مسنداحمد

Musnad Ahmad

نجاست کو پاک کرنے کے ابواب

مردار کے چمڑے اور پٹھے سے استفادہ کرنے کے ناجائز ہونے کا بیان اور عدم جواز اور جواز پر دلالت کرنے والی احادیث میں جمع و تطبیق کا بیان

۔ (۴۲۷)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُکَیْمٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ: أَتَانَا کِتَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَرْضِ جُہَیْنَۃَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ ((أَنْ لَا تَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ)) (مسند أحمد: ۱۸۹۸۷)

سیدنا عبد اللہ بن عُکَیم جہنی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے پاس جہینہ کی سرزمین میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا خط آیا، جبکہ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا، (اس خط میں لکھا ہوا تھا:) تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔

۔ (۴۲۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: کَتَبَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ وفَاتِہِ بِشَہْرٍ ((أَنْ لَا تَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ)) (مسند أحمد: ۱۸۹۸۹)

۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل ہماری طرف یہ حکم لکھا کہ تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔

۔ (۴۲۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ قَالَ: اَتَانَا کِتَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَرْضِ جُہَیْنَۃَ قَالَ: وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ قَبْلَ وَفَاتِہٖ بِشَہْرٍ أَوْ شَہْرَیْنِ ((أَنْ لَاتَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۹۹۰)

۔ (تیسری سند) وہ کہتے ہیں: ہمارے پاس جہینہ کی سرزمین میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ایک خط آیا، جبکہ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی وفات سے ایک یا دو ماہ پہلے کی بات تھی، اس میں لکھا تھا: تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ حاصل نہ کرو۔

۔ (۴۳۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رابع)۔قَالَ: جَائَ نا، أَوْ قَالَ: کَتَبَ اِلَیْنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَنْ لَّا تَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۹۹۱)

۔ (چوتھی سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہماری طرف یہ خط لکھا کہ تم مردار کے چمڑے سے استفادہ نہ کرو اور نہ اس کے پٹھے سے۔