TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مردار کے چمڑے کو رنگ کر پاک کرنے کا بیان - مردار کے چمڑے کو رنگ کر پاک کرنے کا بیان - نجاست کو پاک کرنے کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of نجاست کو پاک کرنے کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 10 · 11 Hadith
۔ (۴۱۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ وَہْلَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: اِنَّا نَغْزُوْ فَنُؤْتٰی بِالْاِہَابِ وَالْأَسْقِیَۃِ، قَالَ: مَا أَدْرِیْ مَا أَقُوْلُ لَکَ اِلَّا أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَیُّمَا اِہَابٍ دُبِغَ فقَدْ طَہُرَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۵)
عبد الرحمن بن وہلہ نے سیدنا ابن عباس ؓ سے کہا: بیشک جب ہم جہاد کرتے ہیں تو ہمارے پاس چمڑے اور مشکیزے لائے جاتے ہیں، انھوںنے آگے سے کہا: مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں تجھ سے کیا کہوں، البتہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو چمڑا بھی رنگا جائے، پس تحقیق وہ پاک ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۴۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۶۶(انظر: ۲۴۳۵)
Explanation
فوائد:…رنگنے سے پہلے چمڑے کو اِھَاب اور رنگنے کے بعد شَنّ اور قِرْبَۃ کہتے ہیں۔ امام ابو داؤد نے نضر بن شمیل کے حوالہ سے یہ بات نقل کی ہے لیکن اہل لغت کے ہاں یہ معروف نہیں۔ بلکہ ان کے ہاں معروف یہ ہے کہ شن بوسیدہ مشک کو اور قربہ عام مشک کو کہتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
414
Sahih
۔ (۴۱۵)۔عَنْ عَائِشَۃَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ أَنْ یُنْتَفَعَ بِجُلُوْدِ الْمَیْتَۃِ اِذَا دُبِغَتْ۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۵۱)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مردار جانوروں کے چمڑوں سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا، بشرطیکہ اس کو رنگ دیا جائے۔
Takhreej
(۴۱۵) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۱۲۴، والنسائی: ۷/۱۷۶(انظر: ۲۴۴۴۷)
415
Sahih
۔ (۴۱۶)۔وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ جُلُوْدِ الْمَیْتَۃِ فَقَالَ: ((دِبَاغُہَا طَہُوْرُہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۵۷۲۹)
سیدہ عائشہؓ سے یہ بھی روایت ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے مردار کے چمڑوںکے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ان کا رنگنا ان کو پاک کرنا ہے۔
Takhreej
(۴۱۶) تخریج: انظر الحدیث السابق
416
Sahih
۔ (۴۱۷)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنْ سَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: مَاتَتْ شَاۃٌ لَنَا فَدَبَغْنَا مَسْکَہَا فَمَا زِلْنَا نَنْبِذُ فِیْہِ حَتَّی صَارَ شَنًّا۔ (مسند أحمد: ۲۷۹۶۳)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجہ ٔ رسول سیدہ سودہ بنت زمعہ ؓ نے کہا: ہمارے ایک بکری مر گئی تھی، پس ہم نے اس کے چمڑے کو رنگ لیا اور اس میں نبیذ بناتے رہے، یہاں تک کہ وہ بوسیدہ ہو گیا۔
Takhreej
(۴۱۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۶۸۶(انظر: ۲۷۴۱۸)
417
Sahih
۔ (۴۱۸)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِبَیْتٍ بِفِنَائِہِ قِرْبَۃٌ مُعَلَّقَۃٌ فَاسْتَسْقٰی فَقِیْلَ اِنَّہَا مَیْتَۃٌ فَقَالَ: ((ذَکَاۃُ الْأَدِیْمِ دِبَاغُہُ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((دِبَاغُہَا طَہُوْرُہَا أَوْ ذَکَاتُہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۰۳)
سیدنا سلمہ بن محبقؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک گھر کے پاس سے گزرے، اس گھر کے صحن میں لٹکاہوا ایک مشکیزہ تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی طلب کیا، لیکن کہا گیا کہ یہ تو مردار کا چمڑا ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: چمڑے کو پاک کرنا اس کو رنگنا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اس کو رنگنا اس کو پاک کرنا ہے۔
Takhreej
(۴۱۸) تخریج: مرفوعہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ حال جون بن قتادۃ، ولم یوثقہ غیر ابن حبان ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۱۲۵، النسائی: ۷/۱۷۳(انظر: ۱۵۹۰۸)
418
Sahih
۔ (۴۱۹)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلیِّ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ قَالَ: دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَائٍ فَأَتَیْتُ خِبَائً فَاِذَا فِیْہِ امْرَأَۃٌ أَعْرَابِیَّۃٌ، قَالَ: فَقُلْتُ: اِنَّ ہَذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُرِیْدُ مَائً یَتَوَضَّأُ، فَھَلْ عِنْدَکِ مِنْ مَائٍ؟ قَالَتْ: بِأَبِیْ وَأُمِّیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَوَاللّٰہِ! مَا تُظِلُّ السَّمَائُ وَلَا تُقِلُّ الْاََرْضُ رُوْحًا أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ رُوْحِہِ وَلَا أَعَزَّ، وَلَکِنَّ ہٰذِہِ الْقِرْبَۃَ مَسْکُ مَیْتَۃٍ وَلَا أُحِبُّ أُنَجِّسُ بِہِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَرَجَعْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((ارْجِعْ اِلَیْہَا، فَاِنْ کَانَتْ دَبَغَتْہَا فَہِیَ طَہُوْرُہَا۔)) قَالَ: فَرَجَعْتُ اِلَیْہَا فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہَا فقَالَتْ: اَیْ وَاللّٰہِ! لَقَدْ دَبَغْتُہَا، فَأَتَیْتُہُ بِمَائٍ مِنْہَا وَعَلَیْہِ یَوْمَئِذٍ جُبَّۃٌ شَامِیَّۃٌ وَعَلَیْہِ خُفَّانِ وَ خِمَارٌ، قَالَ: فَأَدْخَلَ یَدَہُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ، قَالَ: مِنْ ضِیْقِ کُمِّہَا، قَالَ: فتَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَی الْخِمَارِ وَالْخُفَّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۴۱۲)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے پانی کے ساتھ طلب کیا، پس میں ایک خیمہ میں گیا، اس میں ایک بدّو خاتون تھی، میں نے اس سے کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہیں اور آپ وضو کرنے کے لیے پانی چاہ رہے ہیں، تو کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ اس نے کہا:میرے ماں باپ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر قربان ہوں، پس اللہ کی قسم! نہ آسمان نے ایسی روح پر سایہ کیا اور نہ زمین نے ایسی روح کو اٹھایا، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی روح کی بہ نسبت مجھے محبوب اور معزَّز ہو، لیکن بات یہ ہے کہ یہ مشکیزہ تو مردار کے چمڑے کا ہے اور میں یہ پسند نہیں کروں گی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس کے ذریعے ناپاک کر دوں، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لوٹا اور یہ بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم اس کی طرف واپس جاؤ، اگر تو اس نے اس کو رنگا تھا تو یہی اس کو پاک کرنا ہے۔ پس میں اس کی طرف لوٹا اور اس کو یہ فرمان بتایا، اس نے کہا: جی اللہ کی قسم! میں نے اس کو رنگا تھا، پس میں پانی لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، اس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے شامی جُبّہ زین تن کیا ہوا تھا اور دو موزے بھی پہنے ہوئے اور پگڑی بھی باندھی ہوئی تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے آستینیں تنگ ہونے کی وجہ سے جُبّہ کے نیچے سے ہاتھ نکال لیے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔
Takhreej
(۴۱۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، معان بن رفاعۃ لین الحدیث، کثیر الارسال، وعلی بن یزید الالھانی ضعیف ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۸۵۹ (انظر: ۱۸۲۲۵)
419
Zaeef
۔ (۴۲۰)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ جُلُوْدِ الْمَیْتَۃِ قَالَ: ((اِنَّ دِبَاغَہُ قَدْ أَذْہَبَ نَجَسَہُ أَوْ رِجْسَہُ أَوْ خَبَثَہُ))(مسند أحمد:۲۸۷۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مردار کے چمڑے کے بارے میں فرمایا: بیشک اس کا رنگنا اس کی نجاست کو ختم کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۴۲۰) تخریج: حسن ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۱۴، والحاکم: ۱/ ۱۶۱، والبیھقی: ۱/ ۱۷ (انظر: ۲۸۷۸)
420
Sahih
۔ (۴۲۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ دَاجِنَۃً لِمَیْمُوْنَۃَ (ؓ) مَاتَتْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَلَا اِنْتَفَعْتُمْ بِاِہَابِہَا، اَ لَا دَبَغْتُمُوْہُ فِاِنَّہُ ذَکَاتُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۰۳)
سیدنا ابن عباس ؓ سے ہی مروی ہے کہ سیدہ میمونہ ؓکی پالتو بکری مر گئی، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا، تم نے اس کو رنگ کیوں نہیں لیا، پس یہی اس کو پاک کرنا ہے۔
Takhreej
(۴۲۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۶۵ (انظر: ۲۰۰۳)
421
Sahih
۔ (۴۲۲)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ (زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم): أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِشَاۃٍ لِمَوْلَاۃٍ لِمَیْمُوْنَۃَ مَیْتَۃٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّمَا حَرُمَ أَکْلُہَا۔)) قَالَ سُفْیَانُ: ہٰذِہِ الْکَلِمَۃُ لَمْ أَسْمَعْہَا اِلَّا مِنَ الزُّہْرِیِّ ((حَرُمَ أَکْلُہَا۔)) قَالَ أَبِیْ: قَالَ سُفْیَانُ مَرَّتَیْنِ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ۔ (مسند أحمد: ۳۰۱۶)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ان کی لونڈی کی مردار بکری کے پاس سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے۔ امام سفیان نے کہا: میں نے صرف اس کا کھانا حرام ہے۔ کے الفاظ صرف امام زہری سے سنے ہیں۔ میرے باپ (امام احمد) نے کہا: سفیان نے دو مرتبہ میمونہ کے واسطہ سے حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۴۲۲) تخریج: انظر الحدیث الآتی (انظر: ۲۳۶۹)
422
Sahih
۔ (۴۲۳)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِشَاۃٍ مَیْتَۃٍ فَقَالَ: ((ہَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِاِہَابِہَا۔)) فقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہا مَیْتَۃٌ، فَقَالَ: ((اِنَّمَا حَرُمَ أَکْلُہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۳۶۹)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مردار بکری کے پاس سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک یہ تو مردار ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے۔
Takhreej
(۴۲۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۲۱، ۵۵۳۱، ومسلم: ۳۶۳ (انظر: ۲۳۶۹)
423
Sahih
۔ (۴۲۴)۔عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرِجَالٍ مِنْ قُرَیْشٍ یَجُرُّوْنَ شَاۃً لَہُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَوْ أَخَذْتُمْ اِہَابَہَا)) قَالُوْا: اِنَّہَا مَیْتَۃٌ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یُطَہِّرُہَا الْمَائُ وَالْقَرَظُ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۳۷۰)
زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ کہتی ہے کہ قریش کے چند مردوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا گزر ہوا، وہ ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ کر لے جا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: کاش تم اس کا چمڑا اتار لیتے۔ انھوں نے کہا: یہ تو مردار ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پانی اور قرظ اس کو پاک کر دیں گے۔
Takhreej
(۴۲۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف رشدین بن سعد ولجھالۃ عبد اللہ بن مالک وجھالۃ امہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۱۲۶، والنسائی: ۷/ ۱۷۴(انظر: ۲۶۸۳۳)
Explanation
فوائد:…قرظ: یہ کیکر کے مشابہ ایک درخت ہوتا ہے، جس کے پتوں سے چمڑے کی دباغت کی جاتی ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مردار کا چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے، لیکن وہ اس عمل سے حلال نہیں ہوتا، حرام ہی رہتا ہے، اس طرح ایسے چمڑے کا کوئی جزو کھانا جائز نہیں ہو گا، ہم بلی کے جوٹھے کا حکم بیان کرتے وقت یہ و ضاحت کر آئے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ایک چیز حرام ہو، لیکن پاک ہو، جیسے بلی ہے، کسی چیز کے حرام ہونے سے اس کا نجس ہونا لازم نہیں آتا، وہ اس وقت نجس ہو گی، جب شریعت اس کی وضاحت کرے گی۔
424
Zaeef