TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان - حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان - یوم عاشوراء - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 29 of یوم عاشوراء in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 29 of 35 · 13 Hadith
۔ (۴۰۵۱) عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللّٰہِ إِیْمَانٌ لَا شَکَّ فِیْہِ، وَغَزْوٌ لَاغُلُوْلَ فِیْہِ، وَحَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) قَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: حَجٌّ مَبْرُوْرٌ یُکَفِّرُ خَطَایَا تِلْکَ السَّنَۃِ۔ (مسند احمد: ۷۵۰۲)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ فضیلت والے اعمال یہ ہیں: ایسا ایمان جس میںکوئی شک نہ ہو، ایسا جہاد جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ حج مبرور تو اس سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔
Takhreej
(۴۰۵۱) أخرجہ البخاری: ۲۶، ۱۵۱۹، ومسلم: ۸۳(انظر: ۵۷۱۱)
Explanation
فوائد: … حج مبرور: وہ حج ہے، جس میں کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو۔حج ایک اہم رکنِ اسلام اور عظیم اور مشقت طلب عبادت ہے اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق مالی اعتبار سے سب سے مہنگی عبادت ہے۔ اس لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ اس کو کامل یکسوئی اور اخلاص کے ساتھ ادا کیاجائے اور ریاکاری و نمو دو نمائش سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے۔ ’’ایسا ایمان جس میںکوئی شک نہ ہو۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اعتقادی مسائل اور قطعی الثبوت فرائض و واجبات پر یقین محکم ہونا چاہیے، مثلا توحید، نبوت، حساب و کتاب کے لیے دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالی کے حضور پیش ہونا، جنت و جہنم، پانچ نمازیں، زکاۃ، روزے اور حج وغیرہ۔
4051
Sahih
۔ (۴۰۵۲) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَجَّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَنْ أَمَّ ہٰذَا الْبَیْتَ) فَلَمْ یَرْفُثْ، وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَہَیْئَتِہٖیَوْمَ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۱۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے حج کے لیے اس گھر کا قصد کیا اور اس دوران نہ فحش کلامی کی اور نہ کوئی گناہ کیا تو وہ اس دن کی طرح یوں (معصوم) واپس لوٹے گا، جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔
Takhreej
(۴۰۵۲) أخرجہ البخاری: ۱۸۱۹، ومسلم: ۱۳۵۰(انظر: ۱۰۴۰۹)
4052
Sahih
۔ (۴۰۵۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُبَاہِیْ مَلَائِکَتَہُ عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ بَأَہْلِ عَرَفَۃَ، فَیَقُوْلُ: اُنْظُرُوْا إِلَی عِبَادِی أَتَوْنِی شُعْثًا غُبْرًا)) (مسند احمد: ۷۰۸۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمروبن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی عرفہ کے دن شام کو اہل عرفہ کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے: میرے بندوں کی طرف دیکھو،یہ پراگندہ اور گرد آلود ہو کر میرے پاس آئے ہیں۔
Takhreej
(۴۰۵۳) اسنادہ لابأس بہ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الصغیر‘‘: ۵۷۵(انظر: ۷۰۸۹)
Explanation
فوائد: … حجاج کرام نو ذوالحجہ کا دن عرفات میں گزارتے ہیں اور غروب ِ آفتاب کے بعد وہاں سے مزدلفہ کے لیے چل پڑتے ہیں اور مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے وہاں پہنچ کر ادا کرتے ہیں۔ فخر کرنے کی بنیادیہ ہے کہ حاجی لوگ اپنی شہوات کا قلع قمع کر کے اس میدان میں پہنچے ہیں، جن کا مقصد ریاکاری اور نمود و نمائش نہیں، بلکہ اللہ تعالی کو راضی کرنا ہے، برخلاف فرشتوں کے کہ جن کے مزاج میں شہوت کا کوئی عنصر پایا ہی نہیں جاتا۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلْحُجَّاجُ وَالْعُمَّارُ وَفْدُاللّٰہِ، دَعَاھُمْ فَأَجَابُوْہُ، سَأَلُوْہُ فَأَعْطَاھُمْ)) ’’حج اور عمرہ کرنے والے لوگ اللہ تعالی کا وفد ہیں ،اللہ تعالی نے اُن کو بلایا، انھوں نے (اس کے بلاوے کو) قبول کیا اور انہوں نے اللہ تعالی سے سوال کیا، اُس نے ان کو عطا کردیا۔‘‘ (البزار: رقم ۱۱۵۳، الصحیحۃ: ۱۸۲۰) جہاں حج و عمرہ کی ادائیگی کرنے والے دور دراز کا سفر کر کے اللہ تعالی کے گھر کی زیارت کے لیے پہنچتے ہیں، وہاں اللہ تعالی ان کی قدر دانی کرتے ہوئے ان کے مطالبات پورا کرتے ہیں۔
4053
Sahih
۔ (۴۰۵۴) وَعَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۸۰۴۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۴۰۵۴) تخریج: صحیح۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۲۸۳۹، وابن حبان: ۳۸۵۲،و الحاکم: ۱/ ۴۶۵، والبیھقی:۵/ ۵۸(انظر: ۸۰۳۳)
4054
Sahih
۔ (۴۰۵۵) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَابِعُوْا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ، فَإِنَّ مُتَابَعَۃً بَیْنَھُمَایَنْفِیَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبَ کَمَا یَنْفِیْ الْکِیْرُ الْخَبَثَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یکے بعد دیگرے حج اور عمرہ ادا کرتے رہو، کیونکہ ان دونوں کو پے در پے ادا کرنے سے فقر وفاقہ اورگناہ یوں ختم ہو جاتے ہیں جیسے بھٹی میل کچیل کو ختم کر دیتی ہے۔
Takhreej
(۴۰۵۵) صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۸۷(انظر: ۱۶۷)
4055
Sahih
۔ (۴۰۵۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ، وَفِیْہِ: ((فَإِنَّ مُتَابَعَۃً بَیْنَہُمَا تَزِیْدُ فِیْ الْعُمُرِ وَالرِّزْقِ، وَتَنْفِیَانِ الذُّنُوْبَ کَمَا یَنْفِیْ الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۸۷)
۔ سیدنا عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سابقہ حدیث کی طرح ہی ہے، البتہ اس میں یہ فرق ہے: ان دونوں کو پے در پے بجا لانے سے عمر اور رزق میںاضافہ ہوتا ہے اور یہ گناہوں کو یوں ختم کر دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل کو ختم کر دیتی ہے۔
Takhreej
(۴۰۵۰۶) صحیح لغیرہ دون قولہ: ’’تزید فی العمر والرزق‘‘وھذا اسناد ضعیف، عاصم بن عبید اللہ لم یکن بالحافظ وقد اضطرب فیہ، وشریک بن عبد اللہ النخعی سییء الحفظ (انظر: ۱۵۶۹۷)
Explanation
فوائد: … یہ مضمون کتاب و سنت میں کئی مقامات پر بیان کیاگیا ہے کہ نیکی اور تقوی کی وجہ سے اللہ تعالی بندے کو رزق عطا کرتا ہے اور روزی میں برکت آ جاتی ہے، رہا مسئلہ حج وعمرہ اور اور دوسری نیکیوں کی وجہ سے عمر میں اضافہ ہونے کا تو سوال یہ ہے کہ ہر ایک کی تاریخ وفات کا تو فیصلہ ہو چکا ہے، پھر نیکی کی وجہ سے عمر میں اضافہ ہونا کیسے ممکن ہے؟اس کے چار جوابات ہیں: ۱۔ اللہ تعالی تقدیر کی بعض صورتوںکو معلق رکھتے ہیں، جیسے اگر یہ بندہ نیک ہوا تو اس کی عمر اتنی ہو گی اور برا ہونے کی صورت میں اتنی، جبکہ اللہ تعالی کواس بندے کے نیک و بد ہونے کا علم ہوتا ہے۔ ۲۔ عمر میں اضافے سے مراد برکت کا حصول، عمل کی توفیق اور عمر کا ضائع نہ ہونا ہے۔ ان تین امور کی وجہ سے آدمی اپنی تھوڑی زندگی میں اتنا توشۂ آخرت تیار کر لیتا ہے کہ طویل عمریں پانے والے بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ایسی صورت کو کہا جا سکتا ہے کہ اس کی زندگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ۳۔ عمر میں اضافے سے مراد اس شخص کے ذکر جمیل کا باقی رہنا ہے، یعنی نیکیوں کی وجہ سے اللہ تعالی اس کو دوسرے لوگوں میں نیک مشہور کر دیتا ہے، اس طرح عرصۂ دراز تک اس کی نیک نامی کا چرچا رہتا ہے۔ ۴۔ دوسرے اسباب کی طرح نیکیاں بھی طویل زندگی کا ایک سبب ہے، اللہ تعالی جس شخص کو لمبی زندگی عطا کرنا چاہتا ہے تو اسے نیکیاں کرنے کی توفیق دیتا ہے، لیکنیہ اضافہ مخلوق کے اعتبار سے ہے، رہا اللہ تعالی کے علم کا مسئلہ تو اس میں کوئی کمی بیشی واقع نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے شفا کو زندگی کا سبب سمجھا جاتا ہے۔
4056
Sahih
۔ (۴۰۵۷) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَابِعُوْا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ، فَإِنَّہُمَا یَنْفِیَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبَ کَمَا یَنْفِیْ الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ وَالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ، وَلَیْسَ لِلْحَجَّۃِ الْمَبْرُوْرَۃِ ثَوَابٌ دُوْنَ الْجَنَّۃِ)) (مسند احمد: ۳۶۶۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ کی عبادات ایک دوسرے کے بعد ادا کرتے رہو، کیونکہیہ دونوں فقر و فاقہ اور گناہوں کو یوں ختم کرتے ہیں، جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کی میل کچیل کوختم کر دیتی ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت سے کم تو ہے ہی نہیں۔
Takhreej
(۴۰۵۷) صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الترمذی: ۸۱۰، والنسائی: ۵/ ۱۱۵(انظر: ۳۶۶۹)
4057
Sahih
۔ (۴۰۵۸) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ، وَالْعُمْرَتَانِ تُکَفِّرَانِ مَا بَیْنَہُمَا مِنَ الذُّنُوْبِ۔)) (مسند احمد: ۹۹۴۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج مبرور کا ثواب تو جنت ہی ہے اور دو عمرے اپنے درمیانی عرصے کے گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں۔
Takhreej
(۴۰۵۸) أخرجہ مسلم: ۱۳۴۹(انظر: ۹۹۴۱)
Explanation
فوائد: … عصر حاضر میں سب سے زیادہ اخراجات حج اور عمرہ کی ادائیگی پر آتے ہیں، ان عبادات کی وجہ سے گناہوں کے معاف ہونے کا معاملہ تو واضح ہے، رہا مسئلہ ان کی وجہ سے فقر و فاقہ کے ختم ہونے کا تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والی خاص برکات کا نتیجہ ہوتا ہے، جس کے حصول کے لیے بڑی رغبت کی ضرورت ہے، عام لوگ اس سے محروم رہتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ایک دفعہ حج یا عمرہ کرنے والے اسی حساب و کتاب میں پڑے رہتے ہیں کہ بہت زیادہ خرچہ ہو گیا،مالدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ حرص و بخل سے بچتے ہوئے حج و عمرہ کی ادائیگی کا اہتمام کریں اور درمیانی آمدنی والے لوگوں کو چاہیے کہ وہ بھی اس مرتبہ کو حاصل کرنے کی فکر کریں۔
4058
Sahih
۔ (۴۰۵۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ۔)) قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا الْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ؟ قَالَ: ((إِطْعَامُ الْطَّعَامِ وَإِفْشَائُ السَّلَامِ)) (مسند احمد: ۱۴۵۳۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج مبرور کی جزا نہیں ہے، مگر جنت۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے نبی! حج مبرور کسے کہتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے دوران لوگوں کو کھانا کھلایا جائے اور سلام عام کیا جائے۔
Takhreej
(۴۰۵۹) حسن بمجموع الطرق (الصحیحۃ: ۱۲۶۴)۔أخرجہ الطیالسی: ۱۷۱۸، والحاکم: ۱/ ۴۸۳، وابن خزیمۃ(انظر: ۱۴۴۸۲)
Explanation
فوائد: … ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((بِرُّ الْحَجِّ إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَطِیْبُ الْکَلَامِ۔))… ’’کھانا کھلانا اور شیریں کلام کرنا حج کی نیکی ہے۔‘‘ اس قسم کی نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ حج صرف مناسکِ حج کی ادائیگی کا نام نہیں ہے، بلکہ ہر قسم کی برائی سے اجتناب کرنے اور ہر ممکنہ نیکی کرنے کا نام ہے۔ اس باب کی حدیث میں یہ بتلایا گیا ہے کہ سفرِ حج اور حج کے دوران کھانا کھلانا، سلام کرنا اور شیریں کلام کرنا بہترین نیکیاں ہیں، چونکہ اس موقع پر جمع ہونے والے اکثر و بیشتر لوگ مسافر اور اجنبی اور ضرورت مند ہوتے ہیں، اگر وہ آپس میں حسن سلوک سے پیش آئیں گے تو ایک دوسرے کی ضروریات بھی پوری ہو سکیں گی اور تکمیلِ حج کے مراحل بھی طے ہوتے رہیں گے۔ ہم نے حج مبرور کییہ تعریف کی تھی کہ جس میں کوئی گناہ سرزد نہ ہو، اس حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو نیکیوں کا ذکر کیا ہے، دراصل یہ حج مبرور کی علامتوں میں سے دو علامتیں ہیں اور اس سائل کے جواب میں ان دو نیکیوں کا ذکر کرنا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آدمی ان دو امور میں سستی کرتا ہو گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سائل کو اس کے حال کے مطابق جواب دیتے تھے۔
4059
Sahih
۔ (۴۰۶۰) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیُحَجَّنَّ الْبَیْتُ وَلَیُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ یَأْجُوْجَ وَمَا جُوْجَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۳۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یاجوج اور ماجوج کے خروج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج و عمرہ کیا جائے گا۔
Takhreej
(۴۰۶۰) أخرجہ البخاری: ۱۵۹۳(انظر: ۱۱۲۱۹)
Explanation
فوائد:… عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کے دور میںیاجوج اور ماجوج کا ظہور ہو گا اور پھر وہ ان ہی کے دور میں ہلاک ہو جائیں گے، ان کے بعد بھی خیر والا زمانہ ہو گا، جس میں حج و عمرہ کی ادائیگی عمل میں آئے گی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت کی علامتوں کے سلسلے کے ظہور کے بعد بھی حج و عمرہ ادا کیے جائیں گے۔لیکن درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک تو کعبۃ اللہ تباہ ہو چکا ہو گا، پس حج و عمرہ کیسے ادا کیا جائے گا؟ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((یُخَرِّبُ الْکَعْبَۃَ ذُوْ السُّوَیْقَتَیْنِ مِنَ الْحَبْشَۃِ۔)) … ’’دو باریک پنڈلیوں والاحبشی کعبہ کو تباہ و برباد کر دے گا۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((کَأَنِّیْ بِہٖاَسْوَدَاَفْحَجَیَقْلَعُھَا حَجَرًا حَجَرًا۔)) …’’گویا کہ میں کالے رنگ اور کھلی پنڈلیوں والے کو دیکھ رہا ہوں جو کعبہ کے ایک پتھر پتھر کواکھاڑ رہا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری) مسند احمد میں سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((…ثُمَّ تَجِیْئُ الْحَبْشَۃُ فَیُخَرِّبُوْنَہٗ خَرَابًا لَایُعْمَرُ بَعْدَہٗاَبَدًا،وَھُمُالَّذِیْنَیَسْتَخْرِجُوْنَ کَنْزَہٗ)) …’’پھرحبشہکےلوگآئیں گے اور وہ کعبہ اس طرح تباہ و برباد کر دیں گے کہ اس کے بعد کبھی بھییہ آباد نہیں ہو سکے گا اور وہی لوگ ہیں جو اس کے خزانے کو نکال لیں گے۔‘‘حافظ ابن حجر نے جمع تطبیق کییہ صورت نکالی ہے کہ اس حدیث ’’یاجوج اور ماجوج کے خروج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج و عمرہ کیا جائے گا۔‘‘ میں بیت اللہ سے مراد اس کی جگہ ہے، (یعنی بیت اللہ کی عمارت تو نہیں ہو گی، لیکن اس کی جگہ کو سامنے رکھ کر اس سے متعلقہ حج و عمرہ کے ارکان ادا کر لیے جائیں گے)۔
4060
Sahih
۔ (۴۰۶۱)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((النَّفَقَۃُ فِیْ الْحَجِّ کَالنَّفَقَۃِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِسَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۸۸)
۔ سیدنا بریدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج کے دوران خرچ کرنا، اللہ تعالی کی راہ یعنی جہاد میں خرچ کرنے کی طرح سات سو گنا تک بڑھ جاتا ہے۔
Takhreej
(۴۰۶۱) حسن لغیرہ۔ أخرجہ البیھقی: ۴/ ۳۳۲ (انظر: ۲۳۰۰۰)
4061
Sahih
۔ (۴۰۶۲) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَجُّ جِہَادُ کُلِّ ضَعِیْفٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۰۹)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج، ہر کمزور آدمی کا جہاد ہے۔
Takhreej
(۴۰۶۲) اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو جعفر محمد بن علی الباقر لم یسمع من ام سلمۃ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۹۰۲(انظر: ۲۶۶۷۴)
Explanation
فوائد: …سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … ’’جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے زیادہ فضیلت والا عمل جہاد ہے، توکیا ہم بھی جہاد نہ کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَا، وَلَکُنَّ اَفْضَلُ الْجِھَادِ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) …’’جی نہیں، تمہارے لیے سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد تو حج مبرور ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۱۵۲۰) اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد کی طرح حج و عمرہ کے سفر میں مشقت، محنت، تھکاوٹ، اپنے ساتھ زادِ راہ اٹھانے اور اپنے علاقے اور رشتہ داروں سے جدا ہونے جیسے امور پائے جاتے ہیں، فرق یہ ہے کہ اس میں لڑائی نہیں ہوتی۔
4062
Zaeef
۔ (۴۰۶۳) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیْمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِنْ کَانَ قَالَہُ جِہَادُ الْکَبِیْرِ وَالضَّعِیْفِ وَالْمَرْأَۃِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) (مسند احمد: ۹۴۴۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بوڑھے، کمزور اور عورت کا جہاد حج اور عمرہ ہے۔
Takhreej
(۴۰۶۳) اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، محمد بن ابراہیم التیمی لم یدرک ابا ھریرۃ۔ أخرجہ النسائی: ۵/ ۱۱۳(انظر: ۹۴۵۹)
Explanation
فوائد: …سنن نسائی میںاس روایت کے الفاظ یوں ہیں: ((جِہَادُ الْکَبِیْرِ وَالصَّغِیْرِ وَالضَّعِیْفِ وَالْمَرْأَۃِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) اس میں ’’إِنْ کَانَ قَالَہُ‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں۔اس موضوع سے متعلقہ ایک اہم حدیث درج ذیل ہے: سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: إِنَّ عَبْدًا أَصْحَحْتُ لَہٗجِسْمَہٗ،وَوَسَّعْتُعَلَیْہِ فِیْ الْمَعِیْشَۃِ، تَمْضِیْ عَلَیْہِ خَمْسَۃُ أَعْوَامٍ لَایَفِدُ إِلَیَّ، لَمَحْرُوْمٌ۔)) (بیہقي۵/ ۲۶۲، ابن حبان: ۹۶۰، صحیحہ: ۱۶۶۲) ’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میں نے ایک بندے کا جسم تندرست رکھا، اس کی معیشت میں وسعت پیدا کی، لیکن اس حالت میں پانچ سال بیت گئے اوروہ میری طرف نہیں آیا، ایسا آدمی محروم ہے۔‘‘
4063
Zaeef

Chapters

35
01
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
16 Hadith
02
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
15 Hadith
03
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
10 Hadith
04
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
2 Hadith
05
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
8 Hadith
06
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
5 Hadith
07
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
08
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
1 Hadith
09
ماہِ شوال کے چھ روزوں کا بیان
3 Hadith
10
شوال، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روزوں کا بیان
2 Hadith
11
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
1 Hadith
12
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
5 Hadith
14
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
3 Hadith
15
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
10 Hadith
16
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
5 Hadith
17
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
18
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
6 Hadith
19
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
3 Hadith
20
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
5 Hadith
21
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
3 Hadith
22
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
5 Hadith
23
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
3 Hadith
24
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
8 Hadith
25
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
26
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
7 Hadith
27
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
28
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
9 Hadith
29
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
30
حج کی فرضیت کا بیان
5 Hadith
31
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
4 Hadith
32
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
6 Hadith
33
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
3 Hadith
34
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
11 Hadith
35
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.