مسنداحمد

Musnad Ahmad

نجاست کو پاک کرنے کے ابواب

زمین کو پیشاب کی نجاست سے پاک کرنے کا بیان

۔ (۴۱۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِیٌّ الْمَسْجِدَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ قَالَ: اَللّٰہُمَّ ارْحَمْنِیْ وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَقَدْ تحَجَّرْتَ وَاسِعًا۔))، ثُمَّ لَمْ یَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِی الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ النَّاسُ اِلَیْہِ،فقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُیَسِّرِیْنَ وَلَمْ تُبْعَثُوْا مُعَسِّرِیْنَ، أَہْرِیْقُوْا عَلَیْہِ دَلْوًا مِنْ مَائٍ۔)) أَوْ ((سَجْلًا مِنْ مَائٍ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۵۴)

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز ادا کر کے یہ دعا کی: اے اللہ! مجھ پر اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تو نے تو وسعت والی چیز کو تنگ کر دیا ہے۔ پھر جلد ہی اُس بدّو نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا، پس لوگ اس کی طرف لپکے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اُن سے ارشاد فرمایا: صرف اور صرف تم لوگوں کو آسانیاں پیدا کرنے والے بنا کر بھیجا گیا ہے اور تنگیاں پیدا کرنے والے بنا کر نہیں بھیجا گیا، اس پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔

۔ (۴۱۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ دَخَلَ أَعْرَابِیٌّ الْمَسْجِدَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ فَقَالَ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلِمُحَمَّدٍ وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا، فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا۔)) ثُمَّ وَلّٰی حَتّٰی اِذَا کَانَ فِیْ نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِفَشَجَ یَبُوْلُ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّمَا بُنِیَ ھٰذَا الْبَیْتُ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَالصَّلَاۃِ وَاِنَّہُ لَا یُبَالُ فِیْہِ۔))، ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَائٍ فَأَفْرَغَہُ عَلَیْہِ، قَالَ: یَقُوْلُ الْأَعْرَابِیُّ بَعْدَ أَنْ فَقِہَ: فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَیَّ، بأَبِیْ ھُوَ وَأُمِّیْ فَلَمْ یَسُبَّ وَلَمْ یُؤَنِّبْ وَلَمْ یَضْرِبْ۔ (مسند أحمد: ۱۰۵۴۰)

۔ (دوسری سند)ایک بدّو مسجد میں داخل ہوا، جبکہ وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف فرما تھے، اس نے دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! مجھے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو بخش دے اور ہمارے ساتھ کسی اور کو نہ بخش، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسکرا پڑے اور فرمایا: تو نے تو وسیع چیز کو تنگ کر دیا ہے۔ پھر وہ چل پڑا اور جب مسجد کے ایک کونے میں پہنچا تو ٹانگیں کھلی کر کے پیشاب کرنے لگ گیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے اور فرمایا: صرف اور صرف اس گھر کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز کے لیے بنایا گیا ہے، اس میں پیشاب نہیں کیا جاتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس پر بہا دیا، وہ بدو دین کی سمجھ آنے کے بعد کہتا تھا: پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ میری طرف کھڑے ہوئے، میرے ماں باپ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر قربان ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نہ مجھے برا بھلا کہا، نہ مجھے ڈانٹ ڈپٹ کی اور نہ مجھے مارا۔

۔ (۴۱۳)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ فَبَالَ فِی الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَہْرِیْقُوْا عَلَیْہِ ذَنُوْبًا أَوْ سَجْـلًا مِنْ مَائٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱۰۶)

سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بدّو آیا اور اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پانی کا ایک ڈول اس پر بہاد و۔