ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف کی ام ولد کہتی ہیں: میں اپنے کپڑے کو گھسیٹتی تھی، ایک روایت میں ہے: میں ایسی عورت تھی، جس کا کپڑے کانچلا حصہ لمبا تھا اور جب میں مسجد کی طرف آتی تھی تو ناپاک اور پاک دونوں جگہوں سے گزر کر آتی تھی، پس میں سیدہ ام سلمہ ؓ کے پاس گئی اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعد والی (پاک) جگہ اس کو پاک کر دے گی۔
موسی بن عبد اللہ ، جو کہ سچائی والا آدمی تھا، بنو عبد ِاشہل کی ایک صحابیہ خاتون سے روایت کرتا ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مسجد کی طرف آنے والا ہمارا راستہ بدبودار ہے، جب بارش ہو جائے تو ہم کیا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے بعد کوئی پاک راستہ نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ راستہ اس کے بدلے ہے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ پاک راستہ اُس (ناپاک راستے کے اثر) کو ختم کر دے گا۔