۔ (۴۱۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ وَہْلَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: اِنَّا نَغْزُوْ فَنُؤْتٰی بِالْاِہَابِ وَالْأَسْقِیَۃِ، قَالَ: مَا أَدْرِیْ مَا أَقُوْلُ لَکَ اِلَّا أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((أَیُّمَا اِہَابٍ دُبِغَ فقَدْ طَہُرَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۵)
عبد الرحمن بن وہلہ نے سیدنا ابن عباس ؓ سے کہا: بیشک جب ہم جہاد کرتے ہیں تو ہمارے پاس چمڑے اور مشکیزے لائے جاتے ہیں، انھوںنے آگے سے کہا: مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں تجھ سے کیا کہوں، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو چمڑا بھی رنگا جائے، پس تحقیق وہ پاک ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۴۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۶۶(انظر: ۲۴۳۵)
Explanation
فوائد:…رنگنے سے پہلے چمڑے کو اِھَاب اور رنگنے کے بعد شَنّ اور قِرْبَۃ کہتے ہیں۔
امام ابو داؤد نے نضر بن شمیل کے حوالہ سے یہ بات نقل کی ہے لیکن اہل لغت کے ہاں یہ معروف نہیں۔ بلکہ ان کے ہاں معروف یہ ہے کہ شن بوسیدہ مشک کو اور قربہ عام مشک کو کہتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
414
Sahih