۔ صدقہ دمشقی کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور روزوں کے بارے میں سوال کیا۔انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کہ : سب سے زیادہ فضیلت والے روزے میرے بھائی دائود علیہ السلام کے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: داود علیہ السلام کے روزے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور اسی طرح ان کی رات کی نماز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ نصف رات سونے کے بعد ایک تہائی رات قیام کرتے اور پھر رات کا چھٹا حصہ سو جاتے، رہا مسئلہ روزوں کا تو وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم ساری رات قیام کرتے ہو اور ہر روز روزہ رکھتے ہو۔ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ رکھا کروا ور ناغہ بھی کیا کرو اوررات کو قیام بھی کیا کر اور سویا بھی کر، کیونکہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے، تیری اہلیہ کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے، مہینہ میں تین روزے رکھ لیا کر،اتنے ہی تیرے لیے کافی ہیں۔ لیکن ہوا یوں کہ میں نے سختی کی،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی فرمائی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ہر ہفتہ میں تین دن روزے رکھ لیا کر۔ لیکن میں نے سختی کی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی کی اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ روزے رکھنے کی قوت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اللہ کے نبی دائود علیہ السلام کی طرح روزے رکھ لیا کر اور ان پر اضافہ نہ کر۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! دائود علیہ السلام کیسے روزے رکھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے روزوں کے متعلق حکم دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کرو، تمہیں مزید نو دنوں کا اجر بھی مل جائے گا، (کیونکہ ہر نیکی کا اجر دس گنا ملتا ہے) ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں، اس لیے آپ مجھے زیادہ روزے رکھنے کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دو دن روزہ رکھ لیا کرو، تمہیں مزید آٹھ دنوں کا ثواب مل جائے گا۔ لیکن میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ میں اس سے زیادہ کی قوت ہے، لہٰذا آپ مجھے مزید روزوں کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دن روزے رکھ لیا کرو، تمہیں مزید سات دنوں کے روزوں کا ثواب مل جائے گا۔ لیکن میری بار بار گزارش سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید عمل کی مزید گنجائش پیدا کرتے گئے (اور اجر میں کمی کرتے گئے)، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل روزے میرے بھائی دائود علیہ السلام کے ہیں، اور وہ اس طرح کہ تم ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو۔ جب سیدنا عبداللہ بوڑھے ہو گئے تو کہا کرتے تھے: کاش کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے حکم پر اکتفا کر لیا ہوتا۔
۔ (دوسری سند) سیدناعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، …سابقہ حدیث کی طرح ہی بیان کیا…،مزید اس میں ہے: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اسی طرح روزے رکھتے رہے، یہاں تک کہ وہ عمر رسیدہ اور کمزور ہو گئے، اس وقت وہ کہا کرتے تھے: اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دی ہو ئی رخصت کو قبول کر لیتا تو یہ مجھے میرے اہل وعیال اور مال و دولت سے زیادہ پسند ہوتا۔