سیدنا عبد اللہ بن عُکَیم جہنی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے پاس جہینہ کی سرزمین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط آیا، جبکہ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا، (اس خط میں لکھا ہوا تھا:) تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل ہماری طرف یہ حکم لکھا کہ تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔
۔ (تیسری سند) وہ کہتے ہیں: ہمارے پاس جہینہ کی سرزمین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک خط آیا، جبکہ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے ایک یا دو ماہ پہلے کی بات تھی، اس میں لکھا تھا: تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ حاصل نہ کرو۔
۔ (چوتھی سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف یہ خط لکھا کہ تم مردار کے چمڑے سے استفادہ نہ کرو اور نہ اس کے پٹھے سے۔
۔ (پانچویں سند) وہ کہتے ہیں: ہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خط پڑھا گیا کہ تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔