TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان - کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان - نجاست کو پاک کرنے کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of نجاست کو پاک کرنے کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 10 · 4 Hadith
۔ (۴۳۲)۔ عَنْ أَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا أَھْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی وَالْمَجُوْسِ وَلَا نَجِدُ غَیْرَ آنِیَتِہِمْ، قَالَ: ((فَاِنْ لَمْ تَجِدُوْا غَیْرَہَا فَاغْسِلُوْہَا بِالْمَائِ ثُمَّ کُلُوْا فِیْھَا وَاشْرَبُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۸۵)
سیدنا ابو ثعلبہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم سفر کرنے والے لوگ ہیں اور یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے پاس سے ہمارا گزر ہوتا رہتا ہے اور ہمیں صرف اِن کے ہی برتن مل سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پس اگر تمہیں دوسرے برتن نہ مل سکیں تو اِن کو پانی کے ساتھ دھو کر اِن میں کھا پی لیا کرو۔
Takhreej
(۴۳۲) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۸۳۹، وابن ماجہ: ۲۸۳۱، الترمذی: ۱۴۶۴(انظر: ۱۷۷۳۳)
432
Sahih
۔ (۴۳۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ أَرَضَنَا أَرْضُ أَھْلِ کِتَابٍ وَاِنَّہُمْ یَأْکُلُوْنَ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ وَیَشْرَبُوْنَ الْخَمْرَ فَکَیْفَ أَصْنَعُ بِآنِیَتِہِمْ وَ قُدُوْرِہِمْ؟ قَالَ: ((اِنْ لَمْ تَجِدُوْا غَیْرَہَا فَارْحَضُوْہَا وَاطْبَخُوْا فِیْھَا وَاشْرَبُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۸۹)
۔ (دوسری سند) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ہمارا علاقہ، اہل کتاب کا علاقہ ہے اور وہ خنزیر کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور شراب بھی پیتے ہیں، اب میں ان کے برتنوں اور ہنڈیوں کے ساتھ کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر تم کو اور برتن نہ ملیں تو اُن کو دھو کر ان میں پکا لیا کرو اور اُن میں پی لیا کرو۔
Takhreej
(۴۳۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
433
Sahih
۔ (۴۳۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: کُنَّا نُصِیْبُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ الْأَسْقِیَۃَ وَالْأَوْعِیَۃَ فَنَقْتَسِمُہَا وَکُلُّہَا مَیْتَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۱۴۵۵۵)
سیدنا جابر بن عبد اللہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ہوتے اور مشرکوں سے حاصل شدہ غنیمتوں میںمشکیزے اور برتن بھی ہمیں مل جاتے تھے لیکن ہم ان کو تقسیم کر لیتے تھے، جبکہ وہ سب مردار جانوروں کے ہوتے تھے۔
Takhreej
(۴۳۴) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱/ ۴۷۳ (انظر: ۱۴۵۰۱)
Explanation
فوائد:… وہ سب مردار جانوروں کے ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کافروں کے ذبح کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا تھا۔لیکن مالِ غنیمت یا اس قسم کے دیگر مالوں کے بارے میں ہماری شریعت کا قانون یہ ہے کہ جب تک چیز کے حرام ہونے کی واضح دلیل نہیں ہو گی، اس وقت تک اس کو پاک اور جائز ہی سمجھا جائے گا، مشکیزوں کے بارے میں یہ احتمالات اور امکانات موجود ہیں کہ انھوں نے ان کو رنگا ہو یا اہل کتاب کے علاقوں سے منگوایا ہو یا وہ جانور اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا ہو۔
434
Sahih
۔ (۴۳۵)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ یَہُوْدِیًّا دَعَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی خُبْزِ شَعِیْرٍ وَاِہَالَۃٍ سَنِخَۃٍ فَأَجَابَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۳۲۳۳)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو جَو کی روٹی اور بو بدلی ہوئی چربی والے سالن کی دعوت دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وہ قبول کی۔
Takhreej
(۴۳۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۳۲۰۱)
Explanation
فوائد:…ایک طرف تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ یہودی کی دعوت قبول کر رہے ہیں اور دوسری طرف فرما رہے ہیں کہ اگر صحابہ کو کوئی اور برتن نہ ملیں تو یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے برتنوں کو دھو کر استعمال کریں۔ جمع تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جب غیر مسلم اپنے برتنوں میں ایسی چیز پکاتے ہوں، جو مسلمانوں پر حرام ہے، تو مجبوری کے وقت ان کے برتن دھو کر استعمال کیے جائیں اور اگر یہ لوگ ایسی چیزیں استعمال کرتے ہوں جو مسلمانوں کے لیے حلال ہوں یا مسلمانوں کو ایسی چیزوں کی دعوت دیں تو ان کے برتن بھی پاک ہوں گے اور کھانا بھی جائز ہو گا۔
435
Sahih