TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زمین کو پیشاب کی نجاست سے پاک کرنے کا بیان - زمین کو پیشاب کی نجاست سے پاک کرنے کا بیان - نجاست کو پاک کرنے کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of نجاست کو پاک کرنے کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 10 · 3 Hadith
۔ (۴۱۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِیٌّ الْمَسْجِدَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ قَالَ: اَللّٰہُمَّ ارْحَمْنِیْ وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَقَدْ تحَجَّرْتَ وَاسِعًا۔))، ثُمَّ لَمْ یَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِی الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ النَّاسُ اِلَیْہِ،فقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُیَسِّرِیْنَ وَلَمْ تُبْعَثُوْا مُعَسِّرِیْنَ، أَہْرِیْقُوْا عَلَیْہِ دَلْوًا مِنْ مَائٍ۔)) أَوْ ((سَجْلًا مِنْ مَائٍ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۵۴)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز ادا کر کے یہ دعا کی: اے اللہ! مجھ پر اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تو نے تو وسعت والی چیز کو تنگ کر دیا ہے۔ پھر جلد ہی اُس بدّو نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا، پس لوگ اس کی طرف لپکے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اُن سے ارشاد فرمایا: صرف اور صرف تم لوگوں کو آسانیاں پیدا کرنے والے بنا کر بھیجا گیا ہے اور تنگیاں پیدا کرنے والے بنا کر نہیں بھیجا گیا، اس پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔
Takhreej
(۴۱۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۰، ۶۰۱۰، ۶۱۲۸(انظر: ۷۲۵۵)
411
Sahih
۔ (۴۱۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ دَخَلَ أَعْرَابِیٌّ الْمَسْجِدَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلِمُحَمَّدٍ وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا، فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا۔)) ثُمَّ وَلّٰی حَتّٰی اِذَا کَانَ فِیْ نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِفَشَجَ یَبُوْلُ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّمَا بُنِیَ ھٰذَا الْبَیْتُ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَالصَّلَاۃِ وَاِنَّہُ لَا یُبَالُ فِیْہِ۔))، ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَائٍ فَأَفْرَغَہُ عَلَیْہِ، قَالَ: یَقُوْلُ الْأَعْرَابِیُّ بَعْدَ أَنْ فَقِہَ: فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَیَّ، بأَبِیْ ھُوَ وَأُمِّیْ فَلَمْ یَسُبَّ وَلَمْ یُؤَنِّبْ وَلَمْ یَضْرِبْ۔ (مسند أحمد: ۱۰۵۴۰)
۔ (دوسری سند)ایک بدّو مسجد میں داخل ہوا، جبکہ وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف فرما تھے، اس نے دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! مجھے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو بخش دے اور ہمارے ساتھ کسی اور کو نہ بخش، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسکرا پڑے اور فرمایا: تو نے تو وسیع چیز کو تنگ کر دیا ہے۔ پھر وہ چل پڑا اور جب مسجد کے ایک کونے میں پہنچا تو ٹانگیں کھلی کر کے پیشاب کرنے لگ گیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے اور فرمایا: صرف اور صرف اس گھر کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز کے لیے بنایا گیا ہے، اس میں پیشاب نہیں کیا جاتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس پر بہا دیا، وہ بدو دین کی سمجھ آنے کے بعد کہتا تھا: پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ میری طرف کھڑے ہوئے، میرے ماں باپ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر قربان ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نہ مجھے برا بھلا کہا، نہ مجھے ڈانٹ ڈپٹ کی اور نہ مجھے مارا۔
Takhreej
(۴۱۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
412
Sahih
۔ (۴۱۳)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ فَبَالَ فِی الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَہْرِیْقُوْا عَلَیْہِ ذَنُوْبًا أَوْ سَجْـلًا مِنْ مَائٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱۰۶)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بدّو آیا اور اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پانی کا ایک ڈول اس پر بہاد و۔
Takhreej
(۴۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۱، ومسلم: ۲۸۴ (انظر: ۱۲۰۸۲)
Explanation
فوائد:…روایات کے سیاق و سباق سے پتہ چل رہا ہے کہ اس بدّو کو اسلام کے احکام کا علم نہیں تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو مسجد کے آداب کی تعلیم دی۔ زمین کو پاک کرنے کے دو طریقے ہیں، ایک طریقہ حدیث نمبر (۴۰۱) میں گزر چکا ہے اور اس باب کی احادیث کے مطابق دوسرا طریقہ یہ ہے کہ زمین پر پڑے ہوئے پیشاب پر پانی ڈال دیا جائے، اس طرح کرنے سے نجاست کے بعض اجزاء زمین میں جذب ہو جائیں گے اور بعض پانی کے ساتھ زمین پر بکھر کر زائل ہو جائیں گے اور زمین پاک ہو جائے گی، وہ زمین سخت ہو یا نرم۔ جن روایات میں زمین کو کھودنے کا ذکر ہے، وہ ضعیف ہیں۔ ان احادیث میں تبلیغ و اصلاح کرنے والے لوگوں کو جس حکمت، دانائی اور حسن اخلاق کی تعلیم دی جا رہی ہے، مجموعی لحاظ سے امت ِ مسلمہ ان سے بری طرح غافل ہے، ہم اس طرح کی حرکت دیکھ کر سب سے پہلے اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے جھاگ بہانا شروع کر دیتے ہیں۔ والدین، اساتذہ، بڑے بھائیوں، آجروں اور دوسرے نگران اور کفیل لوگوں نے اصلاح کا یہ واحد طریقہ ایجاد کیا ہوا ہے کہ ماتحت افراد کا جرم دیکھ کر بولنا شروع کر دیا جائے، توہین آمیز کلمات کہے جائیں، ہو سکے تو پٹائی بھی کی جائے اور مجرم کی عزت اور شخصیت کو خاک میں ملا دیا جائے۔ یاد رکھ لیں کہ اس طریقے سے نگران کا غصہ تو دور ہو سکتا ہے، اصلاح نہیں ہو سکتی۔ شریعت نے غصے ہونے اور مارنے کی بھی اجازت دی ہے، لیکن وہ طریقہ اپنانے کے لیے حکیم اور دانا ہونا ضروری ہے۔ غور کریں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اور صحابہ کی موجودگی میں مسجد نبوی میں پیشاب کر دینا کوئی معمولی جرم ہے؟ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس شخص کو ڈانٹنا گوارا نہیں کیا، بلکہ دوسرے صحابہ کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ مسجد کو پاک کرنے کا اہتمام کریں اور خود اس کو اچھے انداز میں سمجھانا شروع کر دیا۔ ہمارے ہاں تو جو بچہ مسجد میں شور کرے یا اس کا پیشاب نکل جائے تو اس بچے کو اور اس کے والدین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا لیا جاتاہے اور اگر والد موجود ہو تو وہ وہیں اپنے بچے کو زد و کوب کرنا شروع کر دیتاہے، جو آدمی موبائل بند نہ کر سکے اور دورانِ نماز اس کی گھنٹی بج جائے تو سلام کے فوراً بعد مستقل نمازی مسجد کو سر پر اٹھا لیتے ہیں، ان بیچاروں کو اتنی سمجھ نہیں ہوتی کہ ان کے بولنے سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ یقین مانیں کہ مبلغ اور مُصلِح افراد کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اس حکمت سے جو سبق حاصل کرنا چاہیے، اس کو قلم بند نہیں جا سکتا ہے، یہ ایک سوچ اور فکر ہے، جو ضمیروں میں پیوست ہو جانی چاہیے جو ہر بدی کا مقابلہ کرتے وقت زندہ ہو جائے۔
413
Sahih