مسنداحمد

Musnad Ahmad

یوم عاشوراء

حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان

۔ (۳۹۸۱) عَنْ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی بَیْتِہِ فَسَاَلْتُہُ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ صَوْمِ عَرَفَۃَ بِعَرَفَاتٍ۔ (مسند احمد: ۹۷۵۹)

۔ مولائے ابن عباس جنابِ عکرمہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں ان کے گھر پر حاضر ہوا اور ان سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

۔ (۳۹۸۲) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتَیْتُہُ بِعَرَفَۃَ فَوَجَدْتُّہُ یَاْکُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: ادْنُ فَکُلْ، لَعَلَّکَ صَائِمٌ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ لَایَصُوْمُہُ، وَقَالَ مَرَّۃً: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَصُمْ ھٰذَا الْیَوْمَ۔ (مسند احمد: ۳۲۶۶)

۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں عرفہ مقام میں سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ انار کھا رہے تھے، انھوں نے مجھے کہا: قریب آ جاؤ اور کھاؤ، لیکن لگتا ہے کہ تم نے روزہ رکھا ہوا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو اس دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔ اور ایک دفعہ انھوں نے یوں کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا۔

۔ (۳۹۸۳) عَنْ نَافِعٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ فَقَالَ: لَمْ یَصُمْہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا اَبُوْ بَکْرٍ وَلَا عُمَرُ وَلَا عُثْمَانُ یَوْمَ عَرَفَۃَ۔ (مسند احمد: ۵۴۱۱م)

۔ نافع کا بیان ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا، انہوں نے کہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے (دورانِ حج) عرفہ کے دن کا روزہ نہیں رکھا۔

۔ (۳۹۸۴) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہُ سَاَلَہُ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَصُمْہُ وَمَعَ اَبِی بَکْرٍ فَلَمْ یَصُمْہُ، وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ یَصُمْہُ، وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ یَصُمْہُ وَاَنَا لَا اَصُوْمُہُ، وَلَا آمُرُکَ وَلَا اَنْہَاکَ إِنْ شِئْتَ فَصُمْہُ، وَإِنَّ شِئْتَ فَلَا تَصُمْہُ۔ (مسند احمد: ۵۴۲۰)

۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یومِ عرفہ کے روزے کے متعلق پوچھا،انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا،پھر ہم سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں آئے، انہوں نے بھی روزہ نہیں رکھا،پھر ہم سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ آئے، انہوں نے بھی اس دن کا روزہ نہیں رکھا، پھر ہم سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ آئے، انہوں نے بھی اس دن کا روزہ نہیں رکھا، لہذا میں بھی اس دن کا روزہ نہیں رکھتا، لیکن میں تجھے اس روزے کا حکم دیتا ہوں نہ اس سے منع کرتا ہوں، تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔

۔ (۳۹۸۵) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا صُمْتُ عَرَفَۃَ قَطُّ وَلَا صَامَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا اَبُوْ بَکْرٍ وَلَا عُمَرُ۔ (مسند احمد: ۵۹۴۸)

۔ (تیسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کبھی بھی عرفہ کے دن کا روزہ نہیں رکھا اور نہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے، نہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اور نہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس دن کا روزہ رکھا ہے۔

۔ (۳۹۸۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَائِمًا فِی الْعَشْرِ قَطُّ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۴۸)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ میں نے کبھی بھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (ذوالحجہ کے) پہلے دس دنوں میں روزہ رکھا ہو۔

۔ (۳۹۸۷) عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلٰی اُمِّ الْفَضْلِ اُمِّ بَنِی الْعَبَّاسِ، عَنْ اُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: شَکُّوْا (وَفِی لَفْظٍ تَمَارَوْا) فِی صَوْمِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ، فَقَالَتْ اُمُّ الْفَضْلِ: اَنَا اَعْلَمُ لَکُمْ ذَالِکَ فَبَعَثَتْ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۱۹)

۔ سیدہ ام الفضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: لوگوں کو عرفہ کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے روزے کے بارے میں یہ شک ہونے لگا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روزہ رکھا ہوا ہے یا نہیں؟ میں نے کہا: میں تمہیں پتہ کرا دیتی ہوں، پھر انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نوش فرما لیا۔

۔ (۳۹۸۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ، عَنْ اُمِّ الْفَضْلِ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ): فَاَرْسَلَتْ إِلَیْہِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ، وَہُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ بَعَرَفَۃَ عَلٰی بَعِیْرِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۱۹)

۔ (دوسری سند) اس میں ہے: سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پی لیا، جبکہ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے اونٹ پر سوار ہو کر عرفہ میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔

۔ (۳۹۸۹) عَنْ عَطَائٍ اَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما دَعَا الْفَضْلَ یَوْمَ عَرَفَۃ إِلٰی طَعَامٍ، فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَاتَصُمْ، فَإِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُرِّبَ إِلَیْہِ حِلَابٌ، فَشَرِبَ مِنْہُ ھٰذَا الْیَوْمَ وَإِنَّ النَّاسَ یَسْتَنُّوْنَ بِکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۹۴۶)

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرفہ کے دن سیدنا فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کھانے کے لیے بلایا، لیکن انھوں نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: اس دن کو روزہ نہ رکھا کرو، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں اسی دن کو دودھ پیش کیا گیا، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نوش فرمایا لیا تھااور لوگ بھی تمہاری اقتداء کرتے ہیں۔

۔ (۳۹۹۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنِ ابْنِ عَبَّاسَ دَعَا اَخَاہُ عُبَیْدَ اللّٰہِ یَوْمَ عَرَفَۃَ إِلٰی طَعَامٍ، قَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، قَالَ: إِنَّکُمْ اَئِمَّۃٌ، (وَفِی لَفْظٍ: اَہْلُ بَیْتٍ) یُقْتَدٰی بِکُمْ قَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا بحِلِاَبٍ فِی ہٰذَا الْیَوْمِ فَشَرِبَ۔ (مسند احمد: ۳۲۳۹)

۔ (دوسری سند) سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرفہ کے دن اپنے بھائی عبید اللہ کو کھانے کے لیے بلایا، لیکن انہوں نے کہا: میں روزہ سے ہوں، یہ سن کر انھوں نے کہا: : تم لوگ تو دوسروں کے پیشوا اور اہل بیت ہو، اس وجہ سے تمہاری اقتدا کی جاتی ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن کو دودھ منگوا کر پیا تھا۔