مسنداحمد

Musnad Ahmad

یوم عاشوراء

عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو

۔ (۴۰۷۳) عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَتَتِ امْرَاَۃٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبِیْ أَدْرَکَتْہُ فَرِیْضَۃُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْ الْحَجِّ وَہُوَ شَیْخٌ کَبِیْرٌ لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یَثْبُتَ عَلَی دَابَّتِہِ، قَالَ: ((فَحُجِّیْ عَنْ أَبِیْکِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۸)

۔ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ خثعم قبیلہ کی ایک خاتون نے آ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالی کے فریضۂ حج نے میرے باپ کو پا لیا ہے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ وہ عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے سواری پر بیٹھنے کی سکت بھی نہیں رکھتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم خود اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔

۔ (۴۰۷۴) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَل َالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبِیْ أَدْرَکَہُ الإِسْلَامُ وَہُوَ شَیْخٌ کَبِیْرٌ لَا یَثْبُتُ عَلَی رَاحِلَتِہِ أَفَأَحُجُّ عَنْہُ؟ قَالَ: ((أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ عَلَیہِ دَیْنٌ فَقَضَیْتَہُ عَنْہُ أَکَانَ یُجْزِیْہِ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاحْجُجْ عَنْ أَبِیْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۲)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میرا والد مسلمان ہے، لیکن اب وہ اس قدر عمر رسیدہ ہو چکا ہے کہ سواری پر بھی بیٹھ نہیں سکتا، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتاہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے اگر اس کے ذمہ قرض ہوتا اور تم اس کی طرف سے ادا کرتے، تو کیا اس کی طرف سے ادا ہو جاتا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔

۔ (۴۰۷۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانِ) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ قَالَ: کُنْتُ رَدِیْفَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ أَبِیْ أَوْ أُمِّی شَیْخٌ کَبِیْرٌ لَا یَسْتَطِیْعُ الْحَجَّ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۳)

۔ (دوسری سند) سیدنافضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھا کہ ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: میرا والد یا والدہ اس قدر بوڑھے ہیں کہ وہ حج کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے،… ۔

۔ (۴۰۷۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: جَائَ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ أَبِیْ أَدْرَکَہُ الْإِسْلَامُ وَہُوَ شَیْخٌ کَبِیْرٌ لَا یَسْتَطِیْعُ رُکُوْبَ الرَّحْلِ وَالْحَجُّ مَکْتُوْبٌ عَلَیْہِ، اَفَأَحُجُّ عَنْہُ؟ قَالَ: ((أَنْتَ أَکْبَرُ وَلَدِہِ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ عَلٰی أَبِیْکَ دَیْنٌ فَقَضَیْتَہُ عَنْہُ أَکَانَ ذٰلِکَ یُجْزِیئُ عَنْہُ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاحْجُجْ عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۲۴)

۔ سیدناعبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ خثعم قبیلے کا ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرا والد مسلمان ہے،لیکن وہ اس قدر بوڑھا ہو چکا ہے کہ سواری پر سوار ہونے کی طاقت بھی نہیں رکھتا، جبکہ اس پر حج بھی فرض ہو چکا ہے، تو آیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کے سب سے بڑے بیٹے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا بتلائو اگر تمہارے والد کے ذمہ قرض ہوتا اور تم اس کی طرف سے ادا کرتے ،تو کیا وہ اس کی طرف سے ادا ہو جاتا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھرتم اس کی طرف سے حج کرو ہو۔

۔ (۴۰۷۷) وَعَنْ سَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ وَفِیْ آخِرِہِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاللّٰہُ أَرْحَمُ، حُجَّ عَنْ أَبِیْکَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۶۲)

۔ سیدہ سودہ بنت زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس کے آخری الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اللہ تعالی بڑا مہربان ہے، تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔

۔ (۴۰۷۸) عَنْ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: أِنَّ أُمِّی قَدْ مَاتَتْ وَلَمْ یَحُجَّ فَیُجْزِئُھَا أَنْ أَحُجَّ عَنْھَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَتْ: فَإِنَّ أُمِّی کَانَ عَلَیْہَا صَوْمُ شَہْرٍ فَیُجْزِئُہَا أَنْ أَصُوْمَ عَنْہَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۴۴)

۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری والدہ حج کئے بغیر فوت ہو گئی ہے، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس عورت نے مزید پوچھا: میری والدہ کے ذمہ ایک ماہ کے روزے بھی تھے ،تو کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھ سکتی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔