سیدہ اسماء بنت ابو بکر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! عورت کو حیض کا خون لگ جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ وہ اس کو کھرچے، پھر پانی کے ساتھ ملے اور پھر اس میں نماز پڑھ لے۔
سیدہ ام قیس بنت محصن ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کپڑے کو لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں سوا ل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوںکے ساتھ دھو اور کسی ہڈی کے ساتھ کھرچ ڈال۔
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ خولہ بنت یسار ؓحج یا عمرہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے اور مجھے اسی میں حیض بھی آ جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو پاک ہو جائے تو خون والی جگہ دھو لے اور اسی میں نماز پڑھ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اس کااثر ختم نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے پانی کافی ہے اور اس کا (باقی رہ جانے والا) نشان تجھے نقصان نہیں دے گا۔
Takhreej
(۴۰۷) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۵ (انظر: ۸۷۶۷)
Explanation
فوائد:…اس امر پر مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ حیض کا خون پلید ہے، مذکورہ بالا احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ اس خون کی مکمل صفائی ہونی چاہیے۔ اس کا (باقی رہ جانے والا) نشان تجھے نقصان نہیں دے گا۔ اس چیز کو سمجھنے کے لیے ایک مثال دینا ضروری ہے، جن لوگوں کو بغلوں میں بہت زیادہ پسینہ آتا ہے، بسا اوقات ایسے ہوتا ہے کہ کپڑے کے اس حصے کا رنگ زرد ہو جاتا ہے اور دھونے کے باوجود نہیں اترتا ہے، جبکہ اس زردی کے باقی رہنے کا یہ معنی نہیں ہوتا ہے کہ ابھی تک پسینہ باقی ہے، دراصل یہ پسینہ کی وجہ سے پڑ جانے والا رنگ ہوتا ہے، یہی معاملہ حیض کے خون اور دوسری اس قسم کی چیزوں کا ہے۔ مقصودِ شریعت یہ ہے کہ حیض کے خون کو صاف کیا جائے اور اگر اس کی وجہ سے کپڑے کی رنگت ہی تبدیل ہو گئی ہے، تو اس کے باقی رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف کی ام ولد کہتی ہیں: میں اپنے کپڑے کو گھسیٹتی تھی، ایک روایت میں ہے: میں ایسی عورت تھی، جس کا کپڑے کانچلا حصہ لمبا تھا اور جب میں مسجد کی طرف آتی تھی تو ناپاک اور پاک دونوں جگہوں سے گزر کر آتی تھی، پس میں سیدہ ام سلمہ ؓ کے پاس گئی اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعد والی (پاک) جگہ اس کو پاک کر دے گی۔
موسی بن عبد اللہ ، جو کہ سچائی والا آدمی تھا، بنو عبد ِاشہل کی ایک صحابیہ خاتون سے روایت کرتا ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مسجد کی طرف آنے والا ہمارا راستہ بدبودار ہے، جب بارش ہو جائے تو ہم کیا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے بعد کوئی پاک راستہ نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ راستہ اس کے بدلے ہے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ پاک راستہ اُس (ناپاک راستے کے اثر) کو ختم کر دے گا۔
فوائد:…خواتین کے کپڑے کا جو حصہ زمین پر گھسٹ رہا ہوتا ہے، اس کی پاکی کا حکم جوتے والا ہے، جس کی تفصیل اگلے باب میں آ رہی ہے۔ ذہن نشین کر لیں کہ شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ عورتوں کے پاؤں کے نیچے ایک ہاتھ کپڑا لٹکنا چاہیے۔
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور (نماز کے اندر) جوتے اتار دیئے، پس لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو پوچھا: تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار دیئے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا، سو ہم نے بھی اتار دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریلؑ نے میرے پاس آکر مجھے بتلایا کہ ان میرے جوتوں پر نجاست لگی ہوئی ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھ لیا کرے، اگر ان میں کوئی نجاست نظر آئے تو اس کو زمین سے صاف کر لے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے۔
Takhreej
(۴۱۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ ابوداود: ۶۵۰، (انظر: ۱۱۱۵۳)
Explanation
فوائد:…سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا وَطِیئَ اَحَدُکُمْ بِنَعْلِہِ الْاَذٰی فَاِنَّ التُّرَابَ لَہٗ طَھُوْرٌ)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((اِذَا وَطِیئَ الْاَذٰی بِخُفَّیْہِ فَطَھُوُرُھُمَا التُّرَابُ)) … جب کوئی آدمی اپنے جوتے سے نجاست کو روندے تو مٹی اس کو پاک کرنے والی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: جب اپنے موزوں سے نجاست کو روندے تو مٹی ان کو پاک کرنے والی ہے۔ (ابوداود: ۳۸۵، ۳۸۶، شرح معانی الآثار: ۱/ ۵۱۱، حاکم: ۱/ ۱۶۶، بیہقی: ۲/ ۴۰۶) جوتے یا موزے پر لگی ہوئی نجاست تر ہو یا خشک، دونوں صورتوں میں رگڑنے سے صاف ہو جائے گی، لیکن یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ یہ شریعت کی طرف سے ایک رخصت ہے، اگر اس موقع پر جوتوں اور موزوں کو دھونے کا حکم دے دیا جاتا تو اس میں امت کے لیے بڑی مشقت ہوتی۔
صحابہ کرام کی اطاعت ِ رسول کا جذبہ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نماز میں جوتا اتارا تو انھوں نے بھی اسی وقت اس کو اتارنا مناسب سمجھا۔ سبحان اللہ
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز ادا کر کے یہ دعا کی: اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تو نے تو وسعت والی چیز کو تنگ کر دیا ہے۔ پھر جلد ہی اُس بدّو نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا، پس لوگ اس کی طرف لپکے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن سے ارشاد فرمایا: صرف اور صرف تم لوگوں کو آسانیاں پیدا کرنے والے بنا کر بھیجا گیا ہے اور تنگیاں پیدا کرنے والے بنا کر نہیں بھیجا گیا، اس پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔
۔ (دوسری سند)ایک بدّو مسجد میں داخل ہوا، جبکہ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے، اس نے دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! مجھے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخش دے اور ہمارے ساتھ کسی اور کو نہ بخش، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا: تو نے تو وسیع چیز کو تنگ کر دیا ہے۔ پھر وہ چل پڑا اور جب مسجد کے ایک کونے میں پہنچا تو ٹانگیں کھلی کر کے پیشاب کرنے لگ گیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: صرف اور صرف اس گھر کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز کے لیے بنایا گیا ہے، اس میں پیشاب نہیں کیا جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس پر بہا دیا، وہ بدو دین کی سمجھ آنے کے بعد کہتا تھا: پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف کھڑے ہوئے، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ مجھے برا بھلا کہا، نہ مجھے ڈانٹ ڈپٹ کی اور نہ مجھے مارا۔
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بدّو آیا اور اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی کا ایک ڈول اس پر بہاد و۔
فوائد:…روایات کے سیاق و سباق سے پتہ چل رہا ہے کہ اس بدّو کو اسلام کے احکام کا علم نہیں تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مسجد کے آداب کی تعلیم دی۔ زمین کو پاک کرنے کے دو طریقے ہیں، ایک طریقہ حدیث نمبر (۴۰۱) میں گزر چکا ہے اور اس باب کی احادیث کے مطابق دوسرا طریقہ یہ ہے کہ زمین پر پڑے ہوئے پیشاب پر پانی ڈال دیا جائے، اس طرح کرنے سے نجاست کے بعض اجزاء زمین میں جذب ہو جائیں گے اور بعض پانی کے ساتھ زمین پر بکھر کر زائل ہو جائیں گے اور زمین پاک ہو جائے گی، وہ زمین سخت ہو یا نرم۔ جن روایات میں زمین کو کھودنے کا ذکر ہے، وہ ضعیف ہیں۔ ان احادیث میں تبلیغ و اصلاح کرنے والے لوگوں کو جس حکمت، دانائی اور حسن اخلاق کی تعلیم دی جا رہی ہے، مجموعی لحاظ سے امت ِ مسلمہ ان سے بری طرح غافل ہے، ہم اس طرح کی حرکت دیکھ کر سب سے پہلے اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے جھاگ بہانا شروع کر دیتے ہیں۔ والدین، اساتذہ، بڑے بھائیوں، آجروں اور دوسرے نگران اور کفیل لوگوں نے اصلاح کا یہ واحد طریقہ ایجاد کیا ہوا ہے کہ ماتحت افراد کا جرم دیکھ کر بولنا شروع کر دیا جائے، توہین آمیز کلمات کہے جائیں، ہو سکے تو پٹائی بھی کی جائے اور مجرم کی عزت اور شخصیت کو خاک میں ملا دیا جائے۔ یاد رکھ لیں کہ اس طریقے سے نگران کا غصہ تو دور ہو سکتا ہے، اصلاح نہیں ہو سکتی۔ شریعت نے غصے ہونے اور مارنے کی بھی اجازت دی ہے، لیکن وہ طریقہ اپنانے کے لیے حکیم اور دانا ہونا ضروری ہے۔ غور کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کی موجودگی میں مسجد نبوی میں پیشاب کر دینا کوئی معمولی جرم ہے؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو ڈانٹنا گوارا نہیں کیا، بلکہ دوسرے صحابہ کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ مسجد کو پاک کرنے کا اہتمام کریں اور خود اس کو اچھے انداز میں سمجھانا شروع کر دیا۔ ہمارے ہاں تو جو بچہ مسجد میں شور کرے یا اس کا پیشاب نکل جائے تو اس بچے کو اور اس کے والدین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا لیا جاتاہے اور اگر والد موجود ہو تو وہ وہیں اپنے بچے کو زد و کوب کرنا شروع کر دیتاہے، جو آدمی موبائل بند نہ کر سکے اور دورانِ نماز اس کی گھنٹی بج جائے تو سلام کے فوراً بعد مستقل نمازی مسجد کو سر پر اٹھا لیتے ہیں، ان بیچاروں کو اتنی سمجھ نہیں ہوتی کہ ان کے بولنے سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ یقین مانیں کہ مبلغ اور مُصلِح افراد کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حکمت سے جو سبق حاصل کرنا چاہیے، اس کو قلم بند نہیں جا سکتا ہے، یہ ایک سوچ اور فکر ہے، جو ضمیروں میں پیوست ہو جانی چاہیے جو ہر بدی کا مقابلہ کرتے وقت زندہ ہو جائے۔
عبد الرحمن بن وہلہ نے سیدنا ابن عباس ؓ سے کہا: بیشک جب ہم جہاد کرتے ہیں تو ہمارے پاس چمڑے اور مشکیزے لائے جاتے ہیں، انھوںنے آگے سے کہا: مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں تجھ سے کیا کہوں، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو چمڑا بھی رنگا جائے، پس تحقیق وہ پاک ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۴۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۶۶(انظر: ۲۴۳۵)
Explanation
فوائد:…رنگنے سے پہلے چمڑے کو اِھَاب اور رنگنے کے بعد شَنّ اور قِرْبَۃ کہتے ہیں۔
امام ابو داؤد نے نضر بن شمیل کے حوالہ سے یہ بات نقل کی ہے لیکن اہل لغت کے ہاں یہ معروف نہیں۔ بلکہ ان کے ہاں معروف یہ ہے کہ شن بوسیدہ مشک کو اور قربہ عام مشک کو کہتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
سیدہ عائشہؓ سے یہ بھی روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مردار کے چمڑوںکے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا رنگنا ان کو پاک کرنا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجہ ٔ رسول سیدہ سودہ بنت زمعہ ؓ نے کہا: ہمارے ایک بکری مر گئی تھی، پس ہم نے اس کے چمڑے کو رنگ لیا اور اس میں نبیذ بناتے رہے، یہاں تک کہ وہ بوسیدہ ہو گیا۔
سیدنا سلمہ بن محبقؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گھر کے پاس سے گزرے، اس گھر کے صحن میں لٹکاہوا ایک مشکیزہ تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب کیا، لیکن کہا گیا کہ یہ تو مردار کا چمڑا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چمڑے کو پاک کرنا اس کو رنگنا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اس کو رنگنا اس کو پاک کرنا ہے۔
Takhreej
(۴۱۸) تخریج: مرفوعہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ حال جون بن قتادۃ، ولم یوثقہ غیر ابن حبان ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۱۲۵، النسائی: ۷/۱۷۳(انظر: ۱۵۹۰۸)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پانی کے ساتھ طلب کیا، پس میں ایک خیمہ میں گیا، اس میں ایک بدّو خاتون تھی، میں نے اس سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور آپ وضو کرنے کے لیے پانی چاہ رہے ہیں، تو کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ اس نے کہا:میرے ماں باپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں، پس اللہ کی قسم! نہ آسمان نے ایسی روح پر سایہ کیا اور نہ زمین نے ایسی روح کو اٹھایا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح کی بہ نسبت مجھے محبوب اور معزَّز ہو، لیکن بات یہ ہے کہ یہ مشکیزہ تو مردار کے چمڑے کا ہے اور میں یہ پسند نہیں کروں گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے ذریعے ناپاک کر دوں، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹا اور یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی طرف واپس جاؤ، اگر تو اس نے اس کو رنگا تھا تو یہی اس کو پاک کرنا ہے۔ پس میں اس کی طرف لوٹا اور اس کو یہ فرمان بتایا، اس نے کہا: جی اللہ کی قسم! میں نے اس کو رنگا تھا، پس میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شامی جُبّہ زین تن کیا ہوا تھا اور دو موزے بھی پہنے ہوئے اور پگڑی بھی باندھی ہوئی تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آستینیں تنگ ہونے کی وجہ سے جُبّہ کے نیچے سے ہاتھ نکال لیے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردار کے چمڑے کے بارے میں فرمایا: بیشک اس کا رنگنا اس کی نجاست کو ختم کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۴۲۰) تخریج: حسن ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۱۴، والحاکم: ۱/ ۱۶۱، والبیھقی: ۱/ ۱۷ (انظر: ۲۸۷۸)
سیدنا ابن عباس ؓ سے ہی مروی ہے کہ سیدہ میمونہ ؓکی پالتو بکری مر گئی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا، تم نے اس کو رنگ کیوں نہیں لیا، پس یہی اس کو پاک کرنا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ان کی لونڈی کی مردار بکری کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے۔ امام سفیان نے کہا: میں نے صرف اس کا کھانا حرام ہے۔ کے الفاظ صرف امام زہری سے سنے ہیں۔ میرے باپ (امام احمد) نے کہا: سفیان نے دو مرتبہ میمونہ کے واسطہ سے حدیث بیان کی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مردار بکری کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک یہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے۔
زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ کہتی ہے کہ قریش کے چند مردوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا، وہ ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ کر لے جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کاش تم اس کا چمڑا اتار لیتے۔ انھوں نے کہا: یہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی اور قرظ اس کو پاک کر دیں گے۔
Takhreej
(۴۲۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف رشدین بن سعد ولجھالۃ عبد اللہ بن مالک وجھالۃ امہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۱۲۶، والنسائی: ۷/ ۱۷۴(انظر: ۲۶۸۳۳)
Explanation
فوائد:…قرظ: یہ کیکر کے مشابہ ایک درخت ہوتا ہے، جس کے پتوں سے چمڑے کی دباغت کی جاتی ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مردار کا چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے، لیکن وہ اس عمل سے حلال نہیں ہوتا، حرام ہی رہتا ہے، اس طرح ایسے چمڑے کا کوئی جزو کھانا جائز نہیں ہو گا، ہم بلی کے جوٹھے کا حکم بیان کرتے وقت یہ و ضاحت کر آئے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ایک چیز حرام ہو، لیکن پاک ہو، جیسے بلی ہے، کسی چیز کے حرام ہونے سے اس کا نجس ہونا لازم نہیں آتا، وہ اس وقت نجس ہو گی، جب شریعت اس کی وضاحت کرے گی۔