TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان - ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان - یوم عاشوراء - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of یوم عاشوراء in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 35 · 15 Hadith
۔ (۳۹۱۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ یَوْمُ عَاشُوْرَائَ یَوْمًایَصُوْمُہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، وَکَانَتْ قُرَیْشٌ تَصُوْمُہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ صَامَہُ وَاَمَرَ بِصِیَامِہِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ کَانَ رَمَضَانُ ہُوَ الْفَرِیْضَۃُ وَتُرِکَ عَاشُوْرَائُ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۰۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دورِ جاہلیت میںیومِ عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے اور قریش بھی دورِ جاہلیت میں اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں بھی اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس روزے کاحکم دیا، لیکن جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو وہی روزے فرض ٹھہرے اور یومِ عاشوراء کے روزے کو ترک کر دیا گیا۔
Takhreej
(۳۹۱۸) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۰۰۲، ومسلم: ۱۱۲۵(انظر: ۲۵۲۹۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ یوم عاشوراء کی فرضیت کا مسئلہ صرف ایک سال پیش آیا تھا، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کے سفر میں ربیع الاول میں مدینہ منورہ پہنچے تھے، (۹) مہینوں کے بعد محرم کا مہینہ آیا اور عاشوراء کے دن کے روزے کا مسئلہ پیدا ہوا، پھر اسی سال کے رمضان میں روزے فرض ہو گئے تھے اور یوم عاشوراء کی حیثیت مستحبّ کی رہ گئی تھی۔
3918
Sahih
۔ (۳۹۱۹) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَلَمَّا نَزَلَتْ فَرِیْضَۃُ شَہْرِ رَمَضَانَ کَانَ رَمَضَانُ ہُوَ الَّذِییَصُوْمُہُ، وَتَرَکَ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ، فَمَنْ شَائَ صَامَہُ وَمَنْ شَائَ اَفْطَرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۱۲)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: جب ماہِ رمضان کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی کے روزے رکھا کرتے تھے اور یومِ عاشوراء کا روزہ ترک کر دیا تھا، اب جو چاہے اس دن کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے وہ نہ رکھے۔
Takhreej
(۳۹۱۹) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3919
Sahih
۔ (۳۹۲۰) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: دَخَلَ الْاَشْعَتُ بْنُ قَیْسٍ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ وَہُوَ یَتَغَدّٰی، فَقَالَ: یَا اَبَا مُحَمَّدٍ! اُدْنُ لِلْغَدَائِ، قَالَ: اَوْ لَیْسَ الْیَوْمُ عَاشُوْرَائَ؟ قَالَ: وَتَدْرِی مَا یَوْمُ عَاشُوْرَائَ؟ إِنَّمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُہُ قَبْلَ اَنْ یَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا اُنْزِلَ رَمَضَانُ تُرِکَ۔ (مسند احمد: ۴۰۲۴)
۔ عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں: اشعت بن قیس عاشوراء والے دن سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے، انھوں نے کہا: ابومحمد! کھانا کھانے کے لیے قریب آ جاؤ۔ اشعث نے کہا: کیا آج یومِ عاشوراء نہیں ہے؟ انھوںنے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ عاشوراء ہے کیا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرضیت ِرمضان کے نزول سے قبل اس دن روزہ رکھا کرتے تھے، جب ماہِ رمضان کا حکم نازل ہوا تو اس دن کا روزہ ترک کر دیا گیا۔
Takhreej
(۳۹۲۰) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۲۷(انظر: ۴۰۲۴)
3920
Sahih
۔ (۳۹۲۱) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ فِی عَاشُوْرَائَ: صَامَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَمَرَ بِصَوْمِہِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تَرَکَ، فَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ لَا یَصُوْمُہُ إِلاَّ اَنْ یَاْتِی عَلٰی صَوْمِہِ۔ (مسند احمد: ۴۴۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یومِ عاشوراء کے بارے میں کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن کو خود بھی روزہ رکھا تھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا تھا، لیکن جب ماہِ رمضان فرض ہوا تو اس دن کا روزہ ترک کر دیا گیا۔ پس سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس دن کا روزہ نہیں رکھا کرتے تھے، الّایہ کہ ان کے معمول کا دن اس رو ز کو آجاتا۔
Takhreej
(۳۹۲۱) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۸۹۲، ومسلم: ۲۲۱۶(انظر: ۴۴۸۳)
Explanation
فوائد:… بہرحال یومِ عاشوراء کے روزے کی فضیلت باقی ہے، لیکن اب اس کے ساتھ (۹) محرم کا بھی روزہ رکھنا چاہیے، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عزم سے معلوم ہوتا ہے۔ عاشوراء کے حوالہ سے روزہ صرف نو محرم کا یا ساتھ ہی دس محرم کا بھی ہوگا اس کی بحث آگے آرہی ہے۔
3921
Sahih
۔ (۳۹۲۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ یَوْمُ عَاشُوْرَائَ یَوْمًایَصُوْمُہُ اَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانَ سُئِلَ عَنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہُوَ یَوْمٌ مِنْ اَیَّامِ اللّٰہِ تَعَالٰی مَنْ شَائَ صَامَہُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَہُ۔)) (مسند احمد: ۵۲۰۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: دورِ جاہلیت والے لوگ یومِ عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے، لیکن جب ماہِ رمضان کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس روزے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے، جو چاہے اس کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔
Takhreej
(۳۹۲۲) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۴۵۰۱، ومسلم: ۱۱۲۶(انظر: ۵۲۰۳)
3922
Sahih
۔ (۳۹۲۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمَرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یَاْمُرُنَا بِصِیَامِ عَاشُوْرَائَ وَیَحُثُّنَا عَلَیْہِ وَیَتَعَاہَدُنَا عِنْدَہُ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ یَاْمُرْنَا وَلَمْیَنْہَنَا عَنْہُ وَلَمْ یَتَعَاہَدْنَا عِنْدَہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۱۵)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیںیومِ عاشوراء کو روزہ رکھنے کا حکم فرماتے، اس کی ترغیب دلاتے اور جب یہ دن قریب ہوتا تو ہمیں اس کی توجہ بھی دلاتے، لیکن جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہ ہمیں اس کا حکم دیا، نہ اس سے منع کیا اور نہ اس دن کی آمد پر توجہ دلائی۔
Takhreej
(۳۹۲۳) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۲۸(انظر: ۲۰۹۰۸)
3923
Sahih
۔ (۳۹۲۴) عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَمَرَنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ نَصُوْمَ عَاشُوْرَائَ قَبْلَ اَنْ یَنْزِلَ رَمَضَانُ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ لَمْ یَاْمُرْنَا وَلَمْ یَنْہَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۵۶)
۔ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ماہِ رمضان کی فرضیت سے قبل یومِ عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ تو اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع فرمایا، البتہ ہم اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔
Takhreej
(۳۹۲۴) اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شبیۃ: ۳/ ۵۶، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۲۸۴۱(انظر: ۱۵۴۷۷)
3924
Sahih
۔ (۳۹۲۵) عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ اَنَّہُ سَمِعَ مُعَاوِیَۃَ (بْنَ اَبِیْ سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌)
۔ حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مدینہ منورہ میں خطبہ دیا اور کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ یہیومِ عاشوراء ہے، اس دن کا روزہ ہم پر فرض نہیں کیا گیا، اس لیے تم میں سے جو آدمی اس کا رکھنا چاہتا ہو، وہ رکھے، البتہ میں تو روزے سے ہوں۔ پھر لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا۔
Takhreej
(۳۹۲۵) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۰۰۳، ومسلم: ۱۱۲۹(انظر: ۱۶۸۶۷)
Explanation
فوائد:… سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے اپنی خلافت میں۴۴ھ میں پہلا اور ۵۷ھ میں آخری حج کیا تھا، حافظ ابن حجر کارجحان اس طرف ہے کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے آخری حج کے موقع پر مدینہ منورہ آ کر یہ حدیث بیان کی تھی، چونکہ ذوالحجہ اسلامی سال کا آخری اور محرم پہلا مہینہ ہے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ادائے حج کے بعد یوم عاشوراء تک ٹھہریں ہوں گے۔
3925
Sahih
۔ (۳۹۲۶) عَنِ الْحَکَمِ بْنِ الاَعْرَجِ قَالَ: اَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَہُوَ مُتَّکِیٌٔ عِنْدَ زَمْزَمَ فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ وَکَانَ نِعْمَ الْجَلِیْسُ، فَقُلْتُ: اَخْبِرْنِی عَنْ یَوْمِ عَاشُوْرَائَ۔ قَالَ: عَنْ اَیِّ بَالِہِ تَسْاَلُ؟ قُلْتُ: عَنْ صَوْمِہِ، قَالَ: إِذَا رَاَیْتَ ہِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا اَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعِہٖفَاَصْبِحْمِنْہَاصَائِمًا،قُلْتُ: اَکَذَاکَکَانَیَصُوْمُہُ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّم؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۵)
۔ حکم بن اعرج کہتے ہیں: میں سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ زمزم کے کنویں کے قریب ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے۔ میں نے پوچھا: آپ مجھے یومِ عاشورہ کے بارے میں بتائیں۔ انھوں نے کہا: اس کی کون سی حالت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اس دن کے روزے کے بارے میں، انھوں نے کہا: جب ماہ محرم کا چاند دیکھو، تو تاریخ کو شمار کرتے رہو، جب ۹ محرم کی صبح ہو جائے تو اس دن روزہ رکھو۔میں نے پوچھا:’کیا محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی طرح روزہ رکھا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۳۹۲۶) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۳۳(انظر: ۲۱۳۵)
3926
Sahih
۔ (۳۹۲۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ، بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) إِذْ اَنْتَ اَہْلَلْتَ الْمُحَرَّمَ فَاعْدُدْ تِسْعًا ثُمَّ اَصْبِحْ یَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا۔ اَلْحَدِیْثَ کَمَا تَقَدَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۴)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: جب تم ماہِ محرم کا چاند دیکھو تو (۹) محرم تک شمار کرتے رہو اور نویں محرم کی صبح روزہ کی حالت میں کرو۔ باقی حدیث اوپر والی ہی ہے۔
Takhreej
(۳۹۲۷) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا مقصود یہ نہیں ہے کہ (۹) محرم یوم عاشوراء ہے، وہ درج ذیل حدیث اور اس کی تشریح میں مذکورہ احادیث کی روشنی میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ محرم کی (۹) اور (۱۰) تاریخوں کا روزہ رکھا جائے۔ امام شوکانی نے کہا: زیادہ مناسب یہی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس نے اس دن کی طرف سائل کی رہنمائی کی ہے، جس میں روزہ رکھا جاتا ہے اور اس کے لیےیوم عاشوراء کا تعین نہیں کیا کہ وہ محرم کا دسواں دن ہے، کیونکہ اس کے بارے میں تو سوال ہی نہیں کیا گیا، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے یہ سمجھا کہ سائل کا مقصود یہ ہے کہ اس دن کا تعین کیا جائے جس کو روزہ رکھا جائے گا، اس لیے انھوں نے (۹) محرم کی بات کی۔ پھر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یہ کہنا کہ ’’جی ہاں، محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے۔‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زندہ رہتے تو اسی طرح روزے رکھنے تھے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قولی حدیث میں اسی چیز کی وضاحت کی تھی۔ (نیل الاوطار: ۴/ ۳۲۶) درج ذیل حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میں اگر آئندہ سال زندہ رہا تو نو (تاسع) محرم کا روزہ رکھوں گا۔ اس سے نو اور دس محرم کے دو روزے رکھنے کی تائید نہیں ہوتی۔ بلکہ عاشوراء (دس محرم) کی جگہ صرف نو محرم کے روزے کی تائید ہوتی ہے، ورنہ آپ فرماتے میں نو اور دس محرم کا روزہ رکھوں گا۔
3927
Sahih
۔ (۳۹۲۸) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَئِنْ بَقِیْتُ إِلٰی قَابِلٍ لَاَصُوْمَنَّ الْیَوْمَ التَّاسِعَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۱)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نو محرم کو ضرور روزہ رکھوں گا۔
Takhreej
(۳۹۲۸) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۳۴(انظر: ۱۹۷۱)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس عزم کے دو مطلب لیے جا سکتے ہیں: (۱) آئند دس محرم کے ساتھ ساتھ نو محرم کا بھی روزہ رکھیں گے، تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو۔ (۲) آئندہ صرف نو محرم کا روزہ رکھیں گے، تاکہ یہودیوں کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔ اس لیے سلف صالحین کے ہاں بھییہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے، اگرچہ جمہور علماء و فقہاء کی رائے یہی ہے کہ یوم عاشورا دس محرم ہی ہے، جبکہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کا خیال ہے کہ یوم عاشورا نو محرم ہے۔ جمہور کی رائے راجح معلوم ہوتی ہے، اس صورت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عزم کا یہ معنی ہو گاکہ ہم دس محرم کے ساتھ ساتھ نومحرم کا بھی روزہ رکھیں گے، تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو سکے، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہفتہ والے دن روزہ رکھنے سے منع کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود یہودیوں کی مشابہت سے بچنا تھا، جیسا کہ شارح ابوداؤد علامہ عظیم آبادی نے کہا، لیکن پھر اس صورت میں اجازت دے دی کہ اگر اس کے ساتھ جمعہ کے دن کا روزہ رکھا جائے تو ہفتہ کے دن کا روزہ بھی رکھا جا سکتا ہے۔ ایک اور مثال سے اسی مؤقف کی تائیدہوتی ہے: سیدنابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی ہے: …صحابہ نے کہا: اے اللہ رسول! بیشک اہل کتاب چمڑے کے موزے پہنتے ہیں اور جوتے نہیں پہنتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنْتَعِلُوْا وَتَخَفَّفُوْا وَخَالِفُوْا أَھْلَ اس حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل کتاب کی مخالفت کے لیے موزوں کو ترک کی تعلیم نہیں دی، بلکہ ان کے ساتھ جوتوں کے استعمال کا اضافہ کردیا۔ مخالفت کی صورت یہ ہو گئی کہ وہ صرف موزے پہنتے ہیں اور ہم موزے بھی پہنتے ہیں اور جوتے بھیاستعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح دس محرم کے ساتھ ساتھ نو محرم کا روزہ رکھنا بھی اہل کتاب کے ساتھ مخالفت کرنے کی ایک صورت ہے۔ واللہ اعلم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عزم کا پہلا معنی ہی راجح ہے، درج ذیل روایات سے اسی معنی کی تائید ہوتی ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور لوگوں کو ایسا کرنے کا حکم دیا تو صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہودی اور عیسائی بھی اس دن کی تعظیم کرتے ہیں،یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((فَاِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ صُمْنَا التَّاسِعَ۔)) قَالَ: فَلَمْ یَاْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتّٰی تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ ’’اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو جب اگلا سال ہو گا، ہم نو کا روزہ رکھیں گے۔‘‘ لیکن ہوا یوں کہ ابھی تک اگلا سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا گئے تھے۔ معجم کبیر طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((إِنْ عِشْتُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ إِلٰی قَابِلٍ صُمْتُ التَّاسِعَ، مَخَافَۃَ أَن یَّفُوْتَنِییَوْمُ عَاشُوْرَائَ)) ’’اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نو محرم کا روزہ رکھوں گا، تاکہ یوم عاشورا کا روزہ فوت ہو جانے کا خطرہ (ختم ہو جائے)۔‘‘ (صحیحہ:۳۵۰) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: صُوْمُوْا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ وَخَالِفُوْا الْیَھُوْدَ۔ نو اور دس کو روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔ (سنن بیہقی: ۴/ ۲۸۷) ہفتہ کے ساتھ جمعہ کا روزہ رکھنا اور جوتے اور موزے اکٹھے پہننا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ثابت ہے، اس لیےیہ تو ٹھیک ہے اور مخالفت کییہ بھی ایک صورت ہے اسی طرح نو اور دس محرم کے اکٹھے روزے اگر آپ سے ثابت ہوتے تو ہم کہتے یہ بھی مخالفت کی ایک شکل ہے۔ یہ چونکہ ثابت نہیں اس لیے اس جگہ اصل مخالفت یہ ہے کہ جس دن (دس محرم) کا یہودی روزہ رکھتے ہیں، اس کا روزہ نہ رکھا جائے اور مسلم کی حدیث کا مطلب یہی ہے اور ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے یہی مطلب سمجھا ہے، اس لیے وہ یہ عاشورہ کے بارے سوال کرنے والے کو بتا رہے ہیں کہ نو محرم صبح کوتمہارا روزہ ہونا چاہیے۔ اس حدیث کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر دس کا روزہ رکھیں،یہود کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے اور اگر نو کا روزہ بھی نہ رکھا جائے تو یوم عاشوراء کا روزہ بالکل رہ جائے گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ عاشوراء کا روزہ بالکل رہ جانے کے خوف سے میں نو کا روزہ رکھوں گا تاکہ مخالفت بھی ہو جائے اور روزہ بھی رکھ لیا جائے۔(عبداللہ رفیق)
3928
Sahih
۔ (۳۹۲۹) وَعَنْہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( صُوْمُوْا یَوْمَ عَاشُوْرَائَ وَخَالِفُوْا فِیْہِ الْیَہُوْدَ وَصُوْمُوْا قَبْلَہُ یَوْمًا اَوْ بَعْدَہُ یَوْمًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یومِ عاشوراء کو روزہ رکھا کرو، البتہ اس کے معاملے میں یہودیوں کی مخالفت کیا کرو اور وہ اس طرح کہ اس سے ایک دن کا روزہ رکھ لیا کرو یا اس کے بعد۔
Takhreej
(۳۹۲۹) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، ابن ابی لیلی، سییء الحفظ وداود بن علی الھاشمی، قال الامام الذھبی: ولیس حدیثہ بحجۃ، وذکرہ ابن حبان فی ’’الثقات‘‘ اخرجہ ابن خزیمۃ: ۲۰۹۵، والبیھقی: ۴/ ۲۸۷(انظر: ۲۱۵۴)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم درست معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پہلے ایک روزہ رکھ کر مشابہت کو ختم کیا جا سکتا ہے، اسی طرح بعدمیں بھی رکھا جا سکتا ہے، جیسے جمعہ کے دن کے روزے کا مسئلہ ہے۔ ضعیف حدیث سے استدلال کی شرعی کوئی حیثیت نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
3929
Zaeef
۔ (۳۹۳۰) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیْمٍ قَالَ: سَاَلْتُ سَعِیْدَ بْنَ جُبَْیرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ کَیْفَ تَرٰی فِیْہِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِیْ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یُفْطِرُ، وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یَصُوْمُ۔ (مسند احمد: ۳۰۰۹)
۔ عثمان بن حکیم کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے ماہِ رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا کہ اس بارے میں ان کی کیا رائے ہے؟انہوں نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی وقت اس قدر کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنے عرصے کے لیے روزے ترک کرنا شروع کر دیتے کہ ہم یہ سمجھتے اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی بھی روزہ نہیں رکھیں گے۔
Takhreej
(۳۹۳۰) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۷۱، ومسلم: ۱۱۵۷(انظر: ۳۰۰۹)
Explanation
فوائد:… سعید بن جبیریہ کہنا چاہتے ہیں کہ نہ تو رجب میں روزے رکھنے سے منع کیا گیا اور نہ اس اعتبار سے اس کی کوئی فضیلت اور خصوصیت بیان کی گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی روزوں کا معین اور مقرر اوقات سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے بسا اوقات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کئی روزے رکھ لیتے اور بسا اوقات یہ سلسلہ ترک کر دیتے۔
3930
Sahih
۔ (۳۹۳۱) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یُفْطِرُ، وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یَصُوْمُ، وَمَا صَامَ شَہْرًا تَامًّا (وَفِی لَفْظٍ مُتَتَابِعًا) مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِیْنَۃِ إِلَّا رَمَضَانَ ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بسا اوقات تو اس قدر کثرت سے روزے رکھتے کہ ہمیہ کہنے لگ جاتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنا طویل عرصہ روزہ نہ رکھتے کہ ہمیں یہ خیال آنے لگتا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ نہیں رکھیں گے اور جب سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے۔
Takhreej
(۳۹۳۱) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3931
Sahih
۔ (۳۹۳۲) عَنْ اَبِیْ السَّلِیْلِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِی مُجِیْبَۃُ، عَجُوْزٌ مِنْ بَاھِلَۃَ عَنْ اَبِیْہَا، اَوْ عَمِّہَا، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِحَاجَۃٍ مَرَّۃً، فَقَالَ: ((مَنْ اَنْتَ؟)) قَالَ: اَوَمَا تَعْرِفُنِی؟ قَالَ: ((وَمَنْ اَنْتََ)) قَالَ: اَنَا الْبَاہِلِیُّ الَّذِی اَتَیْتُکَ عَامَ اَوَّلٍ،قَالَ: ((فَإِنَّکَ اَتَیْتَنِی وَجِسْمُکَ وَلَوْنُکَ وَہَیْئَتُکَ حَسَنَۃٌ فَمَا بَلَغَ بِکَ مَا اَرٰی)) فَقَالَ: إِنِّی وَاللّٰہِ مَا اَفْطَرْتُ بَعْدَکَ إِلَّا لَیْلًا، قَالَ: ((مَنْ اَمَرَکَ اَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَکَ؟ مَنْ اَمَرَکَ اَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَکَ؟ مَنْ اَمَرَکَ اَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَکَ؟ ثلَاَثَ مَرَّاتٍ، صُمْ شَہْرَ الصَّبْرِ، رَمَضَانَ۔)) قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِیْ،فَقَالَ: ((فَصُمْ یَوْمًا مِنَ الشَّہْرِ۔)) قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِیْ، قَالَ: ((فَیَوْمَیْنِ مِنَ الشَّہْرِ۔)) قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِیْ، قَالَ: ((وَمَا تَبْتَغِی عَنْ شَہْرِ الصَّبْرِ وَیَوْمَیْنِ مِنَ الشَّہْرِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِی قَالَ: ((فَثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنَ الشَّہْرِ۔)) قَالَ: وَاَلْحَمَ عِنْدَ الثَّالِثَۃِ فَمَا کَادَ، قُلْتُ: إِنِّی اَجِدُ قُوَّۃً، وَإِنِّی اُحِبُّ اَنْ تَزِیْدَنِی، قَالَ: ((فَمِنَ الْحُرُمِ وَاَفْطِرْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۸۹)
۔ مُجِیْبَہ کے باپ یا چچا سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دفعہ کسی کام کی غرض سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے نہیں پہچانتے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: تم ہو کون؟ اس نے کہا: میں باہلہ قبیلہ کا وہی آدمی ہوں، جو گزشتہ سال آپ کے پاس آیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اس وقت آئے تھے، توتمہارا جسم، رنگت اور ہیئت بہت اچھی تھی، اب تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے جانے کے بعد میں نے ایک دن بھی روزہ ترک نہیں کیا، وگرنہ مسلسل روزے رکھتا رہا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے کہا ہے کہ اپنے آپ کو تکلیف دو؟ تمہیں کس نے حکم دیا کہ تم اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرو؟ کس نے تمہیںیہ کہا کہ خود کو تکلیف دو؟ تم صرف ماہِ صبر یعنی رمضان کے روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا : میرے اندر طاقت ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے اس سے زیادہ روزے رکھنے کی اجازت دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا تم ایک مہینہ میں ایک دن روزہ رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ رکھ سکتا ہوں، مجھ میں طاقت ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مہینہ میں دو دن روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے مزید روزے رکھنے کی اجازت دے دیں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ماہِ صبر یعنی رمضان اور اس کے علاوہ ہر مہینے میں دو روزوں کے علاوہ مزید کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میں اپنے آپ کو طاقت والا سمجھتا ہوں، لہٰذا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے اس سے زیادہ روزے رکھنے کیا جازت دے دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو ہر ماہ میں تین روزے رکھ لیا کرو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر رک گئے اور قریب تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے زیادہ اجازت نہیں دیں گے، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، مزید کی اجازت دے دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر حرمت والے مہینوں میں روزے رکھ بھی لیا کرو اور ترک بھی کر دیا کرو۔
Takhreej
(۳۹۳۲) تخر یـج: قال الالبانی: ضعیف (سنن ابی داود: ۲۴۲۸)۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۲۸، وابن ماجہ: ۱۷۴۱(انظر: ۲۰۳۲۳)
Explanation
فوائد:… حرمت والے مہینے چار ہیں: رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم۔ اس باب میں ان کے روزے خصوصیت کے ساتھ ثابت نہیں ہوئے، البتہ محرم کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں اور (۹) ذوالحجہ کی فضیلت پر مشتمل احادیث آگے آئیں گی۔ بنا ساعاتی نے کہا: اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ رجب میں روزے رکھنا دوسرے حرمت والے مہینوں کی طرح مستحب ہیں۔
3932
Zaeef

Chapters

35
01
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
16 Hadith
02
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
15 Hadith
03
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
10 Hadith
04
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
2 Hadith
05
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
8 Hadith
06
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
5 Hadith
07
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
08
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
1 Hadith
09
ماہِ شوال کے چھ روزوں کا بیان
3 Hadith
10
شوال، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روزوں کا بیان
2 Hadith
11
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
1 Hadith
12
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
5 Hadith
14
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
3 Hadith
15
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
10 Hadith
16
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
5 Hadith
17
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
18
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
6 Hadith
19
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
3 Hadith
20
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
5 Hadith
21
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
3 Hadith
22
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
5 Hadith
23
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
3 Hadith
24
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
8 Hadith
25
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
26
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
7 Hadith
27
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
28
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
9 Hadith
29
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
30
حج کی فرضیت کا بیان
5 Hadith
31
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
4 Hadith
32
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
6 Hadith
33
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
3 Hadith
34
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
11 Hadith
35
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.