ رکھ لینا اور اگر یہ نفلی تھا تو تمہاری مرضی ہے کہ قضائی دو یا نہ دو۔
۔ (دوسری سند) سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب بیٹھ گئیں اور سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا آکر دائیں جانب بیٹھ گئیں، اتنے میں ایک لونڈی کوئی مشروب لائی، پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود پیا اور پھر سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو دیا، اس نے )پینے کے بعد) کہا: میرا تو روزہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیایہ قضاء کا روزہ تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تجھے نقصان نہیں دے گا (یعنی کوئی حرج نہیں ہے)۔
۔ (تیسری سند) سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے میرے ہاں تشریف لائے، آپ کی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور پھر مجھے دے دیا ، میں نے کہا: میں تو روزے دار ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نفلی عبادت کرنے والا اپنا امیر خود ہوتا ہے، اس لیے اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو افطار کر دو۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو ایک بکری کا گوشت بطور ہدیہ پیش کیا گیا، جبکہ ہم دونوں روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ افطار کرادیا، آخر وہ اپنے (عظیم باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ) ہی کی بیٹی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے عوض ایک ایک روزہ رکھ لینا۔