مسنداحمد

Musnad Ahmad

یوم عاشوراء

حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان

۔ (۴۰۵۱) عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللّٰہِ إِیْمَانٌ لَا شَکَّ فِیْہِ، وَغَزْوٌ لَاغُلُوْلَ فِیْہِ، وَحَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) قَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: حَجٌّ مَبْرُوْرٌ یُکَفِّرُ خَطَایَا تِلْکَ السَّنَۃِ۔ (مسند احمد: ۷۵۰۲)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ فضیلت والے اعمال یہ ہیں: ایسا ایمان جس میںکوئی شک نہ ہو، ایسا جہاد جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ حج مبرور تو اس سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔

۔ (۴۰۵۲) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَجَّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَنْ أَمَّ ہٰذَا الْبَیْتَ) فَلَمْ یَرْفُثْ، وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَہَیْئَتِہٖیَوْمَ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۱۴)

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے حج کے لیے اس گھر کا قصد کیا اور اس دوران نہ فحش کلامی کی اور نہ کوئی گناہ کیا تو وہ اس دن کی طرح یوں (معصوم) واپس لوٹے گا، جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔

۔ (۴۰۵۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُبَاہِیْ مَلَائِکَتَہُ عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ بَأَہْلِ عَرَفَۃَ، فَیَقُوْلُ: اُنْظُرُوْا إِلَی عِبَادِی أَتَوْنِی شُعْثًا غُبْرًا)) (مسند احمد: ۷۰۸۹)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمروبن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی عرفہ کے دن شام کو اہل عرفہ کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے: میرے بندوں کی طرف دیکھو،یہ پراگندہ اور گرد آلود ہو کر میرے پاس آئے ہیں۔

۔ (۴۰۵۴) وَعَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۸۰۴۷)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔

۔ (۴۰۵۵) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَابِعُوْا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ، فَإِنَّ مُتَابَعَۃً بَیْنَھُمَایَنْفِیَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبَ کَمَا یَنْفِیْ الْکِیْرُ الْخَبَثَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷)

۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یکے بعد دیگرے حج اور عمرہ ادا کرتے رہو، کیونکہ ان دونوں کو پے در پے ادا کرنے سے فقر وفاقہ اورگناہ یوں ختم ہو جاتے ہیں جیسے بھٹی میل کچیل کو ختم کر دیتی ہے۔

۔ (۴۰۵۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ، وَفِیْہِ: ((فَإِنَّ مُتَابَعَۃً بَیْنَہُمَا تَزِیْدُ فِیْ الْعُمُرِ وَالرِّزْقِ، وَتَنْفِیَانِ الذُّنُوْبَ کَمَا یَنْفِیْ الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۸۷)

۔ سیدنا عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سابقہ حدیث کی طرح ہی ہے، البتہ اس میں یہ فرق ہے: ان دونوں کو پے در پے بجا لانے سے عمر اور رزق میںاضافہ ہوتا ہے اور یہ گناہوں کو یوں ختم کر دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل کو ختم کر دیتی ہے۔

۔ (۴۰۵۷) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَابِعُوْا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ، فَإِنَّہُمَا یَنْفِیَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبَ کَمَا یَنْفِیْ الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ وَالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ، وَلَیْسَ لِلْحَجَّۃِ الْمَبْرُوْرَۃِ ثَوَابٌ دُوْنَ الْجَنَّۃِ)) (مسند احمد: ۳۶۶۹)

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ کی عبادات ایک دوسرے کے بعد ادا کرتے رہو، کیونکہیہ دونوں فقر و فاقہ اور گناہوں کو یوں ختم کرتے ہیں، جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کی میل کچیل کوختم کر دیتی ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت سے کم تو ہے ہی نہیں۔

۔ (۴۰۵۸) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ، وَالْعُمْرَتَانِ تُکَفِّرَانِ مَا بَیْنَہُمَا مِنَ الذُّنُوْبِ۔)) (مسند احمد: ۹۹۴۲)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج مبرور کا ثواب تو جنت ہی ہے اور دو عمرے اپنے درمیانی عرصے کے گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں۔

۔ (۴۰۵۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ۔)) قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا الْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ؟ قَالَ: ((إِطْعَامُ الْطَّعَامِ وَإِفْشَائُ السَّلَامِ)) (مسند احمد: ۱۴۵۳۶)

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج مبرور کی جزا نہیں ہے، مگر جنت۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے نبی! حج مبرور کسے کہتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے دوران لوگوں کو کھانا کھلایا جائے اور سلام عام کیا جائے۔

۔ (۴۰۶۰) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیُحَجَّنَّ الْبَیْتُ وَلَیُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ یَأْجُوْجَ وَمَا جُوْجَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۳۷)

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یاجوج اور ماجوج کے خروج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج و عمرہ کیا جائے گا۔

۔ (۴۰۶۱)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((النَّفَقَۃُ فِیْ الْحَجِّ کَالنَّفَقَۃِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِسَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۸۸)

۔ سیدنا بریدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج کے دوران خرچ کرنا، اللہ تعالی کی راہ یعنی جہاد میں خرچ کرنے کی طرح سات سو گنا تک بڑھ جاتا ہے۔

۔ (۴۰۶۲) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَجُّ جِہَادُ کُلِّ ضَعِیْفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۰۹)

۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج، ہر کمزور آدمی کا جہاد ہے۔