مسنداحمد

Musnad Ahmad

یوم عاشوراء

حج کی فرضیت کا بیان

۔ (۴۰۶۴) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہٖالْآیَۃُ {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا} قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَفِی کُلِّ عَامٍ؟ فَسَکَتَ، فَقَالُوْا: ((أَفِیْ کُلِّ عَامٍ؟ فَسَکَتَ، قَالَ: ثُمَّ قَالُوْا: أَفِیْ کُلِّ عَامٍ؟ فَقَالَ: ((لاَ، وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ۔)) فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالیٰ: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْیَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ…} اِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ۔ (مسند احمد: ۹۰۵)

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا} (سورۂ آل عمران: ۹۷) یعنی: جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو اس پر بیت اللہ کا حج لازم ہے۔ تو صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے۔ انہوں نے پھر کہا: کیا ہر سال یہ فرض ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے۔ انھوں نے تیسری مرتبہ کہا: کیا ہر سال یہ عبادت فرض ہو گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا ۔پھر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْیَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ}(سورۂ مائدۃ: ۱۰۱) یعنی: ایمان والو! تم ایسی باتوں کے متعلق مت پوچھا کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے بیان کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزرے۔

۔ (۴۰۶۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: خَطَبنَاَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ کُتِبَ عَلَیْکُمْ الْحَجُّ۔)) قَالَ: فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ: فِیْ کُلِّ عَامٍ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((لَوْ قُلْتُہَا لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوْا بِہَا أَوْ لَمْ تَسْتَطِیْعُوْا أَنْ تَعْمَلُوْا بِہَا، فَمَنْ زَادَ،فَہُوَ تَطَوُّعٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۴)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے۔ سیدنا اقرع بن حابس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھے اور انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتاتویہ ہر سال ہی واجب ہوجاتا اور اگر حج ہر سال فرض کر دیا گیا تو تم اس پر عمل نہیں کرو گے، یا اس پر عمل کرنے کی تم میں طاقت ہی نہیں ہو گی، ہاں جو آدمی ایک سے زائد مرتبہ حج کرے گا تو یہ نفلی عبادت ہو گی۔

۔ (۴۰۶۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَلْحَجُّ کُلَّ عَامٍ؟ فَقَالَ: ((لَا، بَلْ حَجَّۃٌ، فَمَنْ حَجَّ بَعْدَ ذٰلِکَ فَہُوَ تَطَوُّعٌ، وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَسْمَعُوْا وَلَمْ تُطِیْعُوْا۔)) (مسند احمد: ۳۵۱۰)

۔ (دوسری سند) سیدنا اقرع بن حابس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا: آیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ ایک بار فرض ہے، البتہ جو شخص اس کے بعد مزید حج کرے گا تو وہ نفل ہو گا اور اگر میں تیرے سوال کے جواب میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال فرض ہو جاتا اور اگر یہ ہر سال فرض کر دیا گیا تو تم نہ یہ حکم قبول کرو گے اور نہ اس پر عمل کرو گے۔

۔ (۴۰۶۷) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ، اَوْ أَحَدِہِمَا عَنِ الْآخَرِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْیَتَعَجَّلْ، فَإِنَّہُ قَدْ یَمْرَضُ الْمَرِیْضُ وَتَضِلُّ الضَّالَّۃُ وَتَعْرِضُ الْحَاجَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۴)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت کرتے ہیںیا (راوی کو شک ہے) ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے روایت کرتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی حج کرنا چاہتا ہو وہ جلدی کرے،کیونکہ وہ بیمار ہو سکتا ہے ، سواری گم ہو سکتی ہے یا کوئی اور مجبوری پیش آ سکتی ہے۔

۔ (۴۰۶۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ حَجَّۃٌ، وَلَوْ قُلْتُ کُلَّ عَامٍ لَکَانَ)) (مسند احمد: ۲۶۶۳)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ حج کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور اگر میں کہہ دیتا کہ یہ ہر سال فرض ہے تو یہ ہو جاتا۔