مسنداحمد

Musnad Ahmad

یوم عاشوراء

زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے

۔ (۴۰۸۲)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِیْ ثَنَا یَحْیٰی عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَنَا عَطَائٌ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاِمْرَأَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ سَمَّاہَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِیْتُ اسْمَہَا،: ((مَا مَنَعَکِ أَنْ تَحُجِّیْ مَعَنَا الْعَامَ۔)) قَالَتْ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنَّمَا کَانَ لَنَا نَاضِحَانِ، فَرَکِبَ أَبُوْ فُلَانٍ وَابْنُہُ لِزَوْجِہَا وَابْنِہَا، نَاضِحًا وَتَرَکَ نَاضِحًا نَنْضَحُ عَلَیْہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَإِذَا کَانَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِیْ فِیْہِ، فَإِنَّ عُمْرَۃً فِیْہِ تَعْدِلُ حَجَّۃً۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۵)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک انصاری عورت، جس کا انھوں نے نام بھی لیا تھا لیکن مجھے بھول گیا، سے فرمایا: کیا بات ہے کہ تم ہمارے ساتھ اس سال حج کے لیے نہیں جا رہیں؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے نبی کریم! ہمارے پاس دو اونٹنیاں تھیں، میرا شوہر اور بیٹا ایک اونٹنی لے کر سفر پر روانہ ہو رہے ہیں اور ایک اونٹنی پیچھے چھوڑ رہے ہیں،اس پر ہم پانی لاتے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو جب ماہِ رمضان آئے تو عمرہ کر لینا، کیونکہ اس ماہ میں کیا گیا عمرہ، حج کے برابر ہوتا ہے۔

۔ (۴۰۸۳) عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أُمِّ مَعْقِلٍ عَنْ أُمِّ مَعْقِلٍ الْأَسَدِیَّۃِ قَالَ: أَرَادَتْ أُمِّیَ الْحَجَّ وَکَانَ جَمَلُہَا أَعْجَفَ، فَذکَرَتْ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((اِعْتَمِرِیْ فِیْ رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَۃً فِی رَمَضَانَ کَحَجَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۴۷)

۔ معقل کہتے ہیں: میری ماں سیدنا ام معقل اسدیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے حج کا ارادہ کیا، لیکن ان کا اونٹ لاغر تھا، جب انہوں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کر لینا، کیونکہ ماہِ رمضان میں ادا کیا گیا عمرہ ، حج کی مانند ہے۔

۔ (۴۰۸۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْ سَلْمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أُمِّ مَعْقِلٍ الأَسَدِیَّۃِ أَنَّہَا قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی أُرِیْدُ الْحَجَّ وَجَمَلِی أَعْجَفُ فَمَا تَأْمُرُنْیِ؟ قَالَ: ((اِعْتَمِرِی فِی رَمَضَانَ ‘ فَإِنَّ عُمْرَۃً فِی رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً)) (مسند احمد: ۲۷۸۲۸)

۔ (دوسری سند) سیدہ ام معقل اسدیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حج کرنا چاہتی ہوں ،لیکن میرا اونٹ کمزور ہے، اب آپ مجھے کیا حکم دیں گے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کر لینا، کیونکہ ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔

۔ (۴۰۸۵) عَنْ أَبِی بَکْرٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ عَنِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی أَسَدِ بْنِ خُزَیْمَۃَیُقَالُ لَہُ أُمُّ مَعْقِلٍ قَالَتْ: أَرَدْتُّ الْحَجَّ فَضَلَّ بَعِیْرِی، فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِعْتَمِرِیْ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَۃً فِی شَہْرِ رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۳۱)

۔ بنو اسد بن خزیمہ کی ایک خاتون سیدہ ام معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے حج کرنے کا ارادہ کیا، لیکن میرا اونٹ گم ہو گیا، جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کر لینا، کیونکہ اس مہینے میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔

۔ (۴۰۸۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنْتُ فِیْمَنْ رَکِبَ مَعَ مَرْوَانَ حِیْنَ رَکِبَ إِلٰی أُمِّ مَعْقِلٍ، قَالَ: وَکُنْتُ فِیْمَنْ دَخَلَ عَلَیْہَا مِنَ النَّاسِ مَعَہٗوَسَمِعْتُھَاحِیْنَ حَدَّثَتْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۳۲)

۔ (دوسری سند) ابوبکر بن عبد الرحمن کہتے ہیں: جب مروان، سیدہ ام معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف گئے تو میں بھی قافلہ میں شامل تھا اور جو لوگ سیدہ ام معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں حاضر ہوئے ان میں میں بھی تھا، پھر انھوں نے یہ حدیث بیان کی، جو میں نے خود ان سے سنی۔

۔ (۴۰۸۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: أَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلٰی أُمِّ مَعْقِلٍ الأَسَدِیَّۃِیَسْأَلُہَا عَنْ ہٰذَا الْحَدَیْثِ فَحَدَّثَتْہُ أَنَّ زَوْجَہَا جَعَلَ بَکْرًا لَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَأَنَّہَا أَرَادَتِ الْعُمْرَۃَ، فَسَأَلَتْ زَوْجَہَا الْبَکْرَ فَأَبٰی، فَأَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَتْ ذَالِکَ لَہُ فَاَمَرَہُ أَنْ یُعْطِیَہَا، وَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ مِنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَقَالَ: عُمْرَۃٌ فِیْ رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً أَوْ تُجْزِیئُ حَجَّۃً، وَقَالَ حَجَّاجٌ تَعْدِلُ بِحَجَّۃٍ أَوْتُجْزِیئُ بِحَجَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۲۹)

۔ (تیسری سند) ابوبکر بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ مروان نے سیدہ ام معقل اسدیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ حدیث پوچھنے کے لیے پیغام بھیجا، انھوں نے یہ حدیثیوں بیان کی: میرے شوہر نے میرا ایک اونٹ اللہ کی راہ میں وقف کر دیا ، جب میں نے عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے شوہر سے اونٹ طلب کیا ، لیکن اس نے مجھے اونٹ دینے سے انکار کر دیا،میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ ساری بات بتائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے شوہر کو حکم دیا کہ وہ مجھے میرا اونٹ دے دے۔ پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا: حج اور عمرہ بھی اللہ کی راہ میں سے ہیں۔ نیز فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہوتا ہے ۔ یایوں فرمایا کہ حج سے کفایت کرتا ہے۔

۔ (۴۰۸۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) قَالَ: أَخْبَرَنِیْ رَسُوْلُ مَرْوَانَ الَّذِیْ أُرْسِلَ إِلٰی أُمِّ مَعْقِلٍ قَالَ: قَالَتْ: جَائَ أَبُوْ مَعْقِلٍ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجًّا، فَلَمَّا قَدِمَ أَبُوْ مَعْقِلٍ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ مَعْقِلٍ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ عَلَیَّ حَجَّۃً، وَأَنَّ عِنْدَکَ بَکْرًا فَأَعْطِنِیْ فَلِاَحُجَّ عَلَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ لَہَا: إِنَّکَ قَدْ عَلِمْتِ أَنِّیْ قَدْ جَعَلْتُہُ فِیْ سَبِیْلِ للّٰہِ، قَالَتْ: فَأَعْطِنِیْ صِرَامَ نَخْلِکَ، قَالَ: قَدْ عَلِمْتِ أَنَّہُ قُوتُ أَہْلِی، قَالَتْ: فَإِنِّی مُکَلِّمَۃٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَذَاکِرَتُہُ لَہُ، قَالَ: فَانْطَلَقَا یَمْشِیَانِ حَتّٰی دَخَلَا عَلَیْہِ، قَالَ: فَقَالَتْ لَہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ عَلَیَّ حَجَّۃً وَإِنَّ لِأَبِیْ مَعْقِلٍ بَکْرًا، قَالَ أَبُوْ مَعْقِلٍ: صَدَقَتْ جَعَلْتُہُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، قَالَ: ((أَعْطِہَا فَلْتَحُجَّ فَإِنَّہُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ فَلَمَّا أَعْطَاہَا الْبَکْرَ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی امْرَأَۃٌ قَدْ کَبِرْتُ وَسَقِمْتُ فَہَلْ مِنْ عَمَلٍ یُجْزِیئُ عَنِّیَ مِنْ حَجَّتِی؟ قَالَ: فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عُمْرَۃٌ فِیْ رَمَضَانَ تُجْزِیئُ لِحَجَّتِکِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۴۸)

۔ (چوتھی سند) ابوبکر بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مروان نے جس قاصد کو سیدہ ام معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف بھیجا تھا، اس نے مجھے بیان کیا کہ سیدہ ام معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: سیدنا ابو معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کو جانے لگے، جب وہ گھر آئے تو میں نے کہا: آپ جانتے ہیں کہ مجھ پر بھی حج فرض ہے اور آپ کے پاس ایک اونٹ ہے، آپ وہ مجھے دے دیں تاکہ میں بھی حج کر سکوں۔انھوں نے کہا: تم جانتی ہو کہ میںاسے اللہ کی راہ میں وقف کر چکا ہوں، اس لیے وہ آپ کو نہیں دیا جا سکتا۔ سیدہ ام معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تو پھر آپ نے جو کھجوریں چن لی ہیں، وہ مجھے دے دیں، انھوں نے کہا: تم جانتی ہو کہ وہ تو میرے اہل و عیال کی خوراک ہیں، سیدہ ام معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تو پھر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کرتی ہوں۔چنانچہ وہ دونوں چل پڑے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ سیدہ ام معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ پر حج فرض ہے اور ابو معقل کے پاس ایک اونٹ بھی ہے۔ سیدنا ابو معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس کی بات درست ہے ،مگر میں تو اسے اللہ کی راہ میں وقف کر چکا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم وہ اونٹ اسے دے دو، تاکہ یہ اس پر حج کر سکے، اور حج بھی اللہ تعالی کی راہ میں سے ہے۔ جب سیدنا ابو معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے اونٹ دے دیا تو وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں اب کافی عمر رسیدہ ہو چکی ہوں اور بیمار بھی رہتی ہوں ،کیا کوئی عمل ایساہے جو میرے حج کا عوض بن سکے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا حج سے کفایت کرے گا۔

۔ (۴۰۸۹) عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِی بَعْضُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وغَزَوْنَا نَحْوَ فَارِسَ، فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ بَاتَ فَوْقَ بَیْتٍ لَیْسَ لَہُ إِجَّارٌ، فَوَقَعَ فَمَاتَ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ، وَمَنْ رَکِبَ الْبَحْرَ عِنْدَ ارْتِجَاجِہِ فَمَاتَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۲۸)

۔ ابو عمران جونی کہتے ہیں: ہم فارس کی طرف جہاد کے لئے گئے ہوئے تھے، اس وقت ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: جو آدمی ایسے چھت پر رات گزارے، جس پر کوئی پردہ یا رکاوٹ نہ ہو اور وہ گر کر مر جائے تو اس سے اللہ تعالی کی حفاظت اٹھ جاتی ہے، اسی طرح جو آدمی اس حال میں سمندری سفر کرے کہ وہ متلاطم خیز ہو اور پھر وہ مرجائے تو اس سے بھی اللہ کی حفاظت اٹھ جاتی ہے۔

۔ (۴۰۹۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنَّا بِفَارِسَ وَعَلَیْنَا اَمِیْرٌ،یُقَالُ لَہُ زُہَیْرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِی رَجُلٌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ بَاتَ فَوْقَ إِجَّارٍ أَوْ فَوْقَ بَیْتٍ لَیْسَ حَوْلَہُ شَیْئٌیَرُدُّ رِجْلَہُ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ، وَمَنْ رَکِبَ الْبَحْرَ بَعْدَ مَا یَرْتَجُّ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۲۹)

۔ (دوسری سند) ابو عمران جونی کہتے ہیں: ہم فارس کے علاقے میں تھے ، زہیر بن عبد اللہ نامی ایک شخص ہمارا امیر تھا، اس نے کہاکہ ایک آدمی نے اسے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایسی چھت کے پردے کے اوپر یا چھت پر رات گزارے، جس پر کوئی ایسا پردہ یا رکاوٹ نہ ہو جو اس کی ٹانگ کو روک سکے تو اللہ تعالی کی حفاظت اس سے اٹھ جاتی ہے، اسی طرح سمندر کے متلاطم ہونے کے بعد اس کا سفر کرے تو اس سے بھی اللہ تعالی کی حفاظت اٹھ جاتی ہے۔

۔ (۴۰۹۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُسَافِرُ امْرَأَۃٌ إِلَّا وَمَعَہَا ذُوْمَحْرَمٍ، وَجَائَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّی اُکْتُتِبْتُ فِی غَزْوَۃِ کَذَا وَکَذَا وَامْرَأَتِیْ حَاجَّۃٌ، قَالَ: ((فَارْجِعْ فَحُجَّ مَعَہَا۔)) (مسند احمد: ۳۲۳۱)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی خاتون محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: فلاں غزوے میں میرا نام لکھا گیاہے ،جبکہ میری اہلیہ حج کے لئے جانا چاہتی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جا اور اس کے ساتھ حج کر۔

۔ (۴۰۹۲) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یَحِلُّ لَاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ یَوْمًا وَلَیْلَۃً (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: تُسَافِرُ لَیْلَۃً، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یَوْمًا تَامًا) إِلَّا مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ مِنْ أَہْلِہَا۔)) (مسند احمد: ۷۲۲۱)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لئے حلال نہیں کہ وہ ایک دن رات کا سفر محرم کے بغیر کرے۔ ایک روایت میں صرف ایک رات کا ، ایک روایت میں تین دنوں کا اور ایک روایت میں ایک مکمل دن کے سفر کا ذکر ہے۔