۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کا کفارہ ہے اور عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کا کفارہ ہے۔
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: عرفہ کے روزہ کے بارے میں آپ کاکیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اس روزے کو گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنائے گا۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! عاشوراء کے روزے کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امیدہے کہ وہ اس روزے کو گزشتہ ایک سال کا کفارہ بنائے گا۔
Takhreej
(۳۹۰۳) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یوم عاشورا سے مراد محرم کا دسواں دن ہے، ابتدائے اسلام میں یہ روزہ فرض تھا اور صرف ایک سال یعنی دو سن ہجری کی ابتداء میں اس کی فرضیت کا مسئلہ پیش آیا تھا، کیونکہ اسی سن کے رمضان میں روزے فرض ہو گئے تھے اور رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد عاشورا کا روزہ مستحب قرار دیا گیا تھا، اس کی مزید وضاحت اگلی احادیث میں آرہی ہے۔ عرفہ کے دن سے مراد (۹) ذوالحجہ کا دن ہے، جس دن حجاج کرام عرفہ کے میدان میں جمع ہوتے ہیں۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہودی لوگوں کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسا روزہ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنو اسرائیل کو غرق ہونے سے بچایا اور فرعون کو غرق کر دیا اور اسی دن کو نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پر آ کر ٹھہری تھی، اس لیے نوح اور موسیٰm نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھا تھا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں موسیٰ علیہ السلام اور اس دن کے روزے کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دے دیا۔
Takhreej
(۳۹۰۴) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد الصمد بن حبیب وجھالۃ ابیہ (انظر: ۸۷۱۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور دیکھا کہ یہودی دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں، آپ نے ان سے پوچھا: یہ دن کون سا ہے، جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ بڑا مبارک دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی اور موسیٰ علیہ السلام نے اس کا روزہ رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی صادر فرمایا۔
فوائد:… رسالت، دینی بھائی چارے اور ظاہری قرابت کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ اس کا بہترین جواب یہی ہے کہ اس مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخالفت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ کے آخری سال میں اس خواہش کا اظہار کر دیا تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ رہے تو (۹) ذوالحجہ کو روزہ رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ربیع الاول کے مہینے میں مدینہ منورہ پہنچے تھے، پھر جب محرم کا مہینہ آیا تو یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
۔ ثویر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا تھا: یہیومِ عاشوراء ہے، تم اس دن کا روزہ رکھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دس محرم کو روزہ رکھنے کا حکم دیا، اس دن کو یہودی روزہ رکھا کرتے تھے۔
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس محرم کو چار چار یا دو دو فرسخ تک بستیوں میں پیغام بھیجا کہ جس آدمی نے کچھ کھا لیا ہو وہ بقیہ دن میں کچھ نہ کھائے اور جس نے تاحال کچھ نہیں کھایا وہ اپنا روزہ پورا کرے۔
Takhreej
(۳۹۰۸) تخر یـج: حسن لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی: ۱۱۸۰۴(انظر: ۲۰۵۸)
Explanation
فوائد:… اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرضیت ِ رمضان سے قبل یوم عاشوراء کے روزے کا خاصا اہتمام کیا تھا، ایک فرسخ تقریبا سات آٹھ کلومیٹر کا ہوتا ہے۔
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشوراء کے دن بنو اسلم قبیلے کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کرے: جس نے آج روزہ رکھا ہوا ہے، وہ اسے پورا کرے اور جو کچھ کھا پی چکا ہے، وہ بھی اب کچھ نہ کھائے پئے اور اس طرح روزہ مکمل کرے۔
۔ سیدنا محمد بن صیفی انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یومِ عاشوراء کو ہمارے ہاں تشریف لائے اور پوچھا: کیا تم لوگوں نے آج روزہ رکھا ہے؟ بعض نے کہا: جی ہاں، اور بعض نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہرحال بقیہ دن کا روزہ پورا کرو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اہلِ عَروض کو بھی اطلاع کر دیں کہ وہ بھی اس دن کا روزہ مکمل کریں۔
فوائد:… ’’عَروض‘‘ کے تعین کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) اس کا اطلاق مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ان کے پڑوس والے شہروں پر ہوتا ہے اور (۲) مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور یمن کو عَروض کہتے ہیں۔
۔ سیدنا ہند بن اسمائ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے قبیلہ بنو اسلم کی طرف بھیجا اور فرمایا: اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج یومِ عاشوراء کا روزہ رکھیں، اگر ان میں سے کوئی آدمی کھا پی چکا ہو تو وہ بھی دن کے آخرییعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھے۔
۔ سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیتے ہوئے فرمایا: اپنی قوم کو آج کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم دو۔ انھوںنے کہا: اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں تو پھر آپ کی رائے کیا ہو گی؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی وہ دن کے آخرییعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھ لیں۔
۔ (دوسری سند) سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھیجا اور فرمایا: اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج کے دن کا روزہ رکھیں۔ انھوں نے کہا: اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں تو آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لیں۔
Takhreej
(۳۹۱۳) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا اسما بن حارثہ کو ان کے بیٹے سیدنا ہند کے ساتھ ان کی قوم کی طرف بھیجا ہو اور ہر ایک نے صرف اپنا اپنا تذکرہ کر دیا ہو۔
پہلے ایک حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہند بن اسماء کو اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ نے ہند کے باپ اسماء کو بھیجا تھا۔ فوائد میں اس ظاہری تعارض کی توجیہ پیش کی گئی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
۔ بعجہ کے باپ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ان سے فرمایا: آج یومِ عاشوراء ہے، اس دن کا روزہ رکھو۔ بنو عمرو بن عوف کے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ ان میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے اور کسی نے نہیں رکھا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی طرف جاؤ اور ان کو کہو کہ جس نے روزہ نہیں رکھا ہوا وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لے۔
۔ مزیدہ بن جابر کہتے ہیں: میری والدہ نے بیان کیا ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کوفہ کی مسجد میں تھیں، سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ وہاں کے حاکم تھے، انھوں نے ایک دن کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یومِ عاشوراء کو روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، اس لیے تم اس دن کا روزہ رکھو۔
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یومِ عاشوراء کا خود بھی روزہ رکھا کرتے تھے اور اس کا حکم بھی دیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۱۶) تخر یـج: حسن لغیرہ۔ اخرجہ البزار: ۶۰۲(انظر: ۱۰۶۹)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے دنوں کی بہ نسبت کسی مخصوص دن کی فضیلت کو تلاش کرتے ہوئے روزہ رکھا ہو، ما سوائے یومِ عاشوراء کے اور ماہِ رمضان کے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دورِ جاہلیت میںیومِ عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے اور قریش بھی دورِ جاہلیت میں اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں بھی اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس روزے کاحکم دیا، لیکن جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو وہی روزے فرض ٹھہرے اور یومِ عاشوراء کے روزے کو ترک کر دیا گیا۔
فوائد:… اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ یوم عاشوراء کی فرضیت کا مسئلہ صرف ایک سال پیش آیا تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کے سفر میں ربیع الاول میں مدینہ منورہ پہنچے تھے، (۹) مہینوں کے بعد محرم کا مہینہ آیا اور عاشوراء کے دن کے روزے کا مسئلہ پیدا ہوا، پھر اسی سال کے رمضان میں روزے فرض ہو گئے تھے اور یوم عاشوراء کی حیثیت مستحبّ کی رہ گئی تھی۔
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: جب ماہِ رمضان کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کے روزے رکھا کرتے تھے اور یومِ عاشوراء کا روزہ ترک کر دیا تھا، اب جو چاہے اس دن کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے وہ نہ رکھے۔
۔ عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں: اشعت بن قیس عاشوراء والے دن سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے، انھوں نے کہا: ابومحمد! کھانا کھانے کے لیے قریب آ جاؤ۔ اشعث نے کہا: کیا آج یومِ عاشوراء نہیں ہے؟ انھوںنے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ عاشوراء ہے کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرضیت ِرمضان کے نزول سے قبل اس دن روزہ رکھا کرتے تھے، جب ماہِ رمضان کا حکم نازل ہوا تو اس دن کا روزہ ترک کر دیا گیا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یومِ عاشوراء کے بارے میں کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کو خود بھی روزہ رکھا تھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا تھا، لیکن جب ماہِ رمضان فرض ہوا تو اس دن کا روزہ ترک کر دیا گیا۔ پس سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اس دن کا روزہ نہیں رکھا کرتے تھے، الّایہ کہ ان کے معمول کا دن اس رو ز کو آجاتا۔
فوائد:… بہرحال یومِ عاشوراء کے روزے کی فضیلت باقی ہے، لیکن اب اس کے ساتھ (۹) محرم کا بھی روزہ رکھنا چاہیے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزم سے معلوم ہوتا ہے۔
عاشوراء کے حوالہ سے روزہ صرف نو محرم کا یا ساتھ ہی دس محرم کا بھی ہوگا اس کی بحث آگے آرہی ہے۔