مسنداحمد

Musnad Ahmad

یوم عاشوراء

استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان

۔ (۴۰۰۶) عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ اَنْ یَعْتَکِفَ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاسْتَأْذَنَتْہُ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَاَذِنَ لَہَا، فَاَمَرَتْ بِبِنَائِہَا فَضُرِبَ وَسَاَلَتْ حَفْصَۃُ عَائِشَۃَ اَنْ تَسْتَأْذِنَ لَہَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَفَعَلََتْ، فَاَمَرَتْ بِبِنَائِہَا، فَضُرِبَ، فَلَمَّا رَاَتْ ذَالِکَ زَیْنَبُ اَمَرَتْ بِبِنَائِہَا فَضُرِبَ، قَالَتْ: وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا صَلّٰی اِنْصَرَفَ، فَبَصُرَ بِالْاَبْنِیَۃِ، فَقَالَ: ((ھٰذِہِ؟)) قَالُوْا: بِنَائُ عَائِشَۃَ، وَحَفْصَۃَ، وَزَیْنَبَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((آلبِرَّ اَرَدتُّنَّ بِھٰذَا؟ مَا اَناَ بِمُعْتَکِفٍ۔)) فَرَجَعَ فَلَمَّا اَفْطَرَ اِعْتَکَفَ عَشْرَ شَوَّالٍ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۵۱)

۔ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف کا ذکر کیا،یہ سن کر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اعتکاف کی اجازت لی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اجازت دے دی،پھر انہوں نے اپنے لیے ایک خیمے کا حکم دیا،جو نصب کر دیا گیا، اس کے بعد سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا کہ وہ اس کے لیے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اعتکاف کی اجازت طلب کریں۔ انہوں نے اجازت لی لے، چنانچہ انہوں نے بھی اپنے لیے خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا، جو نصب کر دیا گیا۔ جب سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ کچھ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنا خیمہ لگوا لیا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہو کر پھرے تو یہ خیمے دیکھ کر پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدہ عائشہ، سیدہ حفصہ اور سیدہ زینب کے اعتکاف کیلئے خیمے لگائے گئے ہیں،یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اس سے تمہارا مقصود نیکی کا ہے؟ میں نے اب اعتکاف نہیں کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آگئے اور جب ماہِ رمضان سے فارغ ہوئے تو شوال کے دس دنوں کا اعتکاف کیا۔

۔ (۴۰۰۷) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِعْتَکَفَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِمْرَاَۃٌ مِنْ اَزْوَاجِہِ مُسْتَحَاضَۃٌ فَکَانَتْ تَرَی الصُّفْرَۃَ وَالْحُمْرَۃَ، فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَہَا وَہِیَ تُصَلِّی۔ (مسند احمد: ۲۵۵۱۲)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک اہلیہ نے اعتکاف کیا، حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں، ان کو زردی اور سرخی مائل خون آتا تھا، بسا اوقات تو ہم ان کے نیچے تھال رکھتیں، جبکہ وہ نماز ادا کر رہی ہوتی تھیں۔

۔ (۴۰۰۸) وَعَنْہَا اَیْضًا قَالَتْ: إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَعْتَکِفُ الْعَشْرَ اْلاَوَاخِرَمِنْ رَمَضَانَ حَتّٰی تَوَفَّاہُ اللّٰہُ، ثُمَّ اعْتَکَفَ اَزْوَجُہُ مِنْ بَعْدِہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۲۰)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔