مسنداحمد

Musnad Ahmad

یوم عاشوراء

ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان

۔ (۳۹۱۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ یَوْمُ عَاشُوْرَائَ یَوْمًایَصُوْمُہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، وَکَانَتْ قُرَیْشٌ تَصُوْمُہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ صَامَہُ وَاَمَرَ بِصِیَامِہِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ کَانَ رَمَضَانُ ہُوَ الْفَرِیْضَۃُ وَتُرِکَ عَاشُوْرَائُ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۰۸)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دورِ جاہلیت میںیومِ عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے اور قریش بھی دورِ جاہلیت میں اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں بھی اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس روزے کاحکم دیا، لیکن جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو وہی روزے فرض ٹھہرے اور یومِ عاشوراء کے روزے کو ترک کر دیا گیا۔

۔ (۳۹۱۹) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَلَمَّا نَزَلَتْ فَرِیْضَۃُ شَہْرِ رَمَضَانَ کَانَ رَمَضَانُ ہُوَ الَّذِییَصُوْمُہُ، وَتَرَکَ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ، فَمَنْ شَائَ صَامَہُ وَمَنْ شَائَ اَفْطَرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۱۲)

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: جب ماہِ رمضان کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی کے روزے رکھا کرتے تھے اور یومِ عاشوراء کا روزہ ترک کر دیا تھا، اب جو چاہے اس دن کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے وہ نہ رکھے۔

۔ (۳۹۲۰) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: دَخَلَ الْاَشْعَتُ بْنُ قَیْسٍ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ وَہُوَ یَتَغَدّٰی، فَقَالَ: یَا اَبَا مُحَمَّدٍ! اُدْنُ لِلْغَدَائِ، قَالَ: اَوْ لَیْسَ الْیَوْمُ عَاشُوْرَائَ؟ قَالَ: وَتَدْرِی مَا یَوْمُ عَاشُوْرَائَ؟ إِنَّمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُہُ قَبْلَ اَنْ یَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا اُنْزِلَ رَمَضَانُ تُرِکَ۔ (مسند احمد: ۴۰۲۴)

۔ عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں: اشعت بن قیس عاشوراء والے دن سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے، انھوں نے کہا: ابومحمد! کھانا کھانے کے لیے قریب آ جاؤ۔ اشعث نے کہا: کیا آج یومِ عاشوراء نہیں ہے؟ انھوںنے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ عاشوراء ہے کیا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرضیت ِرمضان کے نزول سے قبل اس دن روزہ رکھا کرتے تھے، جب ماہِ رمضان کا حکم نازل ہوا تو اس دن کا روزہ ترک کر دیا گیا۔

۔ (۳۹۲۱) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ فِی عَاشُوْرَائَ: صَامَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَمَرَ بِصَوْمِہِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تَرَکَ، فَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ لَا یَصُوْمُہُ إِلاَّ اَنْ یَاْتِی عَلٰی صَوْمِہِ۔ (مسند احمد: ۴۴۸۳)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یومِ عاشوراء کے بارے میں کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن کو خود بھی روزہ رکھا تھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا تھا، لیکن جب ماہِ رمضان فرض ہوا تو اس دن کا روزہ ترک کر دیا گیا۔ پس سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس دن کا روزہ نہیں رکھا کرتے تھے، الّایہ کہ ان کے معمول کا دن اس رو ز کو آجاتا۔

۔ (۳۹۲۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ یَوْمُ عَاشُوْرَائَ یَوْمًایَصُوْمُہُ اَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانَ سُئِلَ عَنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہُوَ یَوْمٌ مِنْ اَیَّامِ اللّٰہِ تَعَالٰی مَنْ شَائَ صَامَہُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَہُ۔)) (مسند احمد: ۵۲۰۳)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: دورِ جاہلیت والے لوگ یومِ عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے، لیکن جب ماہِ رمضان کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس روزے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے، جو چاہے اس کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔

۔ (۳۹۲۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمَرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یَاْمُرُنَا بِصِیَامِ عَاشُوْرَائَ وَیَحُثُّنَا عَلَیْہِ وَیَتَعَاہَدُنَا عِنْدَہُ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ یَاْمُرْنَا وَلَمْیَنْہَنَا عَنْہُ وَلَمْ یَتَعَاہَدْنَا عِنْدَہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۱۵)

۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیںیومِ عاشوراء کو روزہ رکھنے کا حکم فرماتے، اس کی ترغیب دلاتے اور جب یہ دن قریب ہوتا تو ہمیں اس کی توجہ بھی دلاتے، لیکن جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہ ہمیں اس کا حکم دیا، نہ اس سے منع کیا اور نہ اس دن کی آمد پر توجہ دلائی۔

۔ (۳۹۲۴) عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَمَرَنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ نَصُوْمَ عَاشُوْرَائَ قَبْلَ اَنْ یَنْزِلَ رَمَضَانُ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ لَمْ یَاْمُرْنَا وَلَمْ یَنْہَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۵۶)

۔ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ماہِ رمضان کی فرضیت سے قبل یومِ عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ تو اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع فرمایا، البتہ ہم اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔

۔ (۳۹۲۵) عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ اَنَّہُ سَمِعَ مُعَاوِیَۃَ (بْنَ اَبِیْ سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌)

۔ حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مدینہ منورہ میں خطبہ دیا اور کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ یہیومِ عاشوراء ہے، اس دن کا روزہ ہم پر فرض نہیں کیا گیا، اس لیے تم میں سے جو آدمی اس کا رکھنا چاہتا ہو، وہ رکھے، البتہ میں تو روزے سے ہوں۔ پھر لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا۔

۔ (۳۹۲۶) عَنِ الْحَکَمِ بْنِ الاَعْرَجِ قَالَ: اَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَہُوَ مُتَّکِیٌٔ عِنْدَ زَمْزَمَ فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ وَکَانَ نِعْمَ الْجَلِیْسُ، فَقُلْتُ: اَخْبِرْنِی عَنْ یَوْمِ عَاشُوْرَائَ۔ قَالَ: عَنْ اَیِّ بَالِہِ تَسْاَلُ؟ قُلْتُ: عَنْ صَوْمِہِ، قَالَ: إِذَا رَاَیْتَ ہِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا اَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعِہٖفَاَصْبِحْمِنْہَاصَائِمًا،قُلْتُ: اَکَذَاکَکَانَیَصُوْمُہُ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّم؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۵)

۔ حکم بن اعرج کہتے ہیں: میں سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ زمزم کے کنویں کے قریب ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے۔ میں نے پوچھا: آپ مجھے یومِ عاشورہ کے بارے میں بتائیں۔ انھوں نے کہا: اس کی کون سی حالت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اس دن کے روزے کے بارے میں، انھوں نے کہا: جب ماہ محرم کا چاند دیکھو، تو تاریخ کو شمار کرتے رہو، جب ۹ محرم کی صبح ہو جائے تو اس دن روزہ رکھو۔میں نے پوچھا:’کیا محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی طرح روزہ رکھا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔

۔ (۳۹۲۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ، بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) إِذْ اَنْتَ اَہْلَلْتَ الْمُحَرَّمَ فَاعْدُدْ تِسْعًا ثُمَّ اَصْبِحْ یَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا۔ اَلْحَدِیْثَ کَمَا تَقَدَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۴)

۔ (دوسری سند) اس میں ہے: جب تم ماہِ محرم کا چاند دیکھو تو (۹) محرم تک شمار کرتے رہو اور نویں محرم کی صبح روزہ کی حالت میں کرو۔ باقی حدیث اوپر والی ہی ہے۔

۔ (۳۹۲۸) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَئِنْ بَقِیْتُ إِلٰی قَابِلٍ لَاَصُوْمَنَّ الْیَوْمَ التَّاسِعَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۱)

۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نو محرم کو ضرور روزہ رکھوں گا۔

۔ (۳۹۲۹) وَعَنْہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( صُوْمُوْا یَوْمَ عَاشُوْرَائَ وَخَالِفُوْا فِیْہِ الْیَہُوْدَ وَصُوْمُوْا قَبْلَہُ یَوْمًا اَوْ بَعْدَہُ یَوْمًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۴)

۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یومِ عاشوراء کو روزہ رکھا کرو، البتہ اس کے معاملے میں یہودیوں کی مخالفت کیا کرو اور وہ اس طرح کہ اس سے ایک دن کا روزہ رکھ لیا کرو یا اس کے بعد۔

۔ (۳۹۳۰) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیْمٍ قَالَ: سَاَلْتُ سَعِیْدَ بْنَ جُبَْیرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ کَیْفَ تَرٰی فِیْہِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِیْ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یُفْطِرُ، وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یَصُوْمُ۔ (مسند احمد: ۳۰۰۹)

۔ عثمان بن حکیم کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے ماہِ رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا کہ اس بارے میں ان کی کیا رائے ہے؟انہوں نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی وقت اس قدر کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنے عرصے کے لیے روزے ترک کرنا شروع کر دیتے کہ ہم یہ سمجھتے اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی بھی روزہ نہیں رکھیں گے۔

۔ (۳۹۳۱) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یُفْطِرُ، وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یَصُوْمُ، وَمَا صَامَ شَہْرًا تَامًّا (وَفِی لَفْظٍ مُتَتَابِعًا) مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِیْنَۃِ إِلَّا رَمَضَانَ ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۸)

۔ (دوسری سند) سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بسا اوقات تو اس قدر کثرت سے روزے رکھتے کہ ہمیہ کہنے لگ جاتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنا طویل عرصہ روزہ نہ رکھتے کہ ہمیں یہ خیال آنے لگتا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ نہیں رکھیں گے اور جب سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے۔

۔ (۳۹۳۲) عَنْ اَبِیْ السَّلِیْلِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِی مُجِیْبَۃُ، عَجُوْزٌ مِنْ بَاھِلَۃَ عَنْ اَبِیْہَا، اَوْ عَمِّہَا، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِحَاجَۃٍ مَرَّۃً، فَقَالَ: ((مَنْ اَنْتَ؟)) قَالَ: اَوَمَا تَعْرِفُنِی؟ قَالَ: ((وَمَنْ اَنْتََ)) قَالَ: اَنَا الْبَاہِلِیُّ الَّذِی اَتَیْتُکَ عَامَ اَوَّلٍ،قَالَ: ((فَإِنَّکَ اَتَیْتَنِی وَجِسْمُکَ وَلَوْنُکَ وَہَیْئَتُکَ حَسَنَۃٌ فَمَا بَلَغَ بِکَ مَا اَرٰی)) فَقَالَ: إِنِّی وَاللّٰہِ مَا اَفْطَرْتُ بَعْدَکَ إِلَّا لَیْلًا، قَالَ: ((مَنْ اَمَرَکَ اَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَکَ؟ مَنْ اَمَرَکَ اَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَکَ؟ مَنْ اَمَرَکَ اَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَکَ؟ ثلَاَثَ مَرَّاتٍ، صُمْ شَہْرَ الصَّبْرِ، رَمَضَانَ۔)) قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِیْ،فَقَالَ: ((فَصُمْ یَوْمًا مِنَ الشَّہْرِ۔)) قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِیْ، قَالَ: ((فَیَوْمَیْنِ مِنَ الشَّہْرِ۔)) قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِیْ، قَالَ: ((وَمَا تَبْتَغِی عَنْ شَہْرِ الصَّبْرِ وَیَوْمَیْنِ مِنَ الشَّہْرِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِی قَالَ: ((فَثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنَ الشَّہْرِ۔)) قَالَ: وَاَلْحَمَ عِنْدَ الثَّالِثَۃِ فَمَا کَادَ، قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً، وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِی، قَالَ: ((فَمِنَ الْحُرُمِ وَاَفْطِرْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۸۹)

۔ مُجِیْبَہ کے باپ یا چچا سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دفعہ کسی کام کی غرض سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے نہیں پہچانتے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: تم ہو کون؟ اس نے کہا: میں باہلہ قبیلہ کا وہی آدمی ہوں، جو گزشتہ سال آپ کے پاس آیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اس وقت آئے تھے، توتمہارا جسم، رنگت اور ہیئت بہت اچھی تھی، اب تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے جانے کے بعد میں نے ایک دن بھی روزہ ترک نہیں کیا، وگرنہ مسلسل روزے رکھتا رہا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے کہا ہے کہ اپنے آپ کو تکلیف دو؟ تمہیں کس نے حکم دیا کہ تم اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرو؟ کس نے تمہیںیہ کہا کہ خود کو تکلیف دو؟ تم صرف ماہِ صبر یعنی رمضان کے روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا : میرے اندر طاقت ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے اس سے زیادہ روزے رکھنے کی اجازت دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا تم ایک مہینہ میں ایک دن روزہ رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ رکھ سکتا ہوں، مجھ میں طاقت ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مہینہ میں دو دن روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے مزید روزے رکھنے کی اجازت دے دیں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ماہِ صبر یعنی رمضان اور اس کے علاوہ ہر مہینے میں دو روزوں کے علاوہ مزید کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میں اپنے آپ کو طاقت والا سمجھتا ہوں، لہٰذا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے اس سے زیادہ روزے رکھنے کیا جازت دے دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو ہر ماہ میں تین روزے رکھ لیا کرو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر رک گئے اور قریب تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے زیادہ اجازت نہیں دیں گے، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، مزید کی اجازت دے دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر حرمت والے مہینوں میں روزے رکھ بھی لیا کرو اور ترک بھی کر دیا کرو۔