مسنداحمد

Musnad Ahmad

نجاست کو پاک کرنے کے ابواب

کھائی جانے والی ان چیزوں کو پاک کرنے کا بیان، جن میں نجاست گر جاتی ہے

۔ (۴۳۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ فَأْرَۃٍ وَقَعَتْ فِیْ سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَقَالَ: ((اِنْ کَانَ جَامِدًا فَخُذُوْہَا وَمَا حَوْلَہَا ثُمَّ کُلُوْا مَا بَقِیَ وَاِنْ کَانَ مَائِعًا فَلَا تَأْکُلُوْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۳۶۰)

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس چوہے کے بارے میں سوال کیا گیا، جو گھی میں گر کر مر جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر گھی جامد ہو تو اس چوہے کو اور اس کے ارد گرد والے گھی کونکال دو اور اگر وہ مائع ہو تو اس کو کھانے کے لیے استعمال نہ کرو۔

۔ (۴۳۷)۔ عَنْ أَبِیْ الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًاؓ عَنِ الْفَأْرَۃِ تَمُوْتُ فِی الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ أَطْعَمُہُ؟ قَالَ: لَا، زَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، کُنَّا نَضَعُ السَّمْنَ فِی الْجِرَارِ، فَقَالَ: ((اِذَا مَاتَتِ الْفَأْرَۃُ فِیْہِ فَلَا تَطْعَمُوْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۳۹)

ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ؓ سے سوال کیا کہ جس کھانے یا پینے میں چوہا گر جاتا ہے کیا میں اس کو کھا سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے منع فرمایا ہے، ہم لوگ گھڑوں میں گھی رکھا کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ایسے برتن میں چوہا مر جائے تو اس کو نہ کھایا کرو۔

۔ (۴۳۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ (زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) أَنَّ فَأْرَۃً وَقَعَتْ فِیْ سَمْنٍ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: جَامِدٍ) فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((خُذُوْہَا وَمَا حَوْلَہَا فَأَلْقُوْہُ وَکُلُوْہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۳۸۴)

سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک چوہیا جمے ہوئے گھی میں گر کر مر گئی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو اور اس کے ارد گرد والے گھی کو نکال کر پھینک دو اور باقی کو کھا لو۔