عبد الرحمن بن وہلہ نے سیدنا ابن عباس ؓ سے کہا: بیشک جب ہم جہاد کرتے ہیں تو ہمارے پاس چمڑے اور مشکیزے لائے جاتے ہیں، انھوںنے آگے سے کہا: مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں تجھ سے کیا کہوں، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو چمڑا بھی رنگا جائے، پس تحقیق وہ پاک ہو جاتا ہے۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردار جانوروں کے چمڑوں سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا، بشرطیکہ اس کو رنگ دیا جائے۔
سیدہ عائشہؓ سے یہ بھی روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مردار کے چمڑوںکے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا رنگنا ان کو پاک کرنا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجہ ٔ رسول سیدہ سودہ بنت زمعہ ؓ نے کہا: ہمارے ایک بکری مر گئی تھی، پس ہم نے اس کے چمڑے کو رنگ لیا اور اس میں نبیذ بناتے رہے، یہاں تک کہ وہ بوسیدہ ہو گیا۔
سیدنا سلمہ بن محبقؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گھر کے پاس سے گزرے، اس گھر کے صحن میں لٹکاہوا ایک مشکیزہ تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب کیا، لیکن کہا گیا کہ یہ تو مردار کا چمڑا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چمڑے کو پاک کرنا اس کو رنگنا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اس کو رنگنا اس کو پاک کرنا ہے۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پانی کے ساتھ طلب کیا، پس میں ایک خیمہ میں گیا، اس میں ایک بدّو خاتون تھی، میں نے اس سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور آپ وضو کرنے کے لیے پانی چاہ رہے ہیں، تو کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ اس نے کہا:میرے ماں باپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں، پس اللہ کی قسم! نہ آسمان نے ایسی روح پر سایہ کیا اور نہ زمین نے ایسی روح کو اٹھایا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح کی بہ نسبت مجھے محبوب اور معزَّز ہو، لیکن بات یہ ہے کہ یہ مشکیزہ تو مردار کے چمڑے کا ہے اور میں یہ پسند نہیں کروں گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے ذریعے ناپاک کر دوں، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹا اور یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی طرف واپس جاؤ، اگر تو اس نے اس کو رنگا تھا تو یہی اس کو پاک کرنا ہے۔ پس میں اس کی طرف لوٹا اور اس کو یہ فرمان بتایا، اس نے کہا: جی اللہ کی قسم! میں نے اس کو رنگا تھا، پس میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شامی جُبّہ زین تن کیا ہوا تھا اور دو موزے بھی پہنے ہوئے اور پگڑی بھی باندھی ہوئی تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آستینیں تنگ ہونے کی وجہ سے جُبّہ کے نیچے سے ہاتھ نکال لیے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردار کے چمڑے کے بارے میں فرمایا: بیشک اس کا رنگنا اس کی نجاست کو ختم کر دیتا ہے۔
سیدنا ابن عباس ؓ سے ہی مروی ہے کہ سیدہ میمونہ ؓکی پالتو بکری مر گئی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا، تم نے اس کو رنگ کیوں نہیں لیا، پس یہی اس کو پاک کرنا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ان کی لونڈی کی مردار بکری کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے۔ امام سفیان نے کہا: میں نے صرف اس کا کھانا حرام ہے۔ کے الفاظ صرف امام زہری سے سنے ہیں۔ میرے باپ (امام احمد) نے کہا: سفیان نے دو مرتبہ میمونہ کے واسطہ سے حدیث بیان کی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مردار بکری کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک یہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے۔
زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ کہتی ہے کہ قریش کے چند مردوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا، وہ ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ کر لے جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کاش تم اس کا چمڑا اتار لیتے۔ انھوں نے کہا: یہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی اور قرظ اس کو پاک کر دیں گے۔