مسنداحمد

Musnad Ahmad

عمرہ کے ابواب

عمرۂ حدیبیہ کا بیان

۔ (۴۱۱۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ مُعْتَمِرًا، فَحَالَ کُفَّارُ قُرَیْشٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَنَحَر ہَدْیَہُ، وَحَلَقَ رَأْسَہُ بِالْحُدَیْبِیَّۃِ، فَصَالَحَہُمْ عَلٰی أَنْ یَعْتَمِرُوْا الْعَامَ الْمُقْبِلَ، وَلَا یَحْمِلُ السِّلَاحَ عَلَیْہِمْ (وَفِیْ لَفْظٍ: وَلَا یَحْمِلُ سِلَاحًا) إِلَّا سُیُوْفًا وَلَا یُقِیْمُ بِہَا إِلَّا مَا أَحَبُّوْا، فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَدَخَلَہَا کَمَا کَانَ صَالَحَہُمْ، فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ ثَلَاثًا أَمْرُوْہُ أَنْ یَخْرُجَ فَخَرَجَ۔ (مسند احمد: ۶۰۶۷)

۔ عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے، لیکن کفارِ قریش آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہی ہَدی کاجانور ذبح کر دیا اور اپنا سر منڈوا لیا، اور ان کے ساتھ یہ معاہدہ ہواکہ مسلمان آئندہ سال عمرہ کے لئے آ سکیں گے اور ان میں سے کوئی مسلح نہ ہو گا، البتہ ان کے پاس صرف تلواریں ہوں گی اور وہ اس وقت تک ٹھہر سکیں گے، جب تک کفار چاہیں گے، چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آئندہ سال آ کر عمرہ کیا، معاہدہ کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دن قیام کر لیا تو انہوںنے کہا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے جائیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے آئے۔

۔ (۴۱۱۷) عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ قَالَا: قَلَّدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْہَدْیَ وَأَشْعَرَہُ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ وَأَحْرَمَ مِنْہَا بِالْعُمْرَۃِ، وَحَلَقَ بِالْحُدَیْبِیَّۃِ فِی عُمْرَتِہِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَہُ بِذَالِکَ، وَنَحَرَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ قَبْلَ أَنْ یَحْلِقَ وَأَمَرَ أَصْحَابَہُ بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۲۸)

۔ سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا مروان بن حکم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہَدی کے جانوروں کو قلادے ڈالے، ذوالحلیفہ کے مقام پر ان کے پہلوئوں پر علامتی چیرا دیا اور وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، لیکن حدیبیہ کے مقام پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سرمنڈوا دیا اور اپنے صحابہ کو بھییہی کچھ کرنے کا حکم دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر منڈوانے سے پہلے ہدی کو نحر کیا تھا اور صحابہ کو بھییہی حکم دیا۔