ثابت بن اسلم بنانی کہتے ہیں: میں عبدالرحمن بن ابولیلی کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، پس ایک موٹا سا آدمی آیا اور اس نے کہا: اے ابوعیسی (عبدالرحمن)! انھوں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: تم نے فِرَاء کے بارے جو کچھ سنا ہے، وہ بیان کرو، پس انھوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا، انھوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیامیں فِرَاء میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر رنگنے کا کیا فائدہ ہوا؟ جب وہ چلا گیا تو میں (ثابت) نے کہا: یہ آدمی کون تھا؟ عبد الرحمن نے کہا: یہ سوید بن غفلہ تھے۔