مسنداحمد

Musnad Ahmad

نجاست کو پاک کرنے کے ابواب

کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان

۔ (۴۳۲)۔ عَنْ أَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا أَھْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی وَالْمَجُوْسِ وَلَا نَجِدُ غَیْرَ آنِیَتِہِمْ، قَالَ: ((فَاِنْ لَمْ تَجِدُوْا غَیْرَہَا فَاغْسِلُوْہَا بِالْمَائِ ثُمَّ کُلُوْا فِیْھَا وَاشْرَبُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۸۵)

سیدنا ابو ثعلبہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم سفر کرنے والے لوگ ہیں اور یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے پاس سے ہمارا گزر ہوتا رہتا ہے اور ہمیں صرف اِن کے ہی برتن مل سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پس اگر تمہیں دوسرے برتن نہ مل سکیں تو اِن کو پانی کے ساتھ دھو کر اِن میں کھا پی لیا کرو۔

۔ (۴۳۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ أَرَضَنَا أَرْضُ أَھْلِ کِتَابٍ وَاِنَّہُمْ یَأْکُلُوْنَ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ وَیَشْرَبُوْنَ الْخَمْرَ فَکَیْفَ أَصْنَعُ بِآنِیَتِہِمْ وَ قُدُوْرِہِمْ؟ قَالَ: ((اِنْ لَمْ تَجِدُوْا غَیْرَہَا فَارْحَضُوْہَا وَاطْبَخُوْا فِیْھَا وَاشْرَبُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۸۹)

۔ (دوسری سند) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ہمارا علاقہ، اہل کتاب کا علاقہ ہے اور وہ خنزیر کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور شراب بھی پیتے ہیں، اب میں ان کے برتنوں اور ہنڈیوں کے ساتھ کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر تم کو اور برتن نہ ملیں تو اُن کو دھو کر ان میں پکا لیا کرو اور اُن میں پی لیا کرو۔

۔ (۴۳۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: کُنَّا نُصِیْبُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ الْأَسْقِیَۃَ وَالْأَوْعِیَۃَ فَنَقْتَسِمُہَا وَکُلُّہَا مَیْتَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۱۴۵۵۵)

سیدنا جابر بن عبد اللہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ہوتے اور مشرکوں سے حاصل شدہ غنیمتوں میںمشکیزے اور برتن بھی ہمیں مل جاتے تھے لیکن ہم ان کو تقسیم کر لیتے تھے، جبکہ وہ سب مردار جانوروں کے ہوتے تھے۔

۔ (۴۳۵)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ یَہُوْدِیًّا دَعَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی خُبْزِ شَعِیْرٍ وَاِہَالَۃٍ سَنِخَۃٍ فَأَجَابَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۳۲۳۳)

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو جَو کی روٹی اور بو بدلی ہوئی چربی والے سالن کی دعوت دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وہ قبول کی۔