۔ (۴۰۵۱) عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللّٰہِ إِیْمَانٌ لَا شَکَّ فِیْہِ، وَغَزْوٌ لَاغُلُوْلَ فِیْہِ، وَحَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) قَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَہَ رضی اللہ عنہ : حَجٌّ مَبْرُوْرٌ یُکَفِّرُ خَطَایَا تِلْکَ السَّنَۃِ۔ (مسند احمد: ۷۵۰۲)
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ فضیلت والے اعمال یہ ہیں: ایسا ایمان جس میںکوئی شک نہ ہو، ایسا جہاد جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حج مبرور تو اس سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔
Takhreej
(۴۰۵۱) أخرجہ البخاری: ۲۶، ۱۵۱۹، ومسلم: ۸۳(انظر: ۵۷۱۱)
Explanation
فوائد: … حج مبرور: وہ حج ہے، جس میں کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو۔حج ایک اہم رکنِ اسلام اور عظیم اور مشقت طلب عبادت ہے اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق مالی اعتبار سے سب سے مہنگی عبادت ہے۔ اس لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ اس کو کامل یکسوئی اور اخلاص کے ساتھ ادا کیاجائے اور ریاکاری و نمو دو نمائش سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے۔ ’’ایسا ایمان جس میںکوئی شک نہ ہو۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اعتقادی مسائل اور قطعی الثبوت فرائض و واجبات پر یقین محکم ہونا چاہیے، مثلا توحید، نبوت، حساب و کتاب کے لیے دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالی کے حضور پیش ہونا، جنت و جہنم، پانچ نمازیں، زکاۃ، روزے اور حج وغیرہ۔
4051
Sahih