TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عمرہ کے ابواب - عمرہ کے ابواب - Book 71 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 71 of Musnad Ahmad, with 11 chapters and 44 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

44 Hadith · 11 Chapters
عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۴۰۹۴) عَنْ ہَرِمِ بْنِ خَنْبَشٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَتْہُ امْرَأَۃٌ، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْ أَیِّ الشُّہُوْرِ أَعْتَمِرُ؟ قَالَ: ((اِعْتَمِرِیْ فِیْ رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَۃً فِیْ رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۴۳)
۔ سیدنا ہرم بن خنبش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس مہینہ میں عمرہ کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرو، کیونکہ ماہِ رمضان میں ادا کیا ہوا عمرہ حج کے برابر ہے۔
Takhreej
(۴۰۹۴) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۹۹۲(انظر: ۱۷۶۰۰)
4094
Sahih
عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۴۰۹۴) عَنْ ہَرِمِ بْنِ خَنْبَشٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَتْہُ امْرَأَۃٌ، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْ أَیِّ الشُّہُوْرِ أَعْتَمِرُ؟ قَالَ: ((اِعْتَمِرِیْ فِیْ رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَۃً فِیْ رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۴۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔
Takhreej
(۴۰۹۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۸۲، ومسلم: ۱۲۵۶(انظر: ۲۸۰۹)
4095
Sahih
عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۴۰۹۶)عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۵۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۴۰۹۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۹۹۵(انظر: ۱۴۷۹۵)
Explanation
فوائد: …حدیث نمبر (۴۰۸۲)کی شرح میں اس فضیلت کی وضاحت ہو چکی ہے۔
4096
Sahih
عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۴۰۹۷)عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ اسْتَأْذَنَہُ فِیْ الْعُمْرَۃِ، فَأَذِنَ لَہُ، فَقَالَ: ((یَا أَخِیْ! لَا تَنْسَنَا مِنْ دُعَائِکَ۔)) وَقَالَ بَعْدُ فِیْ الْمَدِیْنَۃِ: ((أَشْرِکْنَا فِْی دُعَائِکَ۔)) فَقَالَ عُمَرُ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِی بِہَا مَا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ لِقَوْلِہٖ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یاَأَخِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اجازت دی اوریہ بھی فرمایا: میرے بھائی! ہمیں اپنی دعائوں میں بھلا نہ دینا۔ راویٔ حدیث شعبہ نے بعد میں مدینہ میں حدیث بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے: ہمیں اپنی دعاؤںمیں شامل کیے رکھنا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو مجھے اپنا بھائی کہا تھا، یہ چیز مجھے اتنی پسند آئی کہ میں اس کے مقابلے میں پوری دنیا کو ترجیح نہیں دیتا۔
Takhreej
(۴۰۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عاصم بن عبد اللہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۹۸، وابن ماجہ: ۲۸۹۴، والترمذی: ۳۵۶۲ (انظر: ۱۹۵)
Explanation
فوائد: …’’مَا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ‘‘ کا لفظی معنی ہے وہ چیزیں جن پر سورج کی روشنی پڑتی ہے، اس سے مراد پوری دنیا ہے۔
4097
Zaeef
عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۴۰۹۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃُ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَہُمَا مِنَ الذُّنُوْبِ وَالْخَطَایَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ)) (مسند احمد: ۱۵۷۹۲)
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ کرنا، یہ عمل اِن دو کے درمیانی عرصے کے گناہوں اور خطاؤں کا کفارہ بنتا ہے اور رہا مسئلہ حج مبرور کا تو اس کا بدلہ تو صرف جنت ہے۔
Takhreej
(۴۰۹۸) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۵۷۰۱م)
Explanation
فوائد: …دو عمروں کی وجہ سے ان کے درمیانے گناہوں کا بخش دیا جانا، ظاہر بات تو یہی ہے کہ ان گناہوں کی معافی دوسرے عمرے کی وجہ سے ہو گی اور پہلے عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف کیے جائیں گے، ’’کِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ‘‘ کے پہلے باب میں مذکورہ احادیث سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ہر عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
4098
Sahih
حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان
۔ (۴۰۹۹)عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ الْعُمْرَۃِ قَبْلَ الْحَجِّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لاَ بَأْسَ عَلٰی أَحَدٍ یَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ۔ قَالَ عِکْرِمَۃُ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: اِعْتَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ۔ (مسند احمد: ۵۰۶۹)
۔ عکرمہ بن خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قبل از حج عمرہ کرنے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: حج سے پہلے عمرہ کرنے والے پر کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود حج سے پہلے عمرہ کیا تھا۔
Takhreej
(۴۰۹۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۷۴(انظر: ۵۰۶۹)
Explanation
فوائد: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کل چار عمرے کیے: (۱) عمرۂ حدیبیہ ،(۲) عمرۂ قضا، (۳) عمرۂ جعرانہ اور (۴) حجۃ الوداع کے ساتھ والا عمر۔ پہلے تینوں عمرے حرمت والے مہینے ذوالقعدہ میں ادا کیے،یہ مہینہ ذوالحجہ سے پہلے ہے اور چوتھا عمرہ ذوالحجہ کے مہینے میں حج کے ساتھ ادا کیا، ایک باب کے بعد ان تمام عمروں کی وضاحت آ رہی ہے۔
4099
Sahih
حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان
۔ (۴۱۰۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فِیْ نَفَرٍ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ، نُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ مِنْہَا، فَلَقِیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، فَقُلْتُ إِنَّا قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ وَلَمْ نَحُجَّ قَطُّ، أَفَنَعْتَمِرُ مِنْہَا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَا یَمْنَعُکُمْ مِنْ ذٰلِکَ؟ فَقَدِ اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُمَرَہُ کُلَّہَا قَبْلَ حَجَّتِہِ وَاعْتَمَرْنَا۔ (مسند احمد: ۶۴۷۵)
۔ (دوسری سند) عکرمہ کہتے ہیں: میں اہل مکہ کے چند افراد کے ہمراہ مدینہ منورہ آیا، دراصل ہم وہاں سے عمرہ کے لئے جانا چاہتے تھے، میری ملاقات سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہو گئی، میں نے ان سے پوچھا: ہم مکہ کے رہنے والے لوگ ہیں، اب ہم مدینہ آئے ہوئے ہیں، ہم نے کبھی بھی حج نہیں کیا، تو کیا اب ہم یہاں سے عمرہ کر سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، بھلا کون سی چیز تمہیں اس سے مانع ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو اپنے سارے عمرے حج سے پہلے کئے تھے اور ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ یہ عمرے کیے تھے۔
Takhreej
(۴۱۰۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4100
Sahih
حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان
۔ (۴۱۰۱) عَنْ أَبِیْ عِمْرَانَ اَسْلَمَ، أَنَّہُ قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ مَوَالِیَّ فَدَخَلْتُ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ؟ قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ، اِعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ وَإِنْ شِئْتَ بَعْدَ أَنْ تَحُجَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ: مَنْ کَانَ صَرُوْرَۃً فَلَا یَصْلُحُ أَنْ یَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ، قَالَ: فَسَأَلْتُ أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ:، فَرَجَعْتُ إِلَیْہَا فَأَخْبَرْتُہَا بِقَوْلِہِنَّ، قَالَ: فَقَالَتْ: نَعَمْ وَأَشْفِیْکَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَہِلُّوا یَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَۃٍ فِیْ حَجٍّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۸۳)
۔ ابو عمران اسلم کہتے ہیں: میں اپنے آقائوں کی معیت میں حج کے لئے گیا، میں سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا اور ان سے پوچھا: کیا میں حج سے قبل عمرہ کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی تمہاری مرضی ہے، اگر چاہو تو حج سے پہلے عمرہ کر لو اور چاہو تو بعد میں کر لو۔ میں نے کہا کہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ جس نے پہلے حج نہ کیا ہو وہ عمرہ نہیں کر سکتا۔ پھر میں نے دیگر امہات المومنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہی مسئلہ دریافت کیا تو ان سب نے وہی بات کہی جو سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہی تھی، میں نے واپس آ کر ان کو یہ بات بتائی، پھر انھوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، لیکن میںتمہاری مزید تشفی کر دیتی ہوں اور وہ اس طرح کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اے آلِ محمد! حج کے ساتھ عمرے کا تلبیہ بھی کہو۔
Takhreej
(۴۱۰۱) اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۳/ ۷۹۲، والبیھقی: ۴/ ۳۵۵(انظر: ۲۶۵۴۸)
Explanation
فوائد: … حدیث کے آخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج قران کا حکم دے رہے ہیں، اس حج میں ایک احرام میں حج اور عمرہ ادا کیا جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی حج ادا کیا تھا۔
4101
Sahih
حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان
۔ (۴۱۰۲)عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ، وَاعْتَمَرَ قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَقَدْ عَلِمَ أَنَّہُ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ بِعُمْرَتِہِ الَّتِیْ حَجَّ فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۸۳۲)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک عمرہ حج سے پہلے کیا اور ایک اور عمرہ حج سے پہلے کیا، لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: وہ جانتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار عمرے کیے تھے اور ان میں سے ایک عمر ہ، حج کے ساتھ کیا تھا۔
Takhreej
(۴۱۰۲) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ البیھقی: ۵/ ۱۱، وابویعلی: ۱۶۶۰، واخرج البخاری: ۱۷۸۱ بلفظ: اعتمر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فی ذی القعدۃ مرتین۔ (انظر: ۱۸۶۲۹)
Explanation
فوائد: … سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے صرف عمرۂ قضا اور عمرۂ جعرانہ کا ذکر کیا ہے، عمرۂ حدیبیہ کا تذکرہ اس لیے نہیں کیا کہ یہ مکمل نہیں ہوا تھا اور آخری عمرے کا ذکر اس لیے نہیں کہ یہ حج کے اعمال میں داخل تھا۔
4102
Sahih
حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان
۔ (۴۱۰۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا حَاضَتْ فَنَسَکَتِ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا غَیْرَ أَنَّہَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ، فَلَمَّا طَہُرَتْ طَافَتْ، قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتَنْطَلِقُوْنَ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أَبِیْ بَکْرٍ أَنْ یَخْرُجَ مَعَہَا إِلَی التَّنْعِیْمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِیْ ذِیْ الْحِجَّۃِ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۳۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا (حج کے موقع پر) حائضہ ہو گئیں، لیکن انھوں نے بیت اللہ کے طواف کے علاوہ سارے مناسکِ حج ادا کیے، پھر انھوں نے پاک ہونے کے بعد طواف کر لیا، جب لوگ واپس جانے لگے تو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ لوگ تو حج اور عمرہ ادا کرکے جا رہے ہیں اور میں صرف حج کرکے واپس جاؤں؟ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ تنعیم کی طرف جائیں، (تاکہ یہ عمرہ کر سکیں)، پھر انھوں نے ذوالحجہ میں ہی حج کے بعد عمرہ کیا تھا۔
Takhreej
(۴۱۰۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۵۱، ۱۷۸۵، ۷۲۳۰، ومسلم: ۱۲۱۳(انظر: ۱۴۲۷۹)
4103
Sahih
حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان
۔ (۴۱۰۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ طَاؤُوْسٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا أَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ، فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ حَتّٰی حَاضَتْ، فَنَسَکَتِ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا وَقَدْ أَہَلَّتْ بِالْحَجِّ، فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَالنَّحْرِ: ((یَسَعُکِ طَوَافُکِ لِحَجِّکِ وَلِعُمْرَتِکِ۔)) فَأَبَتْ، فَبَعَثَ بِہَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ إِلَی التَّنْعِیْمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۴۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرے کا احرام باندھا، لیکن جب وہ مکہ پہنچیں تو ابھی تک انہوںنے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا کہ وہ حائضہ ہو گئیں، پھر انہوں نے حج کا احرام باندھ لیا اور تمام مناسک ادا کئے، دس ذوالحجہ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تمہارا طواف تمہارے حج اور عمرے دونوں کے لیے کافی ہو گا۔ لیکن انھوں نے اس چیز کو تسلیم نہ کیا، اس لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں حج کے بعد ان کے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ تنعیم بھیجا، اس طرح انھوں نے عمرہ کیا۔
Takhreej
(۴۱۰۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۱۱(انظر: ۲۴۹۳۲)
Explanation
فوائد: …یہی مفہوم رکھنے والی ایک اور حدیث درج ذیل ہے، جو اسی کتاب کی حدیث نمبر (۴۱۶۸) ہے: سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ رو رہی تھیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ’’کیا بات ہے، رو رہی ہو؟‘‘ انہوں نے کہا: لوگ حلال ہو گئے ہیں، لیکن میں حلال نہ ہو سکی اور انہوں نے بیت اللہ کا طواف بھی کر لیا ہے ، لیکن میں طواف نہ کر سکی اور اب حج کے دن بھی آ گئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’بیشک اللہ تعالی نے اس چیز کو بناتِ آدم پر مقرر کیا ہے،اب تم غسل کرکے حج کا احرام باندھ لو اور حج ادا کرو۔‘‘ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کہتی ہیں: میں نے اسی طرح کیا، پھر جب میں حیض سے پاک ہو گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((طُوْفِی بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ قَدْ أَحْلَلْتِ مِنْ حَجِّکِ وَمِنْ عُمْرَتِکِ۔)) قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی أَجِدُ فِی نَفْسِی مِنْ عُمْرَتِی أَنِّی لَمْ أَکُنْ طُفْتُ حَتّٰی حَجَجْتُ، قَالَ: ((فَاذْہَبْ یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ! فَأَعْمِرْ أُخْتَکَ مِنَ التَّنْعِیْمِ۔))… ’’اب تم بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لو، اس طرح تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو جائو گی۔‘‘ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دل میں یہ کھٹکا سا ہے کہ میں عمرہ کا احرام باندھنے کے باوجود بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی،یہاں تک کہ میں حج سے فارغ ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’عبد الرحمن! جائو اور اپنی بہن کو تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ۔‘‘ (مسلم: ۱۲۱۳، دیکھئے: حدیث نمبر ۴۱۶۸) اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا حج کے لیے خروج تک حائضہ ہی رہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ حج قران شروع کر دیں، جس میں عمرہ بھی ادا ہو جائے گا، لیکن جب سیدہ نے اس خواہش کا اظہارکیا کہ وہ الگ سے عمرہ ادا کرنا چاہتی ہے اور اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ حج کے بعد عمرہ کرنے میں مشرکوں کی مزید مخالفت بھی ہے، کیونکہ وہ اشہر الحج سمیت ذوالحجہ کے آخر تک عمرہ کرنے کو سب سے بڑا گناہ سمجھتے تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ کی درخواست قبول کی اور ان کو عمرہ کرنے کا موقع فراہم فرمایا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس طرح کا عمرہ کرنا حائضہ خاتون کے ساتھ خاص نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے حیض کی وجہ سے عمرہ فسخ کر کے صرف حج کا احرام باندھ لیا تھا، اس طرح وہ عمرہ ادا نہیں کر سکی تھیں، اس لیے انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کیاور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اجازت دے دی، لہٰذا یہ رخصت صرف اس قسم کی صورتحال میں مبتلا ہو جانے والی خواتین کے لیے ہیں۔ لیکن اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ یہ رائے درست نہیں ہے، کیونکہ سیدہ نے تو حج قران میں ایک عمرہ کر لیا تھا، لیکن ان کی رغبت کو سامنے رکھتے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسرا عمرہ کرنے کی اجازت دے دی تھی، اس سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ یہ رخصت صرف اس قسم کی حائضہ خواتینکے لیے ہے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود بھی تو حج قران ہی کیا تھا، دوسری بات یہ ہے کہ حج قران کرنے کے بعد عمرہ کرنے والی درخواست صرف سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے پیش کی، اس سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ کوئی اور آدمی اس قسم کا عمرہ نہیں کر سکتا ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا مقصد یہ تھا کہ وہ دونوں عبادتوں کو الگ الگ مستقل طور پر سرانجام دیں، تاکہ ان کے لیے زیادہ مشقت اٹھانا پڑے اور اس طرح زیادہ اجر و ثواب ملے۔اگر اس واقعہ کے تمام طرق کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ واقعہ دراصل مسافر لوگوں کے لیے عمرہ کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے وقوع پذیر ہوا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک دفعہ کوئی بات ارشاد فرمانا، ایک دفعہ کوئی فعل سرانجام دینا اور ایک دفعہ کسی امر کی اجازت دینا، اس عمل کے مسنون ہونے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ تنبیہ: …جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا حیض کی وجہ سے الگ سے عمرہ ادا نہ کر سکیں تو انھوں نے حلال ہوئے بغیر حج قران کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، جیسا کہ امام نووی نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان ’’عائشہ! تم اپنا عمرہ چھوڑ دو۔‘‘ کا یہ معنی نہیں کہ وہ کلی طور پر احرام سے خارج ہو گئی تھیں، کیونکہیہ نہیں ہو سکتا کہ احرام کے بعد حج اور عمرہ سے خروج کی نیت کر لی جائے، بلکہ ان سے حلال ہونے کا طریقہیہ ہے کہ ان کی ادائیگی کو مکمل کیا جائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ سیدہ اب عمرے کے اعمال یعنی طواف، سعی اور تقصیر کو ترک کر دے اور حج کا تلبیہ شروع کر دے، اس طرح وہ حج قران کرنے والی بن جائے گی اور طواف کے علاوہ سارے مناسک ِ حج ادا کرے گی، جب پاک ہو جائے گی تو طواف کرے گی اور سیدہ نے اسی طرح کیا تھا۔ (شرح مسلم للنووی: ۸/ ۱۳۹)
4104
Sahih
حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان
۔ (۴۱۰۵)عَنْ عِیْسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْبَجَلِیِّ السَّلَمِیِّ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ الْعُمْرَۃِ بَعْدَ الْحَجِّ، قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعِیَ أَخِی فَخَرَجْتُ مِنَ الْحَرَمِ فَاعْتَمَرْتُ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۳۶)
۔ عیسیٰ بن عبد الرحمن کی ماں بیان کرتی ہیں کہ انہوںنے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے حج کے بعد عمرہ کرنے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے یوں جواب دیا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ہمراہ میرے بھائی کو بھیجا تھا، میں حرم سے باہر نکل گئی تھی اور پھر وہاں سے عمرہ کیا تھا۔
Takhreej
(۴۱۰۵) تخریج: انظر الحدیث السابق
4105
Sahih
حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان
۔ (۴۱۰۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَا أَعْمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَائِشَۃَ لَیْلَۃَ الْحَصْبَۃِ إِلَّا قَطْعًا لِأَمْرِ أَہْلِ الشِّرْکِ، فَإِنَّہُمْ کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ: إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ، وَعَفَا الْأَثَرْ، وَدَخَلَ صَفَرْ، فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَۃُ لِمَنِ اعْتَمَرْ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کے بعد وادیٔ محصّب والی رات کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو صرف اس لیے عمرہ کرایا تھا تا کہ مشرکین کے ایک نظریے کو ختم کر دیں، کیونکہ وہ یہ کہا کرتے تھے: جب (حج کے سفر کے بعد) اونٹوں سے سفر کی مشقت کے آثار زائل ہو جائیں، راستوں سے (حاجیوں کے قافلوں کے) نشانات مٹ جائیںاور ماہِ صفر آ جائے تو تب عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ کرنا حلال ہو گا۔
Takhreej
(۴۱۰۶) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۹۸۷(انظر: ۲۳۶۱)
Explanation
فوائد: …مشرکین کا نظریہیہ تھا کہ حج کے بعد بھی ذوالحجہ کا مہینہ ختم ہونے تک عمرہ نہیں کیا جا سکتا ہے، اسی چیز کو وہ اس کلام میں بیان کر رہے ہیں۔ لیکن اعتراض یہ ہے کہ ذوالحجہ کے بعد محرم کا مہینہ آتا ہے، لیکن مشرکین اس شعر میں صفر کا ذکر کر رہے ہیں، جو کہ محرم کے بعد آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مشرکین اپنے مقاصد کی خاطر حرمت والے مہینوں کی ترتیب تبدیل کر دیتے تھے، یہاں انھوں نے محرم کو صفر کی جگہ پر اور صفر کو محرم کی جگہ پر رکھ دیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ حرمت والے تین مہینے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم لگاتار ہیں، اب اس میں ان کے لیے تنگی اور مشکل تھی کہ وہ لگاتار تین مہینوں تک لڑائی وغیرہ سے رکیں رہیں، اس لیے ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے بعد محرم کی بجائے وہ صفر کا مہینہ فرض کر لیتے تھے۔ اللہ تعالی نے مشرکوں کے اس ظلم کو یوں بیان کیا ہے: {اِنَّمَا الـنَّسِیْئُ زِیَـادَۃٌ فِیْ الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا وَّیُحَرِّمُوْنَہٗ عَامًا لِیُوَاطِئُوْا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ زُیِّنَ لَھُمْ سُوْٓئُ اَعْمَالِھِمْ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِیْ الْقَوْمَ الْکَافِرِیْنَ۔} …’’مہینوں کا آگے پیچھے کر دینا کفر کی زیادتی ہے، اس سے وہ لوگ گمراہی میں ڈالے جاتے ہیں جو کافر ہیں، ایک سال تو اسے حلال کر لیتے ہیں اور ایک سال اسی کو حرمت والا کر لیتے ہیں، کہ اللہ تعالی نے جو حرمت رکھی ہے اس کے شمار میں تو موافقت کر لیں، پھر اسے حلال بنا لیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے، انہیں ان کے برے کا م بھلے دکھا دیئے گئے ہیں اور اللہ کافر قوم کی رہنمائی نہیں فرماتا۔‘‘ (سورۂ توبہ: ۳۷) لیکن اس سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دور میں مسلمانوں کو یہ شعور بھی نہیں ہوتا ہے کہ حرمت والے مہینے کون سے ہیں اور وہ کب شروع ہوتے ہیں، اس لیے وہ ان مہینوں کے آداب بجا لانے سے مکمل طور پر غافل ہیں۔ حرمت والے مہینے چار ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب، ان کا ادب یہ ہے کہ ان میں اللہ تعالی کی نافرمانی کر کے ان کی حرمت کو پامال نہ کیا جائے۔
4106
Sahih
حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان
۔ (۴۱۰۷) عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَہَ قَالَ: قَالَ عُرْوَۃُ لِإبْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَتّٰی مَتٰی تُضِلُّ النَّاسَ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا ذَاکَ یَا عُرْوَۃُ؟ قَالَ: تَأْمُرُنْاَ بِالْعُمْرَۃِ فِیْ أَشْہُرِ الْحَجِّ وَقَدْ نَہٰی أَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ فَعَلَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ عُرُوْۃُ: کَانَا ہُمَا أَتْبَعَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَعْلَمَ بِہِ مِنْکَ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۷)
۔ عروہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابن عباس! آپ کب تک لوگوں کو گمراہ کرتے رہیں گے؟ انہوں نے کہا: عروہ! کیا بات ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا: آپ لوگوں کو حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایسا کرنے سے منع کرتے تھے، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ عمل تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود کیا ہے۔ عروہ نے کہا: لیکن وہ دونوں آپ کی بہ نسبت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زیادہ اتباع کرنے والے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں زیادہ علم رکھتے تھے۔
Takhreej
(۴۱۰۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۲۲۷۷)
Explanation
فوائد: …بلا شک و شبہ حج کے مہینوںمیں عمرہ کرنا درست ہے، دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے سامنے یہ مصلحت تھی کہ لوگ حج کے مہینوں میں لوگ حج کے لیے سفر کر کے آئیں اور پھر دوسرے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے الگ سے آئیں، تاکہ دونوں عبادتیں اپنی اپنی جگہ پر مستقل طور پر ہوں اور دونوں کے لیے الگ الگ مشقت اور خرچہ برداشت کیا جائے، دیکھیں احادیث نمبر (۴۲۰۴، ۴۲۰۵،۴۲۰۶)۔لیکن شیخین کی اس رائے کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ وہ حج کے مہینوں میں عمرہ کو ناجائز سمجھتے تھے، حدیث نمبر (۴۱۹۴)میں اور اس کی شرح میں اس بات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اس کا مطالعہ کریں۔
4107
Sahih
عمرے کے حکم اور اس کے طریقہ کا بیان
۔ (۴۱۰۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِیْ عَنِ الْعُمْرَۃِ أَوْاجِبَۃٌ ہِیَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَیْرٌ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۵۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! آپ عمرہ کے بارے میں ذرا بتلائیں کہ کیایہ واجب ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، لیکن اگر تم عمرہ کرو گے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا۔
Takhreej
(۴۱۰۸) اسنادہ ضعیف، الحجاج بن ارطاۃ مدلس وقد عنعن۔ أخرجہ الترمذی: ۹۳۱ (انظر: ۱۴۳۹۷)
Explanation
فوائد: …اسی طرح درج ذیل حدیث بھی ضعیف ہے، جو انتہائی واضح طور پر عمرہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہے: سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ فَرِیْضَتَانِ۔)) …حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں۔‘‘ (ابن عدی)
4108
Zaeef
عمرے کے حکم اور اس کے طریقہ کا بیان
۔ (۴۱۰۹) عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ ذَکَرُوْا الرَّجُلَ یُہِلُّ بِعُمْرَۃٍ فَیَحِلُّ، ہَلْ لَہُ أَنْ یَأْتِیَیَعْنِیْ امْرَأَتَہُ قَبْلَ أَنْ یَطُوْفَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ: لَا حَتّٰییَطُوْفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، وَسَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، فَقَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَطَافَبِالْبَیْتِ سَبْعًا فَصَلّٰی خَلْفَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ،ثُمَّ قَالَ: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} (مسند احمد: ۴۶۴۱)
۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ لوگوں نے یہ بات ذکر کی کہ ایک آدمی عمرے کا احرام باندھتا ہے، پھر وہ احرام کھول دیتا ہے توکیا صفا مروہ کی سعی کرنے سے پہلے وہ اپنی بیوی سے ہم بستری کر سکتا ہے، پھر ہم نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: نہیں، جب تک وہ صفا مروہ کی سعی نہ کر لے، اس وقت تک یہ کام نہیں کر سکتا، پھر ہم نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ سوال کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے، بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیںاور پھر صفا مروہ کی سعی کی۔ اس کے بعد سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت پڑھی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … یقینا تمہارے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ (سورۂ احزاب: ۲۱)
Takhreej
(۴۱۰۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۹۵، ۳۹۶، ۱۶۲۳، ۱۶۲۴، وأخرجہ الشطر الثانی منہ مسلم: ۱۲۳۴(انظر: ۳۶۴۱)
Explanation
فوائد: …عمرہ کے حکم کے بارے میں مزیداحادیث: (۱) سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی روایت کردہ مشہور حدیث ِ جبریل میں ہے: جب جبریل علیہ السلام نے اسلام کے بارے میں سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْھَدَ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَاَنْ تُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَوَتَحُجَّ الْبَیْتَ وَتَعْتَمِرَوَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَ تُتِمَّ الْوُضُوْئَ وَ تَصُوْمَ رَمَضَانَ۔ قَالَ: فَاِذَا فَعَلْتُ ذَالِکَ فَاَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ… اسلام یہ ہے کہ تو یہ گواہی دے کہ اللہ تعالی ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے اور بیت اللہ کا حج اور عمرہ کرے اور غسلِ جنابت کرے اور وضو مکمل کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔‘‘ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: جب میں یہ امور سرانجام دوں گا تو کیا میں مسلمان ہوں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جی ہاں۔‘‘ (صحیح ابن خزیمہ: ۱/۳) (۲)سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ)) … ’’جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱) ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَعَلَی النِّسَائِ جِہَادٌ۔ قَالَ: ((اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ ہُوَ جِہَادُ النِّسَائِ)) … اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر بھی جہاد فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’حج اور عمرہ عورتوں کا جہاد ہیں۔‘‘ اس حدیث میں ’’عَلٰی‘‘ کا کلمہ وجوب کا فائدہ دینے میں ظاہر ہے۔ (۳)صبی بن معبد نے کہا: ((رَاَیْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ مَکْتُوْبَیْنِ عَلَیَّ فَاَھْلَلْتُ بِھِمَا۔ فَقَالَ لَہٗ: ھُدِیْتَ لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ)) … میں نے حج اور عمرہ کو اپنے آپ پر فرض پایا، اس لیے ان دونوں کا تلبیہ کہا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے اس سے کہا: تجھے تیرے نبی کی سنت کے مطابق ہدایت دی گئی ہے۔ (سنن ابی داود: ۱۷۹۹)سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا جابر اور امام شافعی اور امام احمد وغیرہ عمرہ کے وجوب کے قائل ہیں۔جبکہ امام ابو حنیفہ، امام مالک، اور امام نخعی وغیرہ کا خیال ہے کہ عمرہ واجب نہیں ہے، بلکہ سنت ہے۔علامہ شوکانی کہتے ہیں: حق یہ ہے کہ عمرہ واجب نہیں اور اس کے وجوب کی کوئی صریح دلیل بھی نہیں۔لیکن فوائد میں مذکورہ تین دلائل عمرہ کے وجوب پر دلالت کرتے ہیں۔
4109
Sahih
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
۔ (۴۱۱۰) عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی زَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَزَا تِسْعَ عَشْرَۃَ، وَأَنَّہُ حَجَّ بَعْدَ مَا ہَاجَرَ حَجَّۃً وَاحِدَۃً، حَجَّۃَ الْوَدَاعِ، قَالَ أَبُوْ إِسْحَاقَ: وَبِمَکَّۃَ أُخْرٰی۔ (مسند احمد: ۱۹۵۱۳)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انیس غزوے کیے اور ہجرت کے بعد صرف ایک حج کیا، جو کہ حجۃ الوداع تھا۔ ابو اسحاق نے کہا: ایک حج آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (قبل از ہجرت) مکہ میں کیا تھا۔
Takhreej
(۴۱۱۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۵۴(انظر: ۱۹۲۹۸)
Explanation
فوائد: …’’کتاب السیرۃ النبویۃ‘‘ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غزووں کی تفصیل آئے گی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہجرت کے بعد بالاتفاق ایک ہی حج کیا تھا، جس کو حجۃ الوداع کہتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فریضہ۱۰ ھ میں ادا کیا تھا۔
4110
Sahih
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
۔ (۴۱۱۱) عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: کَمْ اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، عُمْرَتَہُ الَّتِی صَدَّہُ عَنْہَا الْمُشْرِکُوْنَ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ أَیْضَاً فِیْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ حِیْنَ قَسَمَ غَنِیْمَۃَ حُنَیْنٍ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ مَعَ حَجَّتِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۰۰)
۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ انہوں نے کہا: چار،پہلا وہ عمرہ جس سے مشرکوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو روک دیا تھا، یہ ذی قعدہ میں تھا، دوسرا جو اگلے سال کیا تھا، یہ بھی ذی قعدہ میں تھا، تیسرا جو غزوۂ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت جعرانہ سے کیا تھا اور یہ بھی ذی قعدہ میں تھا، اور چوتھا جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ کیا تھا۔
Takhreej
(۴۱۱۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۷۸، ۱۷۷۹، ۱۷۸۰، ومسلم: ۱۲۵۳(انظر: ۱۳۵۶۵)
4111
Sahih
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
۔ (۴۱۱۱) عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: کَمْ اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، عُمْرَتَہُ الَّتِی صَدَّہُ عَنْہَا الْمُشْرِکُوْنَ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ أَیْضَاً فِیْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ حِیْنَ قَسَمَ غَنِیْمَۃَ حُنَیْنٍ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ، وَعُمْرَتَہُ مَعَ حَجَّتِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار عمرے کئے، ایک عمرۂ حدیبیہ ، دوسرا عمرۂ قضا، تیسرا جعرانہ مقام سے اور چوتھا حج کے ساتھ۔
Takhreej
(۴۱۱۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۷۸، ۱۷۷۹، ۱۷۸۰، ومسلم: ۱۲۵۳(انظر: ۱۳۵۶۵)
Explanation
فوائد: … نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کل چار عمرے کیے: ۱۔ عمرۂ حدیبیہ، جوکہ مکمل نہیں ہوا تھا، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم راستے سے واپس آ گئے تھے، یہ ذوالقعدہ ۶ھ کا واقعہ تھا۔ ۲۔ عمرۂ قضائ، یہ وہ عمرہ ہے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کے مطابق اگلے سال ادا کیا تھا، یہ ذوالقعدہ۷ھ کا واقعہ تھا، اس سے مراد قضائی والا عمرہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ مشرکوں کے ساتھ قضاء (فیصلہ) کے نتیجے میں ہوا تھا۔ ۳۔ عمرۂ جعرانہ،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف سے فارغ ہو کر جعرانہ مقام پر پہنچے اور وہاں پڑاؤ ڈالا تو اس دوران یہ عمرہ ادا کیا تھایہ فتح مکہ کے بعد۸ھ میں پیش آیا تھا۔ ۴۔ حجۃ الوداع کے ساتھ والا عمرہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج قران کیا تھا، یعنی ایک ہی احرام میں حج اور عمرہ کی ادائیگی مکمل کی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ۱۰ ھ میں حجۃ الاسلام ادا کیا تھا۔ ہر عمرے کی اس کی مخصوص باب میں وضاحت آ رہی ہے۔
4112
Sahih
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
۔ (۴۱۱۳) عَنْ عَمْرِوْ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖأَنَّالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ، کُلُّ ذٰلِکَ فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِیُلَبِّی حَتّٰییَسْتَلِمَ الْحَجَرَ۔ (مسند احمد: ۶۶۸۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین عمرے کئے تھے اور یہ سارے ذوالقعدہ میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلبیہ جاری رکھتے، یہاں تک حجرِ اسود کا استلام کر لیتے۔
Takhreej
(۴۱۱۳) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۶۶۸۶)
Explanation
فوائد: … انھوں نے حج کے ساتھ والا عمرہ شمار نہیں کیا، معلوم ہوا کہ عمرہ کے موقع پر احرام باندھنے سے لے کر طواف شروع کرنے تک تلبیہ جاری رکھا جائے گا۔
4113
Sahih

Chapters

11